History World Urdu

History Of America | Who was Abraham Lincoln? Part III in Urdu

History Of America

یہ اپریل اٹھارہ سو پینسٹھ کے ابتدائی دنوں کی بات ہے۔ لنکن نے ایک خواب دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے کمروں میں گھوم رہا ہے اور اسے ہر کمرے سے رونے کی آواز آ رہی ہے۔ وہ ان آوازوں کو کھوجتا ہوا وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں داخل ہوگیا۔ وہاں اس نے کفن میں لپٹی ایک لاش دیکھی جس کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا جس کے پاس بہت سے لوگ بیٹھے رو رہے تھے۔

History Of America  Who was Abraham Lincoln Part III in Urdu

لنکن نے ایک گارڈ سے پوچھا یہاں کون مر گیا ہے۔ گارڈ نے جواب دیا، پریذیڈنٹ۔ اسے ایک قاتل نے قتل کر دیا ہے۔ ان الفاظ کے ساتھ ہی ہجوم کی طرف سے رونے کی آواز بلند ہوئی اور لنکن کی آنکھ کھل گئی۔ ابراہم لنکن کے صدر بنتے ہی اسے قتل کی دھمیکیاں ملنے لگیں تھیں۔

بالٹی مور کا ناکام پلاٹ آپ دوسرے حصے میں دیکھ چکے ہیں۔ لنکن کو اتنے دھمکی آمیز خطوط ملتے تھے کہ اس کے پاس انہیں پڑھنے کی فرصت ہی نہیں تھی اور اس نے ان سب کو ایک بڑے لفافے میں جمع کر لیا تھا جس پر موٹے موٹے حروف میں لکھا تھا اسیسینیشن یہ اس کے قتل کا خدشہ ہی تھا کہ اس کے قریبی ساتھیوں نے لنکن کو سیکیورٹی رکھنے پر مجبور کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے لان میں فوج تعینات تھی۔ لنکن بگھی میں ہوا خوری کیلئے نکلتا تو گھڑسوار دستے ساتھ ہوتے۔ لیکن ان انتظامات سے بھی لنکن کا دل مطمئن نہیں تھا۔ اس نے ایک بار کہا تھا کہ اگر کسی نے مجھے مارنے کا پلان بنا لیا ہے تو وہ ایسا کر کے رہے گا، چاہے میں لوہے کا لباس پہنوں یا کتنے بھی گارڈز رکھ لوں۔

کیونکہ جب کسی کو مارنے کا فیصلہ کر لیا جائے تو اسے مارنے کے ہزار طریقے ہوسکتے ہیں۔ چودہ اپریل اٹھارہ سو پینسٹھ کی صبح لنکن معمول کے مطابق جلدی اٹھا اور ناشتے سے پہلے کچھ کام نمٹا لیے۔ پھر باقی کا دن معمول کے مطابق گزارتا رہا۔ لنکن نے کابینہ کی میٹنگ اٹینڈ کی اور جنرل گرانٹ سے بھی ملا۔ اس نے حکم دیا کہ باغی ریاستوں میں کسی شخص کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہ کی جائے۔

لنکن نے کہا اب کوئی خون خرابہ نہیں۔ پہلے ہی بہت خون بہایا جا چکا ہے۔ پھر وہ لنچ کے بعد اپنے آفس گیا اور کورٹ ماشل کی کچھ درخواستوں کا فیصلہ کیا۔ لنکن نے ایک باغی جاسوس کی سزائے موت ختم کر دی اور یونین آرمی کے ایک بھگوڑے سپاہی کو بھی معاف کر دیا۔ دوپہر کے وقت لنکن نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں زندگی میں اتنا خوش پہلے کبھی نہیں تھا۔

شام سے کچھ پہلے لنکن اپنی بیوی کے ساتھ بگھی میں سوار ہو کر ہوا خوری کیلئے نکلا۔ اس کی بیوی میری اپنے بیٹے وِلیم کی موت کے بعد سے بہت اداس رہنے لگی تھی۔ لنکن اس سے محبت بھری باتیں کرتے ہوئے اس اداسی کو ختم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس نے کہا ہمیں مستقبل میں زیادہ خوش رہنا چاہیے کیونکہ جنگ اور وِلیم کی موت کی وجہ سے ہماری زندگی بہت تکلیف میں گزری ہے۔

اس شام لنکن اور میری واشنگٹن کے مشہور زمانہ فورڈز تھیٹر میں ایک ڈرامہ دیکھنے گئے۔ ان دونوں کیلئے تھیٹر میں ایک باکس مخصوص تھا جس پرچم لپیٹ دیا گیا تھا۔ پھر لنکن اور میری کی بگھی تھیٹر کے سامنے آ کر رکی۔ بگھی میں ان کے ساتھ میجر ہنری رتھ بون اور اس کی منگیتر بھی تھے۔ دونوں جوڑوں کو صدارتی باکس تک لے جایا گیا۔ جیسے ہی لنکن باکس میں داخل ہوا۔

نیچے ہال میں موجود تمام لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ سٹیج پر موجود آرکسٹرا نے ہیل ٹو دو چیف، چیف کو سلام ہو کی موسیقی بجانا شروع کر دی۔ لنکن مسکرایا اور سر ہلا کر اس عزت افزائی کا شکریہ ادا کیا اور پھر وہ ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ میری اس کے ساتھ بیٹھ گئی جبکہ ان دونوں کی دائیں سائیڈ پر میجر ہنری اور اس کی منگیتر بیٹھے تھے۔

لنکن کے بیٹھتے ہی سٹیج پر ڈرامے کی پرفارمنس شروع ہو گئی۔ یہ ایک مزاحیہ ڈرامہ تھا جس کا نام ’آور امریکن کزن‘ تھا اور اس میں مشہور اداکارہ لارا کین مرکزی کردار ادا کر رہی تھی۔ لنکن اس ڈرامے کے مزاحیہ ڈائیلاگز پر دل کھول کر قہقہے لگاتا رہا۔ باکس میں بیٹھے چاروں لوگوں کی پیٹھ دروازے کی طرف تھی۔ یہ دروازہ لاک نہیں تھا اور باہر امریکی پولیس کا ایک اہلکار جان پارکر پہرہ دے رہا تھا۔

لیکن پارکر ڈرامہ دیکھنے کے لالچ میں اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر نیچےہال میں چلا گیا۔ میدان خالی دیکھ کر ایک قاتل پسٹل اور چاقو لئے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔ وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ آج یا وہ رہے گا یا ابراہم لنکن۔ کیونکہ اس کی نظر میں لنکن ایک ظالم ڈکٹیٹر تھا جس نے جنوبی ریاستوں سے ان کی آزادی چھین لی تھی۔

سو ادھر تھیٹر میں ڈرامے کی پرفارمنس جاری تھی، میوزک بج رہا تھا۔ لوگ ایک مزاحیہ ایکٹ پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے کہ لنکن کے باکس کا دروازہ کھلا۔ پسٹل ہاتھ میں لیے قاتل تیزی سے اندر آیا۔ اس نے لنکن کے سر کے پچھلے حصے کا نشانہ لیا اور فائر کر دیا۔ گولی لگتے ہی لنکن تڑپ کر کرسی پر آگے کی طرف گر گیا اور بے سدھ ہو گیا۔ میری نے جلدی میں اسے سنبھالا اور چیخنے لگی۔

میجر ہنری نے سر گھما کر قاتل کو دیکھا جس کے ایک ہاتھ میں پستول تھا اور اس کی نال سے دھواں نکل رہا تھا جبکہ اس کے دوسرے ہاتھ میں چاقو تھا۔ میجر ہنری اچھل کر قاتل پر حملہ آور ہو گیا لیکن قاتل چاقو سے اسے زخمی کرتے ہوئے باکس سے بارہ فٹ نیچے سٹیج پر کود گیا۔ سٹیج پر اس نے بلند آواز میں ایک نعرہ لگایا۔

جس کا مطلب تھا کہ ظالموں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگرچہ ہال میں سینکڑوں لوگ موجود تھے لیکن کسی نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ کیونکہ یہ قاتل سٹیج کا مشہور اداکار جان ویلکس بوتھ تھا اور لوگ اس کی حرکت کو فوری طور پر ڈرامے ہی کا کوئی سین سمجھے تھے۔

اس سے پہلے کہ لوگوں کو حقیقت کا اندازہ ہوتا جان بوتھ سٹیج کے دروازے سے باہر نکل گیا جہاں ایک گھوڑا پہلے سے تیار تھا اور اسی گھوڑے پر وہ فرار ہو گیا۔ اس کے فرار کے چند لمحوں بعد جا کر لوگوں کو اصل صورتحال کا اندازہ ہو گیا اور پھر تھیٹر میں بھگڈر مچ گئی۔ لوگ چیخچتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

دو ڈاکٹر دوڑتے ہوئے لنکن کے باکس میں پہنچے۔ لنکن بیہوش تھا۔ گولی اس کے بائیں کان کے اوپر کھوپڑی میں لگی تھی اور اس کے دماغ کو چیرتی ہوئی دائیں آنکھ کے پیچھے رک گئی تھی۔ دونوں ڈاکٹر لنکن کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں چھے فوجی صدر کے باکس میں داخل ہوئے، زخمی صدر کو اٹھایا اور تھیٹر کے سامنے سڑک کے پار ایک بورڈنگ ہاؤس میں لے جا کر بیڈ پر لٹا دیا۔

لیکن بیڈ چھوٹا تھا اور لنکن کا قد لمبا۔ اس لئے اسے بیڈ پر ترچھا لٹایا گیا۔ اب پانچ ڈاکٹر اس کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن لنکن کا تو ہوش میں آنا ممکن ہی نہیں لگ رہا تھا۔ ڈاکٹر سمجھ رہے تھے کہ وہ نہیں بچ پائے گا اس لیے اس کے آخری لمحات کو زیادہ سے زیادہ پرسکون رکھنے کے لیے اس کے گرد اس کے قریبی لوگوں کو بلا لیا گیا۔ اس کا بیٹا رابرٹ لنکن بھی زخمی باپ کے سرہانے پہنچ چکا تھا۔

میری ہوش و حواس کھو چکی تھی اور چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ کوئی میرے چھوٹےبیٹے ٹیڈ کو لے آؤ لنکن اس سے بہت محبت کرتا ہے وہ اس سے بات کرے گا تواٹھ کھڑا ہوگا۔ اس رات ٹیڈ ایک دوسرے تھیٹر میں ڈرامہ دیکھ رہا تھا جب سپاہی اس کے کے پاس پہنچے اور اسے اس کے باپ کے بارے میں بتایا تو وہ چیخ اٹھا اس نے کہا میرے بابا کو مار دیا

انہوں نے میرے بابا کو مار دیا، انہوں نے میرے بابا کو مار دیا لیکن سپاہی ٹیڈ کو لنکن کے پاس لے جانے کے بجائے وائٹ ہاؤس لے گئے۔ ادھر یہ ہو رہا تھا ادھر شہر میں ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔ لنکن پر حملے کے بعد وزیرخارجہ ولیم سی ورڈ پر بھی ناکام قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔

شہر میں یہ افواہیں پھیل رہی تھیں کہ باغی گروہ دارالحکومت پر قبضہ کرنے والے ہیں۔ چنانچہ واشنگٹن کا کنٹرول فوج نے سنبھال لیا تھا اور سڑکوں پر گھڑ سوار دستے گشت کر رہے تھے۔ پندرہ اپریل اٹھارہ سو پینسٹھ کی صبح سات بج کر بائیس منٹ پر چھپن برس کے لنکن نے آخری سانس لی۔ لنکن پر سفید چادر ڈال دی گئی۔

اس موقع پر امریکی وزیر جنگ بھی وہاں موجود تھا اس نے کہا اب یہ شخص تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔ انیس اپریل کو اس کا جنازہ وائٹ ہاؤس سے کیپیٹل ہل کی طرف اس طرح نکلا کہ سیاہ فام سپاہی مدھم آواز سے ڈرم بجاتے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ سارے شہر میں چرچ کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔ کہتے ہیں لنکن نے جوانی میں یہ کہا تھا کہ اسے مذہب پر زیادہ یقین نہیں ہے۔

سیاستدان بننے کے بعد وہ تقریروں میں خدا کا نام لیتا تھا، بائبل کے فقرے بھی کوٹ کرتا تھا۔ مگر اس نے کبھی نہیں کہا کہ وہ عیسائی ہے۔ اس نے تو یہاں تک کہا تھا کہ میں چونکہ مذہبی نہیں ہوں اس لئے یہ بات میری شہرت پر ایک ٹیکس کی طرح ہے یعنی اس سے میرے ووٹرز میں میری شہرت کم ہوتی ہے۔

ہسٹورینز کے مطابق ووٹرز میں مقبولیت کی کمی کو لنکن نے برداشت کیا لیکن کبھی بھی خود کو مذہبی شخص ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لنکن کی انہی باتوں کی وجہ سے آج تک یہ ڈیبیٹ موجود ہے کہ لنکن مذہب پر یقین بھی رکھتا تھا یا نہیں۔ اکیس اپریل کو ایک سپیشل فیونرل ٹرین لنکن کا تابوت لے کرسولہ سو چون میل دور اس کی آبائی ریاست ایلانائے کی طرف روانہ ہوئی۔

ٹرین میں لنکن کے تابوت کے ساتھ ایک اور تابوت بھی رکھا گیا تھا۔ اس میں لنکن کے بیٹے ولیم کی باقیات تھیں جو امریکی خانہ جنگی کے دوران ہی چل بسا تھا۔ اب باپ بیٹا ایک ہی جگہ دفن ہونے جا رہے تھے۔ لنکن کے تابوت والی ٹرین سات ریاستوں اور ایک سو اسی شہروں سے گزری۔ ٹرین راستے میں آنے والے تمام بڑے شہروں میں رکتی تھی۔ جہاں عوام کی بڑی تعداد اپنے محبوب صدر کا آخری دیدار کرتی۔

جب دو مئی کی رات یہ ٹرین ریاست ایلانائے میں داخل ہوئی تو ٹریک کے دونوں طرف ہزاروں لوگ جمع تھے اور لنکن کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے آگ کے بڑے بڑے الاؤ یا بون فائر روشن تھے۔ صبح نو بجے یہ ٹرین لنکن کے شہر سپرنگ فیلڈ پہنچی۔ سٹیشن اور اس کے اردگرد کا علاقہ لوگوں سے کچھاکھچ بھرا ہوا تھا۔ قریبی مکانوں کی چھتوں پر بھی لوگ کھڑے تھے۔

جیسے ہی ٹرین رکی، لنکن کو توپوں کی سلامی دی گئی، ماتمی دھنیں اور تمام چرچز کی گھنٹیاں بھی بجائی گئیں۔ لنکن کو سپرنگ فیلڈ کی اوک رج سمٹری میں دفن کر دیا گیا۔ اور ہاں لنکن کا قاتل مشہور ڈرامہ ایکٹر جان بوتھ بھی دو ہفتے بعد مارا گیا۔ اسے سیکیورٹی فورسز نے ٹریس کر کے ورجینیا کے قریب ایک فارم ہاؤس کے ایک کیبن میں گھیر لیا۔

کیبن کو پہلے آگ لگا دی گئی اور اس کے بعد ایک اہلکار نے اسے گولی مار دی۔ جہاں کبھی کیبن تھا اب یہاں ایک یادگاری کتبہ لگا دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ کیبن اب موجود نہیں لیکن لنکن کو قبر میں بھی چین نہیں آیا۔ کبھی چوری کے ڈر سے اور کبھی مقبرے کی مرمت کی وجہ سے اس کی باڈی کو سترہ بار قبر سے نکالا گیا۔ ایک بار تو لنکن کا تابوت تقریباً چوری ہو ہی گیا تھا۔

ہوا یہ کہ لنکن کیلئے شروع میں جو یادگار بنائی گئی تھی اس میں داخل ہونا بہت آسان تھا۔ لنکن کے تابوت کو اس والٹ میں رکھ کر باہر سے تالا لگا دیا گیا تھا۔ اس غیرمحفوظ یادگار کو دیکھ کر ریاست ایلانائے میں جعلسازوں کے ایک گینگ نے لنکن کا تابوت چوری کرنے کا منصوبہ بنایا۔

انہوں نے طے کیا کہ لنکن کا تابوت چوری کر کے امریکی حکومت سے دو لاکھ ڈالر تاوان وصول کیا جائے اور گینگ لیڈر کو جو کہ جیل میں تھا اسے بھی بدلے رہا کرایا جائے۔ اس واردات کیلئے انہوں نے سات نومبر اٹھارہ سو چھہتر کا دن چُنا۔ کیونکہ اس دن امریکہ میں صدارتی الیکشن ہو رہے تھے اور گینگسٹرز کو یقین تھا کہ رات کو لوگ الیکشن کے رزلٹ کا انتظار کر رہے ہوں گے اور قبرستان خالی ہو گا۔

چنانچہ سات نومبر کی رات جب سارا امریکہ انتخابی نتائج سن رہا تھا تو ادھر سپرنگ فیلڈ میں ایک صدر کی یادگار کو توڑا جا رہا تھا۔ گینگسٹرز نے لنکن کی یادگار کا تالا توڑ کر گیٹ کھولا اور لنکن کے تابوت کو ماربل باکس سے باہر نکالنے لگے۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا ایک ساتھی خفیہ پولیس کا افسر تھا جس نے سات سادہ لباس پولیس اہلکاروں کو قبرستان میں چھپا دیا تھا۔ اس کے اشارے پر یہ ساتوں پولیس والے گینگسٹرز پر ٹوٹ پڑے۔

گینگسٹرز جان بچا کر بمشکل بھاگ گئے لیکن کچھ عرصے بعد پکڑے گئے اور انہیں سزائیں بھی ملی۔ اس کے بعد بھی لنکن کی لاش اور اس کی حفاظت ایک مسئلہ ہی رہی کئی بار اسے دفن کیا جاتا اور پھر کسینہ کسی وجہ سے پھر نکال لیا جاتا۔

آخر کار یہ اس کی آخری آرام گاہ جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ چھبیس ستمبر انیس سو ایک کو آخری بار تعمیر کی گئی تھی۔ لیکن اس وقت تک یہ مشہور ہو چکا تھا کہ لنکن کی لاش تابوت سے غائب ہو چکی ہے۔ چنانچہ تابوت کو کھول کر تئیس لوگوں نے اس کے اندر جھانکا اور تصدیق کی کہ یہ لاش ابراہم لِنکن ہی کی ہے۔ اس کے بعد تابوت کو دوبارہ بند کر دیا گیا۔

پھر اس کے بیٹے رابرٹ لنکن کی ہدایت کے مطابق ایک بڑے پنجرے میں تابوت بند کر کے بیس فٹ نیچے دفن کر دیا گیا۔ اس پر دو ٹن کنکریٹ بھی ڈال دی گئی۔ تب سے اب تک اسے دوبارہ نہیں کھولا گیا۔ ابراہم لنکن کے ایک بیٹے رابرٹ لنکن کے علاوہ اس کے تینوں بیٹے اور بیوی یہیں دفن ہیں۔

لنکن کی زندگی پر چودہ ہزار کتابیں لکھی جا چکی ہیں، ان گنت تھیسز، ریسرچ یپرز، سیکڑوں فلمیں اور ڈرامے بن چکے ہیں۔ امریکہ بھر میں اس کی یادگاریں پھیلی ہوئی ہیں۔ نیو سلیم کا وہ قصبہ جہاں سے اس نے عملی زندگی کا آغاز کیا تھا، اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔ وہ یادگاریں جو مٹ چکی تھیں انھیں پھر سے اسی انداز میں تعمیر کر کے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔

اس سب کے باوجود آج دنیا میں کوئی شخص بھی لنکن کی اولاد میں سے زندہ نہیں ہے۔ کیونکہ رابرٹ لنکن اور اس کی بیٹیوں کے بچوں کے بعد اس خاندان کی نسل آگے نہیں بڑھ سکی۔ اگر آپ نے یہ تین اقساط کی منی سیریز مکمل نہیں دیکھی تو یہ جاننے کے لیے کہ ابراہم لنکن ایک معمولی کشتی ملازم سے امریکہ کا صدر کیسے بنا؟ یہاں ٹچ کیجئے

Read More:: History Of America | Who was Abraham Lincoln? Part III in Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button