History World Urdu

History of China | China in Vietnam & USA |

History of China

ویتنام میں امریکیوں پر کیا گزری؟ اکہتر میں چین، پاکستان کی مدد کیوں نہ کر سکا؟ کیا آپ جانتے ہیں چین اور بھارت میں انیس سو باسٹھ کے بعد بھی جنگ ہوئی؟ یہ کیا کہانی تھی؟ امریکہ نے چین کو روسی ایٹم بموں سے کیسے بچایا؟ فرانس میں ایک باورچی تھا جو پیسٹریاں بناتا تھا۔ جب پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پرامریکی صدر ولسن صلح کے معاہدے کیلئے فرانس پہنچے تو اس باورچی کی امیدیں جاگ اٹھیں۔ وہ امریکی صدر سے ملنا چاہتا تھا۔ لیکن ظاہر ہے امریکی صدر ایک عام باورچی سے کیوں ملتے؟

لیکن کاش انھیں علم ہوتا کہ آج کا عام سا باورچی آنے والے برسوں میں امریکیوں پر بہت بھاری پڑنے والا ہے۔ یہ وہی باورچی تھا جس نے چالیس سال بعد ویتنام کی جنگ آزادی میں فرانس اور امریکہ دونوں کو شکست دی۔ جس کی بدولت ویتنام نے فرانس سے آزادی حاصل کی اور یہ باورچی دنیا بھر میں شہرت پا گیا۔

یہ ویتنام کی آزادی کا ہیرو ہوچی من تھا۔ ہو چی من اپنی قوم کو فرانس کے ستر سالہ قبضے سے آزادی دلوانا چاہتا تھا۔ اور اس کے لیے اسے جنگ عظیم دوم کے خاتمے تک انتظار کرنا پڑا۔ جنگ کے بعد اس نے اپنے ہم وطنوں کو متحد کیا اور فرانس کے مقابلے پر نکل کھڑا ہوا۔

ہو چی من کی فوج نے ائرفورس اور جدید اسلحے کے بغیر ہی انیس سو چون میں فرانس کے اہم ترین اڈے ۔ڈیان بین فو۔ پر قبضہ بھی کیا اور بارہ ہزار سے زائد فرانسیسی فوجیوں سے ہتھیار بھی رکھوا لئے۔ اس زبردست فتح نے شمالی ویتنام کو فرانسیسی سامراج سے آزادی دلوا دی۔

لیکن فرانسیسی حکومت نے اپنی ناکامی کا کریڈٹ چین کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی ویتنام کی نہیں چین کی فتح ہے۔ کیونکہ یہ ماؤ ہی تھے جو ویتنام کی مدد کیلئے اسلحہ اور فوج بھیج رہے تھے۔ ماؤژے تنگ جب چین کے حکمران تھے تو یہ وہ دور تھا جب دنیا کے بیشتر ممالک امریکہ اور روس کی پراکسی جنگوں کا میدان بنے ہوئے تھے۔

ریاستوں کا ٹوٹنا، منتخب حکمرانوں کا قتل ہونا اور فوجی ڈکٹیٹروں کا اقتدار پر قبضہ کرنا عام بات تھی۔ یہ ایسا ماحول تھا جس میں چین کو بھی چاہتے نہ چاہتے ہوئے کئی جنگوں میں کودنا پڑا یا کسی کو سپورٹ کرنا پڑا۔ یہی وجہ تھی کہ انقلاب کے بعد کوریا، تائیوان، بھارت اور ویتنام کئی محاذوں پر چین برسرپیکار نظر آتا ہے۔ حتیٰ کہ چین کو بھارت کے خلاف پینسٹھ اور اکہتر کی جنگوں میں کسی نہ کسی سطح پر پاکستان کا ساتھ بھی دینا پڑا۔

کوریا اور بھارت کی جنگوں میں چین نے اپنی طاقت کا لوہا تو منوا لیا تھا لیکن اس کی راہ کا ایک بہت بڑا کانٹا ابھی باقی تھا۔ آپ ہسٹری آف چائنہ کی پچھلی قسطوں میں دیکھ چکے ہیں- کہ امریکہ نے کوریا اور تائیوان کی جنگوں کے دوران چین کو ایٹمی حملے کی دھمکی دی تھی۔ اس وقت سے چین خاموشی سے ایٹمی طاقت بننے کی طرف گامزن تھا۔

17اکتوبر 1964 کو چین نے پہلا ایٹمی دھماکہ کر دیا اور امریکہ کی ایٹمی دھمکیوں سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کر لی۔ چین ایٹمی طاقت تو بن گیا تھا لیکن ویتنام میں جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ فرانس کی شکست کے باوجود ویتنام کا صرف شمالی حصہ آزاد ہوا تھا-

جس پر ہو چی من نے اپنی کمیونسٹ حکومت بنا لی تھی۔ اب رہ گیا جنوبی حصہ تو یہاں امریکہ نے کمیونزم روکنے کا بہانہ بنا کر اپنی کٹھ پتلی حکومت بنا لی۔ اب جنوبی ویتنام میں امریکہ کی مرضی کی حکومت تھی جو شمالی ویتنام کے ساتھ اتحاد نہیں کرنا چاہتی تھی۔ دوسری طرف ہوچی من، ہر صورت میں ویتنام کو متحد کرنا چاہتے تھے- چنانچہ انہوں نے اپنی گوریلا فوج جنوبی ویتنام میں داخل کر دی تاکہ اسے طاقت کے زور پر امریکی کنٹرول سے چھین لیا جائے۔

یوں کوریا والی کہانی اب ویتنام میں دوہرائی جانے لگی۔ جنوبی ویتنام کی فوج اور شمالی ویتنام کی گوریلا فورسز میں زبردست جنگ شروع ہو گئی۔ اس جنگ میں امریکہ جنوبی ویتنام کو جدید اسلحہ، فوجی تربیت اور مشاورت فراہم کر رہا تھا۔ جب جنوبی ویتنام میں حالات بہت خراب ہو گئے تو نومبر1963 میں امریکی سی آئی اے نے اپنے اتحادی جنوبی ویتنام کے صدر کو قتل کروا کر وہاں فوجی حکومت قائم کروا دی۔ اس کارروائی کی منظوری امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے خود دی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ اس کارروائی کے صرف دو ہفتے بعد22 نومبر کو کچھ گولیاں چلیں اور جان ایف کینیڈی بھی جان سے چلے گئے۔

آج بھی یہ سازشی تھیوری دہرائی جاتی ہے کہ جان ایف کینیڈی کو اُن امریکیوں نے ہلاک کروایا تھا- جو ویتنام میں بڑے پیمانے پر امریکی فوج بھیجنا چاہتے تھے۔ اور کینیڈی ایسا نہیں چاہتے تھے۔ چنانچہ انہیں رستے سے ہٹا دیا گیا۔ ہم نہیں کہہ سکتے حقیقت کیا ہے۔ بہرحال یہ بھی ایک تھیوری ہے۔ قصہ کچھ بھی ہو لیکن کینیڈی کے راستے سے ہٹتے ہی جانسن امریکی صدر بنے۔

جب جانسن وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے تو جنوبی ویتنام میں امریکی فوج موجود نہیں تھی وہاں صرف امریکی ایڈوائزر ہی کام کرتے تھے۔ لیکن جانسن نے امریکی فوج کو جنوبی ویتنام میں داخل کر دیا۔ فوجی مداخلت کیلئے جانسن نے یہ بہانہ بنایا کہ 4 اگست 1964 کی رات شمالی ویتنام کی نیوی نے دو امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا ہے۔ لیکن اس میں ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا اور وہ یہ کہ چار اگست کی رات امریکی جہازوں پر کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔

امریکی صدر جھوٹ بول رہے تھے۔ 1965 تک امریکی فوج بڑی تعداد میں جنوبی ویتنام میں داخل ہو چکی تھی۔ امریکہ نے شمالی ویتنام کے گوریلوں پر بمباری شروع کردی۔ امریکی ائرفورس چیف کرٹس لی مئے تو یہاں تک کہہ رہے تھے کہ وہ ویتنام کو پتھر کے دور میں دھکیل دیں گے۔ شاید یہ ان کا تکیہ کلام ہے اسی لیے ایسی باتیں امریکہ نے افغانستان پر حملے کے وقت بھی کیں تھیں۔

امریکہ شمالی ویتنام پر حملہ آور تو ہو گیا تھا لیکن شمالی ویتنام اور چین دونوں ہی اس جنگ کیلئے پوری طرح تیار تھے۔ چین کی مدد سے ہو چی من نے جنوبی ویتنام میں اپنی گوریلا فوج کو اور بھی ایکٹو کر دیا۔ یہ گوریلا فوج ویت کانگ کہلاتی تھی اور اسے مدد ملتی تھی شمالی ویتنام کی فوج سے جو نارتھ ویتنام آرمی کہلاتی تھی۔

یوں 1965 کے آخری مہینوں میں امریکہ، ویتنام اور چین کی یہ غیراعلانیہ جنگ شروع ہو گئی۔ اگرچہ اس وقت چین اور سوویت روس کے تعلقات اچھے نہیں تھے لیکن روس نے بھی امریکہ کو نیچا دکھانے کیلئے پھر چین سے ہاتھ ملا لیا۔ روس نے شمالی ویتنام کو جدید اسلحہ اور پائلٹ بھی فراہم کیے۔

امریکہ نے شمالی ویتنام پر بمباری کی انتہا کر دی۔ سڑکیں، پل، ڈیم، آبادیاں حتیٰ کہ مہاجر کیمپ تک تباہ کردیئے۔ اس دوران دو امریکی بمبار طیارے چین میں بھی گھسے لیکن چین نے ان میں سے ایک طیارہ مار گرایا جبکہ دوسرا بھاگ گیا۔ پھر امریکی طیاروں کو چین کا رخ کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ دوسری جانب بمباری میں پھنسے ویتنامیوں کے پاس ایک ایسی چیز تھی جس کا امریکہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکا۔

ان کے پاس تھا گھنا جنگل۔ ویتنامی گوریلے ان جنگلوں میں چھپ کر امریکیوں کو نشانہ بناتے تھے۔ یہی نہیں جب سڑکوں پر امریکی بمباری حد سے بڑھ گئی توویتنامیوں نے اپنی سپلائی لائن بھی جنگل میں بنا لی۔ ویتنامی گوریلوں نے جنگلوں کے اندر سرنگیں کھود لیں۔ وہ ان سرنگوں کی مدد سے شمالی ویتنام سے اسلحہ، کھانا اور جنگجو جنوبی ویتنام میں لے آتے تھے۔

ویتنامی فورسز چین کی مدد سے امریکیوں پر ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہی تھیں۔ لیکن اس دوران چین کے سامنے ایک اور محاذ کھل گیا۔ انیس سو سٹرسٹھ میں چین انڈیا کے سکم بارڈر پر دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر گولہ باری کی۔ یہ گولہ باری چار، پانچ روز تک جاری رہی۔ چین نے بھارت کے خلاف ائرفورس استعمال کرنے کی دھمکی بھی دی۔

بھارت دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے چین کا حملہ ناکام بنا کر اس کے400 فوجیوں کو ہلاک کیا جبکہ اس کے اپنے صرف 88 فوجی مارے گئے۔ جبکہ چین کہتا ہے کہ دونوں ملکوں کے سو سے بھی کم فوجی مارے گئے۔ لیکن چونکہ یہ لڑائی صرف گولہ باری تک محدود رہی، جانی نقصان بھی بہت زیادہ نہیں ہوا اور کوئی علاقہ بھی فتح نہیں ہوا۔ اس لئے اس جھڑپ کو نہ تو جنگ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی ملک کو مکمل فاتح قرار دیا جا سکتا ہے۔ چین چونکہ ویتنام میں مصروف تھا اس لئے وہ بھارت کے ساتھ بڑی جنگ افورڈ نہیں کرسکتا تھا اور یہ معاملہ وہیں ختم ہو گیا۔

چین اور بھارت کا محاذ تو ٹھنڈا پڑ گیا لیکن ویتنام کی جنگ تو ابھی گرم ہو رہی تھی۔ جنوری 1968 میں شمالی ویتنامیوں نے جنوبی حصے پر ایک حملہ شروع کیا جسے ٹیٹ آفینسو کہا جاتا ہے۔ ویت کانگ کے گوریلے ایک ہی دن سو شہروں اور قصبوں میں داخل ہو گئے اور پھر ایک خوفناک جنگ ہوئی۔ جنوبی ویتنام کے دارالحکومت سائیگون میں امریکی سفارتخانہ میدان جنگ بن گیا۔ امریکی گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شدید فائرنگ سے حملہ آور مارے گئے اور سفارتخانہ محفوظ رہا۔

لیکن جنگ کی وجہ سے پورا جنوبی ویتنام جام ہو چکا تھا۔ ٹیٹ آفینسو پورے ایک سال تک وقفے وقفے سے جاری رہا۔ اگرچہ امریکی فوج نے آخرکار اس حملے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ لیکن جب جنگ میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تصویریں اور لاشیں دھڑا دھڑا امریکہ پہنچنے لگیں تو وہاں کہرام مچ گیا۔ امریکی جنگ کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔ لیکن جنگ کی مخالفت کی صرف یہی وجہ نہیں تھی۔ بہت سے لوگوں کیلئے شاید یہ نئی بات ہو لیکن اس دور میں امریکہ میں کانسکریپشن یعنی لازمی فوجی خدمت کا قانون نافذ تھا۔

حکومت کسی بھی شہری کو میدان جنگ میں بھیج سکتی تھی انکار کرنے والے کو جیل بھیجا جاتا تھا۔ مشہور زمانہ باکسر محمد علی کو بھی ویتنام جنگ میں شرکت سے انکار پر جیل جانا پڑا تھا۔ امریکہ کے ویتنام میں ساڑھے پانچ لاکھ فوجی موجود تھے جنہیں باری باری واپس بلا کر ان کی جگہ نئے لوگ بھیجے جاتے تھے۔

اس طرح لازمی فوجی خدمت کے قانون کے تحت ویتنام جنگ میں پچیس لاکھ امریکیوں نے حصہ لیا۔ یہ امریکی چونکہ ریگولر فوجی نہیں تھے چنانچہ وہ جنگ سے جلد ہی نفرت کرنے لگے۔ یہ لوگ وطن واپس جا کر جنگ کی ایسی ایسی ہولناک داستانیں بیان کرتے کہ عوام اور بھی بھڑک اٹھتے۔ جنگ کے خلاف ایسا ماحول بن گیا تھا کہ امریکی صدر جانسن کو اگلے الیکشن میں اپنی شکست صاف نظر آنے لگی۔

انہوں نے آئندہ صدارتی امیدوار نہ بننے کا اعلان کر دیا۔ ٹرومین کے بعد وہ دوسرے امریکی صدر تھے جنہیں ایک ایسی جنگ کی وجہ سے غیرمقبول ہو کر صدارتی الیکشن سے پیچھے ہٹنا پڑا- جس میں چین بھی شریک تھا۔ نومبر انیس سو سڑسٹھ میں جب صدارتی الیکشن ہوئے تو رچرڈ نکسن امریکہ کے نئے صدر بن گئے۔ نکسن نے الیکشن سے پہلے امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ویتنام کی جنگ ختم کردیں گے۔ امریکی تاریخ میں یہ ایک طرح کی روایت ہی رہی ہے کہ ایک صدر جنگ شروع کر کے شہرت کماتا ہے اور دوسرا جنگ ختم کرنے کے نام پر ووٹ لے کر وائٹ ہاؤس کی چابی حاصل کرتا ہے۔

ویتنام جنگ کے دوران بھی ایسا ہی ہوا۔ لیکن جب نکسن نے حکومت سنبھال لی تو نا صرف یہ کہ وہ ویتنام جنگ ختم کرنے کے وعدے سے مُکر گئے بلکہ ویتنام کے ہمسائیہ ملک کمبوڈیا میں ایک نیا محاذ بھی کھول لیا۔ نکسن کا کہنا تھا کہ ویتنامی گوریلے کمبوڈیا سے اپنی سپلائی لاتے ہیں اس لئے وہاں حملہ کرنا ضروری ہے۔

لیکن اب امریکی عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا خاص طور پر طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ شہر، شہر مظاہرے ہونے لگے جنہیں کچلنے کیلئے فوج بلانا پڑی۔ 4 مئی 1970 کو کینٹ سٹیٹ یونیورسٹی (اوہائیو) میں امریکی فوجیوں نے دو طالبات سمیت چار طلبہ کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ امریکی سڑکوں پر لاشیں پڑی تھیں اور امریکی عوام جنگ کی تپش اپنے گھر میں محسوس کر رہے تھے۔

مظاہرے اور تیز ہو گئے اور آخر نکسن کو گھٹنے ٹیکنا پڑے۔ انہوں نے ویتنام سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ تو کر لیا لیکن تب تک امریکہ میں ایک بہت بڑی تبدیلی آ چکی تھی۔ امریکہ سمجھ گیا تھا کہ جب تک وہ چین کو اپنے ساتھ نہیں ملائے گا وہ سوویت روس کی طاقت ختم نہیں کر سکتا۔ کیونکہ کوریا ہو یا ویتنام ہر جگہ امریکہ کا براہ راست سامنا صرف چین سے ہی ہو رہا تھا۔

امریکہ اب چین سے دوستی کرنا چاہتا تھا جس کیلئے اسے ایک موقع بھی مل گیا۔ ہوا یوں کہ روس اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے نے دشمنی کی شکل اختیار کر لی۔ بات اتنی بڑھ گئی کہ سوویت روس نے فیصلہ کیا کہ وہ چین پر ایٹم بم پھینک کر اسے تباہ کر دے گا۔ روس نے امریکہ سے کہا کہ وہ اس معاملے میں غیرجانبدار رہے۔ لیکن امریکہ نے انکار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر چین پر حملہ ہوا تو امریکی 130 روسی شہروں پر ایٹمی میزائل فائر کردے گا۔

چنانچہ یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ اب امریکہ نے ایک خفیہ منصوبہ بندی کی اور چین تک رسائی کیلئے پاکستان کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا۔ چنانچہ جولائی انیس سو اکہتر میں پاکستان سے ایک طیارہ اڑا اور چین جا پہنچا۔ اس طیارے میں امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر سوار تھے۔ انہوں نے چینی حکام سے ملاقات کی۔ پھر وہ لوٹ آئے اور تین ماہ بعد اکتوبر میں چین کو اقوام متحدہ کی رکنیت بھی مل گئی اور سلامتی کونسل کی مستقل سیٹ بھی۔

امریکہ نے بظاہر چین کے حق میں ووٹ نہیں دیا لیکن اس کے اہم ترین اتحادی برطانیہ، کینیڈا اور اسرائیل چین کا ساتھ دے رہے تھے۔ جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ چین کو اقوام متحدہ کی رکنیت دلوانے میں بہرحال امریکہ کا ہی ہاتھ ہے۔ اس واقعے کے دو برس بعد انیس سو تہتر تک امریکی فوج ویتنام سے نکل چکی تھی۔

شاید اس کی وجہ یہی تھی کہ امریکہ اور چین کے عالمی مفادات ایک ہوتے جا رہے تھے اور انھوں نے ویتنام میں پراکسی وار ختم کرنے کا کوئی خفیہ معاہدہ کر لیا تھا۔ حقیقت جو بھی ہو لیکن ہوا یہ کہ 1975 میں شمالی ویتنام نے جنوبی ویتنام پر قبضہ کرلیا اور ویتنام کی جنگ ختم ہو گئی۔

ویتنام فرانس کے قبضے اور خانہ جنگی سے آزاد ہو چکا تھا لیکن آزادی کے ہیرو ہوچی من یہ دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہے تھے۔ ویتنام کی جنگ امریکی تاریخ کی اب تک کی واحد شکست ہے۔ امریکہ نے اس جنگ کے بعد لازمی فوجی خدمت کا قانون بھی ختم کر دیا۔ اب ہر جنگ میں ریگولر امریکی فوج ہی لڑتی ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ ائرفورس کا زیادہ استعمال کرتا ہے کیونکہ وہ زیادہ ہلاکتیں افورڈ نہیں کر سکتا۔ ویتنام کی جنگ میں تین لاکھ بیس ہزار چینی فوجی شریک ہوئے تھے تاہم ان کی ہلاکتوں کی تعداد بہت کم رہی۔ تقریباً چار ہزار چینی فوجی مارے گئے۔ جبکہ امریکہ کے اٹھاون ہزار فوجی ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ نقصان ویتنام نے بھگتا جس کے تیس لاکھ لوگ مارے گئے۔ لاکھوں لوگ کشتیوں میں ویتنام سے فرار ہوتے ہوئے سمندر میں ڈوب گئے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کمبوڈیا میں بھی امریکی بمباری سے بھی کوئی بیس لاکھ لوگ ہلاک ہوئے۔ بہرحال ویتنام کی جنگ میں تو چینی اتحادیوں کی فتح ہوئی اور جنگ ختم ہو گئی۔ لیکن ویتنام کے برعکس اکہتر کی پاک بھارت جنگ میں چین پاکستان کی کوئی مدد نہ کر سکا۔ اس کی دو وجوہات تھیں۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ چین، بھارت بارڈر پر برفباری کی وجہ سے چین کیلئے بھارت کے خلاف کوئی کارروائی مشکل تھی۔

جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ روس نے چین کو یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر چین نے جنگ میں پاکستان کی مدد کرنے کی کوشش کی تو روس بھی جنگ میں کود پڑے گا۔ چنانچہ چین کھل کر بھارت کے خلاف جنگ شروع نہ کر سکا۔ اور یہ جنگ پاکستان کے ٹوٹنے پر ختم ہوئی۔ اسی دوران امریکہ نے اکہتر میں روس کا اہم ترین اتحادی چین توڑ لیا تھا۔

اب روس عالمی سیاست میں تنہا تھا۔ آٹھ سال کے اندر امریکہ نے سوویت روس کو افغان جنگ میں الجھا کر آخرکار اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ اگرچہ بہت سے لوگ اس کامیابی کو امریکہ اور افغانستان کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان، امریکہ اور افغانستان میں سے کوئی ایک ملک بھی اس جنگ کا حصہ نہ ہوتا تو سوویت روس کبھی نہ ٹوٹتا۔

سویت روس کی شکست کے ساتھ سرد جنگ بھی ختم ہو گئی۔ لیکن اکہتر کے بعد جب تک سرد جنگ جاری رہی روس اور چین ایک دوسرے کے دشمن بنے رہے۔ اس دوران چین نے اپنے پرانے اتحادی ویتنام پر بھی حملہ کر دیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ ماؤ کی موت کے بعد چین پر کیا گزری؟ چین میں ایک اور انقلاب آ گیا، یہ نیا انقلاب کیا تھا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن اگلی قسط میں۔ اور اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ عوامی جمہوریہ چین کیسے بنا تو یہاں کلک کیجے- اور اگر آپ شیر میسور کی شہادت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کیجے

Read More:: History of China

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button