History World Urdu

History of America S01E02 | Columbus discovers America in Urdu

History of America

کرسٹوفر کولمبس نے ملکہ سپین کو،اوراپنے عملے کو دھوکا دیا تھا۔ کیونکہ اس نے خود کو جتنا بڑا جہاز ران یا کپتان ظاہر کیا تھا وہ اتنا بڑا کپتان اور ماہر جہاز ران نہیں تھا۔ اسے کچھ آلات کی مدد سے راستے کا تعین کرنا آتا تھا، چند جہازوں پر اس نے چھوٹی موٹی نوکریاں بھی کی ہوئی تھیں، کتابوں کی سدھ بدھ بھی اسے حاصل تھی۔ لیک

History of America S01E02  Columbus discovers America in Urdu

ن اوور آل وہ ایک اوسط درجے کا ایوریج لیول کا جہاز راں تھا۔ یہ عام صلاحیت کا کپتان ان دیکھی منزل کی طرف رواں دواں تھا اور جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا، اس کا عملہ اس کے خلاف ہوتا جا رہا تھا یہاں تک کہ ایک دن عملے نے کرسٹوفر کولمبس کو قتل کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ عملہ اپنے کپتان کو قتل کیوں کرنا چاہتا تھا؟ کولمبس اپنی یقینی موت سے کیسے محفوظ رہا اور اس بیڑے نے کیسے نئی دنیا کے ساحلوں کو دریافت کیا؟

سفر پر روانگی سے پہلے سپین کی حکومت نے کولمبس سے کئی وعدے کیے۔ ایک وعدہ تو یہ تھا کہ کولمبس کو سپین کی اشرافیہ میں، ایلیٹ کلاس میں شامل کر لیا جائے گا۔ اسے سپین کا سرکاری ٹائٹل کابیلیرو دیا جائے گا جس کا مطلب تھا جینٹل مین۔ لیکن اس کا ایک اور رنگ یہ تھا کہ اس ٹائٹل کے لوگ اور ان کی آنے والی نسلیں اپنے نام کے ساتھ ڈان کا لفظ لگاتی تھیں۔

وہی ڈان جو آقا کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ دوسرا وعدہ یہ کیا گیا کولمبس کو گریٹ ایڈمرل آف دا اوشن کا ٹائٹل دیا جائے گا۔ اسے وہی حقوق اور مراعات، پریولیجز حاصل ہوں گی جو سپینش ریاست کاستیل کے ایڈمرلز کو حاصل تھیں۔ کولمبس کے دریافت کردہ علاقوں سے جو بھی قیمتی پتھر وغیرہ نکلیں گے ان کا دسواں حصہ بھی کولمبس کو ملے گا یہ بھی تہہ کیا گیا۔

جبکہ ان علاقوں سے جو جہاز تجارت کیلئے جائیں گے ان جہازوں پر سامان کی گنجائش کا آٹھواں حصہ کولمبس کے سامان کیلئے مختص ہو گا۔ کولمبس کے عملے سے بھی سپین کی حکومت نے ایک وعدہ کیا۔ وعدہ یہ تھا کہ جہاز کے عملے کا جو شخص سب سے پہلے ایشیا کی سر زمین دیکھے گا اسے زندگی بھر کے لیے ہر سال دس ہزار مراویدز کا وظیفہ ملتا رہے گا۔

اس کی موجودہ ویلیو کوئی آپ سمجھے پندرہ سو ڈالرز کے قریب بنتی ہے۔ سپین کی حکومت یہ سارے وعدے کر رہی تھی لیکن یہ وعدے تو فیوچر کے بارے میں تھے۔ اس وقت کولمبس کو جو کچھ چاہیے تھا وہ کچھ دینے میں سپین کی ملکہ کچھ کنجوسی سے کام لے رہی تھی۔ ویسے بھی پچھلی قسط میں آپ دیکھ ہی چکے ہیں کہ یورپ کے حالات بے حد خراب ہو چکے تھے۔

تو ملکہ نے کولمبس کو اتنی اہم مہم کیلئے صرف دو جہاز دئیے۔ یہ جہاز بھی اس نے سرکاری خزانے سے نہیں دیے بلکہ اس علاقے کے لوگوں سے دلوائے جہاں سے کولمبس نے روانگی کا سفر شروع کرنا تھا۔ ملکہ نے اس علاقے کے لوگوں کو حکم دیا کہ تم نے ماضی میں کچھ ایسی حرکات کی تھیں جو ہماری خدمت میں گستاخی کےکوتاہی کے زمرے میں آتی تھیں۔

اس لئے تمہیں سزا دی گئی تھی کہ تم نے اپنے خرچ پر ہمیں ایک سال کیلئے دو جہاز فراہم کرنے ہیں۔ چنانچہ اب ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ یہ جہاز فراہم کرو۔ دو مناسب سے جہاز تو کولمبس کو وہاں سے مل گئے لیکن ان میں رکھنے کے لیے اسلحہ اور کھانے پینے کا سامان بہت زیادہ نہیں دیا گیا اسے۔ کل ملا کے اس کے دونوں جہازوں کے لیے صرف نواسی ایٹی نائن افراد کا کریو فراہم کیا گیا۔

چند چھوٹی توپیں، گنتی کی بندوقیں اور کھانے پینے کا بھی ناکافی سامان جہازوں میں ٹھونس دیا گیا۔ اتنے کم سامان اور کریو کو دیکھتے ہوئے کولمبس نے خود بھی تھوڑی بھاگ دوڑ کی اور ایک تیسرا جہاز سانتا ماریا قرض پر حاصل کر لیا۔ جو کہ اس کا اپنا جہاز تھا۔ اب یہ جہاز تین ہو گئے تھے اور ان تینوں کے بادبانوں پر بڑی بڑی سُرخ صلیبیں بنی ہوئی تھیں۔ تھرڈ اگست کو کولمبس نے تاریخی سفر کا آغاز کیا۔

اسے ساحل پر ملکہ اور بادشاہ نے صلیب کے سائے میں اور چرچ کی گھنٹیوں میں روانہ کیا۔ وہ افریقہ کے ساحلوں سے کچھ دور موجودہ خوبصورت کینری آئی لینڈز سے ہوتا ہوا اپنے اندازے کے مطابق ایشیا یا جاپان کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے حساب میں کینیری آئی لینڈز سے جاپان تک کا سفر بمشکل ساڑھے چار ہزار کلومیٹر تھا۔

ان جزائر سے ایسی ہوا چلتی تھی جس میں مغرب کی طرف جانا آسان ہوتا تھا ایک جہاز کے لیے۔ اس لیے وہ پہلے یہاں آیا تھا۔ تا کہ یہاں سے آغاز کر کسے تو دوستو یہاں سے تین اگست کو جب کولمبس روانہ ہوا تو اب اس کے سامنے لامتناہی سمندر پھیلا تھا اور اس پر تیرتے تین جہاز جن کے کپتان کو بھی اصل میں پتا نہیں تھا کہ زمین کی شکل دوبارہ کب دیکھنا نصیب ہو گی، ہو گی بھی یا نہیں۔

شروع کے چند دن تو دوستو سفر بالکل ٹھیک رہا۔ ہوا بہت اچھی تھی، عملے کے لوگ بھی پرسکون تھےمزے میں تھے چنانچہ جہاز آگے بڑھتےچلے گئے بڑے آرام سے۔ کولمبس روزانہ صبح اپنے کیبن میں ناشتہ کرتا اور اس کے بعد وہ کیبن سے نکلتا اور آسمان کی طرف دیکھ کر موسم اچھا رہنے کی دعا کرتا۔ پھر وہ عملے کے لوگوں سے ملتا گپ شپ کرتااور ضروری ہدایات جاری کرتا اور کمرے میں چلا جاتا۔

یہ بحری سفر اس دور کے دستور کے مطابق سورج اور چاند، ستاروں کی پوزیشن کے مطابق طے کیا جا رہا تھا۔ کولمبس اس کام میں ماہر تو نہیں تھا لیکن ظاہر یہی کرتا تھا کہ وہ اس کا ایکسپرٹ ہے۔ اس کے پاس ایک نیم دائرے نما ٹرائی اینگل کی شکل کا آلہ تھا جس کے ساتھ وہ شاقول لٹکا کر سورج اور چاند ستاروں کی پوزیشن کو مانیٹر کرتا تھا اور ان کے مطابق اپنی سمت کا تعین کرتا تھا۔

یوں وہ کسی نہ کسی طور مغربی راستے پر آگے بڑھتا چلا گیا۔ اس دور کے اندازے کے مطابق دس پندرہ دنوں میں انھیں زمین دکھائی دینی چاہیے تھی۔ لیکن جب بیس روز بعد بھی زمین تو ایک طرف کسی زمین کے آثار یعنی پرندے وغیرہ بھی نظر نہیں آئے تو کولمبس کا عملہ صبر کا دامن چھوڑنے لگا۔ عملے کے لوگوں میں ایسی باتیں شروع ہو گئیں کہ یہ اطالوی شخص خود دولت مند اور ڈان بننے کے چکر میں ہمیں مروانا چاہتا ہے۔

اگر کچھ دن اور یونہی گزر گئے اور کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا تو ہماری زندگیاں تو گئی سمجھو۔ ایک، دو روز اور اسی طرح گزرے تو ملاحوں اور دوسرے عملے کو اپنی زندگیاں صاف خطرے میں نظر آںے لگیں۔ انھیں لگا کہ اگر کولمبس کے جنون کے ساتھ رہے تو بھوکے پیاسے سمندر میں مارے جائیں گے اور مچھلیاں ان کا گوشت کھا جائیں گی۔

انھوں نے کولمبس سے واپسی کا مطالبہ کیا لیکن کولمبس نہیں مانا۔ چنانچہ اپنی موت سامنے دیکھنے والے عملے کے کچھ لوگوں نے کولمبس ہی کی موت پر سوچنا شروع کر دیا۔ کیونکہ اگر اسے مار دیا جاتا تو ظاہر ہے واپسی کا سفر شروع ہو جاتا۔ ویسے بھی اب جہازوں میں یہ باتیں ہونے لگیں تھیں ان تینوں جہازوں میں جو کولمبس کے ساتھ تھے کہ کولمبس کون سا سپینش ہے۔ یعنی اس کا تعلق سپین سے نہیں ہےبلکہ اٹلی سے ہے۔

جبکہ جہاز کا باقی سارا عملہ سپین سے تھا سپینش تھا۔ اس لیے یہاں ایک قومیت کا حسد یا تنگ نظری بھی تھی کہ ایک اطالوی کو سمندر میں پھینک دینے سے ہماری سپینش قوم کا تو کچھ نہیں بگڑے گا۔ واپسی پر کہہ دیں گے کہ وہ تو حادثاتی موت مارا گیا ہے۔ کم از کم ایک کے مرنے سے باقی تما سپینش کی جان تو بچ جائے گی ناں؟ اس سوچ کے آ جانے کے بعد یہ ہوا کہ جہاز کا عملہ کولمبس سے باغی ہونے لگا۔

اکثر کولمبس کچھ حکم دیتا تو اس کا کریو ماننے سے انکار کر دیتا بلکہ غصے میں جواباًں اسے مارنے کو دوڑتا۔ کولمبس کے لیے حالات دن بدن خطرناک ہوتے جا رہے تھے۔ اس نے عملے کے لوگوں کو اب زیادہ سے زیادہ لالچ دینے کا سوچا وہ انہیں انعام کا لالچ دے کے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اسے زیادہ کامیابی نہیں مل رہی تھی اس کے عملے کو تو اپنی موت نظر آ رہی تھی

ایسے میں انعام واکرام کون سوچتا ہے۔ سو اس مایوسی اور پریشانی میں ایسا ہونے لگا کہ انھیں نظر کے دھوکے ہونے لگے۔ جیسے صحرا میں پیاسے کو پانی کے چشموں کا سراب یا الوژن ہوتا ہے اسی طرح اس کے عملے کو بار بار یوں لگتا کہ جیسے وہ سامنے زمین آ گئی ہے۔ وہ ایشیا پہنچ گئے ہیں۔ لیکن جب جہازوں کا رخ موڑ کر اس طرف بڑھا جاتا

جہاں کچھ لوگوں کو زمین دکھائی دی رہی ہوتی تھی تو وہاں میلوں سفر کے بعد بھی زمین نہیں ملتی تھی۔ بس پانی ہی پانی ہوتا، چار سو نیلا گہرا پانی۔ یہاں تک کہ نیلا آسمان بھی انھیں پانی ہی دکھائی دینے لگا تھا۔ اوپر نیچے دائیں بائیں آگے پیچھے پانی ہی پانی اسی مایوسی، ناکامی، لڑائیوں اور موت کے خوف کے درمیان جہاز کے عملے میں سے کسی ایک نے پرندوں کے چہکنے کے آواز سنی۔

پاگلوں کی طرح چیختے ہوئے وہ آسمان میں پرندوں کو ڈھونڈنے لگا۔ سارا عملہ اس کے ساتھ مل کر آسمان کو گھورنے لگ گیا۔ سات اکتوبر کی شام کولمبس اور اس کے عملے کو مہاجر پرندوں کے غول کے غول واقعی دکھائی دئیے۔ یہ پرندے شمالی امریکہ سے ہجرت کر کے سخت سردیاں گزارنے ویسٹ انڈیز کے جزیروں کی طرف جا رہے تھے۔ اتنے پرندے ایک ساتھ دیکھ کر انھیں تو جیسے جنت ہی مل گئی تھی۔

پرندوں کی یہ قطاریں کولمبس کیلئے کسی غیبی مدد سے کم نہیں تھیں۔ اس نے بھی اپنے جہازوں کا رخ اسی سمت کو موڑ دیا جس طرف پرندے جا رہے تھے۔ اس نے اپنے عملے کو خوشخبری سنائی کہ ان پرندوں کے تعاقب میں جلد ہی وہ زمین تک جا پہنچیں گے۔ لیکن دو روز تک سفر کے باوجود کہیں زمین دکھائی نہیں دی۔ پرندوں کا نظر آنا اب سراب تو ہرگز نہیں تھا،

کیونکہ جوں جوں وہ آگے بڑھ رہے تھے پرندوں کا شور بھی بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ یہی شور ان کی امید بن چکا تھا۔ وہ ہر قیمت پر جلد سے جلد خشک زمین دیکھنا چاہ رہے تھے۔ لیکن تین دن اور گزر گئے پرندے کبھی نظر آتے، کبھی نہ نظر آتے شور بڑھ جاتا کبھی تھم جاتا لیکن زمین کا اتا پتا کہیں نہیں تھا۔ جہاز کا عملہ ایک بار پھر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔

انھوں نے کولمبس کو گھیر لیا اور اسے مارنے کا ارادہ کیا۔ عملے کے لوگوں نے کولمبس کو وارننگ دی کہ وہ جہازوں کا رُخ موڑنے کا حکم جاری کرے یا پھر وہ اسے قتل کر کے سمندر میں پھینک دیں گے۔ کولمبس پانچ ہفتوں سے انھیں مختلف بہانوں سے اور ہیلوں سے اور انعامات کے لالچ سے روک رہا تھا اب کسی طرح قابو پانے کی نئی ترقیب اس کے دماغ میں نہیں تھی۔

اس نے خیر ایک آخری داؤ کے طور پر عملے سے وعدہ کیا کہ اسے صرف تین دن کا وقت دے دیا جائے۔ اگر زمین نظر آ گئی تو ٹھیک ورنہ وہ واپس چلے جانے کو تیار ہے۔ کولمبس پر اب اپنی ناکامی کا خوف سوار ہو گیا۔ اس خوف میں آخری تین دن اس نے جہازوں کو پوری رفتار سے چلایا۔

اس نے اس بات کی بھی کوئی پروا نہیں کی کہ کسی ان دیکھی چٹان سے اس کا کوئی ایک جہاز ٹکرا کر یا تینوں جہاز ٹکرا کر پاش پاش ہی نہ ہو جائیں۔ وہ ہر خطرے کو پس پشت ڈال کر تینوں جہازوں کو مغرب کی سمت میں لے جائے چلا جا رہا تھا۔ وہ بے چینی سے جہاز کے عرشے پر ٹہلتا اور دور افق پر بے صبری سے دیکھتا رہتا۔ یہ گیارہ اور بارہ اکتوبر کی درمیانی رات تھی۔

دس بجے تھے کہ اسے افق پر ایک روشنی نظر آئی۔ یہ وہ دور تو دوستو نہیں تھا کہ بجلی کی روشنیاں ہوں اور میلوں دور سے دکھائی دے جائیں۔ پھر یہ کس چیز کی روشنی تھی۔ کولمبس کو دراصل خود پتا نہیں تھا کہ یہ کس چیز کی روشنیاں ہیں۔ اس نے اپنے عملے کو بہرحال آوازیں دیں کہ وہ بھی آئیں اور زرہ ان روشنیوں کو دیکھیں۔

لیکن اس کے عملے کو روشنیاں دکھائی نہیں دیں۔ کچھ لوگوں نے کنفیوژن سی ظاہر کی لیکن روشنیوں کا معمہ حل نہ ہو سکا۔ اور یہی سمجھا گیا کہ یہ کولمبس کا کوئی وہم ہے۔ ویسے بھی اگر ہم آج دیکھیں تو جس جگہ کولمبس کو روشنی نظر آئی تھی وہاں سے قریب ترین بھی جو جزیرہ تھا وہ چھپن کلومیٹر دور تھا۔ اور اس کے ساحل پر اگر چار لاکھ موم بتیاں بھی جلا دی جاتیں

تو بھی یہ روشنی کولمبس تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ لیکن اس روشنی کے سراب کو گزرے چار گھنٹے ہوئے تھے کہ تیسرے جہاز پینٹا کے اونچے ستون پر کھڑے ایک شخص کو واقعی دور سے ایک ریت کا ٹیلا دکھائی دے گیا۔ رات کے دو بجے چمکتے چاند کی روشنی میں ریت کا جزیرہ چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ چند لمحوں تک آنکھیں ملنے کے بعد جب اسے یقین ہو گیا کہ یہ وہم نہیں ہے سراب نہیں ہے،

الیوژن نہیں بلکہ زمین ہے تو چیخ پڑا ٹیرا ٹیرا ٹیرا زمین زمین زمین پینٹا جہاز کے کپتان نے اشارے کے مطابق توپ کا ہلکا سا گولا چلا کر چھوٹا سا گولا چلا کر باقی دو جہازوں کو بھی خبردار کر دیا کہ زمین نظر آ گئی ہے۔ چھتیس دن کے بعد تھکا دینے والے سفر کے بعد کولمبس کا بحری بیڑا نئی دنیا کے کنارے پر پہنچ چکا تھا۔ گیارہ ہزار سال سے لاپتہ دنیا کا پتا دریافت ہو چکا تھا۔

پینٹا جہاز کے کپتان کو کولمبس نے کہا سینیور مارٹن الونسو تم نے زمین ڈھونڈ لی ہے۔ پینٹا کے کپتان نے کہا سر میرا انعام ضائع تو نہیں ہو گا ناں؟ کولمبس نے جواب میں کہا میں تمہیں پانچ ہزار مراویدز تحفے میں دیتا ہوں۔ زمین مل جانے کے بعد جہاز کا وہی عملہ جو کولمبس کو مارنے پر تلا ہوا تھا اچانک اس کی تعریفیں کرنے لگا اور کہا سنا معاف کرانے لگا کہ کہیں کولمبس غصے میں ان کا انعام ہی نہ پی جائے۔

کیونکہ انہی میں سے بہت سے لوگوں نے اسے مارنے کی کوشش بھی کی تھی اور دیکھئے کہ ہوا بھی ایسا ہی۔ وہ شخص جس نے ستون پر کھڑے ہو کر سب سے پہلے زمین کو دیکھا تھا اور دیکھنے کے لیے جو انعام مقرر تھا وہ اسے نہیں ملا۔ یہ انعام کولمبس نے خود رکھ لیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اس شخص سے چار گھنٹے پہلے اس نے روشنی دیکھی تھی جو اسی جزیرے سے آ رہی تھی۔

جو بعد میں دریافت ہوا حالانکہ وہاں کون سی سولر لائٹس لگی ہوئیں تھیں دوستوجہاں سے اتنی روشنی اتنے کلو میٹردور تک نظر آتی؟ وہ تو ایک سراب تھا، دھوکا تھا جو کولمبس کو ہوا تھا۔ بلکہ دھوکا تو اسے اب بھی تھا کہ وہ ایشیا پہنچ چکا ہے۔ اسے علم ہی نہیں تھا کہ وہ ایشیا یا انڈیا نہیں بلکہ پچیس ہزار سال پہلے پرانی دنیا کے باسیوں کے ہاتھوں آباد ہونے والی نئی زمین پر پہنچ چکا ہے۔

اس نے وہ زمین دریافت کر لی ہے جو گیارہ ہزار سال سے لاپتہ تھی کیونکہ گیارہ ہزار سال پہلے آئیس ایج ختم ہونے سے دونوں دنیاؤں کا رابطہ ختم ہو گیا تھا۔ یہ زمین دریافت ہوئی تو وہاں کولمبس اور اس کے ساتھی جنھیں اب ہیرو ہونا چاہیے تھا ولن بن گئے۔ انھیں تاریخ نے جینٹل بوائے آف ہسٹری کے بجائے ظالم ترین کا خطاب دیا۔ کیوں؟

مقامی لوگوں، نیٹیو امریکنز نے کولمبس کا کیسے استقبال کیا؟ نئی دنیا جسے کولمبس چین ایا جاپان سمجھا تھا وہاں سونا تلاش کرنے کے لیے مقامی لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ یہ سب ہم آپ کو دکھائیں گے ہسٹری آف امریکہ کی اگلی قسط میں۔

Read More:: History of America S01E02 | Columbus discovers America in Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button