History World Urdu

History of Afghanistan E04 | Founding of Afghanistan, Ahmad Shah Abdali In Urdu

History of Afghanistan

چنگیز خان نے بارہ سو انیس، ٹویلو نائنٹین میں افغانستان تک پھیلی خوارزم شاہی سلطنت پر چڑھائی کر دی۔ اس چڑھائی کی وجہ یہ تھی کہ خورازمی سلطنت کے شہر اوترار کے گورنر نے چنگیز خان کے ساڑھے چار سو تاجروں کو ایک غلط فہمی کی وجہ سے قتل کر دیا تھا اور پھر چنگیز خان کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ اسے اور آگ دکھائی۔

History of Afghanistan E04  Founding of Afghanistan, Ahmad Shah Abdali In Urdu

اس کے جواب میں چنگیز خان نے ایک لشکر کے ساتھ خوارزمی سلطنت پر چڑھائی کر دی۔ چنگیز خان کی منگول فوج جس نے سمرقند اور بخارا جیسے عظیم الشان شہروں کو تباہ وبرباد کر دیا تھا وہی فوج جب افغانستان کا موجودہ علاقہ فتح کرنے پہنچی تو اسے دن میں تارے نظر آ گئے۔ انہیں قدم قدم پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ افغانوں نے منگول فوج کو مار مار کر بھگا دیا۔

اس شکست نے منگول سلطنت میں کھلبلی مچا دی۔ یہ سب کیسے ہوا؟ مائی کیوریس فیلوز آپ جان چکے ہیں کہ خوارزمی سلطنت کے حکمران سلطان علاؤالدین خوارزم شاہ کے ایک بیٹے جلال الدین خوارزم شاہ تھے۔ مسلمانوں کی طرف سے منگولوں کے خلاف جنگ کی قیادت وہی کر رہے تھے۔

وہ منگولوں سے لڑتے بھڑتے سینٹرل ایشیا سے افغانستان پہنچے اور افغانوں کو منگولوں کے خلاف جنگ کیلئے اکھٹا کرنے لگے۔ افغانوں نے ان کی آواز پر لبیک کہا کیونکہ ان کے نزدیک چنگیز خان ایک غیرملکی حملہ آور تھے جن سے مقابلے کے بڑا اور تگڑا اتحاد چاہیے تھا۔ افغانوں کے نزدیک جلال الدین خوارزم شاہ کی سرداری تسلیم کرنا چنگیز خان کی غلامی سے کہیں بہتر تھا۔ انہوں نے اسی آپشن کو چُن لیا۔

چنانچہ جلال الدین کے پاس جلد ہی اسی ہزار کے قریب فوج جمع ہو گئی جس میں زیادہ تر افغان جنگجو ہی شامل تھے۔ اسی فوج کے ساتھ جلال الدین نے غزنی میں ڈیرے ڈال لئے اور چنگیز خان کی فوج کا انتظار کرنے لگے۔ لیکن دوستو جب جلال الدین منگولوں سے نمٹنے کی تیاری کر رہے تھے تواسی وقت بہت سے افغان اپنے طور پر بھی منگولوں کی تولیوں اور ان کے چھوٹے چھوٹے لشکروں کا سامنے کر رہے تھے اور انہیں روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

منگول افغانوں کے جس قلعے پر بھی حملہ کرتے تھے وہاں سے افغان انہیں بہت شدید مزاحمت دیتے تھے۔ سب سے زیادہ مزاحمت بامیان میں ہوئی تھی جہاں چنگیز خان کا پوتا موگیتو گین تیر لگنے سے مارا گیا تھا۔ چنگیز خان کو اپنے پوتے کی موت کا اس قدر صدمہ ہوا کہ وہ خود بامیان پہنچے اور قلعہ فتح کر کے ایک ایک شہری کو قتل کر دیا۔ حتیٰ کہ وہاں موجود کیڑے مکوڑے اور جانور تک ڈھونڈ ڈھونڈ کر ختم کر دیئے گئے۔ اب یہیں ان کا مقابلہ جلال الدین خوارزم سے ہونا تھا جن کے پاس ایک بڑا لشکر اسی ہزار کا لشکر تھا۔

لیکن نجانے کیوں چنگیز خان کو اپنی طاقت اور جلال الدین کی صلاحیتوں کے بارے میں کافی غلط اندازہ ہو گیا۔ انھوں نے جلال الدین کے اسی ہزار کے مقابلے میں خود جانے کے بجائے اپنے ایک کمانڈر کی قیادت میں صرف چالیس ہزار کے منگول لشکر کو روانہ کر دیا۔ چنگیز خان نے افغان فوج کی طاقت کے بارے میں جو غلط اندازہ لگایا تھا وہ چونکہ نہایت غلط تھا سو انہیں بہت مہنگا پڑا۔

بارہ سو اکیس میں افغان صوبے پروان میں ان دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا اور اس ٹکراؤ میں منگولوں کو اپنی تاریخ کی ایک بدترین شکست ہوئی۔ ایسی شکست کہ ہر میدان مارنے والی منگول فوج، لاشیں چھوڑ کر میدان سے بھاگ گئی۔ اسکندر اعظم کی موت کے تقریباً دو ہزار برس بعد یہ پہلا موقع تھا کہ تاریخ کے ایک اور بڑے فاتح کو افغانستان میں شکست ہوگئی تھی۔

اس شکست کی خبر جب چنگیز خان کے کیمپ تک پہنچی توانھیں اپنی غلطی کا بھرپور احساس ہوا۔ اسے سدھارنے کیلئے انہوں نے اپنی پوری فوج کو ساتھ لیا اور جلال الدین خوارزم شاہ کے تعاقب میں چل نکلے۔ چنگیز خان کی کمان میں منگول فوج نے پنجاب میں دریائے سندھ تک جلال الدین کا تعاقب کیا۔ جلال الدین چنگیز خان کی قیادت میں آنے والے بڑے منگول لشکر کا مقابلہ تو نہ کر سکے لیکن وہ ان کے ہاتھ بھی نہیں آئے۔ انھوں نے دریائے سندھ میں چھلانگ لگا کر جان بچا لی۔

چنگیز خان اپنے فاتح لشکر کے ساتھ واپس افغان علاقے میں چلے گئے۔ لیکن مائی کیوریس فیلوز یہ کارروائی بھی افغانوں کے ہاتھوں منگولوں کی شکست کا داغ نہ دھو سکی۔ اس شکست نے منگولوں کے زیرِ کنٹرول تمام مسلم علاقوں میں آزادی کی ایک نئی امید جگا دی۔ کہ اگر جلال الدین خوارزم اپنے افغان لشکر کے ساتھ چنگیز خان اور منگولوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں تو ہم بھی کر سکتے ہیں اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان اور سینٹرل ایشیا کے بہت سے شہروں میں بغاوت ہو گئی اور عوام نے ان شہروں میں موجود منگولوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔

جواب میں منگولوں نے بھی ان شہروں کو تاخت وتاراج کرنا شروع کر دیا جہاں ان کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ افغان شہر غزنی، بلخ اور ہرات بھی برباد کر دیئے گئے۔ ان واقعات کے چند برس بعد بارہ سو ستائیس میں چنگیز خان کی موت ہو گئی۔ ان کی موت کے بعد افغانستان کا سیاسی منظرنامہ ایک بار پھربدل گیا۔ چنگیز خان کی سلطنت ان کی اولاد میں تقسیم ہو گئی اور ساتھ ہی افغانستان بھی ٹکڑوں میں بٹ گیا۔

افغانستان کا کچھ شمال مشرقی علاقہ چنگیز خان کے ایک بیٹے چغتائی خان کو ملا اور باقی سارا علاقہ ان کے پوتے ہلاکو خان کی ایل خانی سلطنت کے حصے میں آ گیا۔ پھر منگول تقریباً تیرہ سو پچاس، تھرٹین ففٹی تک افغانستان پر حکومت کرتے رہے۔ اس عرصے میں افغانستان منگولوں کی پھیلائی ہوئی تباہی سے سنبھلنے لگا۔ بارہ سو اکاسی، ٹویلو ایٹی ون میں قندھار کا نام پہلی بار تاریخ میں ریکارڈ کیا گیا۔

بلخ اور غزنی جو منگول حملوں میں تباہ و برباد ہو گئے تھے پھر سے آباد ہونے لگے۔ لیکن اس وقت ایک واقعہ یہ ہوا کہ جنوبی ہندو کش کے پہاڑوں کے نیچے دریا کے کنارے کنارے ایک چھوٹے سے شہر نے اپنی پہچان بنانا شروع کی۔ اس شہر کو آج ہم کابل کے نام سے جانتے ہیں۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ کابل شہر کی تاریخ ساڑھے تین ہزار سال پرانی ہے۔ پہلے پہل غزنوی اور ہرات جیسے شہروں کے مقابلے میں اس کی زیادہ اہمیت نہیں تھی۔

لیکن تیرہویں صدی میں جب افغان علاقے منگولوں کے قبضے میں آئے تو اس شہر نے بھی باقی شہروں کی طرح ترقی کرنا شروع کر دی۔ منگولوں نے یہاں شادیں بھی کیں اور ان کی اولادیں آج بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ افغانستان میں جو ہزارہ آبادی موجود ہے، ان کی کثیر تعداد دراصل انھی منگول فوجیوں کی اولادیں ہیں جو تاجک خواتین سے شادیاں کر کے افغانستان میں آباد ہو گئے تھے یہیں رک گئے تھے۔

تیرہ سو پچاس کے آس پاس منگول چغتائی سلطنت کو زوال آ گیا اور افغانستان کا علاقہ کچھ عرصے کیلئے آزاد ہو گیا۔ لیکن دوستو افغانستان اور سینٹرل ایشیا میں امن کا زمانہ بہت ہی مختصر رہا ہے۔ اکثر ایک حملہ آور کے جاتے ہی دوسرے حملہ آور اس کی جگہ لے لیا کرتے تھے۔ چغتائی اور ایل خانی ایمپائرز کے زوال کے بعد ان کی جگہ تاتاری سردار امیر تیمور نے لے لی اور افغانستان پراس نے حملہ کر دیا۔

لیکن امیر تیمور کا مقصد افغانستان کو فتح کرنا نہیں تھا بلکہ ان کیلئے یہ محض ہندوستان تک پہچنے کا ایک راستہ تھا۔ افغانستان کے مقامی قبائلی سرداروں نے جگہ جگہ امیر تیمور کے خلاف مزاحمت کی اور کئی لڑائیاں لڑی۔

ان لڑائیوں میں امیر تیمور کامیاب رہے اور پھر وہ دہلی پہنچے اور دہلی کو تباہ و برباد کر کے مقامی آبادی کو قتل کر کے واپس چلے گئے امیر تیمور ہندوستان سے تو واپس آ گئے لیکن افغانستان تیموری سلطنت کے مستقل کنٹرول میں آ گیا۔ چودہ سو پانچ میں امیر تیمور کی موت کے بعد ان کی اولاد سینٹرل ایشیا کے ساتھ افغانستان پر بھی حکومت کرنے لگی۔

تیموری خاندان کے زیرِ اثر افغانستان خوب پھلا پھولا۔ تیمور کے ایک بیٹے شاہ رخ نے ہرات کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ ان کے دورِ حکومت میں ہرات میں شاندار عمارتیں تعمیر کی گئیں اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ لیکن چودہ سو سینتالیس میں شاہ رخ کے انتقال کے بعد سیاسی حالات پھر سے خراب ہونے لگے جس سے افغانستان کی ترقی کا پہیہ پھر جام ہو گیا۔

تیموری خاندان کی سینٹرل ایشیا کے منگول حکمرانوں سے کشمکش شروع ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں افغانستان میں کوئی باقاعدہ حکومت نہ رہی۔ کئی علاقوں میں مقامی وار لارڈز بھی طاقتور ہو گئے۔ یہ صورتحال کم از کم ایک صدی تک برقرار رہی۔ پھر یہ ہوا کہ امیر تیمور کی اولاد میں سے ہی ایک حکمران نے افغانستان کو دو سو برس کیلئے ایک نئے ایمپائر کا حصہ بنا دیا۔

اس حکمران کا نام تھا ظہیرالدین ۔ ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے بانی شہنشاہ ظہیر الدین بابر ظہیر الدین بابر سینٹرل ایشیا کی وادی فرغانہ اور سمرقند، جو کہ آج ازبکستان میں ہے، وہاں کے حکمران تھے۔ لیکن اپنے رشتے داروں سے لڑائیوں کی وجہ سے انہیں سینٹرل ایشیا چھوڑ کر افغانستان کا رخ کرنا پڑا۔ جب وہ افغانستان پہنچے تو ان کے پاس مٹھی بھر آدمی تھے یہ قریب قریب پندرہ سو چار، ففٹین او فور کا وقت تھا۔

ظہیر الدین بابر اپنی کہانی، بابر نامہ میں لکھتے ہیں کہ وہ جب قبضہ کرنے کے لیے کابل پہنچے تو انھوں نے اپنے ایک آدمی کو اس پیغام کے ساتھ کہ شہر ان کے حوالے کر دیا جائے، کابل کے حکمران کے پاس بھیجا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے سپاہیوں کو کابل کے باہر چوکنا کھڑا کر دیا۔

جب کابل کے حکمران نے دیکھا تو وہ گھبرا گئے کہ وہ تو گھِر چکے ہیں، اور آپ جان چکے ہیں یہ وہ وقت تھا جب افغانستان ایک مرکزی کنٹرول میں نہیں تھا بلکہ چھوٹے چھوٹے وارلاڈز میں اپنی چھوٹی چھوٹی حکومتینں قائم کر لی تھیں لحاظہ وہ ایک کابل شہر ہی تھا اس کے ساتھ باقی پورا افغان علاقہ شامل نہیں تھا اس کی طاقت کا حصہ وہ نہیں تھا تو کابل کے حکمران نے اس شہر کو ظہیر الدین بابر کے حوالے کر دیا بغیر جنگ کیے۔

یوں دوستو کابل اور پھر افغانستان کے زیادہ تر علاقے مغل ایمپائر کا حصہ بن گئے۔ آپ جانتے ہیں کہ کابل فتح کرنے کے تقریباً بائیس برس بعد پندرہ سو چھبیس میں ظہیر الدین بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں انہوں نے دہلی کے سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس کے بعد مغل ایمپائر اگلی دو صدیوں تک یعنی سترہ سو سات میں اورنگ زیب عالمگیر کی وفات تک ہندوستان اور مشرقی افغانستان پر چھایا رہا۔ قندھار کبھی مغلوں اور کبھی ایران کے صفوی ایمپائر کے کنٹرول میں رہا۔ مغربی افغانستان پر ایران اور شمالی افغانستان پر بخارا کی سلطنت حکومت کرتی رہی۔

ہندوستان سے نکلیں تو کابل کے راستے میں اہم ترین شہر جلال آباد کو بھی مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر نے اپنے نام پر ہی بسایا تھا۔ تو یہ تھی دوستو ان سات صدیوں کی کہانی جن میں افغانستان کے پشتون قبائل ایک آزاد ریاست کے قیام کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اور اس کی طرف اشارہ ہم نے پچھلی قسط میں کیا تھا۔ اس عرصے میں افغان ایک بڑی طاقت بن گئے تھے اور ایمپائرز بھی قائم کر رہے تھے۔

مثال کے طور پر خلجیوں نے جو کہ ترک اور افغانوں کی مشترکہ نسل سے تھے، بارہ سو نوے سے تیرہ سو بیس تک ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ اس خاندان کے سب سے کامیاب حکمران علاؤالدین خلجی تھے جنہوں نے ہندوستان پر منگولوں کے کئی حملے پسپا کئے تھے۔ اسی طرح ابراہیم لودھی جنہیں ظہیرالدین بابر نے شکست دی تھی وہ بھی پٹھان تھے۔

بعد میں ایک اور پٹھان شیر شاہ سوری نے ظہیرالدین بابر کے بیٹے شہنشاہ ہمایوں سے عارضی طور پر دہلی کا تخت چھین لیا تھا۔ لیکن پندرہ یا سولہ برس کے وقفے کے بعد شہنشاہ ہمایوں نے دوبارہ دہلی فتح کر لیا تھا۔ یعنی پٹھان دہلی کو کنٹرول کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ تو کئی صدیوں سے کر رہے تھے۔ لیکن یہ طاقت افغانوں کیلئے کوئی ایک ملک یا ایک ریاست بنانے کیلئے استعمال نہیں ہو رہی تھی۔

اس قوت کو افغان یا پٹھان حکمران صرف اپنی ذاتی سلطنتیں بنانے کیلئے یا اپنی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے آئے تھے۔ دراصل افغانوں کو اب تک ایسا لیڈر نہیں ملا تھا جو انہیں بحیثیت قوم متحد بھی کرے اور ان کیلئے ایک آزاد اور خودمختار ریاست بھی قائم کرے۔ اگرچہ سترہویں صدی، سیونٹینتھ سنچری میں پشتو کے مشہور شاعر خوشحال خان خٹک نے مغلوں کے خلاف پشتونوں کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی۔

خوشحال خان خٹک ایک پشتون سردار تھے اور پشاور کے قریب ہی اکوڑہ خـٹک میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا خاندان مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے دور سے ہی مغلوں کا وفادار تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں یہ تعلقات خراب ہو گئے۔

اورنگ زیب عالمگیر نے ٹیکس جمع کرنے کے کسی معاملے پر ناراض ہو کر خوشحال خان خٹک کو قید میں ڈال دیا۔ خوشحال خان خٹک پشاور، دہلی، آگرہ اور دیگر جگہوں پر قید رہے۔ انہیں راجستھان میں رنتھمبور کے قلعے میں بھی قید رکھا گیا تھا۔ ایک مشہور غلط فہمی یہ بھی ہے کہ انہیں گوالیار کے قلعے میں بھی قید رکھا گیا تھا۔

جبکہ ایسا نہیں تھا وہ رنتھمبور کے قلعے میں قید رہے تھے۔ بہرحال خوشحال خان خٹک تقریباً پانچ برس اور بعض روایات کے مطابق سات برس تک مغلوں کی قید میں رہے۔ پھر مغلوں نے انہیں رہا کر دیا۔ خوشحال خان خٹک دل میں مغلوں سے نفرت اور انتقام کے جذبات لے کر پشاور لوٹ آئے اور مغل ایمپائر کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کر دی۔

انہوں نے مغلوں کو کئی بار میدانِ جنگ میں ہرایا بھی اور ان کے قلعوں پر بھی حملے کئے۔ خوشحال خان خٹک جنگ کے ساتھ ساتھ شاعری بھی بھرپور طریقے سے کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں ںے شاعری کی ایک سو سے زائد کتابیں لکھی تھیں۔

ان میں دستار نامہ اور باز نامہ بہت ہی مشہور ہیں۔ علامہ اقبال نے انہیں حکیمِ ملتِ افغانیان بھی قرار دیا تھا۔ یعنی افغان قوم کے حکیم یا دانشور، حکمت والے شخص جیسا کہ علامہ اقبال کو بھی ہم حکیم الامت کہتے ہیں۔ تو ایسی ہی بات علامہ اقبال نے خوشحال خان خٹک کے بارے میں بھی کہی تھی۔ مغربی مورخین بھی خوشحال خان خٹک کو پشتونوں کا قومی ہیرو اور شاعر مانتے ہیں۔

لیکن اپنی شاعری اور بہادری سے بھی خوشحال خان خٹک پشتونوں کو سیاسی طور پر ایک قوم میں تبدیل نہیں کر سکے اور نہ ہی ان کیلئے الگ وطن بنا سکے۔ خوشحال خان خٹک سولہ سو نواسی، سکسٹین ایٹی نائن میں چھہتر برس، سیونٹی سکس ایئرز کی عمر میں چل بسے۔ انہوں نے وصیت کی کہ میری موت کے بعد مجھے ایسی جگہ دفن کیا جائے جہاں مغل شہسواروں کے گھوڑوں کے سموں سے اڑنے والی خاک بھی نہ پہنچے۔

ان کی میت کو ان کے آبائی علاقے اکوڑہ خٹک میں دفن کیا گیا۔ خوشحال خان خٹک کی وفات نے پشتونوں کو ایک مقبول لیڈر سے محروم کر دیا تھا۔ تاہم ان کی وفات سے پیدا ہونے والا سیاسی خلاء بہت جلد پُر ہو گیا۔ ہوا یہ کہ خوشحال خان خٹک کی وفات کے اٹھارہ برس بعد اورنگ زیب بھی انتقال کر گئے اور مغل ایمپائر کمزور ہونے لگا۔ تب پشتونوں کو آخر وہ لیڈر مل ہی گیا جس کی انہیں سات صدیوں سے تلاش تھی۔

یہ لیڈر تھے احمد شاہ ابدالی جو بعد میں احمد شاہ درانی کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہیں جدید افغانستان کا بانی اور جدید افغانستان کا باپ مانا جاتا ہے۔ احمد شاہ ابدالی نے ماڈرن افغانستان کی بنیاد کیسے رکھی؟ دوستو احمد شاہ ابدالی، افغانوں کے ابدالی قبیلے کے سردار محمد زمان خان کے بیٹے تھے۔ یہ قبیلہ بھی افغان لیجنڈ کے مطابق قیس عبدالرشید کی اولاد میں سے ہی ہے۔

احمد شاہ ابدالی کا اپنے بھائیوں میں دوسرا نمبر تھا اس لئے بظاہر وہ اپنے قبیلے کے سردار نہیں بن سکتے تھے کیونکہ قبیلے کے رواج کے مطابق سرداری سب سے بڑے بیٹے کا حق تھی۔ لیکن ان کی خوش قسمتی کہ جب وہ سولہ برس کے تھے تو ان کی قندھار میں ان کی ایران کے حکمران نادر شاہ ایرانی سے ملاقات ہوئی جنہوں نے سترہ سو اڑتیس میں افغانستان فتح کر لیا تھا۔

نادر شاہ کو یہ سولہ سالہ نوجوان بہت پسند آیا اور انہوں نے احمد شاہ ابدالی کو اپنے ذاتی ملازمین کا نگران بنا دیا۔ سترہ سو انتالیس میں نادر شاہ ایرانی نے دہلی کو فتح کیا تو احمد شاہ ابدالی بھی ان کے ساتھ تھے۔ دہلی فتح کرنے کے بعد نادر شاہ ایرانی نے احمد شاہ ابدالی کو دکن کا نائب گورنر مقرر کر دیا۔

پھر یہ ہوا کہ ہندوستان سے واپسی کے کئی برس بعد سترہ سو سینتالیس، سیونٹین فورٹی سیون میں نادر شاہ ایرانی اپنے ہی سپاہیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ انہیں ایران کے شہر قوچان میں قتل کردیا گیا تھا۔ جس وقت وہ مارے گئے اس وقت احمد شاہ ابدالی ان کی فوج کے ساتھ ہی تھے۔ نادر شاہ کے قتل کے بعد وہ ان کے خیمے میں گئے۔ انہوں نے نادر شاہ کی وہ انگوٹھی جو ان کی حکومت کی نشانی تھی وہ اتار لی۔

نادر شاہ نے دہلی میں لوٹ مار کے دوران ہندوستان کا مشہور زمانہ ہیرا کوہِ نور بھی چھینا تھا۔ یہ ہیرا ان کے بازو کے ساتھ ہر وقت بندھا رہتا تھا۔ احمد شاہ ابدالی نے اسے بھی اتار لیا۔ تاہم افغان ہسٹورینز کا کہنا ہے کہ کوہِ نور ہیرا احمد شاہ ابدالی نے نادر شاہ کے بازو سے نہیں اتارا تھا بلکہ نادر شاہ کی ایک بیوی نے انہیں خود بطور تحفہ دیا تھا کیونکہ ابدالی نے اس بیوی کو کچھ سپاہیوں کے ہاتھوں ریپ ہونے سے بچایا تھا۔

بہرحال دوستو تاریخ کا جو بھی ورژن درست ہو یہ بات حقیقت ہے کہ نادر شاہ کے قتل کے بعد احمد شاہ ابدالی نے افغانستان کا بادشاہ بننے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ چنانچہ وہ فوری طور پر قندھار روانہ ہو گئے۔ اِدھر افغانستان میں بھی تبدیلی کی ہوا چل پڑی تھی۔ پشتون ہزاروں برس سے غیر ملکی حملہ آوروں کے کنٹرول میں رہتے رہتے تنگ آ چکے تھے۔ اب وہ آزاد ہونا چاہتے تھے۔

چنانچہ پشتون قبائل نے ایک الگ ریاست کے طور پر اپنی آزادی کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کو حتمی شکل دینے اور افغانستان کیلئے باقاعدہ حکمران کا تقرر کرنے کیلئے قندھار کے قریب ایک بڑا جرگہ منعقد ہوا جسے آج لویہ جرگہ کہ نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ تاریخ میں شاید پہلا موقع تھا کہ تمام افغان یعنی پشتون مل جل کر بات چیت کے ذریعے ایک اہم قومی فیصلہ کرنے جا رہے تھے۔

اس سے پہلے افغانستان میں ہر فیصلہ تلوار کے ذریعے ہی ہوتا آیا تھا۔ سو جرگہ شروع ہوا تو ایک طرف احمد شاہ ابدالی بادشاہت کے کینیڈیٹ تھے امیدوار تھے تو دوسری طرف غلزئی یا محمد زئی قبائل سے تعلق رکھنے والے جمال خان کا نام بھی زیرِ غور تھا۔ اب ہر قبیلہ اپنی مرضی کا حکمران چاہتا تھا۔ کچھ قبائل احمد شاہ ابدالی کے ساتھ تھے اور کچھ جمال خان کے ساتھ تھے۔

جب کافی دیر تک اتفاق رائے نہیں ہو پایا کہ ان دونوں میں سے کون بادشاہ بنے گا تو جرگے کا ماحول خراب ہونے لگا۔ قریب تھا کہ افغان تاریخ کے اس سب سے اہم جرگے میں خون خرابہ ہو جاتا کہ اچانک ایک بزرگ صابر شاہ ولی جن کی افغانوں میں بہت زیادہ عزت تھی وہ آگے بڑھے۔ انہوں نے جرگے کو مخاطب کر کے کہا خدا نے احمد شاہ ابدالی کو تم سب سے بڑا اور عزت دار بنایا ہے تو خدا کی مرضی کے آگے سر جھکا دو۔

صابر شاہ ولی کی بات سن کر سارے افغان خاموش ہو گئے۔ حتیٰ کہ جمال خان بھی احمد شاہ ابدالی کے حق میں دستبردار ہو گئے۔ یوں سب افغانوں نے متفقہ طور پر احمد خان کو احمد شاہ ابدالی کے نام سے افغانستان کا بادشاہ بنا دیا۔ پھر صابر شاہ ولی نے مٹی کا ایک چبوترہ بنایا اور اسے احمد شاہ کا تخت قرار دیتے ہوئے گندم کا ایک خوشہ احمد خان کے سر پر بطور تاج سجا دیا۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان کی ایران سے آزادی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔

لیکن دوستو آپ پوچھیے یہ احمد شاہ ابدالی، احمد شاہ درانی پھر کیسے ہو گئے؟ اور درانی ایمپائر کا نام افغانستان کیسے ہو گیا؟ دوستو جب احمد شاہ ابدالی بادشاہ بن گئے تو صابرشاہ ولی نے انہیں دُرِ دوراں کا خطاب دیا۔ احمد شاہ نے اس خطاب میں تھوڑی سی تبدیلی کرکے اسے دُرِ دُراں یعنی سب سے قیمتی ہیرا کر دیا۔

یہی دُرِ دُراں بعد میں درانی کہلایا۔ اسی لقب کی مناسبت سے ابدالی قبیلہ درانی بھی کہلانے لگا اور احمد شاہ ابدالی کو احمد شاہ درانی کہا جانے لگا۔ لیکن درانی ایمپائر کو افغانستان کا نام کس نے دیا؟ یہ تصویر دوستو خیبرپختونخوا کے مشہور بزرگ میاں محمد عمر چمکنی کے مزار کی ہے جو کہ پشاور سے سات کلومیٹر دور چمکنی گاؤں میں واقع ہے۔

احمد شاہ ابدالی نے جب پشاور فتح کیا تھا تو انہوں نے انھی میاں عمر کی خدمت میں حاضری دی تھی اور ان سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ میاں عمر نے ہی احمد شاہ ابدالی سے کہا تھا کہ وہ اپنی سلطنت کا نام افغانستان رکھیں۔ بعض ہسٹورینز تو یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ احمد شاہ ابدالی کو دُرِ دراں کا خطاب بھی صابر شاہ ولی نے نہیں بلکہ میاں عمر نے ہی دیا تھا۔

میاں عمر پشتونوں کے مذہی ہی نہیں بلکہ ایک سیاسی رہنما بھی تھے۔ ان کے عقیدت مندوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ پانی پت کی تیسری لڑائی میں انہوں نے احمد شاہ ابدالی کی مدد کیلئے اپنے سترہ ہزار پیروکاروں کی فوج بطورمددگار بھیجی تھی۔ مائی کیوریس فیلوز احمد شاہ ابدالی کے بطور بادشاہ انتخاب کی وجہ سے ہی قندھار پشتونوں کی طاقت کا مرکز اور لویہ جرگہ پشتونوں کا ایک مقدس اجتماع بن گیا۔ تاہم دوستو افغانستان کی تاریخ پر اتھارٹی سمجھے جانے والے ہسٹورین جوناتھن لی لویہ جرگہ والی کہانی کو غلط قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے ایرانی مورخین کے حوالے سے لکھا ہے کہ اصل واقعہ کچھ یوں تھا کہ سندھ کے ایرانی گورنر تقی بیگ اپنے فوجی قافلے کے ساتھ قندھار سے گزر رہے تھے۔ انہیں نادر شاہ کی موت کا علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر احمد شاہ ابدالی سے ہاتھ ملا لیا اور انہیں اپنی جیب سے دو کروڑ روپے بھی دیئے۔ اسی رقم سے پھر احمد شاہ ابدالی نے افغان سرداروں کی وفاداریاں خریدیں اور اٹھارہ ہزار جوانوں کی ایک فوج تیار کی۔ اسی فوج اور پیسے کی مدد سے وہ افغانستان کی حکمرانی کے قابل ہوئے۔

تاریخ کے یہ دونوں ورژن آپ کے سامنے ہیں ان میں سے جو بھی سچا ہو لیکن یہ بہرحال حقیقت ثابت ہوئی کہ سترہ سو سینتالیس، سیونٹین فورٹی سیون وہ سال تھا جہاں سے موجودہ افغانستان کی تاریخ شروع ہوتی ہے۔ اسی سال ایک آزاد اور خودمختار افغانستان دنیا کے نقشے پر جلوہ گر ہوا اور آج تک یہ قائم ہے۔ یہی وہ افغانستان ہے جس کے بارے میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دا گریو یارڈ آف ایمپائرز ہے۔

سلطنتوں کا قبرستان ہے اسی افغانستان کے بارے میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس نے کبھی کوئی جنگ نہیں ہاری۔ کیا واقعی یہ بات اسی طرح ہے؟ افغانستان اور ہندوستان کے درمیان تاریخی پانی پت کی جنگ میں کیا ہوا تھا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن اس سیریز کی اگلی قسط میں افغانستان کی تاریخ پر بنی اس شاندار ڈاکومنٹری کو اگر آپ نے شروع سے نہیں دیکھا تو یہاں دیکھیے

Read More:: History of Afghanistan E04 | Founding of Afghanistan, Ahmad Shah Abdali In Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button