History World Urdu

History of Afghanistan E03 | Who are Pashtuns and why are called Afghans In Urdu?

History of Afghanistan

یہ کوہِ سلیمان کی مشہور پہاڑی تختِ سلیمان ہے۔ سطح سمندر سے گیارہ ہزار چار سو چالیس فٹ بلند یہ پہاڑی، پاکستانی صوبے خیبرپختونخوا میں واقع ہے۔ تختِ سلیمان سے بہت سی لیجنڈز وابستہ ہیں۔ ایک لیجنڈ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے پیغمبر حضرت سلیمان بھی اس پہاڑی پر آئے تھے۔ انہوں نے اس پہاڑی کو اپنا تخت بنایا تھا اور یہاں سے جنات کو وہ کنٹرول کرتے تھے۔

History of Afghanistan E03  Who are Pashtuns and why are called Afghans In Urdu

اسی لئے اس پہاڑی کو تختِ سلیمان اور اس پورے پہاڑی سلسلے کو کوہِ سلیمان کہتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس علاقے میں آج بھی جنات یا سُپرنیچرل طاقتیں موجود ہیں۔ اس لئے جو لوگ اس پہاڑی پر چڑھتے ہیں وہ اس کی چوٹی پر پہنچ کر نفل ادا کرتے ہیں تاکہ جنات سے محفوظ رہ سکیں۔

اس پہاڑی پر یہ جو قبر ہے اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ ایک صحابی رسول حضرت قیس عبدالرشید کی قبر ہے جو تمام موجودہ پشتون نسل کے جدِ امجد تھے۔ یعنی اس لیجنڈ کے مطابق دنیا میں جتنے بھی پشتون ہیں وہ تمام یا زیادہ تر انہی کی اولاد میں سے ہیں۔ قیس عبدالرشید کو بنی اسرائیل کے بادشاہ حضرت طالوت کے پوتے افغانا کی اولاد میں سے بھی مانا جاتا ہے۔

اور کچھ لوگوں کے نزدیک یہی ان کے افغان کہلانے کی وجہ بھی ہے۔ لیکن کیا یہ سب کہی سنی کہانیاں یہ باتیں درست ہیں؟ پشتون لیڈر خان عبدالولی خان نے کہا تھا کہ میں چھے ہزار برس سے پشتون ہوں۔ کیا واقعی پشتون تاریخ چھ ہزار سال پرانی ہے؟

مائی کیوریس فیلوز آج کے افغانستان کو سمجھنے کیلئے یہاں کی میجورٹی پاپولیشن یعنی پشتونوں کی تاریخ کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ پشتون آئے کہاں سے تھے؟ تو اس بارے میں دوستو دو الگ الگ ورژن ہیں۔ پہلا موقف ان داستانوں یا لیجنڈز پر مشتمل ہے جو سینہ بہ سینہ لوگوں تک پہنچی ہیں اور بہت سےلوگ انھی کو سچ مانتے ہیں۔ جبکہ تاریخ کا دوسرا ورژن جدید ہے، ماڈرن ہے جسے ریسرچ کے ذریعے خطے کی تاریخ اور آرکیالوجیکل ایویڈنس کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔

سب سے پہلے لیجنڈز کو دیکھتے ہیں اب ایک لیجنڈ کے مطابق پشتون بنی اسرائیل کے پیغمبر حضرت یعقوب کے بیٹے بنیامین کی اولاد میں سے ہیں۔ ان کا شجرہ نسب بنی اسرائیل کے بادشاہ طالوت سے جا کر ملتا ہے جو کہ حضرت داؤد سے پہلے بنی اسرائیل کے حکمران تھے اور انہوں نے یہودیوں کو فلسطینیوں کے حملوں سے بچایا تھا۔ انہی طالوت کے ایک بیٹے ارمیا تھے اور ارمیا کے بیٹے کا نام افغناہ یا افغانا تھا۔

افغانا کی پرورش حضرت داؤد نے کی تھی۔ افغانا جوان ہوئے تو اس وقت حضرت داؤد کے بیٹے حضرت سلیمان کی حکومت کا دور چل رہا تھا۔ حضرت سلیمان نے افغانا کو اپنی فوج میں کمانڈر کا عہدہ بھی دیا۔ اس واقعے کے چار سو برس بعد بابل یعنی جہاں آج عراق ہے یہاں کے حکمران بخت نصر نے یروشلم کو فتح کیا اور ایک لاکھ یہودیوں کو قیدی بنا کر اپنے ہاں بابل لے گئے۔

ان یہودیوں کو انہوں نے بابل اور ایران کے آس پاس کے علاقوں میں آباد کردیا۔ اس دوران کئی اسرائیلی جو کہ افغانا کی اولاد میں سے تھے وہ بابل کی قید سے بھاگ نکلے۔ ان میں سے بعض عرب کی سرزمین پر یعنی مکہ اور مدینہ سمیت کئی علاقوں میں آباد ہو گئے۔

جبکہ کچھ لوگ بھاگ کر افغان صوبے جو آج افغان صوبہ غور ہے وہاں آن بسے۔ عرب میں آباد ہونے والوں نے اپنے ایک قلعے کا نام خیبر رکھا جسے بعد میں مسلمانوں نے فتح بھی کرلیا تھا۔ اسی قلعے کے متعلق ایک مشہور قصہ آپ نے ضرور سنا ہو گا کہ کیسے حضرت علی نے مرحب کو ہلاک کر کے اس قلعے کو فتح کیا تھا۔ تو افغان لیجنڈ کے مطابق افغانستان آنے والے یہودیوں نے بھی اپنے پہاڑی درے کا نام خیبر رکھا تھا۔ جو کہ آج بھی خیبر ہی ہے۔

لیکن ان افغانستان آ جانے والے اسرائیلیوں نے اپنے ان بھائیوں سے تعلق توڑا نہیں جو عرب میں آباد ہو گئے تھے۔ دونوں طرف سے پیغامات کے آنے جانے، خیر خبر ملنے کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر جب مدینہ میں اسلام پھیلنے لگا تو حضرت خالد بن ولید کی دعوت پر غور سے پشتونوں کے سردار قیس عبدالرشید وہ مدینہ روانہ ہو گئے۔ وہ حضرت طالوت کی سینتیسویں نسل سے تعلق رکھتے تھے۔

اس سفر میں ان کے ساتھ ان کی کمیونٹی کے اور لوگ بھی تھے۔ یہ سب لوگ دور نبوت میں مدینہ میں گئے اور انھوں نے اسلام قبول کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کیلئے بڑے جوش و خروش سے کفار کے خلاف جنگ بھی کی۔ کہا جاتا ہے کہ فتح خیبر یا فتح مکہ میں بھی ان کا بہت اہم کردار رہا تھا۔ اس داستان کے مطابق نبی پاک نے قیس کے نام کے ساتھ عبدالرشید کا اضافہ کر دیا۔

جبکہ فتح مکہ کے بعد قیس نے حضرت خالد بن ولید کی بیٹی کے ساتھ شادی کی۔ روایات کے مطابق پیغمبر اسلام نے یہ پیش گوئی کی کہ قیس کی اولاد اس قدر زیادہ ہو گی کہ دوسری تمام اقوام پر غالب آ جائے گی۔ ان کی اسلام سے محبت اس قدر مضبوط ہو گی کہ جس قدر وہ لکڑی جس کے اوپر بحری جہاز کو تعمیر کیا جاتا ہے اب اس لکڑی کو عربی میں ’’بطان‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہی لفظ بطان بعد میں بگڑ کر پٹھان بن گیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد قیس عبدالرشید افغانستان واپس چلے آئے۔ یہاں وہ اسلام کی تبلیغ بھی کرتے رہے۔ اور ان کا انتقال چھے سو باسٹھ، سکس سکسٹی ٹو میں ستاسی برس کی عمر میں ہوا۔ یہ اس دور کا واقعہ ہے جب اسلامی سلطنت میں اموی دور کا آغاز ہو چکا تھا۔ قیس عبدالرشید کو لیجنڈ کے مطابق تختِ سلیمان پر اس قبر میں دفن کر دیا گیا۔ ان کے تین بیٹے تھے۔ انہی تینوں بیٹوں سے پھر پشتونوں کی مختلف شاخیں نکلیں۔ پٹھانوں کے پشتون یا پختون کہلانے کے حوالے سے بھی ایک دلچسپ لیجنڈ ہے دوستو۔ وہ یہ کہ جب بنی اسرائیل کے لوگ افغانستان میں آ کر آباد ہوئے تو ان میں ایک قبیلہ بنی پخت بھی تھا۔

اس قبیلے کا نام اتنا مشہور ہوا کہ تمام یہودی جلاوطن قبائل کا نام مشترکہ طور پر پختون پڑ گیا جس کا مطلب ہے بنی پخت کی اولاد۔ اس کے علاوہ ایک اور لیجنڈ یہ ہے کہ جب محمد بن قاسم سندھ فتح کرنے کے لیے آئے تو تمام افغانی گروہوں نے ان کی پشت بانی کی تھی یعنی ان کی مدد کی تھی۔ اسی وجہ سے افغانوں کو پشتوان یعنی پشت بان کہا جاتا ہے۔

یہ لفظ بعد میں دوستو بگڑ کر پشتون بن گیا۔ مائی کیوریس فیلوز یہ تمام لیجنڈز بہت عرصے تک پشتونوں میں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہیں۔ پھر یہ ہوا کہ سولہ سو بارہ میں ہندوستان کے مغل شہنشاہ جہانگیر کے دور میں ان میں سے زیادہ تر لیجنڈز کو ان کہانیوں کو ایک کتابی شکل میں ڈھل دیا گیا۔ جہانگیر کے ایک درباری مورخ نعمت ہروی نے مخزن الافغانی کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اس میں افغانوں یا پشتونوں کی ساری سنی سنائی تاریخ کو بغیر تحقیق کے تحریر کر دیا۔

یہ لیجنڈز لکھی گئیں اور بادشاہ نے لکھوائیں تھیں تو بہت سوں نے انھیں مستند ماننا شروع کر دیا۔ لیکن یہ تاریخ کتنی بھلی لگتی ہو کتنی خوش نما ہو لیکن جدید پشتون مورخین اس ساری لیجنڈ سے دوستو اختلاف کرتے ہیں۔ وہ اسے درست نہیں مانتے۔ بھلا کیوں؟

یوں ہے کہ ماڈرن ہسٹورینز اس بات سے صاف انکار کرتے ہیں کہ پشتون بنی اسرائیل کے فرزند افغانا کی اولاد میں سے ہیں۔ ان مصنفیں میں مشہور پشتون رائٹر اور مورخ سعداللہ جان برق سرِفہرست ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب پشتون اور نسلیات ہندوکش میں انکشاف کیا ہے کہ پشتون ایک نسل نہیں ہیں اور نہ ہی کسی ایک شخص کی اولاد ان سب کو کہا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مخصوص خطے میں، ایک مخصوص کلچر اور آئین کے تحت رہنے والا ہر شخص پشتون ہے۔

اور جو اس خطے اس کلچر سے نکل گیا وہ پشتون ہوتے ہوئے بھی اب پشتون نہیں رہا۔ مخصوص خطے سے دوستو ان کی مراد پاک افغان کچھ علاقے ہیں جو سرحد پر یا سرحد سے پار ہیں۔ اگر ہم سعد اللہ جان برق کی تحقیق کو دیکھیں تو دوستو قیس عبدالرشید اور افغانا والی کہانی کی کوئی حقیقت نظر نہیں آتی۔ اسی طرح کئی ویسٹرن رائٹرز بھی مغربی مصنفین بھی یہ کہتے ہیں کہ افغانا اور قیس عبدالرشید والی کہانی بس کہانی ہی ہے۔

برطانوی رائٹر اولف کیرو لکھتے ہیں کہ افغانا جنہیں حضرت طالوت کا پوتا بتایا جاتا ہے ان کا تاریخ میں کوئی ذکر ہی نہیں ملتا حتیٰ کہ یہودیوں کی مذہبی کتابوں میں بھی ان کا یا ان کے والد ارمیا کا نام موجود نہیں ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی جو ابتدائی تاریخ ہے شروع کی جو تاریخ لکھی گئی اس میں بھی ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ افغانستان کی اس علاقے سے کوئی وفد آ کر دربار رسالت میں حاضر ہوا ہو یا نبی کریم نے کسی کو عبدالرشید یا بطان وغیرہ کے لقب دیئے ہوں۔

تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پشتون کس نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی حقیقی تاریخ کیا ہے۔ مائی کیوُریس فیلوز دستیاب قدیم ترین لٹریچر کے مطابق پشتون نسل کے لوگ کم از کم چار ہزار سال یا اس بھی بہت عرصہ پہلے سے افغانستان میں رہ رہے ہیں۔

یعنی حضرت طالوت جنہیں بعض لوگ پشتونوں کا جدِ امجد سمجھتے ہیں ان کے دور سے بھی بہت پہلے پشتون نسل کے لوگ اس علاقے میں جو آج افغانستان ہے یہاں موجود تھے۔ حضرت طالوت نے اندازاً ایک ہزار سینتیس قبل از مسیح، سے ایک ہزار ایک قبل از مسیح تک بنی اسرائیل پر حکومت کی تھی۔ جبکہ پشتون نسل کے لوگ اس سے بھی تقریباًایک ہزار برس پہلے سے اس خطے میں رہ رہے ہیں۔

وقت کے اس فرق سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پشتون اور افغان حضرت طالوت کی اولاد تو نہیں ہو سکتے پشتونوں کا ذکر ہندوؤں کے قدیم ویدوں میں بھی موجود ہے۔ ہندوؤں کے سب سے قدیم وید، رِگ وید جو غالباً سترہ سو قبل از مسیح میں یعنی سینتیس سو برس پہلے آج سے لکھا گیا تھا ان میں ان میں ایک قبیلے پختا یا پخت کا ذکر ملتا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پختا یا پخت قبیلہ ہی اصل میں پختون یا پشتون کہلایا۔ اسی مناسبت سے ان کی زبان بھی پشتو کہلائی۔ افغانستان کے دو صوبوں پکتیا اور پکتیکا کے نام بھی غالباً اسی قبیلے کی مناسبت سے اب تک چلے آ رہے ہیں۔ یعنی پختا سے پختیا اور پھر پکتیا اور پکتیکا کے نام وجود میں آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں لگتی۔

سعداللہ جان برق بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پشتونوں اور پختونوں کا ذکر بطور پکتی، پکتویس اور پکتاس تقریباً پندرہویں صدی قبل از مسیح یعنی پینتیس سو برس پہلے سے ہی تحریروں میں آنے لگا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پشتونوں کو پٹھان کیوں کہا گیا؟

اس حوالے سے پاکستان کے نامور سیاح اور مصنف سلمان راشد لکھتے ہیں کہ پختون کی ٹرم زیادہ لوگوں کیلئے استعمال ہوتی تھی اور ایک پختون فرد کو پختانا کہتے تھے۔ یہ لفظ بعد میں پنجابی اور وسطی ہندوستان کی زبانوں میں پٹھان ہو گیا۔ سعد اللہ جان برق کے مطابق پشتون نسلی طور پر ہندوستان اور سینٹرل ایشیا میں رہنے والے الگ لوگ نہیں ہیں۔

ترک، ترکمانی اور حتیٰ کہ یونانی بھی پشتونوں کے ہی رشتے دار ہیں۔ اسی طرح ہندوستان میں آباد ہونے والی قومیں جیسا کہ پنجابی، راجپوت، کھشتری، سندھی اور بنگالی بھی نسلی طور پر پشتونوں کے ہی کزنز ہیں۔ یعنی ان میں نسلی طور پر زیادہ فرق نہیں ہے۔

یوں مختلف نسلوں کے ملاپ سے پشتون نسل وجود میں آئی جس نے آگے چل کر ایک باقاعدہ قوم کی شکل اختیار کر لی۔ ان لوگوں نے افغانستان اور شمال مغربی ہندوستان یعنی موجودہ پاکستان کے علاقوں میں بھی رہائش اختیار کر لی تھی۔

یہی علاقے آج خیبرپختونخوا کا حصہ ہیں جن میں وہ قبائلی علاقے بھی شامل ہیں جو پہلے فاٹا کہلاتے تھے کچھ برس پہلے تک۔ ان کی زبان پشتو بھی قدیم ایرانی زبان اویستائی جسے انگلش میں اویسٹن کہا جاتا ہے اسی سے نکلی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔

اویستائی وہ زبان ہے جس میں آتش پرستوں، زرتشت یعنی پارسی مذہب کی کتابیں لکھی جاتی تھیں۔ سعد اللہ جان برق کے مطابق پانچ سو قبل از مسیح میں یعنی آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے پشتون ایک قوم کے روپ میں ڈھل چکے تھے اور پشتو نے بھی ایک زبان کے طور پر اپنی الگ شناخت بنا لی تھی۔ یعنی یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے سینٹرل ایشیا کے لوگوں اور سیتھیئن قبائل سے مل کر اسنکدر اعظم کا مقابلہ کیا تھا۔

لیکن تب یونانی انہیں بیکٹرین سمجھتے تھے کیونکہ اس وقت افغانستان کا ایک بڑا علاقہ بیکٹریا ہی کہلاتا تھا۔ یہاں یہ سوال بھی دوستو پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ پشتون تھے تو انہیں افغان کیوں کہا گیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ گھوڑے پالا کرتے تھے خود بھی اچھے گھڑ سوار تھے اور گھوڑوں کی خریدوفروخت بھی بڑے پیمانے پر یہ لوگ کیا کرتے تھے۔ اب گھوڑے کو قدیم فارسی میں اسپ کہتے تھے۔

اس مناسبت سے گھڑسوار کو اسپگان کہا جاتا تھا۔ پشتونوں کیلئے بھی یہی ٹرم استعمال ہونے لگی۔ بعد میں یہی لفظ بگڑتے بگڑتے افغان بن گیا۔ پہلے یہ ٹرم صرف پشتونوں کیلئے استعمال ہوتی تھی لیکن بعد میں موجودہ افغانستان میں رہنے والے باقی لوگوں کیلئے بھی یہی ٹرم استعمال ہونے لگی۔ یوں مائی کیوریس فیلوز یہ بات تاریخی طور پر زیادہ منطقی معلوم ہوتی ہے کہ پشتونوں کی تاریخ ہزاروں برس پر پھیلی ہوئی ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ پختون رہنما خان عبدالولی خان پر انیس سو ستر کی دہائی میں جب حیدر آباد جیل میں مقدمہ چلایا گیا تھا تو انہوں نے اپنے ایک بیان میں بہت مشہور بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں چھے ہزار سال سے پختون، ایک ہزار سال سے مسلمان اور ستائیس سال سے پاکستانی ہوں۔

یہ چھے ہزار برس والی بات حقیقت کے زیادہ قریب کہی جا سکتی ہے کیونکہ پشتونوں یا پختونوں کی معلوم تاریخ کم از کم چار ہزار برس سے تو زیادہ ہی پرانی معلوم ہوتی ہے اگر تاریخی حوالوں سے دیکھا جائے تو۔ تاہم یہ بھی دوستو ایک حقیقت ہے کہ پشتونوں نے باقاعدہ طور پر ایک قوم کی شکل اڑھائی ہزار سال پہلے اختیار کی تھی جب پشتو ان کی مشترکہ زبان کے طور پر وجود میں آ چکی تھی۔

ہم نے آپ کو اس سیریز کی دوسری قسط میں دکھایا تھا کہ محمود غزنوی کے دور میں پشتو زبان کو دیوناگری رسم الخط کی جگہ عربی رسم الخط میں لکھنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا تھا۔ رسم الخط کی اس تبدیلی کے بعد اس زبان نے بہت ترقی کی خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا جیسے شاعروں نے بھی اسی زبان کو اظہار کا ذریعہ بنایا تھا۔

لیکن آج سے ایک ہزار برس پہلے محمود غزنوی کے دور میں پشتون ایک بڑی سیاسی طاقت نہیں بنے تھے۔ ابھی ان میں وہ قوم پرستی یا نیشنلزم بھی موجود نہیں تھا جس کے ذریعے وہ اپنے لئے کوئی الگ ریاست بناتے۔ اس کام کو کرنے میں انہیں مزید سات سو برس لگ گئے اور یہ سات صدیاں افغانستان پر بہت ہی بھاری گزریں۔

آخر کیا تھی ان سات صدیوں کی کہانی؟ ترک سلطان محمود غزنوی نے نو سو اٹھانوے سے ایک ہزار تیس تک تقریباً بتیس برس افغانستان پر حکومت کی اور اسے متحد کر کے اپنی حکومت کا حصہ بنایا۔ محمود غزنوی کے دور سے کچھ عرصہ پہلے تک مشرقی افغانستان کا ایک خاصا بڑا علاقہ ہندو حکمرانوں کے کنٹرول میں جا چکا تھا جنہیں ہندو شاہی کہا جاتا تھا۔

محمود غزنوی کے دور میں ہندو شاہی کے حکمران راجہ جے پال تھے۔ ان کی سلطنت میں مشرقی افغانستان کے کچھ علاقوں کے علاوہ پنجاب اور کشمیر بھی شامل تھے۔ محمود غزنوی کے والد سامانی گورنر سبکتگین نے راجہ جے پال سے افغانستان کے علاقے چھین لئے تھے۔

ان کے بعد محمود غزنوی نے راجہ جے پال اور ان کی اولادوں کو شکست دے کر اس پوری سلطنت کو جس میں کشمیر اور پنجاب بھی شامل تھے، افغانستان کا حصہ بنا لیا۔ ان فتوحات کے دوران لاہور بھی قریب قریب ایک ہزار اکیس میں غزنی کی افغان سلطنت کا حصہ بنا۔ لاہور کی فتح کے بعد محمود غزنوی کے غلام ایاز نے لاہور کو ایک باقاعدہ قلعہ بند شہر کی شکل دی۔

جدید لاہور کی تاریخ بھی محمود غزنوی کے حملے کے بعد ہی شروع ہوتی ہے۔ پنجاب اور کشمیر کی فتح کے بعد محمود غزنوی نے موجودہ بھارتی ریاست گجرات تک سارے ہندوستان میں بے شمار حملے کیے اور یہاں سے بہت سا مال و اسباب لوٹ کے افغانستان کے علاقوں میں لے گئے ان حملوں کے دوران ایک ہزار چوبیس میں محمود غزنوی نے سومناتھ کے مشہور مندر کو بھی تباہ کیا تھا اور اس میں موجود تمام سونا غزنی منتقل کر لیا تھا۔

ادھر افغانستان کے شمالی جنوبی علاقوں میں انہوں نے ایران اور سینٹرل ایشیا پر بھی حملے کئے۔ ان کی حکومت ایک طرف ایران میں تہران اور سینٹرل ایشیا میں سمرقند تک جا پہنچی تھی۔ محمود غزنوی نے ان علاقوں کو جس طرح فتح کیا محمود غزنوی کے انتقال کے بعد ان کی سلطنت ایک سو چھپن برس تک قائم رہی۔ محمود غزنوی کے بعد افغانستان میں پھر جتنے بھی طاقتور حکمران آئے انھوں نے ایک کام ضرور کیا۔

وہ یہ کہ انہوں نے پنجاب پر حملہ لازمی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ محمود غزنوی کے بعد افغانستان کا خطہ، ہندوستان اور خاص طور پر پنجاب پر حملوں کا لانچنگ پیڈ بن گیا۔ بارہویں صدی، ٹویلوتھ سنچری میں جب غزنوی زوال کا شکار ہو گئے تب بھی ہندوستان پر افغان حکمرانوں کی گرفت کمزور نہیں ہوئی۔ غزنویوں کی جگہ جلد ہی دوستو ایک اور ترک خاندان، غوری خاندان نے لے لی۔

یہ لوگ افغان صوبے غور میں رہتے تھے اور اسی لیے غوری کہلائے۔ غوری خاندان محمود غزنوی کی آمد سے پہلے بھی غور پر حکومت کرتا تھا، غور تک ان کی حکومت محدود تھی۔ لیکن محمود غزنوی نے اس خاندان کو شکست دے کر غور پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس شکست کے بعد تقریباً ڈیڑھ سو برس تک غوری خاندان اس علاقے پر حکومت تو کرتا رہا ان کے لوگ تخت نشین بھی ہوتے رہے لیکن یہ غزنویوں کے ہی ماتحت ہی رہے۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ گیارہ سو انچاس میں غوری سلطنت کے تخت پر علاؤالدین حسین براجمان ہوئے۔ انہوں نے غزنوی ایمپائر کی بالادستی ماننے سے انکار کر دیا اور آزادی کا اعلان کر کے غزنویوں کے خلاف بغاوت کر دی۔

اپنی تخت نشینی کے کچھ ہی عرصے کے اندر انہوں نے غزنی شہر پر بھی حملہ کر کے اسے تباہ و برباد کر دیا۔ البتہ علاؤالدین غزنی شہر پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکے مگر ان کے جانشینوں نے اس شہر پر قبضہ بھی کیا اور اسےغوری سلطنت کا مستقل حصہ بنا لیا۔ غزنویوں نے غزنی حکومت کھونے کے بعد اپنا دارالحکومت لاہور منتقل کر لیا۔ افغانستان کو اپنے قبضے میں لانے کے بعد غوریوں نے ہندوستان میں بھی غزنویوں کی حکومت کو چیلنج کر دیا۔ اس کے بعد لیکن غوریوں میں ایک ایسا فوجی کمانڈر آیا جس نے دہلی تک بھی فتح کے جھنڈے گاڑے۔ اس کمانڈر کا نام تھا شہاب الدین محمد غوری۔

شہاب الدین محمد غوری، علاؤالدین غوری کے بھتیجے تھے۔ علاؤالدین اور ان کے بیٹے سیف الدین کی موت کے بعد غوری سلطنت کی باگ ڈور شہاب الدین کے بھائی غیاث الدین نے سنبھال لی تھی۔ غیاث الدین نے شہاب الدین غوری کو اپنا کمانڈر بنا کر پنجاب پر حملے کیلئے بھیجا۔ شہاب الدین غوری نے گیارہ سو چھیاسی میں لشکر کشی کی اور لاہور پر قبضہ کر لیا اور آخری غزنوی حکمران سلطان خسرو ملک کو گرفتار کر لیا۔

اس طرح پنجاب سے بھی غزنوی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور افغانستان سے لے کر شمال مغربی ہندوستان تک غوریوں کا پرچم لہرانے لگا۔ شہاب الدین محمد غوری نے لاہور کی فتح کے بعد بھی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور گیارہ سو بانوے میں ہندو راجہ پرتھوی راج چوہان کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کر لیا۔ یہ تاریخ میں شاید پہلا موقع تھا کہ افغانستان کی کسی مقامی سلطنت کی حدود دہلی تک پہنچ گئی تھیں۔

دہلی کی فتح کے کچھ عرصے بعد ہی اس سلطنت کی حدود بنگال تک بھی جا پہنچی۔ یہ افغانوں کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ لیکن دوستو غوری سلطنت، غزنویوں سے بھی کہیں زیادہ کمزور ثابت ہوئی۔ غزنوی نے تو کوئی دو سو برس کے قریب حکومت کر لی تھی لیکن غوری سلطنت لاہور کی فتح کے بعد بمشکل تیس برس ہی قائم رہ پائی اور چل بسی۔

اس سلطنت کو سب سے مہلک جھٹکا تب لگا جب بارہ سو چھے میں شہاب الدین محمد غوری کو جہلم کے قریب باغی کھوکھروں نے قتل کر دیا۔ یہ ساری کہانی بھی ہم آپ کو وہ کون تھا سیریز میں دکھا چکے ہیں۔ شہاب الدین غوری کے قتل کے محض نو برس بعد سینٹرل ایشیا کی خوارزمی سلطنت نے غوری سلطنت پر قبضہ کر کے اس کا خاتمہ کر دیا۔ یوں افغانستان خوارزمیوں کے قبضے میں چلا گیا۔

لیکن یہ قبضہ بھی دیرپا ثابت نہیں ہوا۔ خوارزمی سلطنت کے قبضے میں جانے کے محض چار ہی برس بعد افغانستان کو ایک ایسے فاتح کا سامنا کرنا پڑا جس کی سلطنت اسکندر یونانی سے بھی بڑی تھی بلکہ دنیا میں سب سے بڑی تھی۔ اس فاتح کا نام تھا چنگیز خان۔

چنگیز خان کے ساتھ افغانستان کے علاقے میں کیا ہوا؟ افغانستان جو کبھی مسلمانوں کا خراسانی علاقہ تھا، وہاں کون سے مسلم کمانڈرز نے چنگیز خان کا مقابلہ کیا اور کیسے کیا؟ یہ سب دوستو ہم جانیں گے ہسٹری آف افغانستان کی اگلی قسط میں

Read More:: History of Afghanistan E03 | Who are Pashtuns and why are called Afghans In Urdu?

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button