History World Urdu

History of Afghanistan E05 | Ahmad Shah Abdali’s Invasion of Punjab In Urdu

History of Afghanistan

اٹھارہویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ کے بعد سب سے بڑی مسلم ایمپائر افغانوں کی درانی سلطنت ہی تھی۔ پہلے افغان بادشاہ احمد شاہ ابدالی نے موجودہ افغانستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے اس جغرافیے کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کر لیا تھا جہاں آج پاکستان واقع ہے۔ یعنی جدید افغانستان کی تاریخ شروع ہی یوں ہوتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک ہی ملک یا ایک ہی سلطنت کا حصہ تھے۔

History of Afghanistan E05  Ahmad Shah Abdali's Invasion of Punjab In Urdu

لیکن اتنی بڑی سلطنت کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی کے پیر ومرشد جنھوں نے انھیں بادشاہ بنوایا تھا وہ لاہور میں قتل کر دئیے گئے۔ آج بادشاہی مسجد کے میناروں کے نیچے، مسجد کے پیچھے ان کا چھوٹا سا مزار ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟ درانی سلطنت نے پنجاب اور دہلی پر بار بار چڑھائی کیوں کی؟ لاہور کے گورنروں، مغل شہنشاہوں اور ہندوں سادھوں نے افغان لشکروں کا مقابلہ کیسے کیا؟

مائی کیوریس فیلوز یہ سترہ سو سینتالیس، سیونٹین فورٹی سیون کے آخر کی بات ہے کہ احمد شاہ ابدالی پشاور کے قلعے بالاحصار میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ یہ وہی قلعہ ہے جوپشاور کے بیچوں بیچ آج بھی موجود ہے اور ایف سی کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ اسی قلعے میں انہیں ایک پیغام ملا۔

یہ پیغام انہیں پنجاب کے حکمران شاہنواز خان نے بھیجا تھا۔ شاہنواز خان دہلی کے مغل دربار کی مرضی کے بغیر پنجاب کے حکمران بن چکے تھے اور اب مغل وزیراعظم قمرالدین احمد خان انہیں ہٹا کر پنجاب کا گورنر کسی اور کو بنانا چاہتے تھے۔ شاہنواز خان میں مغلوں سے مقابلے کی طاقت نہیں تھی اور گورنر شیپ وہ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ایک سفیر کو اپنی پگڑی دے کر احمد شاہ ابدالی کے پاس بھیجا۔

اس سفیر نے افغان بادشاہ سے کہا کہ شاہنواز خان پنجاب کو افغانوں کی جھولی میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ شاہنواز خان کو پنجاب کا گورنر رہنے دیا جائے اور احمد شاہ ابدالی انہیں اپنا وزیراعظم بھی بنا لیں۔ احمد شاہ ابدالی کیلئے یہ پیغام بہت بڑی خوشخبری تھا۔ انہیں بغیر جنگ کے ہی پانچ عظیم ترین دریاؤں کی زرخیز دھرتی مل رہی تھی۔

انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا اور ایک معاہدہ، ایک ایگریمنٹ بھی تیار کروایا جس میں شاہنواز کی شرائط تسلیم کر لی گئیں تھیں۔ انھیں وزیراعظم بنوانے کی بات بھی اس معاہدے کا حصہ بنائی گئی۔ اس کے بعد احمد شاہ ابدالی نے اپنے پیرومرشد شاہ صابر ولی سے درخواست کی کہ وہ خود جا کر شاہنواز سے مزید بات چیت کر کے آئیں۔ تو دوستو صابر شاہ ولی شاہنواز سے پنجاب پر قبضہ کی تفصیلات طے کرنے لاہور پہنچ گئے۔

لیکن ان کے لاہور پہنچنے سے پہلے ہی پنجاب کی سیاسی بساط پر کچھ ایسی چالیں چلی جا چکی تھیں کہ اب ساری بازی ہی پلٹ گئی تھی۔ دہلی میں مغل وزیراعظم قمرالدین احمد خان اور پنجاب کے گورنر شاہنواز خان کی صلح ہو گئی تھی اور قمرالدین نے شاہنواز کو پنجاب کا باضابطه گورنر تسلیم کر لیا تھا۔ یعنی ان کی حکومت میں جو اڑچن آئی تھی وہ رفع ہو چکی تھی۔

اب شاہنواز کو احمد شاہ ابدالی کی کوئی ضرورت نہیں رہی تھی۔ اس بدلی ہوئی صورتحال میں جب پیر صابر شاہ ولی لاہور پہنچے تو انہوں نے شاہنواز کو احمد شاہ ابدالی کے ملازم سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ شاہنواز نے ان سے پوچھا کہ کہیے ہمارے بھائی احمد شاہ کا کیا حال ہے۔ اب صابر شاہ ولی تو شاہنواز کو ایک معمولی گورنر سے زیادہ اہمیت دینے کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔

اپنے بادشاہ کے بارے میں انہوں نے یہ بے تکلف الفاظ سنے تو وہ غصے میں آ گئے۔ انہوں نے شاہنواز کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ تمہاری حیثیت ایک صوبیدار سے زیادہ نہیں ہے۔ تم ایک ملازم اور خادم ہو اپنے منہ سے یہ الفاظ نکالنے کی جرات تمہیں کیسے ہوئی؟ صابر شاہ ولی کے یہ غصہ میں بھرے ہوئے الفاظ سن کر شاہنواز گورنر پنجاب غصے سے آگ بگولہ ہو گئے۔

انھوں نے پیر صابر شاہ کو اسے وقت گرفتار کرنےکا حکم دیا۔ اس کے بعد احمد شاہ ابدالی کے ایلچی اور مرشد صابر شاہ ولی کے گلے میں پگھلی ہوئی چاندی ڈلوا کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ صابر شاہ ولی کو دفن کرنے سے پہلے ان کی لاش کو سڑک پر بھی پھنکوا دیا گیا۔ پھر کسی نے انھیں بادشاہی مسجد کے عقب میں جو کہ اس وقت شہر سے باہر کا حصہ گردانا جاتا تھا، وہاں دفن کر دیا۔

آج بھی آپ داتا دربار سے چوک یادگار مینار پاکستان کی طرف جائیں تو بادشاہی مسجد کے پیچھے، بلند میناروں کے نیچے کھلے میدان میں ان کا چھوٹا سا مزار آج بھی موجود ہے۔ اب دوستو جب احمد شاہ ابدالی کو یہ علم ہوا کہ ان کے پیر و مرشد کو شاہنواز خان نے بے دردی سے قتل کروا دیا ہے تو وہ سیخ پا ہو گئے۔

دسمبر سترہ سو سینتالیس، سیونٹین فورٹی سیون کی سردیوں میں انھوں نے لشکر تیار کیا اور وہ پشاور سے پنجاب کی طرف چل پڑے۔ وہ تیزی سے لاہور پہنچے اور جنوری سترہ سو اڑتالیس، سیونٹین فورٹی ایٹ میں لاہور پر حملہ آور ہو گئے۔ شاہنواز خان نے اس لشکر کا مقابلہ کرنے کی اپنی سی کوشش کی لیکن شکست کھا کر دہلی کی طرف بھاگ گئے۔

احمد شاہ ابدالی نے لاہور پر قبضہ کر لیا وہاں ایک مقامی حکومت قائم کی جس کا دیوان یا چیف سیکرٹری ایک ہندو لکھپت رائے کو انہوں نے مقرر کردیا یہ لکھپت رائے احمد شاہ ابدالی کی آمد سے پہلے بھی پنجاب کی مغل حکومت میں وزیر خزانہ رہ چکے تھے۔ اس دوران جموں اور پنجاب کے بہت سے حکمرانوں اور مقامی زمینداروں نے احمد شاہ ابدالی کو پیغام بھیج کر ان کی اطاعت قبول کر لی۔

اس موقع پر احمد شاہ ابدالی نے ایک نیا سکہ بھی جاری کر دیا۔ جو کہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب پنجاب پر ابدالی سلطنت کا راج ہو گا۔ لیکن دوستو مسئلہ یہ تھا کہ دہلی کی مغل سلطنت سے دو دو ہاتھ کیے بغیر احمد شاہ ابدالی، پنجاب پر زیادہ دیر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے لاہور میں پانچ ہفتے قیام کے بعد دہلی پر بھی چڑھائی کر دی۔

اب ان کا مقابلہ براہ راست دہلی میں مغل شہنشاہ محمد شاہ رنگیلا سے ہونے والا تھا یہ وہی محمد شاہ رنگیلا ہیں جو ایک بار نادر شاہ درانی سے بھی شکست کھا چکے تھے۔ اب دوستو یہ وہ زمانہ تھا جب مغل سلطنت بہت کمزور ہو چکی تھی۔ محمد شاہ رنگیلا خود بھی کوئی قابل حکمران نہیں تھے۔ وہ اپنے طور پر احمد شاہ ابدالی جیسے جری جرنیل کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔

لیکن اتفاق سے سلطنت کے وزیر قمرالدین اور ان کے بیٹے میرمنوں باصلاحیت اور بہادر لوگ تھے۔ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے جھٹ پٹ تیار ہو گئے۔ انہوں نے ولی عہد احمد شاہ بہادر کو ساتھ لیا اور ایک بڑی فوج کے ساتھ افغان حملہ آوروں کے مقابلے کیلئے روانہ ہو گئے۔

احمد شاہ ابدالی جیسے کرزمیٹک لیڈر اور محمد شاہ رنگیلے کی بھیجی فوج کا آمنا سامنا ہوا تو وہ ہوا جس کا افغانوں کے وہم و گمان میں بھی کبھی خیال نہیں آیا۔ یہ بھارتی پنجاب کے شہر چندی گڑھ کے قریب چھوٹا سا قصبہ مان پور ہے۔ اس قصبے میں گیارہ مارچ سترہ سو آڑتالیس کو مغلوں اور افغانوں کے درمیان ایک زبردست جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں افغانوں نے گولہ بارود اور توپیں بڑے پیمانے پر استعمال کیں۔

افغان توپوں کی گولہ باری اتنی شدید تھی کہ ایک وقت میں مغل فوج کے اہم ترین لیڈر، وزیراعظم قمرالدین دوران نماز توپ کا گولہ لگنے سے مارے گئے۔ لیکن ان کے بیٹے میرمنوں نے فوج کی کمان سنبھال لی اور دوسرے مغل کمانڈرز سے مل کر افغان فوج کے حملوں کو مسلسل پسپا کیا۔ مغل فوج کے جوابی حملے اتنے شدید تھے کہ افغان فوج میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی۔

مان پور کی جنگ میں مغلوں کے ہاتھوں افغانوں کو پنجاب میں پہلی شکست ہو گئی تھی۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی تھے۔ احمد شاہ ابدالی شکست خوردہ فوج کے ساتھ اپنے قلعے لاہور کی طرف پلٹے تا کہ تازہ دم ہو کر دوبارہ دہلی پر حملوں کی پلاننگ کر سکیں۔ لیکن جب وہ لاہور کے دروازے پر پہنچے تو شہر کے دروازے بند ہو چکے تھے۔

اس پر احمد شاہ ابدالی نے شہر میں اپنے بنائے ہوئے چیف سیکرٹری لکھپت رائے کو پیغام بھیجا کہ وہ شہر کے دروازے ان کے لیے کھول دیں۔ لکھپت رائے نے جواب دیا کہ اس وقت شہر میں مغل فوج موجود ہے۔ اگر آپ میں ہمت ہے تو ان سے جنگ کر کے لاہور پر قبضہ کر لیجئے اور دروازے کھلوا لیجئے۔

احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ایک ہارا ہوا لشکر تھا، اس میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ لاہور کی بغاوت کو کچل سکیں یا مغل فوج سے اسی وقت ایک اور جنگ کر سکیں۔ چنانچہ وہ لاہور پر قبضے کا ارادہ ترک کر کے افغانستان میں اپنے دارالحکومت قندھار لوٹ گئے۔ یوں پنجاب ایک بار پھر مغلوں کے قبضے میں واپس آ گیا۔ مغلوں نے میرمنوں کو پنجاب کا حاکم مقرر کر دیا۔

لیکن دوستو احمد شاہ ابدالی صرف جنگ ہارے تھے، ہمت نہیں ہارے تھے۔ انھوں نے پلٹ کر وار کیا اور اس بار نتیجہ بہت مختلف رہا۔ وہ کیسے؟ مائی کیورئیس فیلوز قندھار پہنچ کر احمد شاہ ابدالی کو مان پور کی شکست مسلسل بے قرار کیے ہوئے تھی۔ وہ مغلوں سے بدلہ لینے کیلئے کروٹ کروٹ بے چین تھے اور اس کیلئے تیاریاں بھی شروع کر چکے تھے۔

چنانچہ اسی برس یعنی سترہ سو اڑتالیس کے آخر میں ہی انہوں نے پنجاب پر ایک اور حملہ کیا۔ اس حملے کیلئے انہوں نے پشاور کے اردگرد رہنے والے پشتون قبائل کو بھی خط لکھ کر اپنی فوج میں شامل ہونے کا حکم دیا۔ ان پشتونوں کی مدد سے ان کی فوج کی طاقت کافی بڑھ گئی تھی۔ چنانچہ اس بار جب وہ پشاور کے راستے پنجاب میں داخل ہوئے تو ان کے پاس پنجاب کے گورنر میر منوں سے زیادہ فوج تھی۔

پھر مغل سلطنت کے اندر کی ایک آپسی لڑائی بھی احمد شاہ ابدالی کے لیے بہت مددگار ثابت ہوئی۔ وہ اس طرح کہ پنچاب کے گورنر میرمنوں بھلے ایک بہادر اور نڈر کمانڈر تھے لیکن مغل سلطنت کے نئے وزیراعظم صفدر جنگ ان کے دشمن ہو چکے تھے۔ ان کی طرف سے میر منوں کو کسی کمک کے پہنچنے کی ہرگز امید نہیں تھی۔ انھیں تنہا ہی افغان فوج کا مقابلہ کرنا تھا۔ لیکن وہ یہ مقابلہ نہیں کر پائے اور احمد شاہ ابدالی سے شکست کھا گئے۔

ہار کے بعد انھوں نے احمد شاہ ابدالی سے ایک عارضی سی صلح کر لی۔ اس صلح کے تحت پنجاب میں دریائے سندھ کے مغرب کا سارا علاقہ احمد شاہ ابدالی کے حوالے کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ پنجاب کے چار علاقوں سیالکوٹ، پسرور، گجرات اور اورنگ آباد کا سالانہ ریونیو جو کہ اس زمانے میں چودہ لاکھ روپے بنتا تھا وہ بھی احمد شاہ ابدالی کو دینے کا وعدہ کر لیا گیا۔

میرمنوں اور احمد شاہ ابدالی میں صلح کا یہ معاہدہ سترہ سو انچاس، سیونٹین فورٹی نائن میں ہوا تھا۔ لیکن یہ معاہدہ ایک دو برس ہی چل پایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرمنوں کسی وجہ سے یا پھر شاید جان بوجھ کر احمد شاہ ابدالی کو خراج کی رقم ادا نہیں کر رہے تھے۔ اس پر سترہ سو باون، سیونٹین ففٹی ٹو میں احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر تیسرا حملہ کیا۔

لاہور کے قریب دریائے راوی کے کنارے میرمنوں اور احمد شاہ ابدالی کی فوجوں میں ایک اور جنگ ہوئی۔ مغلوں کی اس فوج نے دریائے راوی کے کنارے احمد شاہ ابدالی کا مقابلہ تو خوب کیا لیکن ایک بار پھر شکست کھائی۔ میرمنوں دس ہزار فوج کے ساتھ پیچھے ہٹے اور لاہور کے قلعے میں محصور ہو گئے۔ اب وہ قلعہ بند ہو کر لڑنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔

لیکن آپ جانتے ہیں کہ کتنی بھی دیر وہ قلعہ بند ہو جاتے، جب تک دہلی سے کوئی لشکر ان کی مدد کو نہ پہنچتا تو وہ احمد شاہ ابدالی کو شکست نہیں دے سکتے تھے ان کا محصارہ ختم نہیں کروا سکتے تھے۔ اور دہلی کے وزیراعظم تو ان کے دشمن ہو چکے تھے۔ سو جب انہوں نے دیکھا کہ اب وہ احمد شاہ ابدالی سے لڑ کر نہیں جیت سکتے تو انہوں نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔

ہتھیار ڈالنے کے لیے وہ خود چل کر احمد شاہ ابدالی کے سامنے پیش ہو گئے۔ احمد شاہ ابدالی نے ان سے پوچھا ’’اگر مجھے شکست ہو جاتی اور میں گرفتار کر کے تمہارے پاس لایا جاتا تو تم مجھ سے کیا سلوک کرتے؟‘ ‘ میرمنوں بولے ’’میں تمہارا سر کاٹ کر مغل شہنشاہ کو بھجوا دیتا۔‘‘ احمد شاہ ابدالی نے پوچھا ’’اب تم میرے پاس ہو بتاؤ تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟‘‘

میرمنوں نے جواب دیا ’’اگر تم سوداگر ہو تو فدیہ یعنی مال و دولت لے لو اور مجھے چھوڑ دو اور اگر واقعی عادل اور رحم دل بادشاہ ہو تو مجھے معاف بھی کرسکتے ہو۔‘‘ احمد شاہ ابدالی اس جواب سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے میرمنوں کو فرزند خاں بہادر کا خطاب دے کر اپنی طرف سے لاہور کا گورنر مقرر کر دیا۔ لیکن یہ رحم دلی مفت میں نہیں تھی۔

دراصل آپ کو اس وقت کے حملہ آوروں کی ایک نفسیات سمجھنا ہو گی ایک مشکل سمجھنا ہو گی وہ یہ کہ انہیں اپنی ریاستیں چلانے کے لیے اپنی سلطنت کا نظم و نسق چلانے کے لیے لمبے چوڑے مال و دولت کی ضرورت ہوتی تھی۔ اسی لیے وہ ایسی سرزمینوں پر حملے کرتے تھے جہاں سے زیادہ سے زیادہ مال و دولت حاصل کیا جا سکے۔

ساتھ میں وہ یہ بھی خیال رکھتے تھے کہ حملے کے بعد ایسے شخص کو مفتوح علاقے میں گورنر بنا کر جائیں جو زیادہ سے زیادہ ٹیکس جمع کر کے ان تک ہر سال بھجواتا رہے۔ یعنی طاقتور بھی ہو اور قابل بھی ہو ایسے شخص کو وہ گورنر بنایا کرتے تھے اور یہ ان کی مجبوری ہوا کرتی تھی۔

یہی احمد شاہ ابدالی کے ساتھ بھی یہاں ہوا۔ انھوں نے میر منوں کو معاف کرنے اور اپنا گورنر بنانے کے ساتھ ساتھ فدیہ بھی مال ودولت بھی پورا پوار وصول کیا۔ انہوں نے میرمنوں سے چھبیس لاکھ روپے کی رقم فوری حاصل کی جبکہ چار لاکھ روپے مزید رقم کی ادائیگی کا وعدہ بھی لے لیا۔ اس طرح دوستو پنجاب ایک بار پھر احمدا شاہ ابدالی کی افغان سلطنت کے زیراثر آ گیا۔

بلکہ پنجاب کے ساتھ ساتھ کشمیر بھی ان کی سلطنت کا حصہ بن گیا کیونکہ افغان سپہ سالار عبداللہ خان نے سری نگر فتح انھی دنوں کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افغان سالار نے سری نگر فتح کرنے کے لیے کوئی جنگ نہیں لڑی، بلکہ کشمیریوں نے بغیر لڑے ہی سری نگر افغان فوج کے حوالے کر دیا۔ اب دوستو سترہ سو باون کی مہم احمد شاہ ابدالی کی ایک کامیاب مہم تھی جس میں بظاہر انہوں نے پنجاب پر قبضہ کر لیا تھا۔

مغل دربار نے بھی پنجاب پر افغانوں کا قبضہ تسلیم کر لیا تھا۔ اس قبضے میں موجودہ پاکستانی پنجاب کے علاوہ بھارتی پنجاب کے علاقے سرہند تک احمد شاہ ابدالی کا کنٹرول قائم ہو گیا تھا۔ لیکن یہ کنٹرول زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ پھر اچانک ایک حادثہ ہوا جس نے پنجاب کی تاریخ بدل دی۔ ہوا یہ کہ گورنر میرمنوں جو کہ ایک قابل سپہ سالار تھے وہ ایک روز شکار کھیلنے نکلے۔

جنگل میں سکھوں نے ان پر حملہ کر دیا اور اس حملے کے دوران میر منوں گھوڑے سے گر کر ہلاک ہو گئے۔ ان کی موت نے پنجاب کا سیاسی نقشہ اور امن و امان کی صورت حال کو بدل دیا۔ پنجاب میں پھر آئندہ سات، آٹھ برس تک کوئی بھی مضبوط حکومت قائم نہ ہو سکی۔

پنجاب میں اس پولیٹیکل کیاؤس کے ذمہ دار بہت حد تک احمد شاہ ابدالی پر بھی آتی تھی۔ وہ بھلا کیسے؟ مائی کیوریس فیلوز احمد شاہ ابدالی نے میرمنوں کی موت کے بعد ایک بہت ہی غلط فیصلہ کیا۔ وہ یہ کہ میرمنوں کے بعد پنجاب جیسے اہم صوبے کا گورنر کسی تجربہ کار شخص کو نہیں بنایا۔ بلکہ جسے بنایا اس نے تو ابھی پاؤں پاؤں چلنا بھی نہیں سیکھا تھا۔

یہ تھا میرمنوں کا دو سالہ بیٹا محمد امین خان۔ احمد شاہ ابدالی نے امین خان کو گورنر پنجاب مقرر کیا اور ان کی والدہ، میرمنوں کی بیوہ مغلانی بیگم کو ننھے حاکم کا نائب بنا دیا۔ یعنی ننھے حاکم کے بالغ ہونے تک اقتدار مغلانی بیگم کے سپرد کر دیا گیا۔

اب مغلانی بیگم کے پاس نہ تو حکومت چلانے کا تجربہ تھا نہ صلاحیت تھی۔ اس کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا تھا، یعنی پنجاب مقامی گروہ اپنے اپنے طور پر اپنے اپنے علاقے میں خودمختار سردار بن کر پاور پالیٹکس کرنے لگے۔ طاقت کے ان کھلاڑیوں میں کچھ مغلانی بیگم کے قریبی رشتے دار تھے اور کچھ دوسرے لوگ اور سردار بھی تھے جو بہت زور آور تھے۔ یہ سب لوگ لاہور پر قبضے کیلئے آپس میں لڑنے لگے۔

پنجاب کے ننھے حاکم محمد امین خان کو بھی مبینہ طور پر زہر دے کر کسی وقت ہلاک کر دیا گیا۔ پھر ایک کے بعد ایک طاقتور سردار لاہور پر چڑھائی کرتا اور قبضہ کر کے بیٹھ جاتا۔ پھر اس وقت تک وہ لاہور میں لوٹ مار کا بازار گرم رکھتا جب تک کہ کوئی دوسرا طاقتور اسے اقتدار سے بے دخل نہ کر دیتا۔ ایک موقع پر مغلانی بیگم کے ماموں نواب عبداللہ نے بھی لاہور پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت لاہور کا خزانہ خالی ہو چکا تھا۔

نواب عبداللہ نے اپنی تجوریاں بھرنے کیلئے عام شہریوں کی جیبوں تک کی تلاشی لینا شروع کر دی اور ایک ایک پیسا ان سے نکلوانے لگا۔ اسی دور میں لاہور میں یہ کہاوت مشہور ہوئی کہ ۔۔۔ حکومت نواب عبداللہ، نہ رئی چکی نہ ریہا چُلھا یعنی نواب عبداللہ کی حکومت میں کسی کے پاس نہ تو آٹا پیسنے کیلئے چکی ہے اور نہ وہ چولہا جس پر روٹی پکائی جا سکے۔

تو افغانستان کی ابدالی سلطنت کے ماتحت پنجاب کا یہ حال ہو چکا تھا کہ لاہور کا خزانہ خالی تھا اور عوام دربدر تھے امن و امان کی صورت حال بہت خراب تھی۔ لیکن اتنے خراب حالات کے باوجود احمد شاہ ابدالی پنجاب پر کوئی توجہ دینے کے بجائے دہلی پر ایک اور حملے کا پروگرام بنا رہے تھے۔

سترہ سو چھپن، سیونٹین ففٹی سکس میں انہوں نے دہلی پر حملہ کر دیا۔ دہلی پر اس وقت انتہائی کمزور مغل بادشاہ،عالمگیر ثانی کی حکومت تھی۔ وہ احمد شاہ ابدالی کا مقابلہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ سو انھوں نے بغیر جنگ کے ہی دہلی، افغان لشکر کے حوالے کر دیا۔ لیکن احمد شاہ ابدالی نے دہلی کے تخت کو بھلا کیا کرنا تھا؟

انھیں تو مال و دولت چاہیے تھا سو وہ مغل بادشاہ سے مسلسل دو کروڑ روپے کا مطالبہ کرنے لگے۔ اب مغل دو کروڑ کہاں سے لاتے؟ ان کے خزانے میں تو جھاڑو پھر چکے تھے۔ وہاں تھا ہی کیا جو وہ کسی کو دیتے۔ سو احمد شاہ ابدالی کو جب دہلی کے شاہی خزانے سے کچھ نہیں ملا تو انھوں نے درباری امراء کو لوٹنا شروع کر دیا۔

مغل سلطنت کے وزیر غازی خان سے اٹھارہ لاکھ روپے کی رقم اور ہیرے جواہرات انہوں نے چھین لئے۔ اس کے علاوہ احمد شاہ ابدالی نے اپنے گیارہ سالہ بیٹے کی شادی عالمگیر ثانی کی بیٹی زہرہ بیگم سے کر دی۔ انھی دنوں سابق مغل شہنشاہ محمد شاہ رنگیلا کی سولہ سالہ بیٹی حضرت محل بیگم کی خوبصورتی کے چرچے عام تھے۔

ہند سندھ میں لوگ جانتے تھے کہ حضرت محل اتنی پرکشش ہیں کہ ساٹھ سالہ عالمگیر ثانی نے بھی ان سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ لیکن حضرت محل کی والدہ کے انکار کے باعث یہ رشتہ نہ ہو سکا۔ پھر جب احمد شاہ ابدالی نے دہلی پر قبضہ کر لیا تو انھوں نے بھی حضرت محل کی خوبصورتی کا ذکر سنتے ہوئے ان سے شادی کا فیصلہ کیا۔

مفتوح ماں نے اس پر بھی سختی سے انکار کیا اور کہا کہ میں اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دوں گی لیکن کسی افغان کے حوالے نہیں کروں گی۔ لیکن دوستو آپ خود ہی بتائیے بھلا ایک زبردست طاقتور فاتح کے سامنے ایک بوڑھی مفتوح بیوہ کے انکار کی کیا اہمیت تھی؟ سو احمد شاہ ابدالی نے دہلی میں حضرت محل بیگم سے نکاح پڑھوا کر انھیں اپنے عقد میں لے لیا۔

جب تک احمد شاہ ابدالی دہلی میں رہے خطبہ جمعہ میں ان کا نام بطور حکمران لیا جاتا رہا۔ احمد شاہ ابدالی نے دہلی کے ہندوؤں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی طرح پگڑیاں نہ پہنیں بلکہ اپنے ماتھے پر واضح نشان لگائیں تاکہ انہیں مسلمانوں سے الگ پہچانا جا سکے۔ جن ہندوؤں نے ماتھے پر نشانات نہیں لگائے انہیں بھاری جرمانے کئے گئے۔

لاہور کی طرح دہلی میں بھی احمد شاہ ابدالی نے اپنے نام کے سکے فوری طور پر جاری کروائے تا کہ سکہ رائج الوقت پر ان کی مہر ثابت ہو جائے۔ دہلی کو پوری طرح کنٹرول میں لانے کے بعد احمد شاہ ابدالی نے جہان خان اور نجیب الدولہ کو بیس ہزار فوج دے کر متھورا اور آگرہ کو فتح کرنے کے لیے بھیجا۔ ہندوؤں کا عقیدہ تھا کہ ان کے بھگوان کرشن کا جنم ان میں سے ایک شہر متھورا میں ہوا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ وہ متھورا کو مقدس سمجھتے تھے، وہاں ان کے اندگنت مندر تھے اور لاتعداد بت بھی نصب تھے۔ احمد شاہ ابدالی نے انہیں حکم دیا کہ متھورا ہندوؤں کا، کافروں کا شہر ہے یہاں کے لوگوں کو تلواروں کی نوک پر رکھ لو۔ انھوں نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ دہلی سے آگرہ تک کسی کو کوئی کھڑی فصل نظر نہیں آنی چاہیے۔

انھوں نے اپنے لشکر کے ہر سپاہی کو لالچ دیا کہ کافروں کے سر کاٹ کر وزیراعظم کے دروازے پر رکھ دیئے جائیں۔ ہر سر کے بدلے میں کاٹنے والے سپاہی کو پانچ روپے شاہی خزانے سے انعام دیا جائے گا۔ احمد شاہ ابدالی کے اس حکم کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان سپاہیوں نے انعام کے لالچ میں متھورا کے گلی کوچوں میں خون کی ندیاں بہا دیں۔ ہزاروں مردوں، عورتوں اور بچوں کو بے دردی سے یہ دیکھے بغیر مارا گیا کہ ان کا مذہب کیا ہے؟

اب کٹی گردن پر تو لکھا نہیں ہوتا کہ یہ کس مذہب کے ماننے والے کی یہ گردن ہے، خون تو سب کا ایک سا ہوتا ہے۔ ایک مسلمان سُنار، جیولر نے ایک افغان سپاہی کے سامنے سارے کپڑے اتار دئیے اور دہائی پر دہائی دی کہ اس کے ختنے ہو چکے ہیں، وہ مسلمان ہے۔ لیکن۔۔۔ اس کے باوجود اسے بھی قتل کر دیا گیا۔

افغان لشکر نے شہر میں نصب ایک ایک بت توڑ ڈالا۔ ہسٹورین آغا قیصر علی نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ متھُورا کے بڑے بڑے بھاری بت افغان ضربوں سے ریزہ ریزہ ہو کر پولو کے گیند کی طرح گلیوں میں ٹھوکریں کھاتے پھرتے تھے۔

ماتھورا کے بعد آگرہ، بلب گڑھ اور کئی دوسرے علاقوں کا بھی یہی انجام ہوا۔ لیکن جب احمد شاہ ابدالی نے متھورا کے قریب ہندوؤں کے ایک اور مقدس شہر گوکل پر حملہ کیا تو یہاں ایک عجیب صورتحال پیدا ہوگئی۔ اس شہر میں ہزاروں ہندو سادھو رہتے تھے اور افغان لشکر شہر سے باہر پڑاؤ ڈال چکا تھا۔

یہ لشکر کسی بھی وقت شہر پر حملہ کر سکتا تھا لیکن اس پہلے کہ یہ حملہ آور ہوتے شہر کے سادھو سر سے پاؤں تک الف ننگی حالت میں، جسموں پر راکھ مل کر شہر سے باہر موجود افغان فوج پر جو ہتھیار ہاتھ آیا وہ لے کر ٹکرا گئے۔ یہ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ احمد شاہ ابدالی پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ سادھوؤں کی اس بہادری نے گوکل شہر کو تباہی سے بچا لیا۔

بہرحال پھر بھی دہلی اور دوسرے ہندوستانی شہروں میں لوٹ مار سے احمد شاہ ابدالی اور افغان لشکر کے ہاتھ جتنا سازوسامان اور سونہ چاندی ہیرے جواہرات آئے وہ بارہ کروڑ کی کثیر رقم کے برابر تھے۔ آج کے حساب سے یہ دیکھیں تو یہ یہ آج کے اربوں روپے بنتے ہیں۔

یہ سارا مال و دولت قابو میں لینے کے بعد احمد شاہ ابدالی افغانستان کی طرف پلٹنے کی تیاری کرنے لگے۔ لوٹ مار کا سامان اتنا زیادہ تھا کہ اٹھائیس ہزار جانوروں اور چھکڑوں پرلادا گیا جبکہ افغان فوج کے اسی ہزار سپاہیوں میں سے ہر ایک کے پاس جو کچھ بھی تھا وہ اس کے علاوہ تھا۔ افغان لشکر جب یہ سارا مال و دولت لے کر فاتحانہ دہلی اور آگرہ سے ہوتے ہوئے افغانستان جا رہے تھے تو راستے میں پنجاب پڑتا تھا۔

یہاں وہ طاقت گھات لگائے بیٹھے تھی جو احمد شاہ ابدالی سے اب تک کھلے میدان میں تو مقابلہ نہیں کر پائی تھی لیکن گوریلا جنگ میں وہ بہت ماہر ہو چکی تھی۔ اس طاقت کا نام تھا خالصہ۔ خالصہ سکھوں نے فاتح افغان لشکر کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

سکھوں اور افغانوں میں لڑائیاں کیوں شروع ہوگئیں؟ مرہٹوں اور سکھوں کی مشترکہ طاقت درانی ایمپائر کے مقابلے میں کیوں آئی؟ افغان اور مرہٹہ لشکر میں پانی پت کی تیسری لڑائی کی کہانی بھی آپ کو دکھائیں گے لیکن ہسٹری آف افغانستان کی اگلی قسط میں

Read More::: History of Afghanistan E05 | Ahmad Shah Abdali’s Invasion of Punjab In Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button