History World Urdu

History of America S01 E05 | What happened to Aztec and Inca Empires in Urdu

History of America

کولمبس کی موت کو گیارہ سال ہو چکے تھے۔ جہاں آج میکسیکو کا دارالحکومت میکسیکو سٹی ہے وہاں ایک بڑی کھارے پانی کی جھیل ٹیکسکوکو تھی۔ اس جھیل پر ایک بہت بڑا شہر تینوشت تلان بسا ہوا تھا جو دو لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلے ایزٹیک ایمپائر کا دارالحکومت تھا۔ شہر کو طویل پلوں یا کاز ویز کے ذریعے باہری دنیا سے ملایا گیا تھا۔

History of America S01 E05  What happened to Aztec and Inca Empires in Urdu

ساٹھ لاکھ آبادی والے اس ایمپائر کا دارالحکومت دولت اور شان و شوکت میں اپنی مثال آپ تھا۔ شہر میں ساٹھ ہزار گھر تھے یہ بلند و بالا عمارتیں اور وسیع و عریض ٹیمپلز تھے ان ٹیمپلز پرانسانوں کی قربانی بھی کی جاتی تھی۔ البتہ عورتوں اور بچوں کو قربان نہیں کیا جاتا تھا۔ شہر میں مصنوعی جزیروں پر لہلہاتے باغات تھے جو دیکھنے میں پانی پر تیرتے ہوئے محسوس ہوتے تھے انہیں ہم فلوٹنگ گارڈنز کہہ سکتے ہیں۔

شہر کو پتھر کے راستے کے ذریعے پانی سپلائی ہوتا تھا۔ شہر کی مارکیٹس ہر وقت ہزاروں لوگوں سے بھری رہتی تھیں۔ یہاں کی جھیلوں اور ندیوں میں سونا بہتا تھا جسے پانی چھان کر نکالا جاتا تھا اور پگھلا کر استعمال کیا جاتا تھا۔ صدیوں سے یہاں آباد یہ لوگ جنگجو تو بہت تھے لیکن اپنے کچھ اصولوں اور کچھ توہم پرستیوں کے باعث مارے گئے۔ ان کے یہ اصول اور توہم پرستیاں کیا تھیں؟

امریکہ میں ایک اور عظیم تہذیب اِنکا سیولازیشن کہاں غائب ہو گئی؟ اس امیر کبیر شہر کے باسیوں کے کچھ اصول تھے۔ جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ جنگ میں اپنے دشمن کو دھوکہ دینے کے سخت خلاف تھے۔ وہ اعلانِ جنگ کے بغیر حملہ کرنے کو بزدلی سمجھتے تھے۔ ان کا یہی اصول ان کیلئے اس وقت تباہ کن ثابت ہوا جب سپین کا ایک طالع آزما صرف چھے سو لوگوں کے ساتھ ان کی ایمپائر پر چڑھ دوڑا۔

پندرہ سو چار کی بات ہے کہ ایک سپینش شہری ہرنان کورٹز ایزی منی کی تلاش میں ویسٹ انڈیز کے جزیرے ہسپینولا پہنچا۔ یہاں تو اسے کوئی خاص کامیابی نہیں ملی لیکن آگے جب وہ یہاں سے کیوبا پہنچا تو اس کی لاٹری نکل آئی۔ وہ یوں کہ کیوبا کے جزیرے میں سپینش گورنر ڈیگو نے کورٹز کو حکم دیا کہ وہ ایک فورس تیار کر کے میکسیکو جائے اور وہاں ایک سپینش کالونی بسائے جو ظاہر ہے

اسی گورنر کے ماتحت ہونا تھی۔ سو اسی حکم پر اٹھارہ فروری پندرہ سو انیس کو کورٹز اپنے ساتھ چھے سو آٹھ سپاہی اور ملاحوں کو لے کر گیارہ بحری جہازوں پر کیوبا سے روانہ ہوگیا۔ جلد ہی یہ جہاز میکسیکو کے ساحلی علاقے ٹیباسکو سے ہوتے ہوئے موجودہ ساحلی شہر ویرا کروز تک پہنچ گئے۔ یہ شہر ایزیٹک ایمپائر کی حدود ہی میں شامل تھا۔

چھے سو لوگوں کی چھوٹی سی فوج کی لینڈنگ کو ایزٹیکس نے اپنے لئے کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا۔ کیونکہ وہ خود ساٹھ لاکھ کا ایمپائر تھے 6 میلن پیپل کا اور خود کو طاقتور بھی بہت سمجھتے تھے۔ اسی طرح ک ورٹز بھی اپنے فائر آرمز کے بل بوتے اپنی گنز کے بل بوتے پر ایزٹکس کی طاقت کو کچھ زیادہ نہیں سمجھتا تھا۔ لیکن یہاں اصل نقصان ایزٹکس کو فائر آرمز سے نہیں بلکہ اپنی توہم پرستی کی وجہ سے اٹھانا پڑا۔

ایزٹیکس میں تین سو برس سے ایک لیجنڈ مشہور تھی کہ ان کا ایک دیوتا جو دنیا سے جا چکا ہے وہ ایک روز واپس آئے گا۔ تو جب ہرنان کورٹز ویراکروز کے ساحل پر اترا اور اپنے ساتھ زنجیروں سے بندھے ہوئے گھوڑے بھی لایا۔ اب گھوڑے تو اس خطے کے لوگوں نے پہلے نہیں دیکھے تھے۔ اسی لیے ایزٹکس نے یہی سمجھا کہ ان کا دیوتا واپس آ گیا ہے۔

چنانچہ مقامی لوگ سپینش حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے بجائے الٹا انہیں کھانے پینے کا سامان اور ضروری جغرافیائی معلومات فراہم کرنے لگے۔ ان لوگوں سے کورٹز کو ایزٹیک ایمپائر کی طاقت اور کمزوریوں کا بہت اچھی طرح علم ہو گیا۔ سو اس نے اب ایزٹیکس کے دارالحکومت پر چڑھائی کا پلان بنانا شروع کر دیا۔

مگر اسے معلوم تھا کہ فائر آرمز ہونے کے باوجود اتنے بڑے ایمپائر کو کنٹرول کرنا صرف چھے سو لوگوں کے بس کی بات ہرگز نہیں۔ چنانچہ اس نے مقامی لوگوں سے ایسے لوگ تلاش کرنا شروع کیے جو اس کے اتحادی بن سکیں اور یہ لوگ اس کو مل گئے۔ ان میں بڑی تعداد ٹلیکسکالان علاقے کے لوگوں کی تھی جو ایزٹیک ایمپائر کے سخت دشمن تھے۔

اب دشمن کا دشمن تو دوست ہوتا ہے اس لئے کورٹز نے ان لوگوں سے ہاتھ ملا لیا بلکہ ان کے علاقے ہی میں اپنی نئی ملٹری بیس بھی قائم کر لی اس بات کی خبر ایزٹیکس ایمپئر کے بادشاہ مونٹیزوما ثانی مونٹیزوما سیکنڈ کو ہو گئی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنی توہم پرستی کی وجہ سے ابھی تک شش و پنج میں تھا کہ یہ جو لوگ آئے ہیں یہ واقعی سپینش حملہ آور ہیں یا ان میں ایک ان کا دیوتا بھی ہے

جس کا اس ایمپائر کے لوگوں کو انتظار تھا چنانچہ وہ کھل کر کورٹز کے مقابلے پر نہیں آیا بلکہ اس نے پہلے صلح کی کوشش کی۔ اس نے کورٹز کے پاس بہت سا سونا اور چاندی بھجوایا اور درخواست کی کہ جو سپینش حملہ آور آئے ہیں وہ حملہ آور ہیں توعلاقے سے نکل جائیں۔ اس نے کورٹز کو سونے سے بنا ایک سورج کا ساڑھے چھے فٹ چوڑا فریم بھی بھیجا

جس کے ساتھ چاندی کا ایک چھوٹا سا فریم الگ سے تھا جو چاند کی علامت تھی۔ ان تحائف سے کورٹز، ایزٹکس کا دوست تو کیا بنتا اس کا لالچ اور بھڑک اٹھا۔ اس نے قاصدوں کے ہاتھ جو مسینجرز تھے ان کے ہاتھ اپنا ہیلمٹ مونٹیزوما کے پاس بھیجا اور کہا کہ آپ اس میں کچھ اور گولڈ دے دیجئے کیونکہ اس کے لوگوں کو ہمارے لوگوں کو ایک بیماری ہے جو صرف سونے سے دور ہو سکتی ہے۔

مونٹیزوما نے جواب میں حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے ہیلمٹ کو سونے کے ذرات سے لبا لب بھر دیا۔ جب ہیلمٹ کورٹز کے پاس پہنچا سونے سے بھرا ہوا تو اسے یقین ہو گیا کہ ایزٹیکس کے پاس لامتناہی سونا ہےبہت زیادہ سونا ہے۔ سو اب اس نے چالاکی سے مونٹیزوما کو پیغام بھیجا کہ وہ جنگ نہیں چاہتا بس ان کے درالحکومت کا وزٹ کرنا چاہتا ہے ایک بار دیکھنا چاہتا ہے اندر سے۔

ایزٹک بادشاہ نے اس وزٹ کی اجازت دے دی۔ نومبر پندرہ سو انیس میں کورٹز اپنے چھے سو ساتھیوں اور ایک ہزار ٹلیکسکالان جنگجوؤں کے ساتھ شہر میں داخل ہو گیا مونٹیزوما نے خود شہر سے باہر نکل کر اس کا استقبال کیا اور اسے اپنے محل میں ٹھہرایا۔ مگر کورٹز نے اس مہمان نوازی کا جواب یوں دیا کہ مونٹیزوما کو اس کے محل ہی میں یرغمال بنا لیا۔

وہ ایسے دوستو کہ محل کے اندر بادشاہ کے گرد بندوقوں والے سپینشن حملہ آوور پھرتے رہتے تھے اسے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ بظاہر بادشاہ آزاد تھا میزبان تھا لیکن اصل میں وہ کورٹز کا قیدی بن چکا تھا۔ سپینش قیدی بادشاہ سے زبردستی آرڈرز کروا کر باہر سے سونا اور دوسری چیزیں محل کے اندر منگواتے اور مختلف کمروں میں ڈھیر لگاتے چلے جاتے۔

حتیٰ کہ محل کی ایک دیوار بھی توڑ کر اس کے پیچھے موجود بہت سا سونا، کئی قیمتی مجسمے اور دوسرا سامان بھی لوٹ لیا گیا۔ اگر کورٹز کو کچھ اور وقت مل جاتا تو وہ ایزٹیکس کو بلکل کنگال کر کے خاموشی سے اپنی راہ لیتا۔ مگر اچانک اس پر ایک مصیبت آ پڑی جس سےاس کا یہ سارا کھیل کچھ دیر کے لیے چوپٹ ہو گیا۔ تو مائی کیوریس فیلوز دراصل کورٹز کو تو کیوبا کے گورنر نے اپنا نمائندہ بنا کر یہاں بھیجا تھا۔

لیکن کورٹز نے ویراکروز میں جو کالونی قائم کی تھی اس پر گورنر کا حق تسلیم کرنے کے بجائے وہ خود وہاں کا گورنر بن بیٹھا تھا اس کا اعلان کر بیٹھا تھا۔ اسی لیے کیوبن گورنر نے اسے گرفتار کرنے کیلئے ایک نئی فوج اس کے پیچھے میکسیکو بھیج دی تھی۔ کورٹز کو اس فوج کی آمد کا علم ہوا تو وہ اپنے اسی، ایٹی ساتھیوں کو محل میں بادشاہ کی نگرانی کیلئے چھوڑ کر باقیوں کے ساتھ مقابلے کیلئے چل پڑا۔

اس نے ساحل پر پہنچ کر نئی فوج کو جو گورنر نے بھیجی تھی ناصرف یہ کہ شکست دے دی بلکہ اس فوج کے زیادہ تر سپاہیوں کو گرفتار بھی کر لیا۔ پھر اس نے ان گرفتار سپاہیوں کو بھی سونے کا لالچ دے کر ان کی وفاداریاں خرید لیں۔ اب اس کے پاس اپنے ساتھیوں اپنے پہلے سے موجود سپاہیوں کو ملا کر کل چودہ سو لوگوں کی ایک چھوٹی سی اچھی خاصی فورس بن چکی تھی۔

وہ اپنی کامیابی پر خوش تھا مگر جب وہ تینوشت تلان واپس پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں بازی پلٹ چکی ہے۔ کورٹز کے ساتھی ایزٹیکس کے محاصرے میں آ چکے تھے اور یہ محاصرہ کئی روز سے جاری تھا۔ دوستو ہوا یہ تھا کہ کورٹز کی غیرموجودگی میں اس کے سپاہیوں نے ایک مقامی مذہبی جشن کے دوران دنگا فساد شروع کر دیا۔ جس میں ہزاروں ایزٹکس کو گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالا گیا۔

اس قتل عام کے بعد سپینش حملہ آور محل میں جا کر چھپ گئے۔ لیکن اس قتل عام سے ایزٹکس کا یہ وہم بلکل دور ہو گیا کہ یہ لوگ شاید کوئی دیوتا وغیرہ یا اس قسم کی کوئی چیزہوں۔ سو اب غصے میں بھرے شہریوں اور ایزٹیک سپاہیوں نے محل کا محاصرہ کر لیا۔ وہ انھیں مار دینا چاہتے تھے۔ محاصرے کے دوران کورٹز اپنی فورس سمیت کسی نہ کسی طرح محل کے اندر داخل ہو کر اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔

اس نے یرغمالی بادشاہ کو محل کی چھت پر کھڑا کر دیا اور اسے حکم دیا کہ وہ اپنے لوگوں سے کہے کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں اور کوئی حملہ نہ کریں۔ مگر ایزٹکس نے اپنے بادشاہ کی بھی ایک نہ سنی۔ بلکہ انہوں نے بادشاہ کے چھت پر موجود ہونے کے باوجود محل پر حملہ کر دیا۔ اس لڑائی میں چھت پر کھڑا مونٹیزوما ثانی مونٹیزوما سیکنڈ بھی مارا گیا۔

شاید اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں یا پھر سپینش حملہ آوروں کے ہاتھوں لیکن وہ جان سے چلا گیا۔ بادشاہ کی موت کے بعد کورٹز اور اس کے ساتھیوں نے شہر سے بھاگنے کا فیصلہ کر لیا۔ کیونکہ اب ہزاروں لاکھوں لوگوں کو محل میں داخلے سے وہ زیادہ دیر تک نہیں روک سکتے تھے۔

لوگوں کا دیوتا والا وہم دور ہو چکا تھااور بادشاہ کی آخر شیلڈ ختم ہو چکی تھی تیس جون اور یکم جولائی پندرہ سو بیس کی رات کورٹز اور اس کے ساتھیوں نے سونے کی جتنی جتنی مقدار وہ اٹھا سکتے تھے اٹھائی اور فرار ہونے لگے۔ دراصل انہیں معلوم تھا کہ ایزٹیکس رات کو لڑنا پسند نہیں کرتے اس لئے وہ لوگ رات کو محل کی کوئی خاص نگرانی بھی نہیں کرتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ سپینش نے رات کا وقت منتخب کیا بھاگنے کے لیے۔ سو جب سپینش لوگ شہر سے نکلنے والے مغربی پل پر فرار ہوتے ہوئے پہنچے تو ایک ایزٹیک عورت نے انہیں دیکھ لیا اور شور مچا دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں ایزٹیکس سپاہی ان کی طرف لپکنے لگے۔ ایزٹیک سپاہیوں نے پل پر تیروں اور نیزوں کی بارش کر دی۔

درجنوں سپینش سپاہی سونے سے لدی ہوئی بوریوں کے ساتھ جھیل میں گرے اور ان بوریوں کے بوجھ سے پانی میں ڈوب کر مر گئے۔ اس رات کو سپینش زبان میں نوچ ٹرسٹی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے دکھوں کی رات یا نائٹ آف سوروز۔ اس لڑائی میں چار سو سے چھے سو کے لگ بھگ سپینش مارے گئے تھے۔ سپینش کے اتحادی قبیلے کا بھی بہت جانی نقصان ہوا۔

لیکن ایزٹیکس جو یہ لڑائی جیت گئے تھےوہ اپنی اس جیت کو مکمل کامیانی میں نہ بدل سکے کیوں؟ مائی کیورئیس فیلوز ایزٹیکس نے نائٹ آف سوروز میں سپینش فورس کی کمر توڑ دی تھی مگر ان کا سرغنہ یا لیڈر ہرنان کورٹز جان بچا کر نکل گیا۔ یہی نہیں بلکہ اس نے ایک لڑائی میں اپنا تعاقب کرنے والے ایزٹیکس کو بھی شکست دے دی۔

ٹلیکسکالان پہنچ کر اس نے اپنے اتحادی مقامی لوگوں کی مدد سے دوبارہ لڑائی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اس بار اس نے ایزٹیکس پر حملے کیلئے کشتیاں اور نئی توپیں بھی خاص طور پر تیار کرائیں۔ کورٹز اگلے برس یعنی پندرہ سو اکیس تک جنگی تیاریوں میں لگا ہوا تھا لیکن اس دوران ایزٹکس کے ساتھ برا یہ ہوا کہ وہاں چیچک کی وبا پھیل گئی۔ دراصل اس بیماری کے جراثیم یہی سپینش حملہ آوور اپنے ساتھ لائے تھے۔

جو ایزٹیک ایمپئیر میں بھی انہی کی وجہ سے پھیل چکے تھے اب یہ نئی دنیا کے لوگ ایزٹیکس کے لوگ ان جراثیم سے امیون نہیں تھے کیونکہ کبھی یہ بیماری اس نئی دنیا میں نہیں پھیلی تھی اس لیے ان میں قدرتی صلاحیت اس بیماری سے لڑنے کی ایوالو ہی نہیں ہو پائی تھی۔

سو ایزٹکس بیچارے اس جراثیم کا مقابلہ نہیں کر پائے اور صرف دو ماہ کے اندر شہر کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اس بیماری کے ہاتھوں موت کی نیند سو گیا۔ ابھی شہر کے لوگ اس بیماری کے اثرات سے بیماری سے لڑ رہے تھے کہ مئی پندرہ سو اکیس میں کورٹز نے شہر پر ایک بار پھر دھاوا بول دیا۔ اس کے سپاہی خشکی اور پانی دونوں طرف سے شہر پر حملہ آور ہو گئے۔

پہلے کشتیاں پانی میں اتاری گئیں ایزٹیکس کی چھوٹی چھوٹی کشتیوں کے مقابلے میں یہ بڑی بڑی کشتیاں تھیں اور ان پر اسلحے سے لیس فائرارمز سے لیس سپاہی تعینات تھے۔ چنانچہ اس نیول فوج نے جھیل میں ایزٹیکس کی مزاحمت کو جلد ہی کچل کر رکھ دیا۔ اس کے بعد کورٹز کے توپ خانے نے شہر پر شدید بمباری شروع کر دی

اب یہ شہر کوئی قلعہ بند دیواروں والوں مضبوط دیواروں والا تو تھا نہیں نتیجہ یہ نکلا کہ سپینش توپخانے نے بہت سی عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ اس کے بعد پیدل اور گھڑ سوار سپینش سپاہیوں نے اور ان کے اتحادیوں نے شہر کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ ایزٹیکس نے انہیں شہر میں داخلے سے روکنے کی کوشش کی مگر حملہ آوروں کی بندوقوں کے سامنے ان کے نیزے اور ڈنڈے کیا کر سکتے تھے

سو بیکار ثابت ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سپینش سپاہی شہر میں داخل ہو گئے اور جو بھی ان کے سامنے آیا اسے توپوں اور بندوقوں سے اڑاتے چلے گئے۔ لیکن اس دوران ایزٹیکس نے بہادری سے اپنے شہر کی ایک ایک گلی اور ایک ایک مکان کا دفاع شروع کر دیا تھا۔ اور ایک ایک گلی اور ایک ایک مکان میدان جنگ بن چکا تھا ہر بلڈنگ پر قبضے کیلئے سپینش فورسز کو سخت لڑائی لڑنا پڑ رہی تھی۔

لیکن دوستو بھوک اور بیماری سے ستائے ہوئے لوگ طویل عرصے تک جنگ جاری نہ رکھ سکے اور جلد ہی انہیں شکست فاش ہو گئی اور پھر سپینش نے عام شہریوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ ان شہریوں کا بھی جو جنگ میں شامل ہی نہیں تھے شہر کے ایک علاقے میں بارہ ہزار لوگ قتل ہوئے ایک دوسرے علاقے میں ایک ہی دن میں چالیس ہزار افراد کو سپینش حملہ آوروں نے موت کی نیند سلا دیا

سپینش حملہ آوروں نے شہر کی واٹر سپلائی بھی کاٹ دی تھی۔ چنانچہ پچاس ہزار پیاسے لوگ جھیل ٹیکسکوکو کا کھارا پانی پی کر زندگی کی بازی ہار گئے۔ شہر میں بچے کھچے لوگوں کو بھی چن چن کر موت کے گھاٹ ان سپینش حملہ آوروں نے اتار دیا۔ اب شہر میں جدھر نظر اٹھتی تھی، لاشیں بکھری ہوئی تھیں سپیش فوج تھی یا اونچی صلیبیں اٹھائے عسیائی پادری تھے۔

جو مرتے ہوئے لوگوں کو عیسائیت قبول کرنے پر زور دے رہے تھے جبکہ یہی پادری اور یہی حملہ آور ایزٹکس کے مذہبی رہنماؤں کو زندہ کتوں کے آگے ڈال رہے تھے اور ان کی کتابوں کو جلا رہے تھے۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ سب غلط تھا ایزٹیکس کا آخری بادشاہ کواہٹی موک جو مونٹیزوما کی موت کے بعد حکمران بنا تھا وہ بھی گرفتار ہو گیا۔

اس آخری ایزٹیک بادشاہ کے پیروں کے نیچے یہ سپینش لوگ آگ جلا کر اسے مجبورکرتے رہے کہ وہ یہ بتائے کہ شہر میں باقی وہ کون سی جگہیں ہیں جہاں دولت چھپی ہوئی ہو سکتی ہے۔ مگر اس بادشاہ نے مرتے دم تک زبان نہیں کھولی اور اسے پھانسی دے دی گئی۔ یوں دوستو ایزٹیک ایمپائر ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا اور میکسیکو پر سپین کا پرچم لہرانے لگا۔

لیکن میکسیکو اور ایزٹیک ایمپائر کی فتح کے بعد بھی سپین کی راہ میں ایک آخری دیوار آخری رکاوٹ موجود تھی جس کا نام تھا انکا ایمپائر۔ لیکن اس ایمپائر کی تباہی ایزٹیکس سے بھی آسان ثابت ہوئی۔ ایزٹیک ایمپائر پندرہ سو اکیس میں ختم ہوا تھا۔ اس کے دس برس بعد سپینش فورسز نے انکا ایمپائر پر بھی دھاوا بول دیا۔

اب انکا ایمپائر تو ایزٹیکس سے بھی بہت بڑا ایمپائر تھا۔ ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد آبادی والے اس ایمپائر کی حدود ایکواڈور سے چلی تک پھیل ہوئی تھیں۔ اس کا دارالحکومت کزکو پیرو کے علاقےمیں تھا۔ مگر جب سپینش فورسز یہاں پہنچیں تو انکا ایمپائر کا بادشاہ ایتاہوالپا ایک دوسری جنگ کی وجہ سے اپنی اسی ہزار جنگجوؤں کے ساتھ پیرو کے قصبے کجا مارکا میں ٹھہرا ہوا تھا۔

سپینش فورس کا کمانڈر فرانسسکو پیزارو تھا اور اس کے پاس صرف ایک سو اسی ون ایٹی سولجرز یا ساتھی تھے۔ یہ فورس ہرنان کورٹز کی فوج سے بھی بہت ہی چھوٹی تھی جس نے ایزٹیک ایمپائر فتح کیا تھا۔ مگر جناب یہ فرانسسکو پیزارو جو تھا یہ مکاری اور دغابازی میں کورٹز سے کئی ہاتھ آگے تھا۔ وہ جانتا تھا کہ انکا فوج کا مقابلہ وہ نہیں کر سکتا۔

چنانچہ اس نے بادشاہ کو پیغام بھیجا کہ وہ اس کی دعوت کرنا چاہتا ہے۔ ایتاہوالپا بھی ایزٹیکس کی طرح سپینش لوگوں کی مکاری نہ سمجھ سکا۔ وہ پانچ ہزار غیرمسلح لوگوں کے ساتھ پیزارو پر اعتماد کر کے اس کی دعوت میں شریک ہونے آگیا اور یوں ان کے بچھائے جال میں پھنس گیا۔ بادشاہ نے جس جگہ سے گزر کر پیزارو کے کیمپ میں آنا تھا اس کے اردگرد پیزارو نے اپنے سپاہیوں کو چھپا دیا۔

جب انکا ایمپائر کےبادشاہ کی سواری قریب آئی تو پیزارو نے ایک پادری وینسنٹ کو بادشاہ کے پاس بھیجا۔ وینسٹ نے بادشاہ سے کہا کہ وہ عیسائی ہو جائے اور سپین کےبادشاہ چارلز فائیو کی اطاعت قبول کر لے۔ ایتاہوالپا نے سختی سے انکار کر دیا۔ بادشاہ کے انکار پر پادری نے پیزارو کو پیغام بھیج دیا کہ وہ لوگ عیسائیت قبول کرنے پراور چارلز فائیو کی اطاعت قبول کرنے پر تیار نہیں سو پیزارو نے قتل عام کا حکم دے دیا۔

اس کے آدمیوں نے نہتے نیٹو امریکنز پر فائر کھول دیا اور کچھ گھڑ سوار سپاہی تلواروں کے ساتھ ان لوگوں پر ٹوٹ پڑے۔ پانچ ہزار نہتے لوگوں کو ایک گھنٹے کے اندر بے رحمی سے چند لوگوں نے قتل کر دیا۔ بادشاہ کی پالکی الٹ کر اسے زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ پھر پیزارو نے بادشاہ کو مجبور کر کے اس کی رہائی کے بدلے انکا ایمپائر سے اتنا سونا منگوایا کے ایک پورا کمرہ سونے سے لبا لب بھر گیا۔

لیکن یہ تاوان کا سونا حاصل کر کے بھی انہوں نے بادشاہ کو نہیں چھوڑا بلکہ ایک نئی شرط رکھ دی کہ اگر ایتاہوالپا عیسائیت قبول کر لے تو اسے سپین کے شہنشاہ سے معافی دلوا کر چھوڑ دیا جائے گا۔ ایتاہوالپا نے جان بچانے کیلئے عیسائیت بھی قبول کر لی لیکن اسے معافی پھر بھی نہیں ملی بلکہ موت ملی۔ ایسی تاریخی پینٹنگز موجود ہیں جن میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ایتاہوالپا کی گردن میں شکنجا ڈال کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

بادشاہ کی موت کے بعد انکا ایمپائر کا حشر بھی وہی ہوا جو ایزٹیکس کا ہوا تھا۔ یہ علاقہ بھی جلد ہی سپینش کنٹرول میں چلا گیا۔ امریکہ میں یہی دونوں ایمپائرز یعنی انکا اور ایزٹیکس ہی تھے جو یورپین حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کی کچھ نہ کچھ صلاحیت رکھتے تھے۔

لیکن ان کے یوں مٹ جانے کے بعد پورے امریکہ میں یورپینز کو روکنے والا اب کوئی ایک ایمپائر ایک شہر یا ایک سلطنت نہیں تھی اگلی چند دہائیوں کے دوران میکسیکو سے لے کر نیچے ارجنٹائن تک امریکہ کا ایک بڑا علاقہ سپین کے قبضے میں جا چکا تھا جبکہ پرتگال نے بھی برازیل میں اس وقت تک قدم جما لیے تھے۔

پھر سولہ سو چھے، سکسٹین ہنڈرڈ سکس میں ایسا ہوا کہ تین برطانوی جہاز ایک قافلے کی شکل میں شمالی امریکہ کی طرف بڑھ رہے تھے یہ جہاز اس نئی دنیا میں امریکہ میں ایک ایسی دنیا ایک ایسے ملک کی بنیاد رکھنے جا رہے تھے جس نے آنے والی چند صدیوں میں دنیا کی واحد سپرپاور بننا تھا۔ یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کی تعمیر اب شروع ہونے والی تھی۔ یہ سب ہم آپ کو دکھائیں گے لیکن ہسٹری آف امریکہ کی اگلی اقساط میں۔

Read More:: History of America S01 E05 | What happened to Aztec and Inca Empires in Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button