History World Urdu

The Ottoman Empire | Battle of Ankara 1402 |

The Ottoman Empire

تو دوستو ہم تھے تیرہ سو نوے عیسوی میں اور ترک سلطنت کے کنارے پر۔ یہاں اُس وقت دنیا کی دو سب سے طاقتور ریاستوں کی سرحدیں مل رہی تھیں۔ ایک سلطنت عثمانیہ اور دوسری تیموری سلطنت۔ ایک کا سلطان بایزید اول اور دوسرے کا ایک جنگجو سردار امیر تیمور۔ ایک وہ جو ایشیا کے بعد یورپ کی ایمپائرز گرا رہا تھا، دوسرا وہ جو بغداد سے دہلی اور ازبکستان کے پہاڑوں تک تمام علاقے فتح کر چکا تھا۔ جب یہ دونوں سلطان آمنے سامنے آئے تو ایک کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔

The Ottoman Empire

میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی آٹومن ایمپائر سیریز میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے۔ اپنے بھائی یعقوب کو قتل کروانے کے بعد بایزید اول عثمانی سلطنت کا سلطان بن چکا تھا۔ عثمانی سلطنت مغرب یعنی یورپ تک پھیل چکی تھی۔ اسے سنبھالنے اور منظم کرنے کے لیے بایزید کو وقت چاہیے تھا۔ اس نے یورپ میں یہ کیا کہ سب سے بڑی اور قریبی سطلنت، سربیا جسے ترکوں نے ایک تاریخی جنگ میں شکست دی تھی، اسی کے شہنشاہ کی بیٹی سے شادی کر کے رشتہ داری اور امن قائم کر لیا۔

اب مشرق میں جس سلطنت سے انھیں سب سے زیادہ خطرہ تھا وہ تھی ترکوں ہی کی ایک دوسری مسلم ریاست، سلطنت قرمانیہ۔ قرمانیہ کو مصر اور مکہ مدینہ پر حکومت کرنے والی مملوک سلطنت کی بھی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ تو بایزید نے قرمانیہ سلطنت کے امیر علاؤالدین بے سے اپنی بہن کی شادی کر دی۔ اس میرج ڈپلومیسی سے یورپ میں تو امن ہو گیا لیکن قرمانیہ سے شادی کا بندھن بھی قرمانیہ کو اطاعت گزار ریاست نہ بنا سکا۔

قرمانیہ کے ترک سردار علاؤالدین بے نے اس وقت جب بایزید سمندر پار ایڈرین میں تھا اور یورپ میں ہنگری سے جنگ کی تیاری کر رہا تھا، عثمانی ترکوں کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ ساتھ ہی اس نے اپنے ہمسائے میں موجود کردوں کی ایک ریاست جرمیان پر بھی قبضہ کر لیا۔ بایزید فوج لے کر میدان میں آ گیا۔ اس نے علاؤالدین کو عبرتناک شکست دی۔ ہو سکتا تھا کہ اس لڑائی میں علاؤالدین بے ہی مارا بھی جاتا لیکن اپنی بیوی یعنی بایزید کی بہن کی مدد سے فرار ہو گیا۔

البتہ اس کے دونوں بیٹے محمد اور علی کو عثمانیوں نے گرفتار کر لیا۔ ایسی ہی جنگوں کے باعث قریب تھا کہ قرمانیہ کی ریاست سرے سے ختم ہی ہو جاتی لیکن اس دوران آج کے ازبکستان سے ایک طوفان اٹھا اور خود عثمانی سلطنت خطرے میں پڑ گئی۔ اس انقلاب کا نام تھا تیمور لنگ۔ امیر تیمور ایک جنگجو سردار تھا جس نے اپنی جنگی مہارت کے باعث سمرقند پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر اسے ہیڈکوارٹر بنا کر اس نے اپنی سلطنت کو موجودہ ازبکستان، پاکستان، بھارت، افغانستان اور ترکی کی سرحدوں تک پھیلا دیا تھا۔

کل ملا کر امیرتیور چالیس سے زیادہ چھوٹی بڑی ریاستیں اور ممالک فتح کر چکا تھا یا ان کے علاقے قبضے میں لے چکا تھا۔ یہ ایک طاقتور سطلنت بن چکی تھی جس کا حکمران اپنی جنگی قابلیت تو ثابت کر ہی چکا تھا لیکن ساتھ میں اپنی سفاکیت بھی۔ جی ہاں خوف امیر تیمور کا ہتھیار تھا وہ جس شہر میں داخل ہوتا بے دریغ ہزاروں لاکھوں غیر مسلح بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا۔ پورے کے پورے شہر جلا ڈالتا۔ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں سمیت گروہ کے گروہ جلتی آگ میں جھونک دیتا، زمین میں گاڑ دیتا یا ان کی گردنیں اڑا دیتا۔

اور پھر ان کی کھوپڑیوں کے مینار بناتا۔ ان کے جسموں کی چربی سے لاشوں کو آگ لگاتا اور کئی کئی دن تک انھیں جلنے کے لیے چھوڑ دیتا۔ پھر اپنے بے انتہا ظلم کی خبریں پھیلنے بھی دیتا تا کہ اس کے خوف کی دھاک دشمنوں پر بیٹھ جائے۔ خوف اس کا سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے دشمن اس سے لڑنے کے بجائے ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دیں۔ تیرہ سو ننانوے میں اسی تیموری سلطنت کی سرحدیں سلطنت عثمانیہ کو چھونے لگیں تھیں۔ عثمانی اور تیموری دونوں سلطان صاف دیکھ رہے تھے کہ آج نہیں تو کل دونوں کا ٹکراؤ ہو کر رہے گا۔

کیونکہ دونوں حکمرانوں میں ایروگنس اور غرور بہت زیادہ تھا۔ اس کا اظہار ان خطوط میں بھی ہوتا ہے جو دونوں نے ایک دوسرے کو لکھے تھے۔ یہ خطوط کیوں لکھنا پڑے؟ ہوا یہ کہ امیر تیمور مسلمان علاقوں پر حملے اور قبضے کر رہا تھا۔ اسی دوران اس نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، ہزاروں لوگوں کو قتل کیا اور عراق پر قبضہ کر لیا۔ انھی حملوں کے دوران ایک بغدادی شہزادہ پرنس طاہر پناہ کے لیے سلطنت عثمانیہ کے پاس جا پہنچا اور اسے پناہ مل بھی گئی۔

اسی طرح اناطولیہ کے وہ علاقے جن پر سلطنت عثمانیہ نے قبضہ کیا تھا، ان کے مسلم سردار امیر تیمور کے پاس پناہ لینے چلے گئے اور انھیں پناہ مل بھی گئی۔ اب ظاہر ہے ایک دوسرے کے دشمنوں کو پناہ دینا تو دونوں میں سے کسی کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔ وہ اندر ہی اندر ایک دوسرے کو سبق سکھانے کا پلان کرنے لگے۔ امیر تیمور نے سلطان بایزید کو قاصدوں کے ذریعے ایک خط بھیجا۔

خط میں لکھا کہ تم نے جو علاقے کافروں سے چھینے ہیں انھیں اپنے پاس رکھو لیکن اس کے علاوہ جو علاقے ہیں وہ فوراً ان کے سرداروں کو واپس کر دو ورنہ میں خدا کا قہر بن کر تم سے بدلہ لوں گا۔ یہ خط ایک عالمی طاقت کو سیدھی سیدھی دھمکی تھی۔ اٹومین ایمپائر کے حکمران کو کوئی اس طرح مخاطب نہیں کرتا تھا۔ بایزید کو امیر تیمور کی گستاخی نے آگ بگولا کر دیا۔ اور اس نے بھی جواب میں شدید ردعمل دکھایا۔ اس نے پہلا کام تو یہ کیا کہ خط لے کر آنے والے تیموری قاصدوں کی داڑھیاں کاٹ دیں اور انھیں بے عزت کر کے واپس بھیج دیا۔

یہ اس بات کا پیغام تھا کہ سلطنت عثمانیہ کا سلطان کسی سے نہیں ڈرتا۔ یہ ایک طرح کا طبل جنگ تھا۔ لیکن جنگ سے پہلے ابھی آگ کو اور بھی بھڑکنا تھا۔ بایزید کو خبرملی کہ امیر تیمور مسلمانوں کی دوسری بڑی سلطنت، دولت مملوکیہ کے ساتھ مل کر سلطنت عثمانیہ پر چڑھائی کی تیاری کر رہا ہے۔ سلطان نے تیمور کو ایک غضب ناک خط بھیجا۔ اس میں لکھا کہ ’’چونکہ تمہارے لامحدود لالچ کی کشتی خودغرضی کے گڑھے میں اتر چکی ہے تو تمہارے لئے بہتر یہی ہو گا کہ اپنی گستاخی کے بادبانوں کو نیچے کر لو اور خلوص کے ساحل پر پچھتاوے کا لنگر ڈال دو کیونکہ سلامتی کا ساحل بھی یہی ہے۔

ورنہ ہمارے انتقام کے طوفان سے تم سزا کے اس سمندر میں غرق ہو جاؤ گے جس کے تم مستحق ہو۔‘‘ امیر تیمور تک یہ خط پہنچا۔ اب اس جنگ کو کوئی نہیں ٹال سکتا تھا۔ یورپی عیسائی جو ابھی کچھ دیر پہلے تک عثمانی ترکوں سے لڑ رہے تھے اور اسے اسلام اور عیسائیت کی جنگ قرار دے رہے تھے وہ امیر تیمور کو پیغام بھیجنے لگے کہ عثمانیوں کے خلاف وہ اس کا ساتھ دیں گے۔

یہاں تک کہ بظنٹائن ایمپائر نے بھی امیرتیمور کو خفیہ حمایت کا یقین دلا دیا تھا۔ اب تیموری فوج نے سلطنت عثمانیہ کی طرف حرکت شروع کر دی۔ اور اس نے چودہ سو ایک میں ترک سلطنت کے ایک حصے سیواس کا محاصرہ کر لیا۔ بہانہ اس کا یہ تھا کہ یہ علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں تھا اور بایزید نے اس پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے۔ لیکن یہ قلعہ بہت مضبوط تھا اور لمبے وقت تک محاصرہ جھیل سکتا تھا۔ بایزید کو خبر پہنچی تو اس نے اپنے بیٹے ارطغرل کو اس کی حفاظت کے لیے بھیجا۔

بظاہر یہ قلعہ فتح ہونا مشکل تھا کیونکہ اس کی دیواریں بہت مضبوط تھیں۔ لیکن امیر تیمور نے ایک زبردست چال چلی اور قلعے کی بنیادیں کھودوا ڈالیں۔ بنیادیں کھد جانے سے دیواریں گر گئیں اور شہر پر امیر تیمور کا قبضہ ہو گیا۔ پھر امیر تیمور نے گرفتار ترکوں اور شہریوں سے انتقام لیا اور اپنا ٹریڈ مارک یعنی خوف چار سو پھیلا دیا۔

اس نے چار ہزار قیدیوں کو قلعے کی بنیادوں میں زندہ گاڑ کر اوپر سے مٹی برابر کر دی۔ بایزید کے بیٹے اور دیگر سرداروں کو بھی امیر تیمور نے قتل کر دیا۔ ترک سلطان تک شکست اور بیٹے کی موت کی خبر پہنچی تو اب ظاہر ہے اس کے لیے مقابلے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

اس وقت بایزید قسطنطنیہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھا۔ لیکن تیمور کی کامیابیاں اور سلطنت عثمانیہ کے علاقوں کا چھن جانا ایسا الارمنگ فیکٹر تھا جسے نظر انداز کرنا بایزید کے بس میں نہیں تھا۔ چودہ سو دو عیسوی کے موسم گرما میں سلطان بایزید نوے ہزار کے لگ بھگ فوج لے کر مقابلے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔

اس نے انقرہ کے قریب ایسی جگہ کیمپ لگایا جہاں امیر تیمور کیلئے اس پر حملہ کرنا آسان نہیں تھا۔ جب امیر تیمور اپنی فوج کے ساتھ وہاں پہنچا تو وہ بھانپ گیا کہ یہاں وہ بایزید کو شکست نہیں دے سکتا۔ چنانچہ اس نے چال چلی اور فوج کے ساتھ پیچھے ہٹنے لگا۔ ظاہر ہے بایزید بھی اس کے تعاقب میں چل پڑا اور اپنے محفوظ کیمپ سے دور چلا گیا۔ امیر تیمور پیچھے ہٹ کر مشرق میں اپنی سلطنت کے بارڈر پر رک گیا لیکن یہاں بھی اسے اپنی پسند کا میدان نہیں ملا۔ بلکہ بایزید نے ایک بار پھر اسے ایک ایسے جنگل کے کنارے لا کھڑا کیا جہاں سٹریٹیجک ایڈوانٹج ترکوں ہی کو حاصل تھا۔

امیر تیمور کسی صورت بھی بایزید کو اس کی مرضی کا میدان نہیں دینا چاہتا تھا اس لئے وہ ایک بار پھر کنی کترا گیا۔ ایک انہونی ہو گئی۔ تیمور اپنے ڈیڑھ لاکھ لشکر سمیت کہیں غائب ہو گیا۔ با ہزید ہفتوں اس بات پر سر پٹختا رہا کہ اتنا بڑا لشکر آخر چلا کہاں گیا۔ پھر یوں ہوا کہ جولائی چودہ سو دو میں بایزید کو خبر مل گئی کہ امیر تیمور کا لشکر کہاں ہے۔

لیکن یہ خبر آسمانی بجلی کی طرح اس کے سر پر گری کیونکہ امیر تیمور کا گم شدہ لشکر ایک لمبا چکر کاٹ کر اس کے پیچھے انقرہ پہنچ گیا تھا اور شہر کا محاصرہ ہو چکا تھا۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ تیموری فوج نے بایزید کی واپسی کے راستے پر ساری فصلیں اور گودام بھی جلا دیئے تھے۔ بایزید کے پاس اب انقرہ جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ اور وہ بھی اس راستے سے گزر کر جہاں نہ کھانا تھا، نہ پینے کے لیے کچھ اب تیموری لشکر ایسی جگہ پر پوزیشننگ کر چکا تھا جو اسے زیادہ سوٹ کرتی تھی۔

یہاں امیر تیمور کو تین بڑے فائدے تھے۔ ایک یہ کہ میدان جنگ اس کی مرضی کا تھا دوسرے یہ کہ اس کی فوج بایزید سے تقریبا 60ہزار زیادہ تھی جبکہ اس میں ہندوستان سے لائے ہاتھی بھی شامل تھے۔ تیسرے یہ کہ اس کی فوج کو آرام کرنے اور تازہ دم ہونے کا موقع مل گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں اب بایزید کی فوج کو دیکھیں۔ اس مقام پر اسے تین بڑے نقصانات تھے۔ ایک یہ کہ اس کی فوج تھکی ہوئی فوج تھی، طویل سفر میں بھوکی پیاسی رہی تھی۔

دوسرے یہ کہ لمبے سفر اور بھوک کے باعث بیس ہزار ترک سپاہی راستے ہی میں دم توڑ چکے تھے۔ تیسرا اور سب سے بڑا نقصان فوج کی تنظیم میں چھپا تھا۔ وہ یہ کہ اس کی فوج میں تین طرح کے جنگجو تھے۔ ایک مٹھی کی طر فوج نہیں تھی۔ ایک وہ ینی چری فوج، جینسریریز جو سلطان کے خاص گارڈز تھے۔ سب سے طاقتور اور بھروسے کے سپاہی تھے۔

پھر وہ ترک اور تاتاری سپاہی تھے جنھیں پیسے دے کر فوج میں شامل کیا گیا تھا اور وہ کسی بھی لالچ کے تحت پارٹی کسی بھی وقت بدل سکتے تھے۔ تیسرے اور یورپی سربوں کے دستے جو باج گزار ریاست کی حیثیت میں عثمانی ترکوں کی فوج میں شامل تھے۔ ان سب کے باوجود دونوں سلطان بہرحال ایک بات تو اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی ملٹری مشینزکی جنگ ہونے جا رہی ہے کیونکہ اس وقت روئے زمین پر ان دونوں سے زیادہ طاقتور کوئی تیسری سلطنت نہیں تھی۔

یہ کم آباد اور کھلا کھلا خوبصورت شہر انقرہ کا ٹاؤن چوبوک ہے۔ یہ آج ترکی کے وسط میں ہے اور چھے صدیاں پہلے اسی شہر میں ڈیرھ لاکھ تیموری فوج، ستر ہزار ترک فوج کے سامنے کھڑی تھی۔ جو کل تک ایک دوسرے کو دھمکیاں بھیج رہے تھے آج عملی طاقت دکھانے کے لیے آمنے سامنے کھڑے تھے۔ پہلا حملہ امیر تیمور کی طرف سے ہوا لیکن ترک فوج نے حملہ پسپا کر دیا۔ لیکن پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جنگ پر تیموری لشکر حاوی ہوتا چلا گیا۔

یہاں تک کہ ایک موقعے پر سلطان بایزید نے اپنے ایک بیٹے سلیمان کو برصہ کی طرف واپسی کا حکم دیا جبکہ وہ خود، اس کے تین بیٹے اور سربین لشکر تیموری فوج کے مقابلے پر ڈٹے رہے۔ لیکن جب ترک لشکر کی ہلاکتیں بڑھنے لگیں تو سربین دستے بھی بایزید کے بیٹے سلیمان کے پیچھے بھاگے۔

اب میدان میں صرف بایزید اپنے چند وفاداروں کے ساتھ موجود تھا۔ یہ بہت چھوٹا دستہ تھا لیکن اس نے کئی گھنٹے تیموری گھڑسواروں کا مقابلہ کیا جو اسے ہر طرف سے گھیر چکے تھے۔ لیکن کب تک۔ ایک موقعے پر جب بایزید کے گرد صرف جینیسری ، یعنی اس کے ذاتی محافظ موجود تھے اس نے تیموری فوج کا گھیرا توڑ دیا اور فرار ہو گیا۔

تیموری فوج جیت چکی تھی لیکن سلطان بایزید بھی زندہ سلامت ان کی دسترس سے نکل چکا تھا۔ لیکن نہیں۔ ایک تیموری گھڑ سوار کے تیر نے بھاگتے ہوئے سلطان کے گھوڑے کو گرا دیا۔ سلطان بھی گر گیا اور امیر تیمور کا قیدی بن گیا۔ یہ سلطنت عثمانیہ کے لیے بدترین شکست تھی۔ اس سے بری شکست انھیں تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔ سلطنت عثمانیہ کا سلطان، تیموری سلطنت کا قیدی تھا اور اس کے تین بیٹے بھی امیر تیمور کی تلواروں کے نیچے تھے۔

لیکن تیمور نے اس کے بیٹوں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ امیر تیمور کی برتری تسلیم کرتے رہے۔ بایزید یورپ اور ایشیا کا بڑا فاتح تھا، یورپی طاقتیں اسے خراج دیا کرتی تھیں، وہ زیادہ دیر یہ تذلیل برداشت نہ کر سکا اور چند ہی ماہ میں دوران قید مر گیا۔ اس کے کچھ ماہ بعد چودہ سو پانچ میں امیر تیمور بھی مر گیا۔

تیموری سلطنت اس کے بعد کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ جبکہ سلطنت عثمانیہ بھی بایزید کے بیٹوں کے درمیان کئی حصوں میں بٹ چکی تھی اور خانہ جنگی کا شکار تھی۔ بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہو چکا تھا۔ لیکن اس خانہ جنگی میں سلطنت عثمانیہ بکھری ضرور مگر ختم نہیں ہوئی۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یورپ میں کوئی ایسی بڑی طاقت نہیں تھی جو بایزید اول کی حکومت ختم ہونے کے بعد یورپ سے ترکوں کو نکالنے کی کوشش کرتی یا اناطولیہ میں اس پر قبضہ کرتی۔

دوسرا یہ کہ امیر تیمور یا اس کے جانشین بھی اناطولیہ میں ٹھہر کر حکومت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے ترک سلطنت کو تیمور نے بھی کنٹرول میں نہیں لیا۔ توبہرحال بایزید کے 4 بیٹے محمد اول، سلیمان،عیسیٰ اور موسیٰ کے درمیان کوئی 11 برس تک یعنی 1402 سے 1413تک خونریز جنگیں ہوتی رہیں۔ ان لڑائیوں میں موسیٰ اور سلیمان مارے گئے۔

عیسیٰ ایسا بھاگا کہ تاریخ کے اوراق سے ہی غائب ہو گیا اور آخر میں بچا صرف محمت یا محمد اول۔ جو اب سلطان محمد اول تھا۔ محمد اول کا زیادہ تر دور عثمانی سلطنت کے بکھرے علاقوں کو جمع کرنے میں ہی گزر گیا۔ اس نے ایک اور کام یہ کیا کہ سلطنت عثمانیہ کی تاریخ لکھوانا شروع کر دی۔ آج ہم عثمانی ترکوں کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں اسے محمد اول نے ہی لکھوانا شروع کیا تھا۔

سلطان محمد اول کے انتقال کے بعد چودہ سو اکیس میں اس کا بیٹا مراد دوئم سلطان بنا اور چودہ سو اکاون تک حکمران رہا۔ اس نے فوج کو زیادہ منظم کیا اور پہلی بار خاص دستوں کو بندوق کا استعمال سکھایا۔ ان بندوقوں کو مسکیٹ کہتے تھے اور یہ یورپ میں نئی نئی متعارف ہوئی تھیں۔

مراد دوم نے یورپی طاقتیں جو عثمانیوں کو کمزور دیکھ کر بغاوت کر رہی تھیں ان کی بغاوتوں کو سختی سے کچلا۔ یونان، البانیہ اور سربیا کے زیادہ تر علاقے ایک بار پھر سلطنت عثمانیہ کے کنٹرول میں آ گئے۔ سلطان نے البانیہ میں زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو بسانا بھی شروع کیا۔

آج بھی البانیہ میں سب سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی موجود ہے۔ اسی کے دور میں عثمانی سلطنت ایک بار پھر دنیا کی سپر پاور بن گئی اور اتنی طاقتور ہو گئی کہ یورپین عیسائیوں کے لیے عظمت کی آخری علامت، رومن باظنٹائن ایمپائر کی نشانی قسطنطنیہ پر بھی قبضہ کر سکے۔ یہ شہر ایک ہزار سال سے رومیوں کی آنکھ کا تارا اور مرکز تھا۔

یہ دنیا کے مضبوط ترین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس کی دیواریں صدیوں سے ناقابل تسخیر تھیں۔ لیکن پندرہویں صدی میں یہ شہر عملاً چاروں طرف سے آٹومن ایمپائر کے گھیرے میں آچکا تھا۔ چودہ سو ترپن میں اس شہر کے لیے تاریخ کی ایک ایسی جنگ لڑی گئی جس کا انتظار سات سو سال سے کیا جا رہا تھا۔

Read More:: The Ottoman Empire | Battle of Ankara 1402 |

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button