History World Urdu

History of China | The Long March of Mao |

History of China

چینی انقلاب کی پچھلی قسط میں آپ نے دیکھا کہ باکسر انقلاب کیسے ناکام ہوا۔ جبکہ اس قسط میں ہم آپ کو دکھائیں گے کہ چین کے انقلاب کا خواب دیکھنے والا اصل میں کون تھا؟ وہ جرمن کون تھا جس نے ماؤزے تنگ جیسے لیڈر کو لانگ مارچ پر مجبور کر دیا۔

إ پہاڑوں کے دشوار گزار راستوں پرمشین گنز کی برستی گولیوں میں لانگ مارچ کیسے آگے بڑھا؟ باکسر انقلاب چین میں انیسویں صدی کا آخری خونی ڈرامہ تھا۔ اس صدی میں انقلاب لانے کی ایسی عجیب و غریب اور کسی حد تک مضحکہ خیز کوششیں بھی ہوئیں کہ عقل حیران رہ جائے۔ تائی پینگ کی بغاوت جو اٹھارہ سو پچاس سے اٹھارہ سو چونسٹھ تک جاری رہی اس کے بانی ہونگ ژی کوآن کا دعویٰ تھا کہ وہ بھی خدا کا بیٹا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا چھوٹا بھائی ہے جسے خدا نے چین کی اصلاح کیلئے بھیجا ہے۔

ہونگ، چین کی اصلاح تو نہ کر سکا لیکن اس کی بغاوت نے دو کروڑ سے زائد انسانوں کی جان ضرور لے لی۔ ہونگ اصل میں سول سروس کے امحتان میں فیل ہو گیا تھا اور اب شاید وہ بغاوت کر کے اس نظام کی ایسی تیسی کرنا چاہتا تھا۔ وجہ جو بھی ہو چین کے حالات بہرحال بے قابو ہو چکے تھے۔ بیسویں صدی کے پہلے سورج نے بھی چین میں امن نہیں دیکھا۔ ایسے میں چین میں وہ لیڈر سامنے آیا جس کی چین کو صدیویں سے ضرورت تھی۔ جی نہیں، اس کا نام ماؤ نہیں تھا۔ اس کا نام تھا سن یاٹ سین۔ یہ شخص ایک غریب کسان کا بیٹا لیکن تعلیم یافتہ تھا، امریکہ، برطانیہ اور جاپان سمیت کئی ممالک گھوم چکا تھا۔

کئی انقلابیوں کی طرح وہ بھی چینی بادشاہت سے نفرت کرتا تھا اس وجہ سے وہ جلاوطن بھی ہوا۔ چین کا چینگ شاہی خاندان چین کے ساحلی علاقے منچوریا سے تعلق رکھتا تھا۔ اور اس علاقے کو چینی عوام اپنے ملک کا حصہ نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ عوام کی نظر میں چینی بادشاہ بھی غیرملکی ہی تھا۔ سن یاٹ سین نے عوام اور فوج کی بڑی تعداد کو ساتھ ملا کر انیس سو گیارہ میں چینگ بادشاہت ختم کر دی اور پانچ سالہ کم سن بادشاہ سے بادشاہت کے خاتمے کی دستاویزات پر دستخط کروا لئے۔

سن یاٹ سین جمہوریہ چین کا پہلا صدر بنا۔ لیکن اسے چین کی پرانی حکومت کے ایک وزیر یان شی کائی کے حق میں صدارت چھوڑنا پڑی۔ تاہم بعد میں اس نے شی کائی کی حکومت کے خلاف بھی بغاوت کردی۔ انیس سو اکیس تک وہ چین کا کنٹرول سنبھال چکا تھا۔ لیکن اس دوران حکومت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر منگولیا اور تبت، چین سے الگ ہو گئے۔ اب زیادہ تر چین پر حکومت کی نہیں وار لارڈز کی رٹ قائم تھی۔ سن یاٹ سین کا خواب تھا کہ چین کو ایک ملک کی شکل میں پھر سے متحد کیا جائے۔

لیکن انیس سو پچیس میں سن یاٹ سین کا انتقال ہو گیا۔ چینی قوم نے اپنے محبوب لیڈر کی موت پر بھرپور سوگ منایا اور اسے بڑی شان سے دفن کیا۔ سن کی موت کے بعد دو لوگ سامنے آئے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ چین کو متحد کرنے کا خواب پورا کریں گے۔ دونوں نوجوان، گرم خون، انقلاب کا جنون اور سب سے بڑھ کر دونوں ایک دوسرے کے بدترین دشمن۔ ایک کا نام تھا چیانگ کائی شیک اور دوسرا تھا۔ ماؤ زے تنگ۔ چیانگ کائی شیک، سن یاٹ سین کا سب سے ہونہار شاگرد تھا اس لئے جلد ہی وہ حکومت پر قابض ہو گیا۔

دوسری طرف تھا ماؤ جو تھا تو امیر باپ کا بیٹا لیکن غریبوں کا حامی تھا۔ وہ سوویت روس کے انقلاب اور کارل مارکس کے فلسفے سے بہت متاثر تھا۔ ماؤ کمیونسٹ پارٹی کی فوج کا کمانڈر تھا۔ شروع میں کمیونسٹوں نے چیانگ کائی شیک سے مل کر کئی وار لارڈز کو شکست دی اور شنگھائی شہر پر بھی قبضہ کر لیا۔ لیکن ایک موقعے پر چیانگ نے آنکھیں پھیر لیں اور کمیونسٹوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ کمیونسٹ بھی چپ نہیں رہے اور انہوں نے ماؤ کی قیادت میں انقلاب کا پرچم بلند کردیا۔

ماؤ نے انیس سو اکتیس میں جیانگ شی صوبے پر قبضہ کر لیا اور وہاں سوویت ریپبلک آف چائنہ کے نام سے الگ ریاست قائم کر لی۔ چیانگ کائی شیک کی نینشلسٹ یعنی قوم پرست حکومت کیلئے یہ ریاست ایک چیلنج تھی۔ حکومت نے اسے کچلنے کیلئے فوج بھیج دی اور یوں خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا۔ چین کی خانہ جنگی دنیا کی خوفناک تحریکوں میں سے ایک تھی۔ فریقین کسی قاعدے قانون کے پابند نہیں تھے اور انہوں نے اپنے مخالفین کا جی بھر کر قتل عام کیا۔

اس سنگدلی کا ایک مظاہرہ تب دیکھنے میں آیا جب چیانگ کائی شیک کے فوجیوں نے ماؤ کی بیوی یانگ کائی ہوئی کو گرفتار کرلیا۔ فوجیوں نے یانگ پر بدترین تشدد کر کے اسے مجبور کیا کہ وہ عوام کے سامنے ماؤ کو برا بھلا کہے۔ لیکن جب اس نے ایسا نہیں کیا تو اسے قتل کر دیا گیا۔ ماؤ نے سوویت چین کے نام سے ایک ریاست تو بنا لی تھی لیکن انہیں اس پر ٹھیک سے حکومت کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ چیانگ کائی شیک کی فوجیں سر پر آن پہنچیں۔ ماؤ کی فوج کم تھی اس لئے انہوں نے گوریلا جنگ کا طریقہ اپنایا۔

وہ کائی شیک کے فوجیوں کو اپنے علاقے میں دور تک آنے کا موقع دیتے اور پھر چاروں طرف سے حملہ کر کے اس کا صفایا کر دیتے۔ ایک کے بعد ایک چیانگ کے چار فوجی مشن ناکام ہو گئے۔ ایک مشن میں تو نو ہزار فوجیوں کی ایک پوری ڈویژن میں ایک فوجی بھی زندہ نہ بچا۔ لیکن پانچویں حملے سے پہلے ماؤ کی ریاست میں ایک جرمن آیا جس نے ماؤ کو بالکل بے بس کر دیا۔ ماؤ جیسا لیڈر کیسے بے بس ہو گیا یہ قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی۔

سوویت روس اور اس کے کمیونسٹ انقلاب کا بہت احترام کرتی تھی۔ چنانچہ جب سٹالن کی روسی حکومت نے ایک جرمن کمیونسٹ آٹو براؤن کو فوجی ایڈوائزر بنا کر ماؤ کی ریاست میں بھیجا تو وہاں سب نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ لیکن یہاں سے چینی کمیونسٹوں کی بدقسمتی بھی شروع ہو گئی۔ آٹو براؤن نے اعلان کیا کہ ماؤ کی گوریلا جنگ کی پالیسی غلط ہے۔ دشمن سے چھپنے کی بجائے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے تاکہ اسے کمیونسٹوں کی طاقت کا اندازہ ہو سکے۔

ماؤ نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ موجودہ حالات میں گوریلا جنگ ہی فائدہ مند ہے۔ لیکن آٹو براؤن نہیں مانا۔ ماؤ کی بدقسمتی کہ کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی، سٹالن کے بھیجے ہوئے ایڈوائزر کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔ کمیٹی نے آٹو براؤن کی حکمت عملی منظور کر لی اور ماؤ کو بھی قیادت سے ہٹا دیا۔ یوں کمیونسٹ فوج کو گوریلا جنگ چھوڑ کر آمنے سامنے مقابلے پر آنا پڑا۔ ادھر چیانگ کائی شیک نے پانچویں حملے میں اپنی ایلیٹ فورس میدان میں اتاری۔

یہ فورس سات لاکھ جوانوں پر مشتمل تھی اور اسے گوریلا جنگ سے مقابلے کی خصوصی تربیت دی گئی تھی۔ لیکن جب اس فوج نے ماؤ کی ریاست کو گھیرے میں لیا تو اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔ کیونکہ کمیونسٹ اب چھپ کر لڑنے کی بجائے کھلے عام سامنے مورچوں میں موجود تھے۔ چیانگ کے فوجیوں کا کام آسان ہو گیا۔ انہوں نے اتنی بمباری کی کہ کچھ ہی عرصے میں ساٹھ ہزار کمیونسٹ ہلاک ہو گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ماؤ خود بھی کمانڈر ہوتے تو شاید چیانگ کی نئی فوج کا مقابلہ نہ کر پاتے۔

لیکن اب شکست کی ساری ذمہ داری آٹو براؤن کے کندھوں پر آ گئی کیونکہ یہ جنگ بہرحال اسی کی حکمت عملی سے لڑی جا رہی تھی۔ ایسے میں کمیونسٹ کمانڈروں کی ایک میٹنگ ہوئی اس میٹنگ میں ماؤ نے تجویز پیش کی کہ دشمن کا گھیرا کچھ جگہوں سے توڑ کر اسے گھیر لیا جائے۔ لیکن آٹو براؤن کا جواب تھا نہیں ہم لانگ مارچ کریں گے۔ جی ہاں لانگ مارچ کا آئیڈیا ماؤ کا نہیں آٹو براؤن کا تھا، ماؤ تو لانگ مارچ کے خلاف تھا لیکن آٹو براؤن کے فیصلوں کے سامنے بے بس تھے۔

آٹو براؤن چاہتا تھا کہ کمیونسٹ فوج اپنی ریاست سے نکل کر کسی محفوظ مقام تک پہنچ جائے۔ لیکن دشمن کا گھیرا توڑنا آسان نہیں تھا۔ کمیونسٹوں نے ایک اور غلطی یہ کی کہ اپنے ساتھ اپنے حکومتی دفاتر کا سامان بھی لاد لیا۔ ِ یعنی ٹائپ رائٹرز اور فرنیچر تک ساتھ رکھ لیا۔ چودہ اکتوبر انیس سو چونتیس کو چوراسی ہزارلوگوں کا یہ میلوں لمبا قافلہ چل پڑا۔ ایک تو بھاری سامان، پھر دشمن کا خوف، قافلے کی رفتار بہت سست تھی اور اسے سفر بھی رات کو کرنا پڑتا تھا۔ پہلی چوکیوں پر تو وہ کسی نہ کسی طرح دشمن کی نظروں میں آئے بغیر گزر گئے۔

لیکن پھر وہ دریائے ژیانگ کے کنارے پہنچے تو دشمن ان کے فرار کا منصوبہ بھانپ گیا۔ اس دریا کو عبور کرنے کیلئے دونوں فوجوں میں خوفناک لڑائی ہوئی۔ چوراسی ہزار میں سے صرف تیس ہزار کے قریب لوگ ہی جان بچا کر دریا عبور کر پائے۔ باقی مارے گئے یا بھاگ گئے۔ کمیونسٹوں کا سارا دفتری ریکارڈ، سامان اور فرنیچر وغیرہ دریا کے پانی میں بہہ گیا۔ کمیونسٹ دریا تو عبور کر گئے لیکن اب دشمن کی فضائیہ ان پر روزانہ حملے کر رہی تھی اور فوجی دستے بھی ان کے پیچھے لگے تھے۔

ہر روز لاشیں گر رہی تھیں۔ تین ماہ تک شدید مشکلات اٹھا کر، کمیونسٹ انقلابیوں کا یہ تھکا ہارا قافلہ گوئی ژو صوبے میں پہنچ گیا۔ یہاں ایک گاؤں میں کمیونسٹ لیڈروں کی میٹنگ ہوئی۔ نقصانات سے مایوس انقلابیوں کا اب سوویت یونین کی مدد سے بھروسہ اٹھ چکا تھا۔ اس لئے آٹو براؤن کی حیثیت بھی صفر ہو گئی۔ کمیونسٹوں نے آٹو براؤن کی حکمت عملی مسترد کرکے ماؤ کو پھر لیڈر مان لیا اور ماؤ اس بار پورے اختیارات کے ساتھ پارٹی کے چیئرمین بنے اور اپنی زندگی کے آخر تک اسے عہدے پر فائز رہے۔

ماؤلیڈر بنے تومایوس انقلابیوں کو احساس ہوا کہ وہ شکست خوردہ لوگ نہیں بلکہ انقلاب کے وہ سپاہی ہیں جو جدید چین کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔ یہ انقلاب کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ لانگ مارچ کے اس حصے پر یہ شعر بالکل فٹ بیٹھتا ہے جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا ماؤ نے حکم دیا کہ چیانگ کی فوجوں سے بچنا ہے تو خطرناک پہاڑی سلسلوں میں داخل ہو جاؤ تاکہ دشمن پیچھا نہ کرسکے اور وہاں سے راستہ بناتے ہوئے شانکسی صوبے کی طرف چلو۔

لانگ مارچ کا یہ حصہ سب سے خطرناک تھا۔ چین کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے انتہائی خطرناک تھے۔ اور وہاں کے رہنے والے اور بھی خطرناک۔ جی ہاں ان پہاڑیوں میں آباد قبائل کسی اجنبی کو اپنے علاقے میں برداشت نہیں کرتے تھے۔ ماؤ نے انہیں لالچ دیا کہ وہ حکومت میں آ کر ان علاقوں کی آزادی برقرار رکھیں گے۔ قبائلی خوش ہو گئے اور انہوں نے کمیونسٹوں کو گائیڈز بھی مہیا کر دیئے۔ ان گائیڈز کی مدد سے انقل ابیوں کا یہ سفر شروع ہو گیا۔ مگر دشمن بھی ان کی تاک میں تھا۔

نیشنلسٹ یعنی سرکاری فوج کھل کر تو کمیونسٹوں پر حملہ نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن اس نے تمام اہم راستوں، پہاڑی دروں اور پلوں پر اپنی چوکیاں بنا کر مشین گنز نصب کر دی تھیں۔ جب ماؤ کے ساتھی ان راستوں پر چلتے تو ان پر گولیاں برسنے لگتیں۔ حالات بہت خطرناک ہو چکے تھے۔ لیکن ماؤ کی لیڈرشپ نے انقلابیوں میں ایسا جوش بھر دیا تھا کہ وہ دیوانہ وار موت سے بھی ٹکرا گئے۔

وہ خطرناک پہاڑوں پر چڑھ جاتے اور دشمن کے عقب میں پہنچ کر اسے تباہ کر دیتے۔ کچھ سرفروش تو ہینڈ گرنیڈز کے ساتھ دشمن کی صفوں میں جا گھسے اور اپنی جان دے کر بھی دشمن کو ختم کر دیا۔ ایک بار ایک پل ایسا بھی آیا جس پر صرف زنجیریں بندھی تھیں اور سامنے مشین گن کا فائر آ رہا تھا۔ بیس کے قریب جوان پل پر لیٹ کر برستی گولیوں میں آگے بڑھتے رہے اور قریب پہنچ کر انہوں نے دشمن پر ہینڈ گرنیڈز پھینکے اور اس کا صفایا کر دیا۔ پہاڑی راستوں میں بھوک، پیاس، سردی، بیماری اور دشمن کی فائرنگ سے ان گنت انقلابی مارے گئے.

کئی لوگ تو بھوک کی وجہ سے چلتے چلتے گرے اور پھر اٹھ نہ سکے۔ لیکن ماؤ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ انقلابیوں کا فولادی عزم چار، چار ہزار میٹر بلند پہاڑوں پر بھی غالب آ گیا۔ مشکلات سے لڑتے بھڑتے ماؤ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سی چوآن اور شانکسی صوبے کی سرحد پر پہنچے۔ تب تک سارے چین میں ماؤ کے لانگ مارچ کے چرچے ہو چکے تھے۔

دوسرے صوبوں میں رہنے والے کمیونسٹوں کی دو فوجیں ان کے استقبال کیلئے آگے بڑھ رہی تھیں۔ بائیس اکتوبر انیس سو پینتیس کو سرحدی علاقے میں تینوں فوجیں مل گئیں۔ لانگ مارچ ختم ہو گیا تھا۔ استقبال کرنے والے لانگ مارچ کے شرکاء کو گلے لگانے لگے۔ مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا لانگ مارچ میں بچ جانے والے لوگ جب تک زندہ رہے انہیں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

لانگ مارچ تو ختم ہو گیا لیکن انقلاب کا سفر ختم نہیں ہوا۔ ماؤ کو اپنی فوج پھر منظم کرنے کیلئے ایک مضبوط فوجی اڈے کی تلاش تھی جو انھیں شانکسی صوبے میں مل گیا۔ ماؤ اور ان کے ساتھیوں ںے جیانگ شی سے شانکسی تک چھے ہزار میل یا دس ہزار کلومیٹر کا لانگ مارچ کیا، چوبیس دریا اور اٹھارہ پہاڑی سلسلے بھی عبور کئے۔ لانگ مارچ شروع کرنے والے چوراسی ہزار میں سے صرف آٹھ ہزار لوگ باقی بچے۔ مغربی ممالک میں لانگ مارچ کے دوران شجاعت کی داستانوں کو پراپیگنڈہ سمجھا جاتا ہے۔

لیکن مغرب بھی یہ مانتا ہے کہ مشکل حالات میں اتنا طویل سفر بذات خود ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ماؤ نے منزل پر پہنچتے ہی جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ لیکن یہ جنگ کی تیاریاں صرف فوج اور اسلحے سے نہیں ہو رہی تھیں۔ ماؤ نے ایک نیا ہتھیار بھی میدان میں اتار دیا تھا۔ قلم کا ہتھیار۔ جی ہاں ماؤ نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں سکول کھولے اور اپنے لوگوں کو تعلیم دنیا شروع کی۔

لیکن اگر ماؤ کا خیال تھا کہ وہ ہزاروں میل دور آ کر دشمن کے حملے سے بچ نکلا ہے تو یہ اس کی بھول تھی۔ چیانگ کائی شیک سمجھ چکا تھا کہ ماؤ کو ختم کئے بغیراس کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ وہ مائو اور اس کے حامیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک آخری اور فیصلہ کن حملہ کی تیاری کر رہا تھا- یہ حملہ مائو کے لانگ مارچ کی کامیابیوں کو نست و نابوت کر سکتا تھا-

لیکن ایسے میں جاپان مائو کی مدد کو آہ گیا جاپان نے مائو کو چیانگ کائی شیک سے کیسے بچایا؟ اپنے ہی لیڈر کو اغوا کرنے والا جنرل کون تھا؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ماؤ کو امریکہ سے بھی مدد لینا پڑی تھی؟ کیوں؟؟؟ چین میں انقلاب کی کامیابی کی حیرت انگیز داستان بھی آپ کو دکھائیں گے لیکن اگلی قسط میں۔ اور اگر چین کی پچھلی قسط آپ نے نہیں دیکھی تو یہاں کلک کیجئے- اورچین کے دوست پاکستان کی انشاکفات سے بھرپور سیریز دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے۔

Read More:: History of China

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button