History World Urdu

How Powerful is Germany? | Most Powerful Nations on Earth | In Urdu

How Powerful is Germany?

جرمنی ایٹمی طاقت نہیں ہے۔ جرمنی کے پاس سلامتی کونسل میں ویٹو پاور بھی نہیں ہے۔ اس کے پاس امریکہ اور چین کی طرح ائرکرافٹ کیریئرز ہیں اورنہ ہی ایٹمی آبدوزیں۔ اس کا رقبہ اور آبادی دونوں پاکستان کے آدھے سے بھی کم ہیں۔ لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ دنیا کے کئی اہم معاہدوں میں جرمنی کو ضامن بنایا جاتا ہے۔ جیسے کہ ایران سے جوہری ڈیل کا معاملہ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جرمنی کی وہ کون سی طاقت ہے جس کی وجہ سے اسے اتنی اہمیت حاصل ہے۔ اور یہ بھی جانیں گے کہ جرمنی کی کمزوریاں کون سی ہیں۔

How Powerful is Germany  Most Powerful Nations on Earth  In Urdu

دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اتنا طاقتور تھا کہ اس نے تن تنہا پورے یورپ، روس اور امریکہ سے ٹکر لے لی تھی۔ لیکن اب جرمنی کے ملٹری مسلز پہلے جیسے نہیں رہے۔ اس کی تین بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ جرمنی نے اپنے دو بڑے دشمنوں کو دوست بنا لیا ہے۔ اس لیے اب برلن کو پہلے جیسی فوجی طاقت کی ضرورت نہیں رہی۔

اس کے ہمسائیہ ممالک فرانس اور پولینڈ کل تک جرمنی کے بدترین دشمن تھے۔ فرانس اور جرمنی کی دشمنی اتنی شدید تھی کہ تاریخ میں دو بار جرمنی نے فرنچ کیپیٹل پیرس پر قبضہ کر لیا تھا۔ پولینڈ سے بھی جرمنی کی جنگیں اور سرحدیں جھڑپیں چند دہائیوں پہلے تک معمول کی بات تھی۔ لیکن آج یہ تینوں ممالک دوستی کی مثال ہیں اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جرمنی کی سرحد پر اب کوئی ایسا دشمن باقی نہیں رہا جس کیلئے اسے ہر وقت پنجوں پر کھڑے رہنا پڑتا ہو۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ دو عالمی جنگوں میں خوفناک تباہی سے سبق سیکھتے ہوئے جرمن قوم نے طے کر لیا تھا کہ وہ جنگ سے دور رہیں گے۔ جرمن فوج کے سپر آرمی نہ ہونے کی تیسری پریکٹیکل وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ستر سال سے جرمنی نے براہ راست کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی ہے۔ البتہ صرف نیٹو کا رکن ہونے کے باعث اسے خلیج اور افغان جنگ میں شریک ہونا پڑا تھا۔ لیکن یہ شرکت بھی برائے نام ہی تھی۔ کیونکہ اس میں جرمن فوج کی بہت کم تعداد نے حصہ لیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ جرمن فوج جدید جنگ کے براہ راست تجربے سے محروم ہے۔ لیکن اگر ان تینوں وجوہات سے ہٹ کر صرف ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو جرمنی اب بھی ایک بڑی طاقت ہے۔ جرمن دنیا کی نویں بڑی فوجی طاقت ہے۔ کیونکہ چین تیسرے، انڈیا چوتھے اور پاکستان تیرہویں نمبرکی طاقتیں ہیں۔ جرمنی کے پاس 698 لڑاکا طیارے ہیں۔ اس کی فوج صرف دو لاکھ دس ہزار جوانوں پر مشتمل ہے۔ بظاہر یہ چھوٹی فوج ہے لیکن اس کا دفاعی بجٹ انتالیس ارب ڈالر سے زائد ہے۔ یعنی پاکستان سے تقریباً چار گنا زیادہ۔ جرمنی کے دنیا سے تعلقات مثالی ہیں۔

اس کا پاسپورٹ دنیا کا دوسرا سب سے طاقتور پاسپورٹ ہے۔ کیونکہ جرمن شہریوں کو ایک سو اٹھاسی ممالک میں جانے کیلئے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی یا انھیں ائرپورٹ پر ہی ویزہ مل جاتا ہے۔ جرمنی سے اوپر صرف ایک رینک ہے جس میں جاپان اور سنگا پور شامل ہیں۔ یہ وہ اقوام ہیں جنھیں ایک سو نواسی ممالک میں ویزہ فری انٹری ملتی ہے۔ پاکستان کا پاسپورٹ دنیا کا تیسرا سب سے کمزور ترین پاسپورٹ ہے۔ اس کے شہریوں کو تیتیس ممالک میں ویزی فری انٹری کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

پاکستان کے بعد صرف افغانستان اور صومالیہ جیسے ممالک ہیں۔ جبکہ انڈین پاسپورٹ پر آپ انسٹھ ممالک میں ویزہ فری سفر کر سکتے ہیں۔ یہ رینکنگ میں 78واں موسٹ پاورفل پاسپورٹ ہے۔ سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو فرانس کی طرح جرمنی بھی یورپی یونین کا بانی رکن اور نیٹو کا حصہ ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر بہت زیادہ اثرو رسوخ رکھتا ہے۔ عالمی سطح پر اس کے مفادات کو نقصان پہنچانا کسی سپرپاور سے کم ملک کیلئے آسان نہیں۔

دنیا میں سب سے ویلیو ایبل ایکسپورٹ گاڑیوں کی ہوتی ہے۔ صرف دو ہزار سترہ میں سات سو چالیس ارب ڈالر سے زائد کی گاڑیاں دنیا بھر میں برآمد کی گئیں۔ ان میں سے اکیس فیصد ایکسپورٹ صرف جرمنی سے تھی۔ جرمنی دنیا کی انتہائی مہنگی اور لگژری گاڑیاں جیسے مرسڈیز بنز، بی ایم ڈبلیو اور اوڈی تیار کرتا ہے۔

دوہزار سترہ میں جرمنی نے صرف کار ایکسپورٹ سے ایک سو ستاون اعشاریہ چار ارب ڈالر کمائے تھے۔ اور یہ رقم پاکستان کے کل دفاعی بجٹ سے سترہ گنا اور بھارتی دفاعی بجٹ سے اڑھائی گنا زیادہ ہے۔ ورلڈ بنک کی نومینل جی ڈی پی رینکنگ میں امریکہ، چین اور جاپان کے بعد جرمنی دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت ہے۔ اس لسٹ میں انڈیا کا چھٹا اور پاکستان کا چالیسواں نمبر ہے۔ جرمنی کی ماڈرن انڈسٹری بہت ترقی یافتہ ہے۔

طیارے، ہیلی کاپٹر، گاڑیوں کے پرزے اور سپیس ٹکنالوجیز تیار کرنے میں جرمنی نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ جرمنی کی جنگی صنعت بھی اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ امریکہ اور روس کے بعد جرمنی اسلحہ بیچنے والا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے۔ جرمن سکارپیئن آبدوزیں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ان آبدوزوں کی خاص بات یہ ہے کہ انھیں ریڈار کی مدد سے ڈیٹیکٹ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

خفیہ آپریشنز کیلئے جرمن آبدوزیں اسی لیے سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہیں۔ اتنی خوشحالی کے باوجود جرمنی بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ آج کل جرمنی کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس نے لاکھوں شامی مہاجرین کو پناہ دے دی ہے۔ جرمنی کی سفید فام آبادی کا ایک بڑا حصہ اس اقدام کو پسند نہیں کر رہا۔

اس وجہ سے جرمن معاشرے میں سماجی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ دوہزار سترہ میں جرمنی میں مسلم اور مہاجر مخالف جماعت اے ایف ڈی پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔ تب سے ملک میں نسل پرستی کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جرمنی جو ایک سیکولر ملک تھا اب اس میں اسلام مخالف جذبات رکھنے والی تنظیمیں ابھر رہی ہیں۔

لیکن ان کے مقابلے میں اسلامو فوبیا کے خلاف بھی کئی جرمن آرگنائزیشنز کھڑی ہو رہی ہیں۔ کسی عام انسان کی طرح ملک بھی اپنے دوستوں اور دشمنوں کی وجہ سے طاقتور یا کمزور ہوتے ہیں۔ جرمنی کے دوست ممالک میں امریکہ، یورپی یونین اور چین شامل ہیں۔ فرانس جو کبھی جرمنی کا سب سے بڑا دشمن تھا آج امریکہ کے بعد سب سے بڑا ایکسپورٹ پارٹنر ہے۔

ر وایتی طور پر جرمنی کا عالمی سطح پر کوئی دشمن نہیں۔ لیکن روس اور ترکی سے برلن کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ جرمنی ترکی کے یورپی یونین میں شمولیت کے خلاف ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر بھی ترکی پر تنقید کرتا رہتا ہے۔

جبکہ روس سے جرمنی کا بڑا اختلاف، ماسکو کی یورپ کیلئے جارحانہ پالیسیاں ہیں۔ روس کے چیچنیا، کرایمیا اور جارجیا پر قبضے کو بھی جرمنی تسلیم نہیں کرتا۔ بڑے بڑے چیلنجز کے باوجود جرمنی یورپ کا خوشحال ترین ملک ہے۔ بغیر ایٹمک پاور کے بھی یہ دنیا کا نواں سب سے طاقتور ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیسری دنیا کے نوجوان آج بھی اسے اپنے خوابوں کی جنت سمجھتے ہیں۔ ۔

Read More:: How Powerful is Germany? | Most Powerful Nations on Earth | In Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button