History World Urdu

History Of America | Who was Abraham Lincoln? Part II in Urdu

History Of America

گیارہ فروری اٹھارہ سو اکسٹھ کو منتخب امریکی صدر ابراہم لنکن نے سپرنگ فیلڈ میں اپنے چاہنے والوں سے خطاب کیا۔ اس نے کہا یہ وہ جگہ ہے جہاں میں چوتھائی صدی رہا، یہیں میرے بچے پیدا ہوئے اور ایک دفن بھی اسی سرزمین میں ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کبھی دوبارہ اس جگہ واپس آ بھی سکوں گا یا نہیں کیونکہ واشنگٹن میں میرے سامنے بہت بڑا چیلنج ہے۔

History Of America  Who was Abraham Lincoln Part II in Urdu

ابراہم لنکن یہ خطاب ایسے وقت میں کر رہا تھا جب امریکہ ٹوٹ چکا تھا، وہ صدارتی حلف اٹھانے واشنگٹن جا رہا تھا۔ اسے اپنا ملک بھی بچانا تھا اور اپنی ساکھ بھی۔ وہ ایک ناتجربہ کار صدر تھا اور اس کا اسے پورا پورااحساس تھا۔ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے چیلنج سے لنکن نے کیسے مقابلہ کیا؟

بیس فروری اٹھارہ سو اکسٹھ تک یعنی نو دن میں منتخب صدر ابراہم لنکن کی ٹرین فیلی ڈلفیا پہنچ گئی۔ راستے میں وہ اپنے سپورٹرز سے خطاب بھی کرتا جاتا تھا۔ اب واشنگٹن ڈی سی جہاں اسے حلف اٹھانا تھا زیادہ دور نہیں رہا تھا۔ لیکن راستے میں بالٹی مور پڑتا تھا۔ یہاں غلامی کے حامیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔

تو ایسے میں اس کے سیکیورٹی انچارج نے اسے بتایا کہ باغیوں نے بالٹی مور میں اس پر چاقوؤں سے حملے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جب وہ بالٹی مور میں اپنے سپورٹرز سے خطاب کے لیے اپنا سر گاڑی سے نکالے گا تو اس پر حملہ ہو گا۔

سو منتخب صدر کی حفاظت کے لیے لنکن کی ٹرین اس خاموشی سے بدل دی گئی کہ کسی کو پتا ہی نہ چلا۔ لنکن ایک دوسری ٹرین سے واشنگٹن خاموشی سے پہنچ گیا۔ لیکن وہ ٹرین جس میں شیڈول کے مطابق لنکن سوار تھا اس پر بالٹی مور میں کوئی حملہ نہیں ہوا۔

اس لیے کہا جاتا ہے کہ لنکن کے سیکیورٹی انچارج نے کچھ زیادہ ہی پھرتیاں دکھا دی تھیں یہ پھرتیاں لنکن کو متاثر تو نہ کر سکیں لیکن وہ بدنام بہت ہو گیا۔ وہ اس طرح کہ جب پہلے والی اصل ٹرین بالٹی مور پہنچی تو لنکن کو خوش آمدید کہنے والوں کا ایک ہجوم جمع تھا۔ ان میں صحافی بھی تھے۔ لیکن جب اس ٹرین سے لنکن نہیں نکلا تو اس کے سپورٹرز بہت مایوس ہوئے۔

لیکن جب پریس کو خبر ملی کہ لنکن نے بالٹی مور میں قتل کی دھمکی سے خوفزدہ ہو کر ٹرین بدل لی تھی تو ان کے ہاتھ ایک سٹوری آ گئی۔ باغیوں کے حامی اخبارات اس سٹوری کی مدد سےابراہم لنکن کو بزدل اور ڈرپوک دکھانے لگے۔ انھوں نے دھڑا دھڑ کارٹون چھاپنے اور سٹوریاں بنانا شروع کر دیں کہ منتخب صدر کیسا بزدل لیڈر ہے، ایک دھمکی سے ڈر گیا، ٹرین بدل لی اور سیٹ میں چھپ گیا۔

کسی نے اسے یوں دکھایا کہ وہ خوفزدہ شکل بنائے ٹرین سے باہر جھانک رہا ہے۔ کسی نے اسے لمبی لمبی ٹانگوں سے سرپٹ بھاگتے یوں ظاہر کیا جیسے وہ موت کے خوف سے بھاگ رہا ہو۔ پریس نے طوفانی یلغار کر دی تھی۔

یاد رہے کہ اخبارات بھی دو حصوں میں ان دنوں بٹے ہوئے تھے، جو غلامی کے خلاف تھے وہ لنکن کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے اور جو غلامی کی حمایت میں تھے وہ اس پر طنز کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے تھے۔ تو یہ وہ حالات تھے جن میں چار مارچ اٹھارہ سو اکسٹھ کو لنکن نے واشنگٹن ڈی سی میں حلف لیا۔

حلف کی تقریب بھی چونکہ باغیوں کے حملے کے خطرے سے خالی نہیں تھی، اس لیے یہاں بھی اہم مقامات پر توپیں نصب کی گئیں، چھتوں پر سنائپرز بٹھائے گئے اور کڑی سیکیورٹی میں لنکن کا فرسٹ اینیگوریشن ہوا۔ یہاں لنکن کو پہلا تاریخی خطاب کرنا تھا۔ اس کے حامیوں کو امید تھی کہ آج وہ غلامی کے خاتمے کی حکمت عملی کا اعلان کرے گا۔ لنکن خود بھی یہی چاہتا تھا۔

لیکن جب اس نے ہاتھ سے لکھی ہوئی تقریر نکالی اور پڑھنا شروع کی تو اس میں ایسی کوئی بات لکھ کر نہیں لایا تھا۔ بلکہ اس کے الٹ اس نے یہ کہا کہ ’’جن ریاستوں میں غلامی کا نظام قائم ہے، میرا کوئی ارادہ نہیں کہ اس میں مداخلت کروں، کیونکہ قانونی طور پر مجھے ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔‘‘ لیکن پھر اس نے جنوبی ریاستوں کو نرم الفاظ میں دھمکی بھی دی۔

اس نے کہا ’’میرے ناراض ہم وطنو، خانہ جنگی کا معاملہ اب تمہارے ہاتھ میں ہے۔ حکومت کبھی تم پر پہلے حملہ نہیں کرے گی۔ لیکن اگر تم نے حملہ کیا تو لڑائی ہو گی۔ تم نے حکومت کو تباہ کرنے کا جو عہد کیا ہے وہ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں۔ لیکن امریکہ کو بچانے کا جو عہد میں نے کیا ہے وہ بہت پختہ ہے اور میں اس پر پہرہ دوں گا۔

اس کے بعد لنکن اپنے دفتر آ کر بیٹھ گیا۔ مگر جو لوگ اس سے ملنے آ رہے تھے انہیں وہ غیر سنجیدہ لگنے لگا۔ کیونکہ وہ تو اپنے دفتر میں بیٹھا لطیفے سنا رہا تھا۔ اس سے ملنے آنے والے لوگ اس کی غیر سنجیدگی دیکھ کر مایوس ہو رہے تھے۔ انھیں لگ رہا تھا کہ لنکن صدر بننے کے بعد اس چیلنج اور وعدے کو بھول گیا ہے جس کے لیے لوگوں نے اسے ووٹ دئیے ہیں۔

لیکن ایسا تھا نہیں۔ کیونکہ باغی ریاستیں تو اس کے سامنے تھیں۔ وائٹ ہاؤس کی کھڑکی سے دریا پار باغیوں کی مرکزی ریاست ورجینیا نظر آتی تھی۔ اسی ریاست کا شہر رچمنڈ، باغیوں کا درالحکومت تھا۔ اسی شہر میں باغیوں کا کنفیڈریٹس کا صدر کرنل جیفرسن بیٹھتا تھا۔ اب یہ معاملہ ایسا تھا کہ لنکن کسی صورت کسی لمحے اسے نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔

اس کے ووٹرز سپورٹرز کا اصرار تھا کہ دریائے پوٹوماک کراس کیا جائے اور ورجینا پر حملے کر کے انھیں تہس نہس کر دیا جائے۔ امریکیوں کا خیال تھا کہ یونین آرمی یعنی مین لینڈ امریکہ کے لیے باغیوں کو ہرانا کوئی بات ہی نہیں ہے۔ لیکن لنکن حملے میں پہل نہیں کرنا چاہتا تھا، وہ باغیوں کی کسی غلطی کا انتظار کر رہا تھا۔

تو باغیوں نے جلد ہی یہ غلطی کر دی۔ انھوں نے یونین کے ایک اہم قلعے فورٹ سمٹر پر حملہ کیا تو لنکن نے اپنی فوج کو تیاری کا حکم دے دیا۔ دھیان رہے کہ امریکہ میں اس وقت اس طرح کی کوئی باقاعدہ فوج نہیں ہوتی تھی جیسی آج کل کےملکوں کے پاس ہوتی ہے۔ اور جو ہر وقت ایکٹیو ہوتی ہے۔ اس وقت امریکہ سمیت کئی ملکوں میں ضرورت پڑنے پر جوان بھرتی کر کے کام چلایا جاتا تھا۔

تو لنکن کے حکم پر پچھتر ہزار نوجوانوں کو تین ماہ کے لیے بھرتی کیا گیا، انھیں جلدی جلدی ٹریننگ دی جانے لگی۔ اب جنگ کا ماحول سا بننے لگا تھا۔ جنگ کے شروع ہی میں سب کو نظر آ رہا تھا کہ لنکن کے پاس شمالی ریاستوں میں طاقت زیادہ ہے۔ کیونکہ شمالی ریاستوں کی تعداد تئیس تھی اور رقبہ زیادہ تھا۔ دوسری طرف جنوبی ریاستوں کی تعداد صرف گیارہ تھی۔

شمالی ریاستوں میں فیکٹریز بہت زیادہ تھیں وہ جتنا چاہے اسلحہ بنا یا جاسکتا تھا، لیکن باغیوں کے پاس فیکٹریز نہ ہونے کے برابر تھیں۔ شمالی ریاستوں کی آبادی بھی دو کروڑ بیس لاکھ تھی، یعنی فوج بھی زیادہ بھرتی ہو سکتی تھی، لیکن باغی ریاستوں کی کل آبادی نوے لاکھ تھی جن میں چالیس لاکھ سیاہ فام غلام بھی شامل تھے جو کہ اپنے آقاؤں سے نفرت کرتے تھے اور جنوبی ریاستوں کیلئے خطرہ بھی بن سکتے تھے۔

ہاں ایک چیز تھی جس میں باغیوں کو لنکن پر کچھ برتری حاصل تھی۔ وہ تھی ان کے صدر کا ایک ماہر فوجی ہونا۔ جنگی حالات میں یہ چیز بہت اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ جنوبی ریاستوں کنفیڈریٹس کا صدر جیفرسن ڈیوس ایک ماہر فوجی آفیسر رہا تھا۔ اس نے میکسیکو کی جنگ میں حصہ لیا تھا اور فتح حاصل کی تھی۔

سو اس صورتحال میں دن آیا اکیس جولائی اٹھارہ سو اکسٹھ کا۔ لنکن نے اپنے جنرل اروِن میکڈوول کو باغیوں کی مرکزی ریاست ورجیینا پر حملے کا حکم دے دیا۔ امریکیوں کے لیے حملے کا حکم یوں تھا جیسے کہ کوئی کھیل تماشا ہو۔ ورجینیا چونکہ واشنگٹں کے سامنے ہی تو تھا درمیان میں ایک دریا ہی تو حائل تھا۔

اس لیے جنگ کے دن جب یونین کی فوجیں ورجینیا پر حملے کے لیے جا رہی تھیں تو واشنگٹن کے شہری ایک اونچی جگہ پر جنگ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ یہ امیر لوگ تھے، بگھیوں پر بیٹھ کر آئے تھے، کھانے پینے کا سامان اور شراب بھی لائے تھے، گویا جنگ نہیں کوئی میچ دیکھنے، پکنک منانے آئے تھے۔ کچھ یہی حال نوجوان امریکی فوجیوں کا بھی تھا۔

وہ اترائے اترائے اور ہیرو ہیرو محسوس کرتے ہوئے میدان جنگ میں جا رہے تھے۔ کیونکہ ان میں سے نوے فیصد کو توجنگ کی ہولناکی کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ سو جنرل اروِن میکڈوول کی قیادت میں جب نوجوان امریکی فوج نے دریائے پوٹوماک کراس کیا اور سامنے سے حقیقی گولا بارودو کا سامنا کرنا پڑا تو نوجوان فوج کا پتا پانی ہو گیا۔

جنگ کی دھائیں دھائیں، توپوں کی گرجتی آوازیں، گری لاشوں سے بہتا خون اور چیختے زخمیوں کی آوازیں ہوش اُڑا دینے کے لیے کافی تھیں۔ تو پہلے یہ نوجوان میدان جنگ سے بھاگے اور پھر پکنک منانے والوں میں بھی بھگدڑ مچ گئی۔ سب ایک ساتھ بگھیوں کی طرف دوڑھے جس کی وجہ سے کئی بگھیاں ٹوٹ گئیں۔

انھوں نے پکنک کا سامان وہیں چھوڑا اور بمشکل جان بچا کر اپنے اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے۔ اس جنگ کو بیٹل آف بل رن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لنکن اس رات سو نہ سکا۔ وہ میدان جنگ سے پلٹنے والوں سے ایک ایک بات تفصیل سے پوچھ رہا تھا۔ یہ ایک غیر متوقع ایک سرپرائز شکست تھی۔ اسی لیے اپنی پوزیشن مضبوط دکھانے اور مورال ہائی کرنے کے لیے اس نے تین کمانڈرز کو حملوں کا حکم دیا۔

کمانڈرز نے اوکے سر کہا لیکن حملے کی تیاری میں کئی مہینے لگا دیئے۔ اس سب کچھ کے دوران لنکن سمجھتا جا رہا تھا کہ اس کے جرنیل وردی وغیرہ پہن کر چوکس تو بہت لگتے ہیں لیکن جنگ لڑنے میں کوئی خاص مہارت نہیں رکھتے۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ جنگ صرف جرنیلوں کے بھروسہ پر نہیں لڑی جا سکتی نہیں چھوڑی جا سکتی۔

جیسے ہر چیلنج کے لیے ایک نئے انسان کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی لنکن نے بھی اس وقت اپنے اندر ایک نئے انسان کو جنم دیا۔ اس نے لائبریری سے ملٹری سٹریٹیجز کی کئی کتابیں منگوائیں اور ایک ایک کر کے سب کو چاٹ گیا۔ آخر وہ جوانی میں بھی تو یہی کرتا تھا۔ وکالت بھی اس نے ایسے ہی سیکھی تھی اور شیسکپئر بھی یوں ہی پڑھا تھا۔ سو وہ ایک کتابی جرنیل بن گیا تھا۔

اب وہ آنے والی جنگوں کی پلاننگ اپنے کمانڈرز کے ساتھ بیٹھ کر خود کرنے لگا۔ کمانڈرز اس کی کمانڈ فالو کرتے تھے یا برطرف ہوتے تھے۔ سب سے پہلے اس نے اپنے کمانڈر انچیف وِن فیلڈ سکاٹ کو ریٹائر کیا کیونکہ اب اس میں لڑںے کا دم خم ہی نہیں بچا تھا۔ پھر اس نے جرنیل ارون میکڈوول کو فارغ کیا وہ جو پہلی جنگ بیٹل آف بل رن ہار کے آیا تھا۔

اس کے علاوہ بھی اس نے جنگ کے دوران کئی کمانڈرز کو برطرف یا ریٹائر کیا۔ اب ہر گزرتے دن کے ساتھ جنگ میں شدت آتی جا رہی تھی۔ کبھی یونین کی فوج جنوبی ریاستوں کے اہم مقامات پر حملے کرتی اور کبھی دفاع کرتی۔ کچھ دن تو ایسے تھے کہ ایک ایک دن میں دسیوں ہزاروں امریکیوں کی جانیں چلی گئیں تھیں۔ خون پانی کی طرح بہ رہا تھا۔

اب لنکن محسوس کر رہا تھا کہ اسے ایک ڈکٹیٹر جیسے اختیارات کی ضرورت ہے تا کہ اہم فیصلے کے لیے اسے کانگریس کی منظوری ہر بار نہ لینا پڑے۔ کانگرس نے اسے یہ اختیارات دے دئیے۔ ان اختیارات کے تحت اس نے ان لوگوں کو بغیر مقدمات کے گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا جو باغیوں کی حمایت کر رہے تھے۔

جہاں غلامی کے حامی مسلسل مسائل پیدا کرتے وہاں مارشل لا لگا دیا جاتا۔ یہاں تک کہ ان اخبارات کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا جو کنفیڈریٹس باغیوں کی حمایت میں پروپیگنڈا کر رہے تھے۔ اب لنکن پوری طرح جنگ کی کمان اپنے ٹیبل پر اپنی مرضی کے کمانڈرز کے ساتھ بیٹھ کر رہا تھا۔

اس کی ہدایات پر جنوبی ریاستوں کی سمندری ناکہ بندی کر دی گئی تا کہ یہ ریاستیں یورپ کو نہ تو مال فروخت کر سکیں اور نہ امریکہ کے دشمنوں جیسا کہ برطانیہ فرانس وہاں کوئی مدد لے سکیں۔ لنکن کی پالیسیز کامیاب جا رہی تھی۔ یونین آرمی جیت رہی تھی اور امریکہ باغیوں سے علاقے واپس لیتا جا رہا تھا۔ لگتا تھا کہ اب جنوبی ریاستیں جلد ہی گھٹنے ٹیک دیں گی۔

لیکن پھر اٹھارہ سو باسٹھ میں دو بہت بڑی تبدیلیاں آئیں۔ لنکن جو صدارت کا حلف لینے سے پہلے سپرنگ فیلڈ میں اپنے تین سالہ بیٹے کی موت دیکھ چکا تھا۔ اب حلف اٹھانے کے بعد جب جنگ جاری تھی تو اس کا گیارہ سالہ بیٹا ویلیم ویلس ٹائی فائیڈ بخار میں مبتلا ہو کر چل بسا۔ لنکن اسے قبر میں اتار کر آیا تو کئی گھنٹے بند کمرے میں دھاڑیں مار کر روتا رہا۔

پھر اس نے آنسو پونچھے، باہر نکلا اور اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی۔ دوسرا بڑا واقعہ یہ ہوا کہ باغی ریاستیں جومسلسل شکست کھا رہی تھیں انھوں نے ایک قابل جرنیل رابرٹ لی کو جنگ کی کمان سونپ دی۔ جنرل رابرٹ لی نے نا صرف یہ کہ ورجینیا، میری لینڈ اور پینسلوینیا میں یونین آرمی یعنی شمالی ریاستوں کی لنکن والی فوج کی پیش قدمی روک دی تھی

بلکہ اب اس نے آگے بڑھ کر شمالی ریاستوں پر حملے بھی شروع کر دیئے تھے۔ کتنی ہی جگہوں پر وہ لنکن کی آرمی یونین آرمی کو دفاعی پوزیشن میں لے آیا تھا۔ جنرل لی کی کمانڈ میں باغی جنوبی ریاستوں کی فوج فتوحات حاصل کرنے لگی تھی۔ جنگ کا پانسہ پلٹ سکتا تھا۔ لیکن لنکن کی جیب میں ابھی ایک ترپ کا پتا موجود تھا۔ وہ یہ کہ لنکن جنوبی ریاستوں میں غلامی کے خاتمے کا اعلان کر دے۔

اس سے لنکن کو امید یہ تھی کہ جنوبی ریاستوں میں موجود چالیس لاکھ سیاہ فام غلام، اپنے سفید فام آقاؤں کے خلاف بغاوت کر دیں گے اور اس کی فوج میں شامل ہو جائیں گے۔ وہ یہ اعلان کرنا چاہتا تھا لیکن اس میں ایک مسئلہ تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت تو اس کی فوج کی شکست ہو رہی تھی۔

اگر ابھی وہ یہ اعلان کرتا تو سمجھا جاتا کہ ابراہم لنکن کمزور ہو گیا ہے اور ڈسپیرٹ ہو کر مایوس ہو کر یہ آخری پتا چل رہا ہے۔ چنانچہ اس نے خود کو روکا اور ایک فتح کا انتظار کرنے لگا۔ سترہ ستمبر اٹھارہ سو باسٹھ کو جب جنرل لی واشنگٹن کے اردگرد حملے کر رہا تھا تو لنکن درالحکومت کو بچانے خود میدان جنگ میں کود پڑا۔

جنرل لی کو روکنے والی یونین آرمی کی کمان لنکن نے جنرل میکلیلن کے ہاتھ میں دی تھی۔ لیکن معاملے کی حساسیت کے باعث وہ خود محاذ جنگ پر پہنچ گیا۔ اس نے میدان جنگ کے قریب ہی ایک خیمے لگوایا اور وہاں بیٹھ کر جنگ کی نگرانی کرنے اور احکامات جاری کرنے لگا۔ یہ جنگ اس کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ تھی۔

کیونکہ اگر جنرل لی واشنگٹن پر قبضہ کر لیتا توشمالی ریاستوں کی مرکزی حکومت ختم ہو جاتی۔ اس وقت کی بڑی طاقتیں برطانیہ اور فرانس یہی انتظار کر رہے تھے کہ کب جنرل لی واشنگٹن پہنچے اور کب وہ باغی ریاستوں کی حکومت کو اصل حکومت تسلیم کر لیں۔ تو اب امریکہ کی تقدیر کا فیصلہ اس جنگ سے جُڑ چکا تھا۔

شارپس برگ قصبے کے قریب یہ جنگ ہوئی جسے بیٹل آف شارپس برگ یا بیٹل آف اینٹیٹم بھی کہتے ہیں۔ اس جنگ کے وقت جنرل لی کی پوزیشن بہت کمزور تھی۔ فوج تھکی ہوئی تھی اور اسلحہ کا ذخیرہ بھی بہت کم رہ گیا تھا۔ اب خالی بندوقوں سے تو لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے کچھ لڑائی کے بعد جنرل لی اپنی فوج کو بچانے کے لیے پیچھے ہٹنا شروع ہو گیا۔

اور کمال مہارت سے لڑتے لڑتے دریائے پوٹوماک کراس کر کے واپس ورجینیا میں داخل ہو گیا۔ اس نے اپنی فوج کا بڑا حصہ تو بچا لیا تھا لیکن وہ اپنی پہلی اٹیک مہم، یعنی شمالی ریاستوں اور خاص طور پر واشنگٹن پر قبضے میں ناکام ہو گیا تھا۔ اس جنگ کا آخری دن امریکی خانہ جنگی کا سب سے خونخوار دن تھا۔

اس روز باغی ریاستوں کے دس ہزار سے زائد اور یونین آرمی کے بارہ ہزار سے زائد جوان ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اور اس جنگ میں لنکن کے آرڈز فالو کرنے والے جنرل میکلیلن کے لیے بھی یہ آخری دن ثابت ہوا۔ ابراہم لنکن اپنے اس جنرل کی کی سست رفتاری سے بہت تنگ تھا۔ کیونکہ اس کے مقابلے میں جنرل لی کی فوج بہت کم تھی اسلحہ بھی تھوڑا تھا،

اس کے باوجود جنرل میکلیلن اسے پوری طرح کرش نہیں کر سکا تھا۔ لنکن کے بار بار حکم کے باوجود اس نے جنرل لی کی بھاگتے فوج کا پیچھا کر کے اسے پوری طرح کرش نہیں کیا تھا۔ حالانکہ اگر وہ ایسا کرتا تو خانہ جنگی بہت پہلے ختم ہو سکتی تھی۔ سو لنکن نے اس سست جرنیل کو اپنے خیمے میں بلایا، ملاقات کی اور کمانڈ سے برطرف کر دیا۔

گو کہ بیٹل آف انٹیٹم میں باغی فوج کو پوری طرح کرش نہیں کیا گیا تھا لیکن لنکن اور اس کی فوج جنرل لی کو اپنے علاقوں سے نکالنے میں کامیاب رہے تھے۔ اس لیے یہ ایک ایسی کامیابی بہرحال تھی جسے عوام میں سیلیبریٹ کیا جا سکتا تھا۔ اور ایگزیکٹلی یہی وہ لمحہ تھا جس کا ابراہم لنکن کو انتظار تھا۔

سو اس فتح کے چھے دن بعد لنکن نے میڈیا کے ذریعے باغیوں کو یکم جنوری اٹھارہ سو تریسٹھ تک کی ڈیڈلائن دی کہ اگر وہ بغاوت ختم کر دیں تو ٹھیک ورنہ ان کی ریاستوں میں غلامی کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس پر اخبارات میں کارٹونز بھی چھپے۔ لیکن باغی ریاستوں نے اس وارننگ پر کوئی توجہ نہیں دی۔ یکم جنوری اٹھارہ سو تریسٹھ کا دن امریکی تاریخ کا ایک یادگار دن ہے۔

اس روز شام کے وقت لنکن نے غلامی کے خاتمے کے اعلان پر دستخط کیے اور پہلی بار دستخط کرتے ہوئے اپنا پورا نام ابراہم لنکن لکھا۔ ورنہ وہ عام طور پر صرف اے لنکن لکھا کرتا تھا۔ اس لمحے اس نے یہ بھی کہا کہ اگر میرا نام کبھی تاریخ کا حصہ بنا تو اسی غلامی کے خاتمے والے ایکٹ کی وجہ سے ہو گا۔ اس ایکٹ میں یہ بھی شامل تھا کہ یونین آرمی سیاہ فاموں کو اب فوج میں بھرتی کر سکتی ہے۔

سو ہزاروں کی تعداد میں سیاہ فام غلام یونین کی فوج میں بھرتی ہونے لگے۔ اگرچہ لنکن کے اندازے کے مطابق جنوبی ریاستوں میں سیاہ فام غلاموں ںے کوئی بغاوت نہیں کی لیکن ان ریاستوں میں ایک سوشل ان رسٹ ایک بے چینی ضرور پھیل گئی کہ نجانے غلام کب اور کہاں بغاوت کر دیں۔ اس اعلان کے بعد یونین آرمی کو کئی فتوحات ملیں۔

جنرل لی کا واشنگٹن پر قبضے کا خواب ادھورا رہ گیا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ لنکن کی فوج بھی باغیوں کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ نہیں کر پا رہی تھی۔ اور آپ تو جانتے ہیں کہ جب تک ہیڈ کوارٹر سلامت ہو فیصلہ کن شکست نہیں ہوتی۔ تو باغیوں کے ہیڈ کوارٹر رچمنڈ جو کہ واشنگٹن سے زیادہ دور بھی نہیں تھا اس پر حملے کا حکم دے دیا گیا۔ لنکن کا بھروسہ مند جرنیل جنرل گرانٹ اس کیمپین کو لیڈ کر رہا تھا۔

رچمنڈ کا دفاع جنرل لی کے ذمے تھا۔ جنرل لی اور اس کی فوج کی مزاحمت بہت شدید تھی۔ یہ وہ لڑائی تھی جس میں امریکی سپاہیوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ ابھی لڑائی جاری تھی کہ یونین کے چون ہزار فوجی مارے گئے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں امریکی قوم کا جنگی جنون پوری طرح اتر چکا تھا۔ اب جنگ کو کھیل تماشا سمجھنے والے امریکی اس کی ہولناکی سہہ رہے تھے۔

اسی لیے جنگ کے عین درمیان میں جنگ ختم کر دینے کا مطالبہ زور پکڑںے لگا۔ ادھر نئے امریکی الیکشن بھی سر پر آ گئے۔ جنگ ایسے مرحلے میں پہنچ چکی تھی کہ لنکن اسے روک نہیں سکتا تھا۔ جنگ روکنے کا مطلب باغی ریاستوں کو تیاری کا مزید وقت دینا تھا جو کہ ظاہر ہے لنکن ہرگز نہیں چاہتا تھا۔

لیکن جس طرح عوام جنگ کے خلاف باتیں کرنے لگے تھے اسے اپنا الیکشن جاتا اور وائٹ ہاؤس کی زمین پاؤں کے نیچے سے سرکتی محسوس ہو رہی تھی۔ اور دوستو کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کے مقابلے پر الیکشن میں کون کھڑا تھا؟ اس کے مقابلے پر وہ جنرل جارج میکلیلن تھا جسے لنکن نے بیٹل آف اینٹیٹم میں اس وجہ سے برطرف کر دیا تھا کہ وہ سست بہت تھا۔

حملہ کرنے میں کئی کئی ہفتے اور کبھی مہینے لگا دیتا تھا۔ اس جنرل نے اب سیاست شروع کر دی تھی اور ڈیموکریٹس نے اسے اپنا صدارتی امیدوار بنا لیا تھا۔ اب وہ برطرف جنرل عوام سے مطالبہ کر رہا تھا کہ اسے ووٹ دئیے جائیں کیونکہ وہ ووٹ لے کر نہ صرف جنگ ختم کر دے گا بلکہ غلامی کو بھی بحال کر دے گا۔ ایسے پاورفل نعرے کے جواب میں لنکن کے پاس بس ایک ہی چانس تھا۔

وہ چانس یہ تھا کہ لنکن الیکشن سے پہلے یعنی نومبر اٹھارہ سو چونسٹھ، ایٹین سیکسٹی فور سے پہلے پہلے جنگ جیت لے۔ تا کہ لوگوں کو لگے کہ لنکن کی پالیسی اور جنگی حکمت عملی درست کام کر رہی ہے، نئے صدر کی ضرورت نہیں سو ہوا یہ کہ یونین آرمی نے یعنی شمالی ریاستوں کی فوج نے ایک باغی ریاست جارجیا کا دارالحکومت فتح کر لیا۔

دوسرا اہم واقعہ یہ ہوا کہ باغیوں کے مرکز ورجینا کے شہر رچمنڈ کے گرد بھی لنکن کی فوج کا گھیرا تنگ ہو گیا۔ باغیوں کا آخری اور سب سے مضبوط گڑھ بھی ڈگمگانے لگا تھا۔ یہ خبر لنکن کی جیت کی خبر تھی۔ امریکی رائے عامہ الیکشن سے پہلے ایک بار پھر لنکن کے حق میں ہو گئی۔ جو جرنیل جنگ میں سست ثابت ہوا تھا وہ سیاست میں بھی لنکن سے پیچھے ہی رہا۔

لنکن کے حصے میں دو سو بارہ اور جنرل میکلیلن کے حصے میں صرف اکیس الیکٹورل ووٹس آئے۔ الیکشن جیتنے کے بعد لنکن نے آئینی ترمیم کے زریعے پورے امریکہ میں غلامی ختم کر دی۔ جنوری اٹھارہ سو پینسٹھ کے دن اس کا وہ خواب پورا ہوا تھا جو اس نے سینتیس سال پہلے نیو آرلینز میں اس وقت دیکھا تھا جب وہ ایک معمولی سی کشتی کا معمولی سا ملازم تھا۔

اسی لیے کہتے ہیں کہ خواب ضرور دیکھیں کیونکہ خوابوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ پورے ہو جاتے ہیں۔ لنکن کے دوسری بار حلف اٹھانے کے ایک ماہ کے اندر اندر باغیوں کی طاقت دم توڑ چکی تھی۔ باغی ریاستوں پر بھی ایک ایک کر کے امریکی پرچم دوبارہ لہرانے لگا تھا۔

لیکن ان کے مرکز رچمنڈ کو فتح کرنا بہت ضروری تھا۔ جب تک وہ قائم تھا تب تک غلامی کے حامیوں کو مکمل شکست نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی امریکہ دوبارہ ایک ہو سکتا تھا۔ تین اپریل اٹھارہ سو پینسٹھ کو آخرکار رچمونڈ پر بھی امریکی پرچم لہرانے لگا اس واقعے کے چھے روز بعد نو اپریل اٹھارہ سو پینسٹھ کو شکست خوردہ باغی جنرل لی نے یونین آرمی کے جنرل گرانٹ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔

ایک ماہ بعد باغی ریاستوں کا صدر اور تجربہ کار فوجی آفیسر جیفرسن ڈیوس بھی پکڑا گیا۔ امریکن سول وار چارسال بعد ختم ہو گئی تھی اور چھے لاکھ انسان آپس میں لڑتے ہوئے مر چکے تھے۔ لیکن اب لنکن کے لیے ایک اور مشکل فیصلے کا وقت تھا کہ ہارے ہوئے باغیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ اس کا فیصلہ جنرل لی کے سرنڈر کے دو دن بعد گیارہ اپریل کو ہوا۔

گیارہ اپریل اٹھارہ سو پینسٹھ کو ابراہم لنکن وائٹ ہاؤس کی کھڑکی میں کھڑاایک تاریخی خطاب کر رہا تھا۔ سامنے ایک بڑا ہحوم تھا اس کے ہاتھ میں کاغذ کی چھوٹی چھوٹی پرچیاں تھیں، جن پر اس نے اپنی یاددہانی کے لیے پوائنٹس لکھے ہوئے تھے۔ وہ ایک ایک پوائنٹ پر بات کرتا جاتا اور وہ پرچی نیچے پھینکتا جاتا۔ اس کا بارہ سالہ بیٹا، باپ کے پیروں کے قریب ہی بیٹھا تھا اور گرنے والا ہر کاغذ پکڑ رہا تھا۔

کہ اسی دوران مجمعے سے ایک آواز اٹھی، ’’باغیوں سے کیا سلوک کرنا ہے؟‘‘ مجمعے سے سوال تھا، مجمعے سے ہی جواب آیا ’’ہینگ دیم، ہینگ دیم ۔۔۔ لٹکا دو، لٹکا دو۔‘‘ مگر لنکن کا بارہ سالہ بیٹا نجانے کیوں چونکہ اٹھا اور اپنے صدر باپ سے پہلے ہی چیخ پڑا، ’’نو وی مسٹ ہینگ آن ٹو دیم۔‘‘ ہمیں انہیں ساتھ رکھنا چاہیے۔ لنکن کے بیٹے ٹیڈ لنکن نے اپنے والد کے جذبات کی بالکل درست ترجمانی کی تھی۔

ابراہم لنکن کابھی یہی فیصلہ تھا کہ باغیوں کو سزا دینے کے بجائے انھیں معاف کر کے ساتھ ملانا چاہیے تا کہ تلخیاں بڑھنے کے بجائے کم ہو جائیں۔ چنانچہ سول وار میں حصہ لینے والے باغی فوجیوں اور سیاستدانوں کو معاف کر دیا گیا۔ یہاں تک کے باغیوں کی طرف سے بہادری دکھانے والوں کو ہیرو تسلیم کیا گیا اور ان کی یادگاریں ان کے علاقوں میں تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی۔

جنگ تو ختم ہو چکی تھی لیکن اس اعصاب شکن جنگ نے ڈپرشن کے مریض لنکن کی صحت کو اور بھی تباہ کر دیا تھا۔ اسی دوران گیارہ سالہ بیٹے کی موت بھی اس کا جگر چھلنی کر چکی تھی۔ دو بیٹوں کی موت نے اس کی بیوی کو بھی ایک نفسیاتی مریض سا بنا دیا تھا۔

وہ وائٹ ہاؤس میں لنکن اور اس کے عملے کے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈانٹ ڈپٹ کرتی رہتی تھی۔ جس پر لنکن پریشان لیکن خاموش رہتا۔ جنگ کے آخری دنوں میں ابراہم لنکن کی ایک تصویر بنائی گئی۔ جس میں صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اس کو زندگی کے تریپن برسوں نے اتنا بوڑھا نہیں کیا جتنا جنگ کے چار سالوں نے کر دیا تھا۔

سوئے اتفاق دیکھئے کہ تصویر بناتے وقت پہلے کیمرے کا شیشہ چٹک گیا، اس میں دراڑ پڑ گئی۔ پھر وہ نیگٹو بھی ٹوٹ گیا جس پر تصویر کا عکس محفوظ تھا۔ تو یہی دن تھے کہ ایک رات لنکن نے خواب دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے جس کمرے میں جاتا ہے وہاں سے رونے کی آوازیں آ رہی ہیں۔

اس کا سینتیس سال پرانا خواب تو پورا ہو گیا تھا لیکن یہ کیا خواب تھا؟ لنکن کو قتل کس نے کیا، کیسے اور کیوں کیا؟ اسے قتل کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوا؟ لنکن کے محافظ اسے بچا کیوں نہ پائے؟ اورلنکن کی لاش کوکئی مرتبہ قبر سے کیوں نکالا گیا تھا؟ جہاں اب لنکن دفن ہے کیا وہاں لنکن ہی دفن ہے؟

یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن لنکن کون تھا کے تیسرے اور آخری حصے میں جس کے لیے آپ یہاں ٹچ کر سکتے ہیں۔

Read More:: History Of America | Who was Abraham Lincoln? Part II in Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button