History World Urdu

How Powerful is Russia? | Most Powerful Nations on Earth | In Urdu

How Powerful is Russia?

آج اکیسویں صدی میں جب کوئی ملک کسی دوسرے پر قبضہ نہیں کرسکتا- تو ایسے میں روس وہ واحد ملک ہے جو ہمسایہ علاقوں پر حملے کرتا ہے، قبضہ کرتا ہے اور پھر یہ قبضہ برقرار بھی رکھتا ہے۔ روس نے یوکرین کے علاقے کریمیا اور جارجیا کے علاقوں ابخازیہ اور ساؤتھ اوسیشیا پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ریشین ایٹامک میزائلز کے خوف سے یورپ میں میزائل ڈیفنس شیلڈ نصب کی جا رہی ہے۔ روس کی ٹکنالوجی میں مہارت اتنی زیادہ ہے کہ بعض امریکیوں کو ٹرمپ کی کامیابی کے پیچھے ماسکو کا ہاتھ نظر آتا ہے۔

How Powerful is Russia? | Most Powerful Nations on Earth | In Urdu

آخرروس میں ایسی کیا بات ہے جو مغربی ممالک اُس سے اس اتنا خوفزد ہیں۔ میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی نیشن پاور سیریز میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے- روس بہت بڑا ہے یہ تو سب جانتے ہیں لیکن کتنا بڑا ہے۔ اتنا بڑا ہے کہ جب روس کے مغربی کنارے پر لوگ آنکھیں ملتے ہوئے بستر چھوڑ رہے ہوتے ہیں- تو مشرقی کنارے پر لوگ رات کا کھانا کھا رہے ہوتے ہیں۔ یوں سمجے کہ اگر نظام شمسی کا ایک سیارہ پلوٹو۔

اگر اس کےرقبے کو پھیلا لپا جاے تو روس اس سے بھی بڑا ہے۔ یہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں پانچ بھارت، یا اکیس پاکستان یا ایک سو پندرہ بنگلہ دیش سما سکتے ہیں۔ صرف رقبہ ہی بڑا نہیں ہے بلکہ اس کی زمین میں دنیا کے چھٹے نمبر پر سب سے زیادہ تیل کے ذخائر ہیں۔ جبکہ دنیا میں سب سے زیادہ قدرتی گیس روس ہی میں پائی جاتی ہے۔ یورپ اپنی ضرورت کیلئے چالیس فیصد گیس روس سے ہی حاصل کرتا ہے۔

اگر روس گیس بند کر دے تو یورپ کی انڈسٹری اور سماجی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن فن لینڈ جیسے ممالک جو سو فیصد روس کی گیس پر انحصاررتے ہیں، ان کی انڈسٹری تو بند ہی ہو جائے گی۔ قدرتی گیس اور تیل سے مالا مال ہونے کے باوجود روس کا المیہ یہ ہے کہ اس کی آبادی بہت کم ہے۔ اس کی آبادی رقبے کے مقابلے میں اتنی کم ہے- کہ اگر حکومت ہر دس شہریوں کو ایک مربع کلومیٹر علاقہ تحفے میں دے دے پھر بھی روس کی زمین بچ جائے گی۔

روس کا ایک بڑا مسئلہ اس کے دیو ہیکل جغرافیے کی وجہ سے ہی ہے- اور وہ یہ کہ اس کی چھیاسٹھ فیصد سے زیادہ آبادی اس بیس فیصد حصے میں رہتی ہے- جبکہ باقی اسی فیصد حصے پر صرف چونتیس فیصد آبادی موجود ہے۔ اس کی وجہ سے مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ پورے روس کے وسائل کا بڑا حصہ اسی رقبے میں خرچ ہوتا ہے۔ جبکہ یہ مشرقی حصہ قدرتی وسائل کی شکل میں ملکی معیشت میں حصہ تو ڈالتا ہے- لیکن اسے اپنے کنٹری بیوشن کے حساب سے وسائل نہیں ملتے، یا بہت کم ملتے ہیں۔

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر روس صدیوں سے قابو پانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے- دنیا کی تاریخ میں یہ ایک عجیب سی حقیقت رہی ہے کہ جس ملک کی نیوی یعنی بحریہ طاقتور ہو وہی زیادہ مالداراور طاقتور بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ تجارت کیلئے سمندر سے کم خرچ راستہ اور کوئی بھی نہیں۔ لیکن روس کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا شمال، پوری طرح برف سے ڈھکا ہوا ہے جہاں سے تجارت ممکن ہی نہیں۔

لیکن اگروہ اپنی مشرقی بندرگاہ ولیڈی واسٹاک سے تجارت کرتا ہے تو یہ سال کے کئی مہینے برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ جن دنوں برف نہ ہو ان دنوں بھی تجارت خطرے سے خالی نہیں ہوتی- کیونکہ روسی جہازوں کو جاپان کے کنٹرولڈ سمندر سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور جاپان امریکہ اور نیٹو کا مضبوط اتحادی ہے، وہی امریکہ اور نیٹو جو روس کے دوست بالکل بھی نہیں ہیں۔

How Powerful is Russia?

How Powerful is Russia? | Most Powerful Nations on Earth | In Urdu

ہم آپ کو جرمنی، فرانس اور ترکی کی وڈیوز میں بتا چکے ہیں- کہ یورپی ممالک نے نیٹو فوجی اتحاد کو بنایا ہی روس سے بچاؤ کیلئے تھا۔ یعنی اگر روس کسی ایک یورپی ملک پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ سمیت تمام نیٹو ممالک اس کا مقابلہ کریں گے۔ ا گر روس مغرب میں اپنی پورٹ نوواروسیک سے تجارت کرتا ہے- تو پھر وہی مسئلہ یہ پورٹ بھی سال کے بڑے حصے میں برف بنی رہتی ہے یعنی تجارت نامکمن ہوتی ہے۔

لیکن جب برف نہیں ہوتی تب بھی اس پورٹ کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کم گہرا سمندر ہے اور بہت تنگ جگہ ہے۔ یعنی یہ بھی روس جیسے بڑے ملک کیلئے ایک آئیڈیل پورٹ کا کام نہیں دے سکتی۔ مزید یہ کہ یہاں سے چلنے والے روسی جہازوں کو ترکی سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔ اور ترکی بھی مغربی فوجی اتحاد نیٹو کا رکن ہے۔ گو کہ اب روس نے ترکی سے تعلقات بہت بہتر کر لیے ہیں۔

لیکن جب تک ترکی نیٹو کا رکن ہے یہ مسئلہ بہرحال رہے گا۔ تیسرا راستہ سینٹ پیٹربرگز ہے لیکن یہاں بھی سردیوں میں برف جم جاتی ہے- اور مزید یہ کہ اسے بھی ڈنمارک کے سامنے سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے جو ایک بار پھر نیٹو کا رکن ملک ہے۔ اب آپ دیکھیں کہ روس کے تجارتی راستے کتنے مسائل کا شکار ہیں۔ لیکن ان سب مسائل کے باوجود روس دنیا کی بارہویں بڑی معاشی طاقت ہے۔

آئٰ ایم ایف 2017 کے مطابق روس کا جی ڈی پی ایک ہزار پانچ سو ستائیس ارب ڈالر ہے- جو پاکستان کے تین سو چار ارب ڈالر سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ روس کے مقابلے میں امریکہ کا جی ڈی پی انیس ہزار تین سو اکانوے ارب ڈالر ہے۔ چین بارہ ہزار پندرہ، بھارت دوہزار چھے سو گیارہ اور بنگلہ دیش دوسو اکسٹھ ارب ڈالر کے جی ڈی پی پر کھڑے ہیں۔ اتنے مشکل جغرافیے کے باوجود آپ دیکھیں کہ روس نے دوہزار سترہ میں دنیا کو دو سو انہتر ارب ڈالر کی مصنوعات فروخت کیں-

اور ایک سو اسی ارب امریکی ڈالر کی خریدیں۔ جو چیزیں روس فروخت کرتا ہے ان کا بڑا حصہ معدنیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ یعنی وہ چیزیں جو را میٹیریل کی شکل میں زمین سے نکلتی ہیں۔ کروڈ آئل، ریفائنڈ آئل، پٹرولیم، گیس، ڈائمنڈز اور ایلومینیم وہ بڑی ایکسپورٹس ہیں جو روس دنیا کو بیچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہائی ٹکنالوجی پراڈکٹس روس کو باہر سے خریدنا پڑتی ہیں-

جیسے کاریں، گاڑیوں کے پرزے، کمپیوٹرز، ادویات اور الیکٹرانکس وغیرہ- لیکن اسلحہ ایک ایسی چیز ہے جس میں روس دنیا کے بہترین ملکوں کے مقابلے کھزا ہے سوائے امریکہ کے۔ کیونکہ وار ٹکنالوجیز میں امریکا کا دور دور تک کوئی مقابل نہیں ہے۔ روسی اسلحے کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ حتیٰ کہ چین اور بھارت جیسے بڑے ممالک بھی روسی اسلحے کے محتاج ہیں۔

روس نے دوہزار تیرہ سے دوہزار سترہ کے درمیان سینتالیس ممالک کو اسلحہ فروخت کیا۔ یہ فروخت دنیا میں اسلحے کی کل برآمدات کا بائیس فیصد ہے۔ روسی اسلحے کے بڑے خریدار بھارت، چین، سعودی عرب اور ویتنام ہیں۔ دوسری طرف اسی عرصے کے دوران امریکہ نے دنیا میں سب سے زیادہ اٹھانوے ممالک کو وارمشینز فروخت کیں۔ یہ دنیا میں کل فروخت کا چونتیس فیصد تھا۔

ترکی اور سعودی عرب نے روس سے میزائل دفاعی نظام خریدنے کے سودے کررکھے ہیں۔ ایران تو روس کا ایس تھری ہنڈرڈ میزائل دفاعی نظام نصب بھی کر چکا ہے۔ جبکہ بھارت اور روس ایس فورہنڈرڈ میزائل ڈیفنس سسٹم کی ڈیل فائنل کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی امریکہ سے ایف سولہ نہ ملنے پر رشین سخوئی طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

How Powerful is Russia? | Most Powerful Nations on Earth | In Urdu

ابھی حال ہی میں روس نے پاکستان کو جدید “ایم آئی35ایم” اٹیک ہیلی کاپٹرز بھی فراہم کئے ہیں۔ مڈل ایسٹ میں جو خانہ جنگی جاری ہے، اس میں روس، شام کے صدر بشارالاسد کی مدد کر رہا ہے- جبکہ امریکہ اور سعودی عرب شامی باغیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ روسی فضائیہ کی مدد سے ہی بشارالاسد نے شامی باغیوں کو شکست دے کر شام کے زیادہ تر علاقے پر کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

شام میں خانہ جنگی روس کی وار انڈسٹری کیلئے ایک نعمت بھی ثابت ہوئی ہے۔ وہ یوں کہ ماسکو اب تک شام میں دو سو سے زائد اپئے بناے ہوے ہتھیاروں کو ٹیسٹ کر چکا ہے۔ ان ہتھیاروں میں ’’بیٹل فیلڈ روبوٹس‘‘ اور ڈرونز سر فہرست ہیں۔ لیکن لیکن لیکن ان میں ایک وہ ہتھیار بھی ہے جس نے امریکیوں کو پریشان کر دیا تھا۔ اور وہ تھا ٹی نائنٹی ٹینک۔ یہ وہ ٹینک ہےجس پر میزائل بھی اثر نہیں کرتا۔

.شامی باغیوں نے جب ایک ٹینک کو امریکہ کے دئیے ہوئے اینٹی ٹینک میزائل سے نشانہ بنایا تو ٹینک کو کچھ بھی نہیں ہوا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ انسان کس چیز سے ہلاک ہوئے؟ ایٹم بم سے؟ نہیں، مچھر کے کاٹنے سے؟ نہیں، سمندروں میں ڈوب کر؟ جی نہیں- پچھلی ڈیرھ سو سال میں سب سے زیادہ انسان اس ہتھیار نے ہلاک کیے ہیں۔

اسے کلاشن کوف کہتے ہیں۔ شاید تاریخ میں روس کی اس سے بڑی جنگی ایجاد اور کوئی نہ ہو۔ اسے بیسویں صدی کے وسط میں میخائل کلاشنکوف نے ڈیزائن کیا اور اپنے نام پر اس کا نام رکھا تھا۔ یہ اتنی سادہ اور کارآمد سب مشین گن ہے کہ بہت سے جھنڈوں میں اس کی تصویر نقش ہے۔ جیسے میوزمبیق، حزب اللہ اور ایرانی انقلابی گارڈز کے پرچم۔ روسی کی سیاسی قوت بھی بہت زیادہ ہے۔

روس کے پاس بھی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور ہے- جس کے بل بوتے پر وہ آج بھی امریکہ کے مقابلے میں برابر سیاسی کی طاقت ہے۔ روس پچھلے چند سال میں اپنے اتحادی شام کے خلاف امریکہ اور یورپ کی بہت سی قراردادوں کو ویٹو یعنی رد کر چکا ہے۔ روس کو اپنے اتنے بڑے جغرافئیے کی وجہ سے ہی نا قابل شکست سمجھا جاتا ہے۔

اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ روس کا جغرافیہ اتنا بڑا اور موسم اتنا سرد ہے کہ آج تک کوئی بیرونی طاقت روس پر قبضہ نہیں کر سکی۔ ڈیفنس ایکسپرٹس کہتے ہیں روس پر قبضے کیلئے ایک کروڑ تیرہ لاکھ فوج چاہیے۔ یعنی دنیا کے چودہ سب سے زیادہ فوج رکھنے والے ممالک کی کل فوج سے بھی زیادہ بڑی فوج۔ اور ظاہر ہے ایسا تو کہانیوں میں ہی ہو سکتا ہے۔

کیونکہ جو بھی روس پر حملہ کرے گا اسے روسی فوج سے زیادہ وہاں کے سرد موسم سے لڑنا پڑے گا۔ فرانسیسی شہنشاہ اور مشہور زمانہ فاتح، نپولین بونا پارٹ چھے لاکھ سے زائد فوج لے کر روس فتح کرنے نکلا تھا۔ لیکن اس کی فوج سرد موسم سے ہار گئی۔ اور اتنا برا ہاری کہ اسی فیصد فوج تباہ ہوئی- اور بمشکل ایک لاکھ سپاہی برے حالوں میں زندہ واپس لوٹے۔

اس طرح دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر نے بھی تقریباً اڑتیس لاکھ فوج کے ساتھ روس پر حملہ کیا۔ لیکن روس فتح ہونا تو درکنار، ہٹلر کے لیے فوج کی زندہ واپسی ہی ناممکن ہو گئی۔ دس لاکھ جرمن فوج ماری گئی اور باقی گرفتار ہو گئی۔ قریب تھا کہ روسی فوج ہٹلر کو بھی گرفتار کر لیتی- لیکن ہٹلر نے خودکشی کر لی۔ اور جنگ روسی سرد موسم کی طرح سرد ہو گئی۔

یعنی ہم یہ کہہ سکتے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی ایک بڑی وجہ روس کا موسم بھی تھا۔ بزنس انسائیڈر کے مطابق امریکہ کے بعد روس دنیا کی دوسری سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔ جبکہ چین تیسری، بھارت چوتھی اور پاکستان تیرہویں بڑی ملٹری پاورز ہیں۔ روس کے پاس سات لاکھ چھیاسٹھ ہزار فوج، بیس ہزار سے زائد ٹینک اور تین ہزار آٹھ سو لڑاکا طیارے ہیں۔

روس کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ سات ہزار ایٹمی ہتھیار ہیں- جبکہ امریکہ کے پاس چھ ہزار آٹھ سو، چین کے پاس دو سو ستر- پاکستان کے پاس ایک سو چالیس اور بھارت کے پاس ایک سو تیس ایٹم بم محفوظ ہیں۔ اور ہماری خواہش ہے کہ ان میں سے کسی کو کبھی بھی چلانے کی نوبت نہ آئے- دوہزار سترہ میں روس دفاع پر خرچ کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک تھا۔

اس کا دفاعی بجٹ چھیاسٹھ اعشاریہ تین ارب ڈالر تھا۔ جبکہ دوہزارسترہ میں امریکہ نے دفاع پرچھ سو دس، چین نے دو سو اٹھائیس، بھارت نے تریسٹھ اعشاریہ نو- پاکستان نے آٹھ اعشاریہ سات آٹھ ارب ڈالر خرچ کئے۔ روس کے جارحانہ رویے کے باعث اسے بڑے بڑے مسائل کا سامنا بھی ہے۔

امریکہ اور یورپ نے روس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ جن کے تحت روس بہت سے عالمی تجارتی معاہدے نہیں کر سکتا۔ جواب میں روس نے بھی امریکی درآمدات پر پابندی لگا کر امریکی معیشت کو تھوڑا بہت نقصان پہنچایا ہے۔ روسی صدر پیوٹن نے پولینڈ کی سرحد کے قریب ایٹمی میزائل نصب کیے- تو جواب میں امریکہ پولینڈ میں ٹینکوں سمیت داخل ہو کر مورچہ زن ہو گیا۔

روس کا ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس نے مسلم آبادی والی ریاستوں چیچنیا اور داغستان پر کنٹرول کر رکھا ہے۔ جس کے باعث روس کو گوریلا حملوں کا سامنا رہتا ہے۔ چیچنیا کے مسئلے پر تو روس کی یورپی یونین میں شمولیت کا عمل بھی رک گیا تھا۔ جب روس نے کریمیا پر قبضہ کیا تو اسے ترقی یافتہ ممالک کے گروپ، جی ایٹ سے نکال باہر گیا۔ یہ گروپ اب جی سیون کہلاتا ہے۔

تاہم دنیا کے بیس بڑے ممالک والے گروپ جی ٹونٹی میں روس اب بھی شامل ہے۔ روس کے مخالفین میں امریکہ، یورپی یونین، یوکرین اور اسرائیل شامل ہیں۔ جبکہ ترکی، شام، ایران اور بھارت کا شمار روس کے دوستوں میں کیا جاتا ہے۔ چند برس پہلے تک پاکستان کا شمار بھی روس کے مخالفین میں ہوتا تھا- لیکن اب دونوں ممالک میں مشترکہ فوجی مشقیں اور ویپن ڈیلز ہو رہی ہیں۔

جبکہ روس، پاک چین اقتصادی راہداری یعنی سی پیک میں بھی دلچسپی لے رہا ہے۔ تاکہ اسے ایک اور پورٹ تجارت کے لے مہیا ہو سکے- تو دوستو لب لباب یہ کہ روس اپنے قدرتی وسائل اور جدید فوج کے باعث امریکہ کے بعد دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے۔ اتنا طاقتور کہ آن پیپر اگر دنیا کی تمام بڑی افواج مل کر بھی روس پر حملہ کریں تو بھی روس کو فتح نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری طرف یورپ اور امریکہ سے انتہائی خراب تعلقات، سمندری تجارتی راستوں کی کمی، کمزور جمہوریت، اندرونی بغاوتیں اور ہر مسئلے کا فوجی حل تلاش کرنے کی کوشش روس کی بڑی کمزوریاں ہیں

Read More:: How Powerful is Russia?

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button