History World Urdu

History of China | What was Boxer Rebellion

History of China

اب تک آپ نے جان لیا کہ کیسے چین غیرملکی طاقتوں کے حملے کا نشانہ بن رہا تھا۔ برطانیہ، فرانس،جرمنی اور جاپان جیسے ممالک نے کس طرح چین کے مختلف علاقوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرلی تھی۔ چین کو ہرجنگ میں شکست ہو رہی تھی۔ مشنری چین کی ثقافت کو تباہ کررہے تھے اور چین بے بس تھا۔ لیکن یہ اندھیر نگری زیادہ دیر تک نہ چل سکی۔ چینی عوام نے اپنی حکومت اور غیرملکیوں سے ٹکر لے لی۔ اس سب کی شروعات ہوئیں باکسرز انقلاب سے یہ باکسر انقلاب کیا تھا؟ اس کا خاتمہ کیسے ہوا اور کیسے چینی حکومت کا تختہ الٹا گیا؟

History of China | What was Boxer Rebellion

اٹھارہ سو اٹھانوے میں چینی قوم باکسرز انقلاب کے بینر تلے غیرملکیوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ اس انقلاب کو باکسرز کا نام دیئے جانے کے پیچھے بھی ایک دلچسپ تصور تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انقلابی، باکسنگ کی پریکٹس باقاعدگی سے کرتے تھے۔ اس لئے یہ لوگ باکسرز کہلائے۔ باکسرز کے متعلق یہ بھی مشہور کیا گیا کہ دیوتاؤں کی خاص مہربانی کی وجہ سے ان پرتلواریں یا نیزے اثر نہیں کرتے۔

جب بھولے بھالے عوام کو یہ یقین ہونے لگا کہ واقعی ان انقلابیوں پر دیوتاؤں کی نظر کرم ہے تو وہ جوق درجوق ان کے ساتھ شامل ہونے لگے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جب انقلاب کی ہوا چلتی ہے تو لوگ سچ اور جھوٹ کا فرق بھول جاتے ہیں اور اسی شخص کو پسند کرتے ہیں جو ان کے دل کی بات کہہ رہا ہو۔ اور یہی چین میں ہوا۔ چینی لاکھوں کی تعداد میں باکسرز کے ساتھ شامل ہو گئے۔

باکسرز نے غیر ملکیوں کے بنائے گئے چرچ جلا دیئے اور عیسائی مشنریوں کا قتل عام شروع کردیا۔ ہزاروں چینی عیسائی اور مشنری بھاگ کرپیکنگ چلے گئے اور سفارتی علاقے میں پناہ لے لی۔ تین جن میں تعینات غیرملکی فوجیں ان کی مدد کے لیے بھیجی گئیں مگر باکسرز نے حملہ کر کے ان فوجیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ یہاں ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ جن باکسرز نے غیرملکی فوجیوں پر حملہ کیا ان میں زیادہ تر چینی مسلمان تھے-

جو مذہبی اختلاف کے باوجود اپنے ہم وطنوں کے ساتھ اس انقلاب میں بھرپور طریقے سے حصہ لے رہے تھے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ ہزاروں غیرملکی پیکنگ کے سفارتی علاقے میں پھنسے تھے اورباکسرز نے انہیں گھیر رکھا تھا۔ فرار کے تمام راستے بند ہو چکے تھے۔ چین پر اس وقت ملکہ ڈواگر چی شی کی حکومت تھی۔ یہ چالاک ملکہ حالات کے مطابق فیصلے کرتی تھی۔

جب تک باکسرز انقلاب مضبوط نہیں ہوا تھا ملکہ انقلابیوں کو باغی کہتی رہی۔ لیکن جیسے ہی انقلابی پیکنگ کے قریب پہنچے تو وہ باغیوں کے ساتھ مل گئی اور اپنی فوج کو بھی انقلابیوں کی مدد کا حکم دے دیا۔ باکسرز اور چینی فوجیوں نے بیس جون سن انیس سو میں سفارتی علاقے پر دھاوا بول دیا۔ سب سے پہلے ایک فرانسیسی فوجی مارا گیا۔ پھر ایک برطانوی پروفیسر کو پکڑ کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا۔

یہ کٹا ہوا سر سفارتی عمارتوں کے سامنے ایک دروازے پر لٹکا دیا گیا۔ انقلابی بہت جذباتی تھے لگتا تھا کہ ان کا جنون سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔ لیکن یہ جذبہ جدید ٹیکنالوجی کے سامنے فیل ہو گیا۔ لیکن جغرافیہ ان کے حق میں تھا۔ کیونکہ یہ ایک تنگ علاقہ تھا جس میں حملہ آور صرف سامنے سے آ سکتے تھے اور وہ بھی بہت تھوڑی تعداد میں۔ غیر ملکی فوجیوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنی پوزیشن مضبوط بنا لی۔ لیکن اس معاملے میں انہیں محصورین میں موجودعورتوں سے بہت مدد ملی۔

عورتوں نے علاقے میں پڑی ہوئی ریت کو بوریوں میں بھر کر ایک ہزار بوریاں ایک ہی دن میں تیار کردیں۔ ان بوریوں کو سفارتی علاقے کے گرد رکھ کر اسے بنکر کی شکل دے دی گئی اور یوں چینیوں کے لیے محصورین پر فائرنگ کرنا اور بھی مشکل ہو گیا۔ جبکہ غیرملکی فوجی بوریوں کے آڑ سے چینیوں کو باآسانی نشانہ بنا سکتے تھے۔ چنانچہ جب لڑائی شروع ہوئی تو پہلے ہی دن سینکڑوں چینی مارے گئے۔

یہاں یہ حقیقت بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ چینی عوام جو سمجھتے تھے کہ باکسرز پر ہتھیار اثر نہیں کرتے وہ انقلابیوں کو مرتے دیکھ کر بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ انقلابیوں نے انہیں یہ کہہ کر تسلی دے دی کہ مرنے والوں کا دیوتاؤں پر ایمان کمزور تھا اس لئے وہ مارے گئے۔ یوں چینی عوام ڈٹے تو رہے لیکن سرتوڑ کوششوں کے باوجود بھی سفارتی علاقہ ان کے ہاتھ نہ آیا۔

محصورین کو معلوم تھا کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے تو مشتعل عوام انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس لئے وہ سر پر کفن باندھ کر لڑ رہے تھے اور کسی طرح بھی ہتھیار ڈالنے پر تیار نہیں تھے۔ اس دوران سولہ جولائی کو ایک خوفناک واقعہ پیش آیا۔ عالمی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ چینی عوام نے سفارتی علاقے میں داخل ہو کرتمام محصورین کو قتل کردیا ہے۔

اس خبرپر یورپ اور امریکہ میں اشتعال پھیل گیا۔ جرمنی کے بادشاہ قیصر نے تو تیس ہزار فوج چین بھیج کر پیکنگ کو زمین کے برابر کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ فلپائن میں موجود امریکی فوج کو بھی پیکنگ کی طرف پیش قدمی کا حکم دے دیا گیا۔ تاہم کچھ دن بعد دنیا کومعلوم ہو گیا کہ یہ خبر جعلی تھی۔ لیکن اس جعلی خبر نے عالمی طاقتوں کو صورتحال کی سنگینی کا احساس دلا دیا اور ان ممالک نے محصورین کی مدد کے لیے فوجیں بھیجنے کا اعلان کردیا۔

لیکن اس دور میں بڑی طاقتوں کے پاس بھی لڑاکا طیارے تھے نہ ہیلی کاپٹر یا تیزرفتار بحری جہاز۔ یہ طے تھا کہ امدادی فوجوں کو چین پہنچنے میں مہینوں لگ جائیں گے تب تک محصورین کی تباہی یقینی تھی۔ اس لئے محصورین کی آخری امید تین جن میں موجود غیرملکی فوج تھی جو دوبارہ پیکنگ پر حملے کی تیاری کررہی تھی۔ اس فوج کے انتظار میں محصورین کے حوصلے پست ہونے لگے۔

ان کے پاس خوراک اور اسلحے کا ذخیرہ بھی تیزی سے ختم ہو رہا تھا۔ اس محاصرے میں سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ گورے یہاں بھی نسل پرستی کا بدترین مظاہرہ کر رہے تھے۔ وہ خود تو خوراک کے ذخیرے سے پیٹ بھر کھانا کھا رہے تھے لیکن ان کے ساتھ ساتھ پناہ لینے والے چینی عیسائیوں کو چند لقموں پر ٹرخایا جا رہا تھا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ سینکڑوں عیسائی چینی بھوک سے مر گئے۔ ادھر حملہ آور چینیوں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو رہا تھا۔ ایک طرف عالمی طاقتوں کی فوجوں کے چین کا رخ کرنے کی خبر گرم ہو رہی تھیں۔ تو دوسری طرف تین جن میں غیرملکی فوج کی واپسی کا خطرہ بھی منڈلا رہا تھا۔ ان حالات میں چینی انقلابیوں نے محصورین کو باہر نکالنے کے لیے سفارتی علاقے کے قریب ایک لائبریری کو آگ لگا دی۔ لیکن یہاں بھی چینیوں کے دیوتا ان کے کسی کام نہ آئے۔

ہوا کا رخ بدلنے سے شعلوں کا رخ حملہ آوروں کی طرف ہو گیا۔ اس پر مزید ستم یہ ہوا کہ محصورین نے آگ لگانے والے کئی حملہ آوروں کو گولی مار دی۔ انہوں نے چند حملہ آوروں کو زندہ بھی پکڑا اور بعد میں شوٹ کر دیا۔ محاصرے میں قید غیر ملکیوں کی مدد کیلئے تین جین کی فوج روانہ ہو چکی تھی۔ اس پر باکسر حملے کر رہے تھے لیکن پچھلی دفعہ کے برعکس اس بار یہ حملے ناکام ہو رہے تھے۔

جلد ہی باکسرز نے بھانپ لیا کہ اتحادی فوج گھیرے میں آئے غیر ملکیوں تک پہنچ کر ہی دم لے گی۔ چنانچہ چینیوں نے محصورین پر آخری حملے کا فیصلہ کر لیا۔ پورا شہر سفارتی علاقے پر چاروں طرف سے ٹوٹ پڑا۔ لیکن چینیوں کی تابڑتوڑ حملوں کے باوجود سفارتی علاقے میں محصور فوجیوں کو شکست نہیں دی جا سکی۔

یہ لڑائی جاری تھی کہ اچانک خاموشی چھا گئی۔ ہوا یہ کہ حملہ آوور چینوں کو جیسے ہی اطلاع ملی کہ اتحادی فوجیں ان کے پیچھے پہنچ چکی ہیں تو وہ شہر میں تتر بتر ہو گئے۔ بیرونی فوج میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، روس اور جاپان کے سپاہی شامل تھے۔ کچھ ہی دیر میں یہ فوج محصورین تک پہنچ گئی۔ محصورین پچپن دن بعد عصاب شکن لڑائی سے ٹوٹنے کے قریب تھے۔

لیکن مدد پہنچتے ہی محصورین خوشیاں مناتے ہوئے باہر آئے اور فوجیوں کو گلے لگانے لگے۔ اگرچہ اس لڑائی میں غیرملکیوں کے مقابلے میں چینیوں کا بھاری نقصان ہو چکا تھا، حکومتی عہدیدارتک فرار ہو چکے تھے اور دارالحکومت مکمل طور پر غیرملکیوں کے رحم وکرم پر تھا۔ پھر بھی غیرملکی فوجوں نے چینی قوم سے بھرپور انتقام لیا۔ انہوں نے پیکنگ پر قبضہ کرلیا اور شہر میں لوٹ مار شروع ہو گئی۔

چینی شاہی خاندان کا وہ محل جسے غیرملکی فاربیڈن سٹی یا ممنوعہ شہر کہتے تھے اور جہاں پانچ صدیوں سے عام لوگوں کا داخلہ منع تھا۔ اسے جرمنوں نے اپنا ہیڈکوارٹر بنا لیا۔ محل کو بے دردی سے لوٹ لیا گیا۔ حتیٰ کہ شہر میں موجود بدھ عبادت گاہیں بھی لوٹ مار سے محفوظ نہ رہیں۔

چین کی ملکہ جو ریشمی لباس پہننے اور کمخواب کے بستروں پر سونے کی عادی تھی اسے مزدوروں والا لباس پہن کر دارالحکومت سے فرار ہونا پڑا۔ اگرچہ ملکہ دو برس بعد لوٹ آئی لیکن تب تک چین میں سب کچھ بدل چکا تھا۔ اب چین کا دارالحکومت عملی طور پر غیرملکیوں کے کنٹرول میں تھا۔ اور ملکہ کی حیثیت بھی آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر جیسی ہو چکی تھی۔

یعنی عملی طور پر ملکہ غیرملکیوں کی قیدی تھی۔ انہی لوگوں کے دباؤ پر ملکہ نے باکسرز کو غدار قرار دے کر قتل کروانا شروع کردیا۔ ہزاروں باکسرز کے سر تن سے جدا کر دیئے گئے اور یوں چین کا پہلا انقلاب اپنے انجام کو پہنچا۔ لیکن چینی عوام کے دلوں میں آزادی کی جو تڑپ پیدا ہو چکی تھی وہ پھر ختم نہ ہو سکی۔

انیس سو آٹھ میں چینی ملکہ کا انتقال ہوا اور اس کے تین ہی سال بعد چینی فوج اور عوام نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ فاربیڈن سٹی کے دروازے عوام کے لیے کھل گئے۔ یوں باکسرز انقلاب کے خاتمے کے صرف گیارہ سال بعد چین میں دوسرا انقلاب آ گیا۔ لیکن قوموں تاریخ میں کوئی انقلاب حتمی یا آخری نہیں ہوتا۔

انقلاب اصل میں ایک رومانس کا نام ہے جو مسلسل تبدیلی چاہتا ہے۔ اور زیادہ تر اسے اس بات سے بھی غرض نہیں ہوتی کہ انقلاب کا نتیجہ کیا ہو گا۔ کیونکہ انقلاب نوجوانوں کا عشق ہوتا ہے جو فوری تبدیلی چاہتے ہیں۔ انقلاب کا جشن منانے والی چینی قوم کو نہیں معلوم تھا کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔

Read More:: History of China | What was Boxer Rebellion

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button