History World Urdu

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan In Urdu

History of Afghanistan

یہ جون تھری ٹوئنٹی تھری بی سی کی بات ہے کہ فاتح عالم اسکندر اعظم بسترِ مرگ پر تھے۔ ان کے بستر کے گرد ان کے بہترین اور قابل جنرلز کھڑے تھے جن پر انہوں نے اپنی فوجی مہمات کے دوران بہت بھروسہ کیا تھا۔ لیجنڈ ہے کہ انہوں نے اسکندرِ اعظم سے پوچھا، ان جنرلز نے پوچھا کہ آپ اپنی موت کے بعد اپنا تخت کسے سونپنا چاہیں گے۔

History of Afghanistan E02  Islam in Afghanistan In Urdu

اسکندر نے جواب دیا جو تم میں سب سے طاقتور ہے اس کو۔ دس اور گیارہ جون تین سو تئیس بی سی کی درمیانی رات اسکندر اعظم کا انتقال ہو گیا۔ یہ جو شکستہ دیواریں آپ سکرین پر دیکھ رہے ہیں یہ وہی محل ہے جس میں اسکندر اعظم نے ممکنا طور پر زندگی کی آخری سانسیں لی تھیں۔

اس محل کو بابل کے مشہور بادشاہ بخت نصر، نے تعمیر کروایا تھا، وہی بخت نصر جنہوں نے یروشلم فتح کر کے یہودیوں کو قیدی بنایا تھا اور ہیکلِ سلیمانی کو تباہ کر دیا تھا۔ لیکن جیسے آج بخت نصر کا محل تباہی و بربادی کی تصویر بنا ہوا ہے ویسے ہی اسکندر اعظم کے بعد ان کی سلطنت بھی پارہ پارہ ہو گئی۔ لیکن اس سلطنت کے خاتمے کے واقعات میں افغانوں نے کیا کردار ادا کیا۔

افغانستان پر اسلام کا پرچم کس نے لہرایا؟ موجودہ افغان ریاست کی بنیاد کیسے پڑھی؟ جب اسکندرِ اعظم کی موت ہوئی تو ان کی افغان بیوی، ملکہ رخسانہ امید سے تھیں، پریگننٹ تھیں۔ اسکندرِ اعظم کے قریبی ساتھیوں کو یقین تھا کہ ملکہ رخسانہ ایک بیٹے کو ہی جنم دیں گی جو کہ ان کے بعد ان کی سلطنت کا سکندراعظم کی سلطنت کا وارث ہو گا۔

لیکن کچھ ایسے لوگ ایسے بھی تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ رخسانہ چونکہ یونانی نہیں ہیں اس لئے ان کی اولاد اسکندر یونانی کی جائز وارث نہیں ہو سکتی۔ بات یہ تھی کہ یونانی اپنے علاوہ ہر قوم کو اور خاص طور پر ایشیائی لوگوں کو وحشی اور غیر مہذب، اَن سیویلائزڈ سمجھتے تھے۔ ملکہ رخسانہ بھی چونکہ یونانی نہیں تھیں اس لئے بہت سے یونانی کمانڈر اور اشرافیہ کے لوگ ملکہ کو پسند نہیں کرتے تھے۔

لیکن یونانیوں میں چونکہ اولاد کو باپ سے منصوب کیا جاتا تھا، اس لیے سب مخالفتوں کے باوجود تخت پر ملکہ رخسانہ اور ان کے ہونے والے بچے کا دعویٰ دوسرے دعووں کی نسبت سب سے مضبوط تھا۔ اسکندرِ اعظم نے یونانی فوج میں بڑی تعداد میں اب افغانوں کو بھی بھرتی کر لیا تھا اور یہ افغان فوجی ملکہ کے وفادار تھے اور وہ ملکہ رخسانہ کو سپورٹ کرتے تھے۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اگر رخسانہ بیٹے کو جنم دے بھی دیتیں تو وہ بچہ فوراً اس وسیع و عریض سلطنت کی حکمرانی کے قابل تو نہیں تھا۔ اسے وقت چاہیے تھا اور اس وقت میں کسی نے تو اس سلطنت کو گورن کرنا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بخت نصر کے محل میں اسکندر اعظم کی آخری رسومات ابھی جاری تھیں کہ ان کے جنرلز سر جوڑے بیٹھے تھے مگر سلطنت کے نئے وارث کا فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔

آخر بہت سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ملکہ رخسانہ کے ہونے والے بچے اور اسکندرِ اعظم کے سوتیلے بھائی ایرہائیڈیس جو کہ ذہنی معذور تھے انہیں مشترکہ طور پر سلطنت کا حکمران بنا دیا جائے۔ یعنی ان دونوں کو علامتی طور پر حکمران کی سیٹ پر بیٹھا دیا جائے لیکن سلطنت کا سارا انتظام اسکندرِ اعظم کے یہی کمانڈرز، جنرلز چلائیں۔ اس طرح یہ معاملہ طے کر لیا گیا۔

کچھ عرصے بعد رخسانہ نے یونانیوں کی توقع کے عین مطابق ایک بیٹے کو جنم دیا۔ اس بیٹے کو الیگزانڈر فور کا نام دیا گیا جبکہ اسکندر اعظم کے سوتیلے بھائی ایرہائیڈس کو فلپ تھری کا ٹائٹل مل گیا۔ ان دونوں کے نام پر یونانی جنرلز ملک کا انتظام سنبھالنے لگے اس ایمپئیر کو چلانے لگے۔ لیکن یہ بندوبست محض دو برس ہی چل پایا۔

جو یونانی ملکہ رخسانہ سے ان کے افغان بیک گراؤنڈ کی وجہ سے نفرت کرتے تھے وہ ان کے بیٹے الیگزانڈر فور کو دل سے حکمران تسلیم نہ کر سکے۔ کچھ جنرلز خود بھی بادشاہ بننے کے خواب دیکھ رہے تھے وہ ایک بچے اور ایک ذہنی معذور کے ماتحت نہیں رہنا چاہتے تھے۔ حکومتی معاملات چلانے کے حوالے سے بھی یونانی جنرلز میں سخت اختلافات تھے۔

اسکندرِ اعظم کی موت کے محض دو برس بعد تین سو اکیس بی سی میں ان کے درمیان اختلافات باقاعدہ خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گئے اور یونانی سلطنت میں سول وار شروع ہو گئی۔ یہ سول وار تقریباً چالیس برس تک جاری رہی اور جب ختم ہوئی تو اسکندرِ اعظم کی عظیم سلطنت کا زیادہ تر حصہ ان کے تین جنرلز میں تقسیم ہو چکا تھا۔ جنرل اینٹیگنس کا قبضہ اس ایمپائر پر تھا جس میں یونان شامل تھا۔

جبکہ مصر پر جنرل ٹولیمی کی حکمرانی تھی۔ ترکی، شام، ایران، عراق، افغانستان اور سینٹرل ایشیا کے علاقوں پر جنرل سلوکس نے سلوسڈ ایمپائر قائم کر لی تھی۔ یہ تینوں ایمپائر اسکندر اعظم کے جنرلز نے اپنے بل بوتے پر اس خانہ جنگی کے بعد قائم کئی تھیں۔ خانہ جنگی کے دوران ہی تین سو دس قبل از مسیح میں اسکندرِ اعظم کی افغان دلہن رخسانہ اور ان کے بیٹے الیگزانڈر فور کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔

یوں اسکندرِ اعظم کی بلڈ لائن مٹ گئی تھی اور وہ افغان جو اسکندرِ اعظم کے بیٹے کے ذریعے پورے یونانی ایمپائر پر حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے اب وہ سیلیوکس ایمپائر کے قبضے میں ان کی غلامی میں جا چکے تھے۔

ساتھ میں یہ ہوا کہ یونانی سول وار ختم ہونے سے پہلے ہی موجودہ افغانستان کا ایک بڑا علاقہ یونانیوں کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ وہ اس طرح کہ تین سو اکیس بی سی میں جب یونانی سول وار شروع ہوئی تو اسی وقت افغانستان کے ہمسائے ہندوستان میں ایک بہت طاقتور سلطنت نے جنم لیا جس کا نام تھا موریہ ایمپائر۔ اس سلطنت کے بانی چندر گپت موریہ تھے۔

لیکن اس زمانے تک شمال مغربی ہندوستان یا موجودہ پاکستان کے بہت سے علاقے جنہیں اسکندرِ یونانی نے فتح کیا تھا وہ ابھی بھی یونانیوں کے قبضے میں تھے۔ یہاں کچھ یونانی فوج بھی تعینات تھی خاص طور پر ٹیکسلا میں جسے تکشلا بھی کہا جاتا ہے۔ چندر گپت موریہ کو ہندوستانی سرزمین پر غیر ملکی افواج کی موجودگی ایک پل گوارہ نہیں تھی۔ اس کے علاوہ بھی وہ اپنی سلطنت کو بھی پھیلانا چاہتے تھے۔

چنانچہ انہوں نے ٹیکسلا پر حملہ کر کے یونانیوں کو شکست دی اور انہیں ہندوستان سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ یوں مغربی ہندوستان یونانیوں سے آزاد ہو گیا۔ یونانیوں کو شکست دینے کے بعد چندر گپت موریہ نے ہندوستان کے اور بہت سے علاقے فتح کر کے موریہ ایمپائر کو مستحکم کر لیا۔

انہوں نے پاٹلی پتر یا موجودہ پٹنہ کو اپنا دارالحکومت بنایا اور ہندوستان پر حکومت کرنے لگے۔ لیکن موریہ ایمپائر کی بڑھتی ہوئی طاقت یونانیوں کو کھٹکنے لگی تھی۔ اسکندر یونانی کے سابق جنرل سلیوکس جنہوں نے سول وار کے دوران سلیوکس ایمپائر کی بنیاد رکھی تھی وہ افغانستان کے ایک بڑے حصے پر اب بھی قابض تھے۔ موریہ ایمپائر سے سب سے زیادہ خطرہ بھی وہی محسوس کرتے تھے۔

اس کے علاوہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ مغربی، شمال مغربی ہندوستان جو موجودہ پاکستان ہے اس کے جو علاقے موریہ سلطنت نے چھینے ہیں وہ واپس لے لئے جائیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک بڑی فوج جمع کی اور تین سو پانچ سے تین سو ایک بی سی کے درمیان کسی وقت ہندوستان پر حملہ آور ہو گئے۔ لیکن اس حملہ میں انھیں منہ کی کھانا پڑی۔

چندر گپت موریا کی فوج نے سلیوکس یونانی کو زبردست شکست دے کر ہندوستان سے بھاگا دیا۔ سلیوکس جس راستے سے آیا تھا اسی راستے سے اپنا سا منہ لے کر لوٹ گیا۔ اس شکست کے بعد یونانیوں نے جنوب مشرقی افغانستان کا علاقہ جسے یونانی آراکوسیا کہتے تھے اسے موریہ ایمپائر کے حوالے کر دیا۔

جبکہ شمال مغربی افغانستان یونانیوں کے قبضے میں ہی رہا۔ اس کے علاوہ سلیوکس نے چندر گپت موریہ سے اپنی بیٹی کی شادی بھی کر دی۔ چندر گپت موریہ نے بھی سلیوکس کو پانچ سو ہاتھیوں کا تحفہ دے دیا۔ اس معاہدے کے بعد سلیوکس نے کبھی پھر ہندوستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھا۔ البتہ انہوں نے موریہ ایمپائر سے ملنے والے ہاتھیوں کو یونانی سول وار میں اپنے دشمنوں کے خلاف خوب استعمال کیا۔

تین سو ایک بی سی میں سلیوکس نے موجودہ ترکی میں اپنے حریف اینٹیگنس کی فوج کو شکست دی۔ اس لڑائی میں جنرل اینٹیگنس مارے گئے۔ اس جنگ کو اس تاریخی لڑائی کو بیٹل آف اِیپسس کہا جاتا ہے اور اس میں ہندوستانی ہاتھیوں نے ہی فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔

جنرل اینٹیگنس کے بعد ان کے بیٹے ڈی میٹریاس دا فرسٹ نے مقدونیہ یا جسے میسی ڈونیا بھی کہتے ہیں وہاں حکومت جاری رکھی۔ مائی کیوریس فیلوز چندر گپت کی موت غالباً دو ستانوے بی سی میں ہوئی تھی۔ ان کی موت کے بعد موریہ ایمپائر کی افغانستان میں پیش قدمی جاری رہی۔ موریہ ایمپائر کے عروج کے دور میں قندھار اور کابل سمیت افغانستان کا ایک بڑا علاقہ اسی ہندوستانی موریا ایمپئیر کا حصہ بن گیا تھا۔

لیکن پھر دو سو اڑسٹھ بی سی میں موریہ ایمپائر میں ایک بڑی تبدیلی آئی جس نے ہندوستان کو تو متاثر کیا ہی لیکن افغانستان اور اس کی ثقافت پر بھی بہت گہرا اثر ڈالا۔ اس تبدیلی کا نام تھا اشوکا۔ اشوکا، چندر گپت موریہ کے پوتے تھے اور انہوں نے محض بارہ برس کی عمر میں موریہ ایمپائر کا تخت سنبھالا تھا۔

وہ بھی فتوحات کے شوقین تھے لیکن پھر یوں ہوا کہ ان کا مقابلہ کلینگا نام کی ریاست سے ہوا جو موجودہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں واقع تھی۔ اس لڑائی میں اشوکا جیت تو گئے اور انہوں نے کلنگا پر قبضہ بھی کر لیا لیکن اس جنگ سے جو تباہی ہوئی تھی اسے دیکھ کر وہ بدل گئے۔ اس لڑائی میں کم از کم ایک لاکھ لوگ قتل ہوئے اور ڈیڑھ لاکھ بے گھر ہو گئے۔

اشوکا نے میدان جنگ کا ایک طویل چکر لگایا اور میلوں تک پھیلی لاشیں، چیختے زخمی اور انسانوں کے چیتھڑے بکھرے دیکھے تو انھیں جنگ سے نفرت ہو گئی۔ اس خوفناک جنگ نے اشوکا کے ذہن کو جنگ و جدل سے ہمیشہ کے لیے ہٹا کر امن اور انسانیت کی طرف مائل کر دیا۔ انہوں نے آئندہ ہتھیار اٹھانے سے توبہ کر لی اور بدھ مت اختیار کر لیا جس کی بنیاد ہی عدم تشدد یعنی نان وائلنس پر تھی۔

اب آپ جانتے ہیں کہ مذہب کے پھیلاؤ میں سب سے اہم کردار طاقتور بادشاہ ہی تو ادا کرتے ہیں۔ طاقتور بادشاہ اپنی پسند کے مذہب کو آسانی سے پھیلا لیا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر رومن ایمپئیر میں رومن شہنشاہ کونسٹنٹائن نے عیسائیت اختیار کی اور اسے پھیلایا تھا۔ اسی طرح اشوکا نے بدھ مت اختیار کیا تو اپنی سلطنت کے کونے کونے میں بدھ مت کی تبلیغ شروع کروا دی۔

اشوکا کا ایک اہم قدم یہ تھا کہ انہوں نے بدھ مت کی تعلیمات کو تختیوں پر لکھوا کر اپنی سلطنت میں جگہ جگہ نصب کروایا ظاہر ہے ان کی سلطنت میں افغانستان کا بھی ایک بڑا علاقہ شامل تھا۔ چنانچہ اشوکا کی سرپرستی میں افغانستان میں بدھ مت تیزی سے پھیلنے لگا۔ آرکیالوجیکل ریسرچ کے دوران افغانستان سے ایسی بہت سی تختیاں برآمد ہو چکی ہیں جنہیں اشوکا کے زمانے میں لکھوایا گیا تھا۔

یوں اشوکا کی کوششوں سے بدھ مت نے افغانستان اور ہندوستان کے عوام میں اپنی جڑیں بہت گہری کر لیں۔ افغانستان میں کئی طاقتور سیاسی گروہوں نے بھی بدھ مت اشوکا کے بعد ہی اختیار کیا تھا۔ دوستو موریہ ایمپائر ایک سو پچاسی بی سی میں ختم ہو گیا۔ جبکہ افغانستان میں آباد ہو جانے والے مقامی یونانیوں نے رفتہ رفتہ سلیوکس ایمپائر کی جگہ لے لی اور خود اپنی ایک آزاد یونانی سلطنت قائم کر لی۔

یہ مقامی یونانی سلطنت جو افغانستان میں قائم ہو چکی تھی اسے گریکو بیکٹرین کہتے تھے۔ یہ یونانی حکمران اس کے یونانی حکمران پہلی صدی بی سی تک افغانستان پر حکومت کرتے رہے۔ اس سلطنت نے افغانستان میں یونانی کلچر کو بہت فروغ دیا۔

افغانستان کے موجودہ صوبے تخار میں انہوں نے اے خائی نوم نام کا ایک شہر بھی بسایا تھا جو ایک طویل عرصے تک ان کا دارالحکومت بھی رہا۔ اس شہر کی باقیات اب بھی موجود ہیں اور ان کی کھدائی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ اس شہر کو یونانی طرز پر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں یونان جیسے تھیٹر اور عبادت گاہیں بھی موجود تھیں۔

لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ اس سلطنت کے بادشاہ ہرمائیس کے بعد اچانک سے اس سلطنت کا نام و نشان ہوا ہو گیا۔ یہ عجیب سی تاریخی الجھن ہے کہ افغانستان سے چالیس قبل از مسیح، فورٹی بی سی کے بعد اچانک سے یونانی سکوں کی جگہ مقامی بادشاہوں کے سکے ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔

یہ یونانی سلطنت ایک دم سے کہاں چلی گئی؟ اس حوالے سے ایک تاریخی قیاس آرائی یہ کی جاتی ہے کہ شاید مقامی لوگوں اور غیر ملکی حملہ آوروں کے اچانک حملے اس کے خاتمے کا باعث بنے۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ یہ یونانی حکمران مسلسل حملوں اور جنگ و جدل سے تنگ آ کر افغانستان ہی کے ایک اور علاقےنورستان میں جا کرآباد ہو گئے تھے اور انہوں نے تخت چھوڑ دیا تھا۔

یہ لوگ انیسویں صدی کے آخر تک غیر مسلم ہی رہے۔ یہ ہندو مذہب کو بھی فالو کرتے تھے اور ان کی وجہ سے نورستان کا علاقہ کافرستان کہلایا جاتا رہا۔ جیسا کہ ہمارے پاکستان میں بھی وادی کیلاش کے علاقے کو کافرستان کہا جاتا ہے۔

تو اسی طرح نورستان کا علاقہ بھی کافرستان کہلاتا تھا لیکن پھر یہ ہوا کہ اٹھارہ سو نوے کی دہائی میں افغان بادشاہ عبدالرحمان نے اس علاقے پر حملہ کر دیا کچھ لوگوں کا الزام ہے کہ اس حملے کے بعد یہاں کے لوگوں کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ان لوگوں کو مسلمان بنانے کے بعد اس علاقے کا نام کافرستان سے بدل کر نورستان کر دیا گیا یعنی نور کی سرزمین۔

تو بہرحال یونانی سلطنت کا خاتمہ تو نجانے کیوں ہوا لیکن اشوکا کے بعد زیادہ تر افغان عوام کم از کم ایک ہزار سال تک بدھ مت مذہب ہی کے پیروکار رہے۔ حالانکہ اس دوران ہندوستان کے بڑے حصے پر بدھ مت کی جگہ ہندومت نے لینا شروع کر دی تھی۔ افغانستان میں بھی ہندومت اور پارسی مذاہب کے پیروکار موجود تھے لیکن افغانستان کا اکثریتی مذہب بدھ مت ہی رہا۔

یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں بدھ مت کے تحت آرٹ اور کلچر کو فروغ ملا۔ یہاں مجسمے تراشے گئے، عبادت گاہیں قائم کی گئیں اور ان عبادت گاہوں میں بدھ مت کی مذہبی کتابوں کی تعلیم دی جانے لگی۔ صرف بلخ میں ہی ایک سو سے زائد بدھ عبادت گاہیں موجود تھیں جہاں طالبعلموں کے رہنے کا بھی انتظام تھا۔

اسی دور میں افغانستان کے علاقے بامیان میں بدھا کے وہ دیو قامت مجسمے بھی تعمیر کئے گئے جنہیں طالبان نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں تباہ کر دیا تھا۔ مختصر یہ کہ افغانستان میں بدھ مت کا عروج افغانستان کا ایک سنہری دور تھا۔ اس دور میں افغانستان کے رابطے چین اور ہندوستان سے مضبوط ہوئے۔

اس وقت چائنیز میں بھی بدھ مت تیزی سے پھیل رہا تھا۔ اس لئے افغانستان سے بڑی تعداد میں افغانی مذہبی تعلیم کیلئے ہندوستان کے علاوہ چین بھی جایا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک افغان بدھ بھکشو ’’ہوئی شین‘‘ نے چار سو اٹھاون میں اپنے کچھ چائنیز ساتھیوں کے ساتھ ایک اجنبی سرزمین کا سفر کیا تھا جسے انہوں نے فیوزینگ کا نام دیا تھا۔ آج بہت سے ہسٹورینز کا ماننا ہے کہ ہوئی شین نے ممکنہ طور پر براعظم امریکہ کا سفر کیا تھا۔

کیونکہ کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے سے بھی کوئی ایک ہزار برس قبل افغان اور چائنیز بدھ بھکشوامریکی سرزمین کا مبینہ طور پر یہ سفر کر چکے تھے۔ لیکن چونکہ ان کے جانے کے بعد بھی امریکہ کا بیرونی دنیا سے کوئی مستقل رابطہ قائم نہیں ہو سکا اس لئے امریکہ کی دریافت کا سہرا بہرحال دنیا فی الحال کولمبس کے سر ہی دیتی ہے۔

موریہ اور یونانی ایمپائر کے بعد اگلے تقریباً سات آٹھ سو برس تک افغانستان میں جہاں بدھ مت امن کا درس دیتا رہا وہیں اس پر بیرونی قوتوں کے حملے بھی جاری رہے۔ سینٹرل ایشیا اور ایران میں جنم لینے والے ایمپائر افغانستان پر قبضے کی کوششیں کرتے رہے۔ چار سو ستائیس کے آس پاس تو یہاں سینٹرل ایشیا سے آنے والے وائٹ ہن قبائل بھی کچھ عرصے کیلئے حکمران رہے۔

لیکن اس سارے عرصے میں افغانستان کی اپنی کوئی تاریخی اہمیت نہیں تھی۔ اس کی حیثیت بس بڑے ایمپائرز کے ایک صوبے جیسی ہوتی تھی جو اسے صرف اس لئے اہمیت دیتے تھے کیونکہ یہ سینٹرل ایشیا، ایران اور ہندوستان کے درمیان ایک اہم پڑاؤ ہوا کرتا تھا۔ اس سے زیادہ افغانستان کی کوئی اہمیت ان ایمپئیرز میں نہیں تھی۔

لیکن پھر ساتویں صدی میں یہاں ایک ایسی طاقت نے قدم رکھا جس نے آنے والی صدیوں میں افغانستان کو خود ایک طاقتور سلطنت بننے میں مدد دی۔ یہ ایک ایسی طاقت تھی جس کے پاس ایک نظریہ بھی تھا اور تلوار بھی۔ اس طاقت کا نام تھا اسلام۔ ساتویں صدی میں جب خلفائے راشدین کے دور میں اسلام پھیلنا شروع ہوا تو اس وقت افغانستان ایران کی ساسانی سلطنت کے قبضے میں تھا۔

افغانستان کے علاوہ سینٹرل ایشیا کا بھی بہت بڑا رقبہ اسی ساسانی ایرانی سلطنت کا حصہ تھا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے چھے سو چھتیس اور چھے سو بیالیس، سکس تھرٹی سکس اور سکس فورٹی ٹو میں جنگِ قادسیہ اور نہاوند کے معرکوں میں ایرانیوں کو شکست فاش دی اور ایران اور عراق پر قبضہ کر لیا۔ ایرانی شہنشاہ یزد گرد فرار ہو کر افغانستان پہنچے اور انھوں نے بلخ میں پناہ لے لی۔

ان کا تعاقب کرتے ہوئے مسلم لشکر بھی افغانستان میں داخل ہوا اور مسلمانوں نے پہلے ہرات اور پھر بلخ پر اپنا پرچم لہرا دیا۔ بلخ کو مسلمانوں نے شہروں کی ماں یا مدر آف سٹیز کا خطاب بھی دیا۔ چھے سو اکسٹھ، سکس سکسٹی ون میں جب امیر معاویہ نے اموی سلطنت قائم کی تو یہ وہ تھے جنہوں نے ہندوستان پر حملے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے اپنے سپہ سالار مہلب بن ابی صفرہ کو حکم دیا کہ وہ ہندوستان پر حملہ آوور ہو جائیں۔ مہلب بن ابی صفرہ اس وقت ایران اور سینٹرل ایشیا کے اس علاقے کو جسے خراسان کہا جاتا ہے وہاں موجود تھے۔ وہ فوراً لشکر لے کر ہندوستان جانے کے لیے کابل کی طرف چل پڑے۔

انہوں نے کابل سے ملتان تک کئی علاقوں پر حملے کئے اور مقامی حکمرانوں کو شکستیں دے کر کافی مالِ غنیمت حاصل کر لیا۔ اس کے بعد وہ افغانستان کے راستے ہی سینٹرل ایشیا واپس چلے گئے اور سمرقند پر قبضے کی مہم میں حصہ لیا۔ دوسری طرف مسلمانوں کے ایک اور لشکر نے ایرانی علاقے سیستان کی طرف سے پیش قدمی کر کے قندھار پر حملہ کیا۔

مسلم ہسٹورینز کے مطابق قندھار کے شہریوں نے حملہ آور لشکر کا بڑی دلیری سے مقابلہ کیا اور اس لڑائی میں مسلمانوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو فتح ہوئی اور قندھار پر ان کا قبضہ قائم ہو گیا۔ یوں دوستو خلافتِ راشدہ سے شروع ہونی والی فتوحات کا سلسلہ اموی دور میں تکمیل کو پہنچا اور افغانستان پہلی بار مسلمانوں کے کنٹرول میں آ گیا۔

افغان عوام نے مسلم اثر میں آتے ہی اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا۔ افغانستان میں رہنے والے مختلف قبائل خواہ وہ پارسی تھے، یا بدھ مت یا ایک بدھ مت سے ملتے جلتے مذہب شامانی سے تعلق رکھتے تھے وہ اپنے اپنے مذاہب کی پریکٹس کرتے رہے۔ خاص طور پر افغانستان کے خانہ بدوش قبائل اسلامی تعلیمات سے بالکل بھی آگاہ نہیں ہوئے تھے۔ اموی سلطنت کے خاتمے تک یہی صورتحال رہی۔

لیکن سات سو پچاس کے آس پاس جب اموی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور اس کی جگہ عباسی سلطنت قائم ہوئی تو صورتحال بدل گئی۔ عباسیوں نے ایرانی آرٹ اور کلچر کو اپنا لیا اور اپنی سلطنت میں بڑے پیمانے پر خوبصورت مساجد اور محل وغیرہ تعمیر کروانا شروع کر دیئے۔ بلخ اور ہرات جو کہ اس زمانے میں افغانستان کے اہم ترین شہر تھے وہاں بھی مساجد اور بڑے بڑے محل تعمیر کروائے گئے۔

ان مساجد کے ذریعے اسلام کی تبلیغ زورو شور سےشروع ہوئی اور افغانوں کی بڑی تعداد نے اب یہ نیا مذہب اختیار کرنا شروع کر دیا۔ وہ وقت اور آج کا وقت دوستو اب گزشتہ ایک ہزار برس سے زیادہ ہو چلا ہے اور اسلام ہی افغانستان کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ اس وقت افغانستان میں غیر مسلموں کی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے، ایک فیصد سے بھی کم۔ لیکن جو افغانستان اُموی اور عباسی دور میں موجود تھا وہ ایک بڑی طاقت نہیں تھا بلکہ بڑی سلطنتوں کا ایک چھوٹا سا صوبہ ہی تھا۔

افغانستان کو پہلی بار تاریخ میں ایک طاقت کے طور پر متعارف کروانے کا سہرا جاتا ہے ایک ترک سردار کے نام۔ اس سردار کا نام تھا محمود غزنوی۔ اگر عباسی سلطنت افغانستان پر اپنی گرفت مضبوط رکھتی تو شاید تاریخ میں محمود غزنوی کا نام تک نہ ہوتا۔ لیکن عباسی سلطنت اپنے قیام کی پہلی صدی یعنی آٹھ سو پچاس سے پہلے ہی کمزور پڑنا شروع ہو گئی تھی۔

عباسیوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر سینٹرل ایشیا میں بغاوتیں شروع ہو گئیں اور نئی سلطنتیں قائم ہونے لگیں۔ افغانستان ایک بار پھر ایک سے دوسری سلطنت کے ہاتھوں میں منتقل ہونے لگا۔ آٹھ سو انیس، ایٹ نائنٹین میں سینٹرل ایشیا میں ایک نئی سلطنت قائم ہوئی، سامانیان یا سامانی سلطنت۔ یہ سلطنت نو سو ننانوے تک یعنی تقریباً دو سو برس قائم رہی۔ افغانستان بھی اسی سلطنت کا حصہ تھا۔

نو سو اسی کی دہائی، نائن ایٹیز میں افغانستان کے سامانی گورنر ایک سابق ترک غلام تھے جن کا نام تھا سبکتگین۔ لیکن یہ کوئی عام ترک غلام نہیں تھے بلکہ ان کا شجرہ نسب ایران کی ساسانی سلطنت کے آخری حکمران یزد گرد تک جا پہنچتا تھا۔ وہی یزد گرد جن کے تعاقب میں مسلمانوں نے افغانستان فتح کیا تھا۔

یزد گرد کی اولادوں نے ایران سے پسپا ہونے کے بعد سینٹرل ایشیا میں رہائش اختیار کی تھی اور وہاں مقامی ترک قبائل سے شادیاں کر لی تھیں۔ انہی شادیوں کے نتیجے میں جو نسل آگے بڑھی اسی میں سبکتگین بھی شامل تھے۔ تو اب یہ سبکتگین جن کی رگوں میں قدیم ایرانی اور ترک خون دوڑ رہا تھا وہ سامانیوں کی طرف سے خراسان کے گورنر تھے جس میں ایران اور افغانستان کا بڑا علاقہ شامل تھا۔

انہی کے بیٹے تھے ابوالقاسم محمود جو بعد میں محمود غزنوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ نو سو ستانوے میں جب سبکتگین کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے محمود غزنوی ان کی جگہ حکمران بنے۔ انہوں نے سامانی سلطنت سے بغاوت کر کے افغانستان کو ایک آزاد سلطنت بنا دیا اور غزنی کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ انہوں نے یمین الدولہ ابوالقاسم محمود بن سبکتگین کے ٹائٹل سے اپنے سلطان ہونے کا اعلان کر دیا۔

ہسٹورین محمد حبیب کے مطابق محمود غزنوی ہی وہ پہلے مسلمان حکمران تھے جنہوں نے سلطان کا ٹائٹل اختیار کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ مسلم حکمران جو عباسی خلافت سے الگ ہوئے تھے وہ عام طور پر امیر یا ملک وغیرہ کہلاتے تھے۔ جبکہ مصر کے فاطمی حکمرانوں اور اندلس کے اموی حکمرانوں نے اس زمانے میں خلیفہ کا ٹائٹل اختیار کر رکھا تھا۔ تو سلطان محمود غزنوی اسلامی تاریخ کے پہلے ہی سلطان تھے۔

پھر ان کی قیادت میں افغان سلطنت نے اتنی ترقی کی کہ یہ اپنے دور کی سب سے بڑی اور طاقتور اسلامی سلطنت بن گئی۔ حتیٰ کہ ہزاروں میل دور بغداد میں بیٹھے عباسی خلفاء بھی اس کی طاقت کا لوہا مانتے تھے۔ عباسیوں نے محمود غزنوی کو ایک بار بطور تحفہ شاہی لباس یعنی شاہی خلعت بھی بھیجی تھی۔

اس سلطنت کے دور میں ایک اور کام بھی ہوا ایک بہت ہی اہم کام جس نے افغانستان میں رہنے والی ایک قوم کو نئی زندگی دے دی۔ وہ کام تھاافغانستان میں بولی جانے والی ایک زبان پشتو کو دیوناگری کی جگہ عربی رسم الخط میں لکھنے کا کام۔

اس کے نتیجے میں پشتو زبان کو بہت ترقی ملی کیونکہ افغانستان کے حکمران عربی رسم الخط، عربی ٹیکسٹ کو اپنا چکے تھے اور وہاں کسی بھی زبان کی ترقی عربی کے الفاظ میں لکھے بغیر ممکن نہیں تھی۔ یوں پشتو کے رسم الخط کی تبدیلی نے پشتو بولنے والوں کو افغانستان میں اپنی الگ پہچان بلکہ سیاسی طاقت بننے کا موقع بھی فراہم کر دیا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پشتون تھے کون؟ کیا واقعی جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ پشتونوں کی ہسٹری چھے ہزار برس پرانی ہے، ایسا ہی ہے؟ چنگیز خان اور مغلوں نے افغانستان سے کیا سلوک کیا؟ ماڈرن افغانستان آج کا افغانستان کیسے قائم ہوا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے مگر پسٹری آف افغانستان دا گریو یارڈ آف ایمپائرز کی اگلی قسط میں ضرور دیکھئے گا۔

Read More:: History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan In Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button