History World Urdu

History of America S01E04 | What Columbus did to Arawak People in Urdu

History of America

نئی دنیا میں مقامی لوگوں پر کولمبس اور اس کے سپینش ساتھیوں نے اتنے ظلم کیے کہ ایک سپینش رائٹر ہی کے مطابق یہ مظالم لکھتے وقت وہ کانپ رہا تھا۔ کولمبس کی فورس نے صرف ایک جزیرے پر اسی لاکھ لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ آیٹ میلن پیپلز ہزاروں سال تک اتنی بڑی دنیا میں امن و محبت سے رہنے والے مقامی امیریکنز کو اتنے برے دن کیوں دیکھنا پڑے؟

History of America S01E04  What Columbus did to Arawak People in Urdu

کولمبس جسے ہیر و ہونا چاہیے تھا ایک ولن کیوں بن گیا؟ اس کے آخری دن کیسے گزرے؟ لیجنڈ ہے کہ ایک دعوت میں کسی نے کولمبس سے کہا تم نے ایشیا کا راستہ دریافت کر کے کون سا تیر مار لیا ہے۔ تم نہ دریافت کرتے تو کوئی اور کر لیتا۔

اس پر کولمبس نے کچھ انڈے منگوائے اور حاضرین سے کہا کہ انہیں زرہ ٹیبل پر سیدھا کھڑا کر کے دکھا دئیں۔ لوگوں نے بہت کوشش کی مگر ناکام رہے، انڈے ہر بار کسی نہ کسی طرف لُڑھک جاتے تھے۔ پھر کولمبس نے ایک انڈا اٹھایا اور اس کی ایک سائیڈ کو میز سے ٹکرا کر تھوڑا پچکا لیا۔ جس کے بعد کولمبس نے اسے بہت آسانی سے میز کی سطح پر کھڑا کر دیا۔

یوں کولمبس نے حاضرین کو یہ پیغام دیا کہ جب ایک کام ہو جاتا ہے تو پھر وہ سب کو آسان لگنے لگتا ہے لیکن کامیابی کا اصل کریڈٹ اسی کو ملنا چاہیے جس نے یہ کام سب سے پہلے کیا ہوتا ہے۔ اب ہو سکتا ہے دوستو یہ واقعہ ایک لیجنڈ ہو، فرضی کہانی ہو لیکن کولمبس نے اپنی باتوں سے سپیشن حکمرانوں کو ایک بار پھر ایمپریس ضرور کر دیا تھا۔

اس نے حکمرانوں سے ڈیمانڈ کی کہ اس کے ساتھ ایک بڑی فورس اس نئی دنیا یا ایشیا کے نئے راستے کی طرف جو جزائر ہیں وہاں روانہ کی جائے تاکہ وہ اپنے دریافت کردہ علاقوں سے زیادہ سے زیادہ سونا لاکر سپین میں جمع کروا سکیں ملکہ اور بادشاہ کے پاس۔ اس کے ساتھ اس نے سپین کی حکومت کو غلاموں کا لالچ بھی دیا اور کہا کہ وہاں کے لوگ بہت اچھے غلام ثابت ہوں گے اگر انہیں سپین میں لایا جائے۔

سپین کے حکمران، کولمبس کی باتوں سے اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے سترہ بحری جہازوں کا ایک بیڑہ کولمبس کے حوالے کر دیا۔ ان جہازوں میں عملے کے تیرہ سو لوگوں کے علاوہ کچھ تعداد میں پروفیشنل سولجرز بھی شامل تھے،سپاہی تھے ان کے پاس تلواروں، بندوقوں اور اسلحے کی اس بار ایک بھاری مقدار تھی۔ ان کے ساتھ سدھائے ہوئے خونخوار کتے بھی تھے۔

اس ساری فورس نے کولمبس کی طاقت پچھلے سفر کی نسبت بہت بڑھا دی تھی۔ کیونکہ پہلے سفر میں آپ کو یاد ہو گا کہ اس کے پاس صرف نوے ،نائنٹی لوگ تھے۔ جبکہ اس بار دوہزار کے لگ بھگ فورس اس کے ساتھ تھی۔ یہ اتنی فورس تھی کہ اس سے وہ ہیسپینیولا کی پوری آبادی کو باآسانی کچلا جا سکتا تھا۔

کولمبس اس بحری بیڑے کو لے کر ہر ممکن تیز رفتاری کے ساتھ ہیسپینیولا پہنچا مگر جب وہ ساحل پر اترا تو اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔ وہ انتالیس لوگ جنہیں کولمبس فورٹ نویداد میں پیچھے چھوڑ گیا تھا مارے جا چکے تھے۔ بات یہ تھی کہ کولمبس کے سپین جانے کے بعد ان لوگوں نے سونے کی تلاش میں گینگ بنا کر گھومنا شروع کر دیا تھا۔

یہ لوگ عورتوں اور بچوں کو اغوا کر کے اپنے پاس لے آتے اور پھر ان کے ساتھ جنسی تشدد کرتے تھے جنسی زیادتی کرتے اور ان سے زبردستی بیگار لیتے۔ نتیجہ یہ کہ ایک دن مقامی لوگوں کے صبر کا دامن چھوٹا اور انھوں نے دھاوا بول کر یورپینز کو مار ڈالا اوراس قلعے کو آگ لگا دی۔ کولمبس نے اپنے ساتھیوں کا یہ انجام دیکھا تو آپے سے باہر ہو گیا۔

اس نے اپنے ساتھ آئے سپاہیوں کو سونے کی تلاش اور مقامی آبادی کو غلام بنانے کا حکم جاری کیا۔ چنانچہ یہ لوگ اب ہسپینیولا کے جزیرے میں پھیل گئے اور دیہات میں لوٹ مار کرنے لگے۔ مگر تب تک یہ بات ہیسپینیولا میں مشہور ہو چکی تھی کہ اجنبی لوگ اچھے انسان نہیں ہیں بلکہ یہ انھیں غلام بنانے اور سونا لوٹنے آئے ہیں۔ اب مقامی امریکنز جو تھے یہ لوگ سپیشن فورس کا مقابلہ تو نہیں کرسکتے تھے۔

چنانچہ ان میں سے اکثر اپنے دیہات چھوڑ کر بھاگ گئے۔ یہی وجہ تھی کہ سپینش حملہ آوروں کو زیادہ تر دیہات اور ان میں جو گھر تھے وہ خالی ہی ملتے تھے۔ لوگ تو کیا وہاں ملتے گاؤں گاؤں سر کھپانے کے باوجود سپینش حملہ آوروں کو وہاں سونے کی ایک پھانک تک نہیں ملی۔

چودہ سو پچانوے میں جب کولمبس کو ویسٹ انڈیز کے چکر لگاتے ہوئے تقریباً اڑھائی، تین برس ہو گئے تو وہ اب اپنی مسلسل ناکامی سے پریشان رہنے لگا۔ کیونکہ سونا نہیں مل رہا تھا پھر اس نے سونے کی کمی کو غلاموں سے پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ چودہ سو پچانوے میں اس نے اپنی تمام فورس کو جمع کیا اور ہیسپینیولا کے لوگوں کو غلام بنانے کیلئے مختلف دیہات پر چڑھائی کر دی۔

اس مہم میں پندرہ سو مرد، عورتوں اور بچوں کو پکڑ کر لایا گیا اور انہیں جانوروں کی طرح باڑوں میں زنجیریں باندھ کر ٹھونس دیا گیا۔ ان لوگوں کی حفاظت کیلئے سپاہی اور کتے تعینات کر دیئے گئے تھے۔ ان میں سے پانچ سو غلام جو دیکھنے میں زیادہ صحتمند اور مضبوط نظر آتے تھے انہیں سپین بھیج دیا گیا۔ ان غلاموں میں سے دو سو کے قریب نیٹیو امریکنز تو دوستو بحری سفر کے دوران ہی مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر مر گئے۔

باقی جو بچ رہے اور سپین پہنچ گئے، انہیں بازاروں میں فروخت کر دیا گیا۔ لیکن یہ بکنے والے بھی بیچارے مقامی امریکنز یورپ کی آب و ہوا سہہ نہ سکے۔ کیونکہ وہ یہاں پلے بڑھے ہی نہیں تھے صدیوں سے ہزاروں سال سے تو یہ سب بھی ایک ایک کر کے سارے مارے گئے۔ جلد ہی کولمبس کو اندازہ ہو گیا کہ نیٹیو امریکنز کو غلام بنا کر یورپ بھیجنا فضول بات ہے اس لئے اسے ہر حال میں سونا ہی تلاش کرنا ہو گا۔

چنانچہ اس نے مقامی آبادی سے براہ راست بیگار لینا شروع کر دی۔ ہیٹی میں کولمبس نے چودہ برس یا اس سے زائد عمر کے تمام مردوں کو حکم دیا کہ وہ ہر تین ماہ میں سونے کی ایک خاص مقدار ڈھونڈ کر لائیں۔ جب وہ سونا لے آتے تو ان کے گلے میں لٹکانے کیلئے تانبے کا ایک ٹوکن دے دیا جاتا تھا۔

جس شخص کے گلے میں یہ ٹوکن نہیں ہوتا تھا اس کے ہاتھ کاٹ کر خون اس وقت تک بہنے دیا جاتا تھا جب تک اس شخص کی موت واقع نہ ہو جائے۔ پھر ظلم اس سے بھی بڑھنے لگا۔ ہزاروں مقامی لوگوں کو پکڑ کر زبردستی پہاڑوں میں لے جایا جاتا اور ان سے ہر پہاڑ کو اوپر سے نیچے تک کئی بار کھودنے کا کام لیا جاتا۔

جو لوگ مٹی کو دھو کر سونا نکالتے تھے انہیں ہر وقت پانی میں جھک کر کھڑا رہنا پڑتا تھا جس سے ان کی کمر ٹوٹ جاتی تھی۔ کم از کم ایک تہائی لوگ تو دوستو ان کانوں میں بھوک اور بیماری سے لڑتے ہوئے مر گئے۔ مردوں کو تو دور کانوں میں، مائنز پر کام کیلئے بھیج دیا جاتا تھا۔ جبکہ ان کی عورتوں سے کاشت کاری یہ سپینش کرواتے تھے۔

اور یورپینز نے مقامی مردوں اور عورتوں سے اتنی کڑی مشقت لی کہ ان کی ایک پوری نسل ہی بانجھ ہو گئی۔ اول تو ان کے بچے اب پیدا ہی نہیں ہوتے تھے اگر ہو بھی جاتے تھے تو مائیں انہیں دودھ نہیں پلا سکتی تھیں۔ کیونکہ بھوک اور بیماریوں کی وجہ سے ان کی بچوں کو دودھ پلانے کی صلاحیت ہی ختم ہوتی جا رہی تھی۔

کولمبس اور اس کے ساتھی سپینش لوگ سونے کی تلاش میں اس حد تک گر گئے تھے کہ وہ ماؤں کو بچوں کی دیکھ بھال تک کا وقت تک دینے کو تیار نہیں تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں بچے بھوک سے بلک بلک کر مر گئے۔ کچھ مائوں نے تو بے بسی کے عالم میں اپنی اولاد کو خود پانی میں ڈبو کر مار ڈالا، کیونکہ وہ انھیں سسک سسک کر مرتے نہیں دیکھ سکتی تھیں تو شوہر کانوں میں مر گئے،

بیویاں کھیتوں میں اور بچے دودھ کی قلت کے باعث جان گنوا بیٹھے۔ یوں کچھ ہی عرصے میں یہ زمین جو بہت ہی شاندار اور زرخیز تھی فرٹئیل تھی وہ انسانوں کے وجود سے خالی ہو گئی۔ ان سپینش حملہ آوروں کی اندھیر نگری پر ایک سپینش رائٹر کو کولمبس کے کچھ ہی عرصے بعد وہاں جانے کا موقع ملا وہ لکھتا ہے

کہ اس نے ایسے غیر انسانی مظالم اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں کہ انہیں لکھتے وقت وہ سر سے پاؤں تک کانپ رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یورپی حملہ آوروں کے مظالم کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ سپینش لوگ اتنے آرام پسند ہو گئے تھے کہ وہ پیدل چلنا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔

چنانچہ اپنی سواری کیلئے انہوں نے نیٹو امریکنز کو جانوروں کی طرح استعمال کیا۔ اگر انہیں کہیں جانے کی جلدی ہوتی تو وہ نیٹو امریکنز کی کمر پر سوار ہو کر چلے جاتے۔ یا پھر وہ رسیوں سے بنائی گئی جھولوں جیسی ایک سواری تھی اس میں بیٹھ جاتے اور دو نیٹیو امریکن انہیں اٹھا کر آگے پیچھے چلتے۔

ساتھ میں کچھ دوسرے غلام بھی ہوتے تھے جو پتوں سے سایہ کرتے اور مرغابی کے پروں سے ان سپینش حملہ آوروں کو ہوا دیتے۔ یہ سپینش حملہ آور جو اب ان کے آقا بن گئے تھے ان کے نزدیک نیٹیو امریکنز کے خون اور عزت کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ جو ایکسپلورر بن کر آئے تھے، وہ ظالم درندے بن چکے تھے۔ اتنے ظالم کہ کچھ سپاہی تو صرف اپنے چاقوؤں اور تلواروں کی دھار چیک کرنے کیلئے مقامی لوگوں کو پکڑ کر لاتے

اور ان کے جسموں سے گوشت اتار لیتے۔ پھر ان کے تڑپنے کا تماشہ دیکھتے۔ یہ ان کے لیے ایک معمول کی تفریح ہوتی تھی۔ حال یہ تھا کہ ایک بار سپینش سپاہیوں نے دو نیٹیو امریکن لڑکوں سے طوطے چھین کر ان بے قصور لڑکوں کے سر قلم کر دیئے، جسٹ فار فن صرف چند منٹ کی تفریح کے لیے دو بچوں کی گردنیں کاٹ دی ۔ دوستو موت کا یہ اندوہناک کھیل صرف ہیسپینیولا میں ہی نہیں کھیلا جا رہا تھا

بلکہ ویسٹ انڈیز کے دوسرے جزائر بھی اس کی زد میں آ چکے تھے۔ وہاں بھی لوگ قتل عام، بھوک اور بیماریوں کی نذر ہو رہے تھے۔ صرف کیوبا میں تین ماہ کے دوران سات ہزار بچوں کی موت ہوئی۔ جو نیٹیو امریکنز زندہ تھے، یہ سب سلوک وہ دیکھ رہے تھے وہ اس ذلت آمیز رویے، قتل عام اور مفت کی بیگار سے تنگ آ گئے تھے۔ انہوں نے یورپینز سے لڑنے کی بھی کوشش کی مگر ہر بار شکست کھائی۔

وہ اپنے علاقے چھوڑ کر پہاڑوں اور جنگلوں میں اب پناہ لینے لگے تھے۔ سپینش سپاہی اپنے کتوں کے ساتھ جنگلوں میں ان کا پیچھا کرتے اور انہیں گولیوں کا نشانہ بناتے یا انہیں پکڑ کر ان پر اپنے خونخوار کتے چھوڑ دیتے۔ جو ان معصوموں کی بوٹیاں تک نوچ لیتے اور انہیں مار ڈالتے۔ اس جبر اور اذیت کے خلاف جب مقامی لوگوں کا کوئی بس نہ چلا تو انھوں نے آخری حربے کے طور پر ایک پھل کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس پھل کا نام مقامی زبان میں کساوا تھا۔ اس پھل نے لاکھوں نیٹیو امریکنز کو یورپئنز سے بچا لیا۔ مائی کیورئیس فیلوز بھلا وہ کیسے؟ نیٹیو امریکنز اس پھل کساؤ کو کھاتے بھی تھے اور اس کی کچھ قسموں سے زہر بھی کشید کرتے تھے۔ تو نیٹیو امیرکنز نے اس کی زہریلی قسموں سے اب زہر نکالانا شروع کر دیا۔ عام طور پر وہ یہ زہر اپنے تیروں کے ساتھ لگا کر جانوروں کا شکار کرتے تھے۔

لیکن اس بار یہ زہر انہوں نے خود پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ آراواک نسل کے لوگوں نے کساوا زہر سے بڑے پیمانے پر اجتماعی خودکشیاں شروع کر دیں۔ حتیٰ کہ اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھی وہ یہ زہر پلا کر ہمیشہ کے لیے کولمبس اور اس کے سپینش ساتھیوں کے ظلم سے نجات دلا دیتے تھے۔ لیکن ظاہر ہے تمام کے تمام لوگ تو خودکشی سے مر نہیں سکتے تھے۔

سو بہت سے لوگ دوسرے جزیروں پر فرار ہونے اور جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ انہی میں ہیسپینیولا کا سردار ہاتوے بھی تھا۔ وہ اپنے قبیلے کے کچھ لوگوں کو بچا کر کیوبا لے آیا۔ اس کے پاس کچھ تھوڑا سا سونا بھی تھا۔ محفوظ مقام پر پہنچ کر ہاتوے نے سب لوگوں کے سامنے سونا رکھا اور کہا کہ یہ ہے وہ چیز جس کی وجہ سے ہمیں قتل کیا جا رہا ہے۔

پھر اس نے اپنے قبیلے کو سپینش لوگوں کے لالچ اور ظلم سے بچانے کیلئے یہ سونا دریا میں پھینک دیا۔ اس نے سمجھا ہو گا خس کم جہاں پاک۔ مگر اس کی یہ کوشش بھی کسی کام نہ آئی۔ جب سپینش حملہ آوروں نے کیوبا کا رخ کیا تو انہوں نے ہاتوے کے قبیلے کو ڈھونڈ نکالا۔

حملہ آوروں نے آدھے سے زیادہ لوگوں کو اس کے قبیلے کے لوگوں کو قتل کر دیا۔ جو باقی بچے انھیں غلام بنا کر بیگاڑ لینا شروع کر دی انہیں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ جبکہ ان کے سردار ہاتوے کو نہ انہوں نےگولی ماری اور نہ غلام بنایا۔ بلکہ سب کے سامنے خشک لکڑیوں کے ڈھیر پر باندھ کر نیچے آگ لگا دی۔ لیکن موت سے پہلے ہاتوے کچھ ایسے الفاظ کہہ گیا جو یورپی پادریوں کو صدیوں تک شرمندہ کرتے رہے۔

کہتے ہیں جب ہاتوے کو جلانے کیلئے لکڑی کے ستون کے ساتھ باندھا جا رہا تھا تو ایک پادری نے اسے کہا کہ تم کرائسٹ کو اپنے دل کے قریب محسوس کرو تاکہ تمہاری روح جہنم کے بجائے جنت میں داخل ہو۔ ہاتوے نے جواب دیا، اگر جنت وہی جگہ ہے جہاں تم جیسے عیسائی جاتے ہیں تو میں جہنم میں جانا پسند کروں گا۔ یوں دوستو ان گنت انسان سونے کے بھوکے انسانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔

اس سارے قتل عام اور تباہی کا بنیادی ذمہ دار اگر کوئی ایک شخص تھا تو وہ یہی ہوس پرست ٹیم کا لیڈر کرسٹوفر کولمبس تھا۔ یہ اپنے سارے لالچ اور ظلم کے باوجود بھی سپین میں اتنا سونا نہیں بھجوا سکا جس کا اس نے وعدہ کیا تھا۔ بلکہ سونے کے بجائے شاہی دربار میں اس کی شکایتیں دھڑا دھڑ پہنچ رہی تھیں۔

وہ جس تیزی سے مقامی آبادی کا خاتمہ کر رہا تھا اور ظلم ڈھا رہا تھا اس کی داستانیں سن کر سپین میں بھی کئی لوگوں کے دل پگھل گئے۔ کولمبس کا زوال شروع ہونے والا تھا اور اس زوال میں اہم کردار ادا کیا اس کے دو بھائیوں نے۔ کولمبس اپنے دو بھائیوں کو بھی ہیسپینیولا لایا تھا۔ چودہ سو چھیانوے میں جب کولمبس دوسری بار سپین واپس آیا تو اس نے اپنی جگہ اپنے بھائیوں کو جزیرے کا انچارج بنا دیا۔

دونوں بھائیوں نے کولمبس کے بنائے ہوئے ظالمانہ سسٹم کو مزید خطرناک بنا دیا۔ کولمبس نے یہ سسٹم شروع کیا تھا کہ اس نے نیٹیو امریکنز کے سرداروں کی یہ ڈیوٹی لگا دی تھی کہ وہ اپنی نگرانی میں پہاڑوں سے سونا نکلوائیں۔ مگر کولمبس کی غیر موجودگی میں اس کے بھائیوں نے یہ کیا کہ کولمبس کی پالیسی ختم کر کے نیٹو امریکنز کا براہ راست استحصال شروع کر دیا

اور اس کیلئے اپنے من پسند لوگوں کو ٹھیکے دینا شروع کر دیئے۔ لیکن باقی سپینش آبادکاروں یعنی وہ لوگ جنھیں نئی دنیا میں لا کر بسایا گیا تھا، انھیں فیور نہیں دی گئی سو وہ اور مقامی قبائلی سردار ناراض ہو گئے۔ سپینش آبادکاروں کو اس بات پر بھی غصہ تھا کہ وہ کولمبس کی سونے والی کہانیوں پر یقین کر بیٹھے تھے۔

حالانکہ ہیسپینیولا پہنچنے کے بعد انہیں وہاں کوئی سونا نہیں ملا تھا۔ چنانچہ ان لوگوں نے کولمبس اور اس کے بھائیوں کے خلاف بغاوت کر دی اور سپین کے شاہی دربار میں کولمبس کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے۔ دربار کی طرف سے سپین کے چیف جسٹس کو تحقیقات کیلئے ہیسپینیولا بھیجا گیا۔ اس دوران کولمبس جنوبی امریکہ کی سرزمین پر جہاں آج وینزویلا ہے وہاں قدم رکھ چکا تھا۔

یہاں بھی وہ پاگلوں کی طرح سونا ہی تلاش کر رہا تھا۔ کیونکہ وہ اب تک یہی سمجھ رہا تھا کہ اس نے ایشیا اور چین کو دوسری طرف سے تلاش کر لیا ہے۔ جیسا کہ مارکوپولو کے سفر ناموں میں لکھا تھا کہ وہاں سونا ہے تو یہاں سونا ہو گا حالانکہ ایسے ثبوت واضح تھے کہ وہ ان علاقوں کو دریافت نہیں کر سکا جو ان سفر ناموں میں لکھے تھے۔ لیکن وہ یہ سمجھنے کو تیار نہیں تھا یا شاید وہ اس قابل ہی نہیں تھا۔

تو قصہ یہ ہوا کہ وینزویلا میں بھی اسے سونا نہیں ملا اور وہ خالی ہاتھ ہیسپینولا واپس آ گیا۔ اس بار یہاں اس کا یومِ حساب اس کا منتظر تھا۔ سپینش جج ہیسپینیولا پہنچ چکا تھا اور اس نے کولمبس کے خلاف سپینش آبادکاروں اور نیٹیو امریکنز کی شکایات سن لی تھیں اور اس نے کولمبس کے خلاف یہ سب سن کر اور اس کا موقف جان کر فیصلہ دے دیا۔

پھر اس نے کولمبس اور اس کے دونوں بھائیوں کو زنجیروں میں جکڑا اور اکتوبر سن پندرہ سو میں تینوں قیدیوں کو سپین روانہ کر دیا۔ لیکن کولمبس بہت چالاک انسان تھا اس میں کنونسنگ پاور بہت زیادہ تھی۔ چنانچہ اس نے واپسی کے سفر کے دوران ہی سپین کے حکمرانوں کے نام ایک خط تیار کیا۔ یہ خط اگرچہ ایک ڈیسپریٹ ایفرٹ تھی، لیکن اس خط نے بادشاہ اور ملکہ کو قائل کر لیا۔

خط میں لکھا تھا کہ اگرچہ وہ ابھی سونا تلاش نہیں کر سکا لیکن وہ اس کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ خط پڑھنے کے بعد بادشاہ اور ملکہ نے اس کی رہائی کا حکم دیا اور دسمبر پندرہ سو میں غرناطہ میں اس سے ایک ملاقات بھی کی۔ اس ملاقات میں کولمبس نے انہیں یقین دلایا کہ اسے ایک بار اور اسی جزیرے پر جانے دیا جائے تو و ہ سونا ڈھونڈ کر ہی واپس آئے گا۔

چنانچہ بادشاہ اور ملکہ نے پھر اس کی بات مان لی اور اسے آخری بار سفر کی اجازت اور وسائل دے دیے۔ کولمبس کو سفر کی اجازت تو اس بار مل گئی مگر اب اسے نئی دریافت شدہ زمینوں کے گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اب وہ گورنر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عام ایکسپلورر کی حیثیت سے واپس جا رہا تھا۔ پندرہ سو دو میں کولمبس اپنے چوتھے اور آخری سفر پر روانہ ہوا۔

وہ ایشیا کے دھوکے میں اس قدر مبتلا تھا کہ اسے وہاں پرتگالی ایکسپلورر واسکو ڈی گاما سے ملاقات کی توقع تھی حالانکہ واسکوڈی گاما آفریقہ کے نیچے سے ایشیا کا ایک راستہ دریافت کر چکا تھا۔ جو ظاہر ہے وہ جگہ نہیں تھی جہاں کولمبس پہنچا تھا وہ اس جگہ سے ہزاروں میل دورتھی۔ اپنے آخری سفر میں کولمبس سونے کی تلاش میں ہنڈراس، پاناما اور نیکارا گوا میں بھی مارا مارا پھرتا رہا۔

لیکن اسے سونا نہیں ملا۔ اس دوران وہ ایک بار اپنے پچاس ساتھیوں کے ساتھ جمیکا کی بندرگاہ سانتا گلوریا میں پھنس گیا۔ اس کے پاس کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا تھا اور وہ واپسی کے لیے بھی راستہ تلاش نہیں کر پا رہا تھا۔ اس نے اپنے بحری جہاز کو ساحل پر ہی روک لیا اور کچھ ساتھیوں کو ایک کشتی میں بھیجا تاکہ وہ ہیسپینیولا تک پہنچنے کا راستہ تلاش کریں۔

ان کے جانے کے بعد کولمبس کیلئے مشکل دور شروع ہو گیا۔ اس کے پاس کھانے پینے کا سامان ختم تھا اور مقامی لوگ اسے یہ سامان دینے پر تیار نہیں تھے۔

چنانچہ جب خوراک کی قلت بڑھ گئی تو کولمبس نے نیٹیو امریکنز کے ساتھ ایک عجیب داؤ کھیلا۔ اس نے نیٹیو امریکنز کے سرداروں کو بلا کر دھمکایا۔ اس نے کہا کہ خدا اس بات پر ناراض ہے کہ مقامی لوگ اس کے پیروکاروں کو کھانا پہنچانے میں سستی کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس نے ان لوگوں کو قحط اور بیماری کے ذریعے سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس نے یہ بھی کہا کہ خدا نیٹیو امریکنز کو دی جانے والی سزا کے حوالے سے آسمان پر پہلے ایک واضح نشانی ظاہر کرے گا۔ چنانچہ کولمبس نے سرداروں سے کہا کہ وہ اس رات آسمان پر چاند کو غور سے دیکھیں۔ کیونکہ اس رات چاند ۔۔۔ سرخ اور دہکتا ہوا نظر آئے گا اب ظاہر ہے نیٹیو امریکنز پر کوئی اوپر سے عذاب تو نازل ہونے والا تھا نہیں

لیکن کولمبس کی بات میں اتنی حقیقت ضرور تھی کہ چاند کے سرخ اور دہکتا ہوا ہونے والی بات اس کے علم میں تھی۔ وہ اس طرح کہ اسے ایک یورپی جنتری جو ستاروں اور چاند سورج کے حساب سے لکھی گئی تھی اس حساب سے اسے پتا تھا کہ تین دن کے بعد انتیس فروری پندرہ سو چار کی رات مکمل چاند گرہن ہو گا۔ چنانچہ کولمبس نے اس ٹیبل یا جنتری پر یقین رکھتے ہوئے پورے اعتماد سے نیٹیو امریکنز کو ایک آفاقی دھمکی دے ڈالی۔

پھر یوں ہوا کہ یہ پیش گوئی پوری بھی ہو گئی انتیس فروری کی رات واقعی چاند کو گرہن لگ گیا۔ نیٹیو امریکنز نے چاند گرہن دیکھا تو انہیں کولمبس کی سچائی پر یقین آ گیا اور وہ ڈر کے مارے کولمبس اور اس کے ساتھیوں کو کھانے پینے کا سامان فراہم کرنے لگے۔ کولمبس کو جمیکا میں تقریباً ایک برس یونہی گزارنا پڑا۔ اس دوران اس کے ساتھی جو کشتی میں سوار تھے وہ ہیسپینیولا تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

چنانچہ ہیسپینیولا سے تاخیر سے ہی سہی بہرحال مدد پہنچ گئی اور کولمبس جان بچا کر جمیکا سے ہیسپینیولا چلا آیا۔ مگر اس کا یہ چوتھا اور آخری سفر بھی اب ناکام رہا تھا بلکہ شاید سب سے زیادہ مایوس کن سفر یہی تھا۔ چنانچہ جاپان اور چین پہنچنے کی حسرت دل میں لئے ایک مایوس کولمبس جو اب بوڑھا اور بیمار بھی رہنے لگا تھا واپس سپپن چلا گیا اور پھر پندرہ سو چھے میں اپنی موت تک وہ وہی رہا۔

لاکھوں بے گناہ نیٹیو امیریکنز کی موت کا باعث بننے والا کولمبس آخری وقت تک بہرحال ٹھاٹھ سے زندگی بسر کرتا رہا۔ کیونکہ ملکہ کے وعدے کے مطابق اسے نئی دنیا سے آنے والے تھوڑے بہت سونے کا دسواں حصہ بہرحال ملتا رہا۔ لیکن وہ اپنی موت تک اسی دھوکے میں رہا کہ وہ ایشیا کا نیا راستہ تلاش کر چکا ہے۔ مائی کیورئس فیلوز کولمبس تو ایشیا کے دھوکے اور سونے نہ ملنے کی مایوسی میں مر گیا۔

لیکن دوسرے لوگ ایسے دھوکے میں نہیں آئے۔ پندرہ سو ایک میں ایک اطالوی مہم جؤ امیریگو وِیسپُوچی نے بھی کولمبس کی دریافت شدہ اسی نئی دنیا کا جائزہ لیا۔ وہ اوپر شمال سے ہوتا ہوا نیچے جنوب میں اس جگہ بھی گیا جہاں آج برازیل اور ایمازون کے جنگلات ہیں۔ وہ کولمبس کی نسبت بہت ذہین انسان تھا۔ اس نے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگائی کہ یہ ایشیا کا کوئی راستہ یا چھوٹا موٹا جزیرہ نہیں بلکہ ایک نئی دنیا ہے۔

اسی امیریگو کے نام پر اس نئی دنیا کا نام امریکہ رکھا گیا دوستو کولمبس نے نیٹیو امریکنز کی تباہی کا جو دروازہ کھول دیا تھا۔ وہ اس کی موت کے ساتھ بند نہیں ہوا۔ کولمبس کی آمد کے اکیس برس کے اندر ہیسپینیولا انسانوں کے وجود سے یکسر خالی ہو چکا تھا اس جزیرے پر رہنے والے تقریباً اسی لاکھ لوگ جنہیں کولمبس انڈینز سمجھتا تھا

وہ سپینش حملہ آوروں کی خونریزیوں، بیماریوں اور مایوسی کے ہاتھوں اب ختم ہو چکے تھے۔ امریکن ہولوکاسٹ کے مصنف ڈیوڈ سٹینرڈ کے مطابق ہیسپینیولا پر ہونے والی تباہی جاپانی شہر ہیروشیما پر ایٹمی حملے سے پچاس گنا زیادہ تھی۔ باقی جزیروں پر جو قتل عام ہوا وہ اس کے علاوہ تھا۔ یہ ہیسپنیولا کا وہ جزیرہ ہے جس کی زمین میں وہ لاکھوں بے گناہ دفن ہیں جنہیں کولمبس اور سپینش حملہ آوروں نے موت کے گھاٹ اتارا تھا۔

ان لوگوں کی جگہ یہاں سیاہ فام افریقنز کو لا کر بسانا شروع کیاگیا کیونکہ وہ آراواک لوگوں کی طرح یورپ سے آئی ہوئی بیماریوں سے مرتے نہیں تھے بلکہ ان میں یورپ کی بیماریوں سے ایمیونٹی یا ان سے مقابلے کی صلاحیت موجود تھی۔ چنانچہ انہی غلاموں اور سفید فام آبادکاروں کی اولادیں اور مشترکہ نسلیں ہی آج یہاں آباد ہیں۔ تو نیٹیو امریکنز کی جگہ سیاہ فاموں کی آبادکاری سے امریکہ میں غلامی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

مگر آراواک نسل کے لوگ جنہیں کولمبس نے موت اور تباہی سے دوچار کیا تھا وہ بھی مکمل طور پر سو فیصد ختم نہیں ہوئے۔ ویسٹ انڈیز کے دوسرے جزائر سے کچھ لوگ زندہ بچ نکلے اور جنوبی امریکہ میں نیچے کی طرف چلے گئے۔ یہ لوگ آج وینزویلا، گایانا اور سوری نام کے ارد گرد کے علاقوں میں رہتے ہیں۔ کبھی کولمبس کا نام ان لوگوں کے لیے دہشت کی علامت تھا تو آج ان کی جو نسلیں بچ رہی ہیں

ان کے لیے کولمبس کا نام نفرت کا نشان ہے۔ کولمبس نے ایک بڑا عیسائی ایمپائر بنانے کی جو مہم شروع کی تھی وہ اس کی موت کے بعد بھی جاری رہی۔ سپینشن ایمپائر ویسٹ انڈیز کے زیادہ تر حصوں پر پوری طرح قابض ہو چکی تھی اور اب اس کی نظریں جنوبی امریکہ پر لگی ہوئی تھیں جہاں ایزٹیک ایمپائر تھا۔ یہ دوستو وہ نیٹیو امریکنز کی ریاست تھی جس کے پاس واقعی سونا بھی تھا

اور بے شمار دوسرے قیمتی خزانے بھی۔ لیکن اس ایمپائر کے لوگ ویسٹ انڈیز کے آراواک نسل کے لوگوں کی طرح کمزور نہیں تھے بلکہ نئی دنیا کی سب سے طاقتور لوگ تھے اور یہ ایمپائر وہاں کی طاقتور ایمپائر تھی۔ یہاں کے لوگوں نے ان کا سپینش کا پورا مقابلہ کیا۔

یہ مقابلہ انہوں نے کیسے کیا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ ایزٹیک کا وہ کون سا دیوتا تھا جسے انھوں نے پہچاننے میں بہت دیر کر دی؟ امریکہ میں سپین کے راستے کی آخری دیوار کون بنا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن ہسٹری آف امریکہ کی اگلی قسط میں۔

Read More:: History of America S01E04 | What Columbus did to Arawak People in Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button