History World Urdu

The Ottoman Empire | Battle of Lepanto & Napoleon Bonaparte

The Ottoman Empire

سلیمان عالی شان کی وفات کیا ہوئی سلطنت عثمانیہ کے عروج کا سورج بھی ڈوب گیا۔ گو کہ اس کے بعد بھی یہ سلطنت ساڑھے تین سو برس تک قائم رہی لیکن اب اس میں وہ طاقت باقی نہیں رہی تھی جو اس نے اپنے پہلے اڑھائی سو سال میں حاصل کی تھی۔ خلیفہ سلیمان کی وفات کے صرف پانچ برس بعد ترکوں کو ایک بحری جنگ میں زبردست شکست ہوئی جس نے ان کا سپر پاور سٹیٹس چھین لیا۔ عثمانی خلفا اپنے حرم تک محدود ہو گئے محلاتی سازشیں زور پکڑنے لگیں۔

The Ottoman Empire

جنیسریز اور فوج کے دوسرے دستوں میں بغاوتیں عام بات ہو گئی، سلطنت عثمانیہ کے درالحکومت استنبول میں لوٹ مار کوئی اچنبھے کی بات نہ رہی۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب فرانس کا شہنشاہ نپولین بونا پارٹ سلطنت عثمانیہ پر حملہ کر دیا۔ ترکی پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی کی سپرپاور تھا اسے یورپ کا مرد بیمار کیوں کہا جانے لگا؟

خلیفہ سلیمان کی موت کے بعد اس کا بیٹا سلیم ثانی حکمران بنا لیکن اس میں حکومت چلانے کی اہلیت ہی نہیں تھی۔ چنانچہ اس نے یہ کیا کہ اپنے سارے اختیارات اپنے وزیراعظم کو سونپ دیئے اور خود حرم میں اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ترک خلیفہ کی گرفت معاملات پر کمزور پڑنے لگی۔سلطنت کے ادارے بھی کمزور ہونے لگے۔

لیکن ابھی عثمانی فوجیں کمزور نہیں ہوئی تھیں۔ ترکوں کا بحری بیڑہ اب بھی بہت طاقتور تھا۔ اس بیڑے نے پندرہ سو ستر میں ترکی کے نیچے بحیرہ روم میں موجود جزیرے سائپرس کو یورپی ملک وینس سے چھین لیا۔ وینس نے اس پر پوپ سے مدد طلب کی اور پوپ کے کہنے پر سپین اور جنیوا نے ایک مشترکہ بحری بیڑہ تیار کیا جسے ہولی لیگ کا نام دیا گیا۔

خیرالدین باربروسا کی قیادت میں ترک بحری بیڑے نےاس سے پہلے بننے والی ہولی لیگ کو شکست دی تھی۔ لیکن اب پندرہ سو اکہتر میں وقت ایک بڑی کروٹ لے چکا تھا۔ کوئی بحری کمانڈر ایسا نہیں تھا جوخیرالدین باربروسا کی کمی پوری کر سکے اور یہ بات یورپی طاقتوں کو اچھے سے معلوم تھی۔

سو یورپین ہولی لیگ نے تیزی سے ترک علاقوں کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ لیکن ادھر ترک بحری بیڑا اپنے معمول کے مطابق اپنی یونانی بیس پر جا چکا تھا۔ ترک بیڑے کے بہت سے تجربہ کار افیسر اور جوان چھٹی پر تھے۔ جو باقی رہ گئے تھے وہ دو دھڑوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ایک دھڑے کی قیادت کمانڈر پیالی پاشا اور دوسرے کی سرپرستی سوکولو مہمت کر رہا تھا۔

یہ دونوں کمانڈر دشمنوں سے لڑنے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی فکر میں زیادہ غلطاں رہتے تھے۔ اگرچہ ترک بیڑے کا سپریم کمانڈر تو علی پاشا تھا۔ لیکن پیالی پاشا اور سوکولو مہمت نے ترک فوج پر اپنا بہت زیادہ اثر قائم کر لیا تھا۔ چنانچہ دونوں کی باہمی لڑائی سے ترک سلطنت اوربیڑہ کمزور ہو رہے تھے۔

یہاں یہ آپسی رسہ کشی چل رہی تھی تو دوسری طرف ہولی لیگ کے جہاز ترکوں کی اسی یونانی بیس کے قریب پہنچ گئےتھے۔ صورتحال یہ تھی کہ ترکوں کے پاس دو سو ستر بحری جنگی جہاز تھے جبکہ ہولی لیگ کے جہازوں کی تعداد دو سو بیس تھی۔ لیکن ہولی لیگ کو یہ فائدہ تھا کہ اس کے پاس چھے ایسے جنگی جہاز تھے جو ترکوں سے زیادہ طاقتور تھے۔

ان میں بڑی بڑی توپیں نصب تھیں اور دشمن کی گولہ باری سے تحفظ کے لیے حفاظتی شیلڈز بھی موجود تھیں۔ ہولی لیگ کے سپاہی اس وقت کی ماڈرن بندوقوں سے لیس تھے۔ اور تو اور ان کی زرہ بکتریں بھی ترکوں سے زیادہ بہتر اورمضبوط تھیں۔ سات اکتوبر پندرہ سو اکہتر کو دونوں بیڑوں میں جنگ شروع ہو گئی۔ اس جنگ میں ترکوں نے ایک بڑی غلطی کی۔

وہ یہ کہ انہوں نے اپنی محفوظ بندرگاہ سے باہر نکل کر صلیبی بیڑے پر حملہ کر دیا۔ اس دور کی بحری جنگوں میں ہوا کی سمت اور رفتار کی بہت اہمیت ہوتی تھی۔ کیونکہ اسی کے مطابق بحری جہازوں کی پوزیشنز بدلی جاتی تھیں۔ اب ترکوں کے ساتھ پہلا مسئلہ تو یہ ہوا کہ ہوا ان کے مخالف تھی۔ دوسرا یہ کہ صلیبیوں نے اپنے چھے طاقتور جہازوں کو فرنٹ لائن پر رکھا۔

ان جہازوں نے ترک بیڑے پر اتنی بمباری کی کہ ترکوں کی صفیں ٹوٹ گئیں، جہاز ادھر ادھر بکھر گئے۔ اورصلیبی بیڑے کے جہازوں نے اب بکھرے ہوئے جہازوں کو گھیر لیا۔ صلیبی بیڑے کے کمانڈر ڈان جوآن نے ترک بیڑے کے سربراہ علی پاشا کے بحری جہاز سے اپنا جہاز ٹکرا دیا۔ صلیبی فوجی ترک جہاز پر کودے اور دست بدست ون آن ون لڑائی شروع ہو گئی۔ اب صلیبیوں کے پاس زیادہ بندوقیں تھیں، جو ماڈرن بھی تھیں اور ان کی زرہ بکتر بھی ترکوں سے کہیں بہترتھی۔

سو نتیجہ یہ نکلا کہ ترک سپاہی صلیبیوں کے ہاتھوں ایک ایک کر کے موت کے گھاٹ اترنے لگے۔ اگرچہ ترک اپنی روایتی بہادری سے مقابلہ کر رہے تھے لیکن یہ مقابلہ صرف مسلز اور ول پاور کا نہیں، ٹکنالوجی کا بھی تھا، جس میں ظاہر ہے اب کی بار صلیبی آگے تھے۔ تو ایک صلیبی نے ترک کمانڈرعلی پاشا کے سرکا نشانہ لے کر گولی چلا دی۔ اس کے بعد علی پاشا کا سر قلم کر کے جہاز کے ستون سے باندھ دیا گیا۔

اپنے کمانڈر کی موت کے بعد ترکوں میں بھگدڑ مچ گئی اور ان کے جہاز ایک ایک کر کے دشمن کا شکار ہونے لگے اور سپاہی ہتھیار ڈالنے لگے۔ یوں چند گھنٹوں کے اندر اندر ترکوں کے دو سو باسٹھ بحری جہاز یا تو تباہ ہو گئے یا ان پر صلیبیوں نے قبضہ کر لیا۔ تیس ہزار ترک سپاہی مارے گئے جبکہ ترک جہازوں پر کام کرنے والے پندرہ ہزار عیسائی غلاموں کو صلیبی بیڑے نے آزاد کروا لیا۔ ترکوں کے مقابلے میں صلیبی بیڑے کا نقصان حیرت انگیز طور پر بہت کم تھا۔

اس معرکے میں صلیبیوں کے صرف پندرہ جہاز تباہ ہوئے اور ساڑھے سات ہزار صلیبی جان سے گئے۔ اس جنگ کو تاریخ میں بیٹل آف لیپانٹو کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیپانٹو کی لڑائی ترکوں تاریخ کی سب سے بڑی بحری شکست تھی۔ اس ہار سے سلطنت عثمانیہ کا سپرپاور سٹیٹس گہنا گیا۔ اب یورپ میں سپین سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آیا اوردیگر یورپی ملک بھی خود کو عثمانیوں کا ہم پلہ سمجھنے لگے تھے۔

پورے یورپ میں لیپانٹو کی فتح کا جشن منایا گیا۔ لیکن ترکی اتنا بھی بے بس نہیں تھا۔ ترکوں نے ایک ہی برس کے اندر اپنا بحری بیڑہ دوبارہ تیار کیا اور اس میں آٹھ ایسے بڑے بحری جہاز شامل کئے جو اس سے پہلے بحیرہ روم میں کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ ففٹین سیونٹی فائیو میں ترک بیڑے نے تیونس پر حملہ کر کے اسے سپین سے چھین لیا۔

تیونس میں ترکوں کا ایک قلعے میں موجود سپین کے سات ہزار فوجیوں سے سامنا بھی ہوا۔ ان فوجیوں نے ایک لاکھ ترکوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یورپی مصنفین تو کہتے ہیں کہ ان فوجیوں نے قلعے پر ترکوں کے بائیس حملے ناکام کیے اور پچیس ہزار ترک سپاہیوں کو موت کے گھاٹ بھی اتارا۔ جبکہ اس مقابلے میں سپین کے سات ہزار میں سے صرف تین سو سپاہی زندہ بچے۔ جنھیں ترکوں نے گرفتار کر لیا تھا۔

بیٹل آف لیپانٹو کی شرمناک شکست کے بعد یہ ترکوں کے لیے بڑی کامیابی تھی لیکن اس میں مسئلہ یہ تھا کہ یہ آخری کامیابی تھی۔ تیونس کی فتح کے بعد عثمانیوں کو پھر کوئی ایسی عظیم فتح نصیب نہیں ہو سکی۔ ان کا باقی وقت عظیم سلطنت کی حفاظت یا چھوٹے چھوٹے علاقے فتح کرنے میں گزرتا رہا۔

پندرہ سو چوہتر میں تیونس فتح ہوا تھا اور اسی برس سلیم ثانی کا انتقال ہو گیا اور اس کا بیٹا مراد سوئم خلیفہ بن گیا۔ مراد اپنے والد سے بھی زیادہ عیاش ثابت ہوا۔ اس کے حرم میں چالیس کے قریب خواتین تھیں۔ پندرہ سو پچانوے میں جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے ایک سو تیس بیٹے اور ان گنت بیٹیاں تھیں۔ مراد سوئم کے بعد اس کا بیٹا محمد سوئم خلیفہ بنا۔

اس نے اپنے باقی ایک سو انتیس بھائیوں کو تو قتل نہیں کیا لیکن انیس ایسے بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتارا جو اس کے خیال میں اس کی سلطنت کو چیلنج کر سکتے تھے۔ یہی نہیں محمد سوئم اس حد تک ظالم ثابت ہوا کہ اس نے اپنی بیس سے زائد بہنوں کو بھی قتل کروا دیا حالانکہ ترکوں میں بھائیوں کے قتل کا رواج تو تھا، لیکن سلطان بننے کے بعد کبھی کسی نے بہنوں کو قتل نہیں کیا تھا۔

محمد سوئم پہلا شخص تھا جس نے ایسا کیا۔ محمد سوئم انتہائی شکی مزاج انسان تھا، اسے اپنے بیٹے محمود پر شک گزرا کہ وہ اس کے خلاف بغاوت کر سکتا ہے، تو اس نے اپنےدور ہی میں اپنے بیٹے کو قتل کروا دیا۔ اس کے دور میں عثمانی فوج کے ترک النسل سپاہیوں نے بغاوت کر دی اور استنبول میں لوٹ مار کا بازار گرم ہو گیا۔

یہ سپاہی چاہتے تھے کہ خلیفہ پر سے جنیسریز کا اثرورسوخ ختم ہو جائے کیونکہ ترک سپاہی جنیسریز کو غیرملکی سمجھتے تھے اور ان کے بڑھتے ہوئے اثر کو اپنے اقتدار کیلئے خطرہ سمجھتے تھے ترک سپاہیوں کی بغاوت کو کچلنے کیلئے جنیسریز نے سپاہیوں کی بیرکس کو آگ لگا دی جس میں سینکڑوں سپاہی زندہ جل مرے۔ باقی سپاہی ٹولیوں کی شکل میں فرار ہو گئے اور سلطنت کے مختلف حصوں میں جا کرلوٹ مار کرنے لگے۔

استنبول میں بغاوت تو کچلی گئی لیکن اس کا ایک سائیڈ ایفکٹ بہت خطرناک ہوا۔ وہ یہ کہ بغاوت کو کامیابی سے کچلنے والے جنیسریز پہلے سے زیادہ طاقتور ہو گئے۔ اتنے طاقتور کہ جنیسریز نے سلطنت کے اندر بڑے بڑے کاروبار شروع کر دیئے۔ وہ تجارت کرنے لگے، بڑی بڑی جاگیریں اور جائیدادیں بنانے لگے۔

جنیسریز کے اثرورسوخ کو دیکھتے ہوئے عام ترک شہری بھی اس فورس میں شامل ہونے کی خواہش کرنےلگے تھے۔ حالانکہ اس سے پہلے اس فورس میں صرف یورپی عیسائیوں کے بچوں کو ہی شامل کیا جاتا تھا۔ لیکن سترہویں صدی میں یہ حال ہو گیا کہ ترک شہری بھی بڑی تعداد میں اس فورس کا حصہ بن گئے۔ حتیٰ کہ اس فورس میں عہدے حاصل کرنے کیلئے بڑی بڑی رشوتیں اور سفارشیں بھی چلنے لگی۔

اس فورس کی تعداد عام طور پر تیس، پینتیس ہزار ہوا کرتی تھی۔ لیکن جیسے جیسے ان کا کاروبار پھیلتا گیا یہ سلطنت کے اندر ایک اور سلطنت بنتے گئے اور ان کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔ یوں جینسیریز بڑھتے بڑھتے دو لاکھ تک جا پہنچے۔ یعنی اپنی روایتی تعداد سے تقریباً چھے گنا زیادہ۔ تو یہ وہ حالات تھے جن میں محمد سوئم کا انتقال ہوا۔ اس کے انتقال کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔

کہتے ہیں کسی بزرگ نے پیش گوئی کی تھی کہ محمد سوئم پر پچپن روز کے اندر کوئی مصیبت ٹوٹے گی۔ محمد سوئم نے اس پیش گوئی کااتنا اثر لیا، کہ وہ پریشان رہنے لگا اور اس کی صحت تیزی سے گرنے لگی۔ اور پیش گوئی کے آخری دن پچپن ویں دن محمد سوئم کا انتقال ہو گیا۔ محمد سوئم کی موت سولہ سو تین میں ہوئی تھی۔ اب اس کی جگہ اس کا بیٹا احمد خلیفہ بنا۔

احمد نے بھائیوں کو قتل کرنے کی ظالمانہ روایت ختم کر دی اور اعلان کر دیا کہ اب ہر خلیفہ کا بڑا بیٹا ہی خلیفہ بنے گا۔ اگرچہ احمد اول کا یہ اقدام اخلاقی اور انسانی طور پر درست تھا لیکن اس کا ایک نقصان سلطنت عثمانیہ کو ہوا۔ وہ یہ کہ اس سے پہلے عثمانیوں میں خلافت کیلئے جنگ ہوتی تھی تو ان میں جو سب سے طاقتور اور اہل بیٹاہوتا تھا وہ اپنے بھائیوں پر قابو پا کر حکومت سنبھال لیا کرتا تھا۔

ایسا حکمران سلطنت کا انتظام بھی اچھے طریقے سے چلاتا تھا اور اس کے خوف سے سلطنت میں بغاوتیں بھی نہیں ہوتی تھیں،یا کم ہوتی تھیں لیکن اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ ہر خلیفہ کے بعد اس کے ورثا کے درمیان حکومت میں زیادہ سے زیادہ اثرورسوخ حاصل کرنے کی لڑائی شروع ہو نے لگی۔

سازشیں ہونے لگیں اوران سازشوں سے شاہی محلات کی عورتیں طاقت پکڑنے لگیں۔ وہ اپنے بیٹوں کو خلیفہ بنوانے کیلئے ہر جائز و ناجائز کام کرتی تھیں اورمحلاتی سازشوں کا بازار گرم رکھتی تھیں۔ عثمانی حکمرانوں سے ایک غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے اپنے شہزادوں کو حکومت کی تربیت دینے کی روایت بھی ختم کر دی۔

پہلے عثمانی حکمران اپنے شہزادوں کو مختلف علاقوں کا گورنر بنا کر حکومتی امور کی تربیت دیا کرتے تھے۔ لیکن خلیفہ سلیمان کی وفات کے بعد جلد ہی یہ روایت دم توڑ گئی۔ اب شہزادے محلوں کے اندر ہی رہتے تھے۔ ان کی مائیں، کنیزیں اورخواجہ سرا ان کی تربیت کرتے تھے نتیجہ یہ نکلا کہ یہ لوگ سلطنت کے پیچیدہ امورسنبھالنے اور سمجھنے کے قابل ہی نہ رہے۔

سترہویں صدی یعنی سن سولہ سو سے سترہ سو تک کا دور عثمانی کیلئے تباہی کا دور تھا جس میں یہ سلطنت تیزی سے زوال پذیر ہوتی رہی۔ اس کے زوال کی ایک وجہ تو یہی محلاتی سازشیں، کمزور خلیفہ اور فوجیوں کی بغاوتیں تھیں۔ لیکن اس کے علاوہ بھی کئی باتیں تھیں جو سلطنت عثمانیہ کی تباہی کا باعث بن رہی تھیں۔

ایک وجہ تو یہ تھی کہ یورپین رینیسانس یا نشاۃ ثانیہ کی وجہ سے پورے یورپ میں جدید سائنس اور ثقافت کو اختیار کیا جا رہا تھا۔ لیکن ترکی اس میدان میں بہت پیچھے تھا،بیک ورڈ تھا جدید سائنسی تقاضوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ترک انڈسٹری بھی یورپی مصنوعات کے مقابلے میں صفر ہو گئی تھی۔

اب یہ ہونے لگا تھا کہ یورپی ممالک سلطنت عثمانیہ سے خام مال سستے داموں خریدتے تھے اور اسی خام مال کو پراڈکٹس تیار کر کے واپس سلطنت ہی میں مہنگے داموں بیچنے لگےتھے۔ یہی ا کی مارکیٹ تھی اور یہی سے وہ خام مال لیتے تھے۔ اس طرح وہ ڈھیروں منافع کمانے لگے۔اورترک کرنسی کی قیمت گرنے لگی۔

سلطنت عثمانیہ کا مڈل کلاس طبقہ مہنگائی کی چکی میں پسنے لگا۔ یورپ کی اپ گریڈ ہوتی انڈسٹری کے مقابلے میں پرانے طریقوں سے کام کرتی ترک انڈسٹری بند ہوتی جا رہی تھی۔ لوگ بیروزگار ہوئے تو ان میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی خواہش زور پکڑنے لگی۔

سرکاری عہدے حاصل کرنے کیلئے رشوتیں دی جانے لگیں۔ نا اہل لوگ بھاری رشوتیں دے کر بڑے بڑے حکومتی عہدے حاصل کرلیتے اور پھر رشوت کی رقم سود سمیت وصول کرنے کیلئے کرپشن کا بازار گرم کر دیتے۔ اور یوں سلطنت کے تمام سرکاری محکمے ایک ایک کر کے کرپٹ سے کرپٹ تر ہوتے چلے گئے۔ حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے تھے کہ ان حالات میں سلطنت عثمانیہ میں ایک نیا خلیفہ آیا۔

اس خلیفہ کا نام تھا مراد چہارم۔ سولہ سو تئیس میں مراد چہارم صرف بارہ برس کی عمر میں تخت پر بیٹھا۔ خلیفہ بننے کے بعد جب وہ پہلی بار شاہی خزانے کا جائزہ لینے کے لیے خزانے والے کمرے میں گیا تو دیکھا کہ وہاں صرف بیس ہزار پیاستر اور الماریوں میں چند مونگے اور چینی کے برتن ہی پڑے ہیں اور کچھ بھی نہیں۔

بادشاہ نے سجدہ کیا اور پھر کہا کہ انشاء اللہ میں اس خزانہ کو ان ہی لوگوں کی جائیدادوں سے بھر دوں گا، جنہوں نے اسے لوٹا ہے۔ لیکن ابھی مراد چہارم اپنے ارادوں پر عمل شروع بھی نہیں کر پایا تھا کہ اس کے خلاف ایک بغاوت ہو گئی۔ ہوا یہ کہ اس دور میں سلطنت عثمانیہ میں باغی سپاہی جگہ جگہ لوٹ مار کر رہے تھے۔ وزیراعظم حافظ پاشا نے مراد کو مشورہ دیا کہ وہ ان باغیوں کو دعوت دے کہ وہ استنبول آ کر خلیفہ کے سامنے اپنے مطالبات پیش کریں تاکہ ان کی بغاوت ختم ہو سکے۔

مراد نے اپنے وزیراعظم کی بات مان کر باغیوں کو استنبول آنے کی دعوت دے دی۔ وہ یہ دعوت تو دے بیٹھا لیکن بعد میں بہت پچھتایا۔ کیونکہ باغی سپاہی کسی منظم فورس کی طرح نہیں بلکہ ایک بے ہنگم ہجوم کی طرح استنبول میں داخل ہوئے اور سارے شہر میں لوٹ مار شروع کر دی،جو کہ ان کا شیوا تھا باغیوں کی بلیک میلینگ نے خلیفہ کو مجبور کردیا کہ وہ ان کی ہر بات مانے۔ باغیوں کے دباؤ پر ہی مراد چہارم نے وزیراعظم حافظ پاشا اور شیخ الاسلام یحییٰ آفندی سمیت سترہ اعلیٰ عہدیدارتک برطرف کر دیئے۔

ان برطرف کئے گئے لوگوں کو باغیوں نے محل کے دروازے پر خلیفہ کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا۔ باغی سپاہیوں نے ایسی لوٹ مچائی ہوئی تھی اور اتنا خزانہ سمیت رہے تھے۔ کہ انہیں دیکھ کر دوسرے علاقوں سے لٹیروں کے گروہ بھی استنبول میں داخل ہو نے لگے۔ وہ امیر لوگوں کے گھروں کو گھیر لیتے اور گن پوائنٹ پر بڑی بڑی رقمیں وصول کرتے۔

یہ لوٹ مار جاری تھی کہ رمضان کا مہینہ آن پہنچا۔ لیکن استنبول میں حالت یہ تھی کہ کسی کو رمضان کے روایتی تقدس کا کوئی خیال نہیں تھا۔ غنڈے موالی شراب پی کر شہر کی گلیوں میں مدہوش پڑے رہتے تھے لیکن کسی میں ہمت نہیں تھی کہ انھیں روکے یا ٹوکے۔ اس ساری لوٹ مار اور غنڈہ گردی سے مراد چہارم اور استنبول کے شہری تنگ آ گئے تھے۔ لٹیروں سے نمٹنا بہت ضروری تھا۔

چنانچہ مراد نے شہر کے طاقتور لوگوں کو جمع کیا اور ان سے حلف لیا کہ وہ ہر حال میں اس کا ساتھ دیں گے۔ اس کے بعد اس نے اُنھی لٹیروں کے ہاتھوں لوٹنے والے شہریوں کی ایک فوج بنائی۔ اور یہ فوج اچانک ایک صبح لٹیروں اور باغیوں پر ٹوٹ پڑی۔ پھر شہر میں ایک قتل عام ہوا۔

جس میں شہری فوج روزانہ سینکڑوں باغیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی۔ اس کے بعد خلیفہ مراد چہارم نے فوج میں اصلاحات کیں اور سلطنت عثمانیہ کی طاقت کو کافی حد تک بحال کیا۔ اگر وہ طویل عرصہ جیتا رہتا حکومت کرتا رہتا تو شاید سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔

لیکن مراد چہارم کو زندگی نےزیادہ مہلت نہیں دی تھی۔ سولہ سو چالیس میں صرف ستائیس برس کی عمر میں مراد چہارم جگر کے مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کر گیا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو سلطنت عثمانیہ پہلے کی طرح سپرپاور تو نہیں رہی تھی مگر ایک بڑی طاقت کے طور پر خود کو منوا ضرور رہی تھی۔ مراد چہارم نے ترکوں میں جو خود اعتمادی پیدا کی تھی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سکسٹین ایٹی تھری میں عثمانی ترکوں نے ایک بار پھر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ ویانا کی فتح کیلئے جانے والی ترک فوج کی قیادت وزیراعظم مصطفیٰ پاشا کر رہا تھا۔

ترک فوجی پراعتماد تو تھے لیکن جنگ جیتنے کیلئے ان کے پاس جدید ہتھیاروں کی کمی تھی۔ ان کے پاس ویسی بڑی اور بھاری توپیں نہیں تھیں جیسی سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کرتے وقت استعمال کی تھیں۔ ترک فوج نے جولائی سولہ سو تراسی میں ویانا کا محاصرہ کر لیا۔

لیکن ان کی توپوں کی بمباری سے شہر کی دیواروں کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ ترکوں نے شہر کی دیواروں کے نیچے سرنگیں کھود کر ان میں بارود بھر کر دیواروں کو اڑانے کی کوشش کی لیکن یہ تکنیک بھی زیادہ کامیاب نہیں رہی۔

ادھر ویانا کے محافظ بار بار ترکوں پر جوابی حملےکر کے انہیں پیچھے دھکیل رہے تھے۔ ویانا کا محاصرہ دو ماہ جاری رہا۔ لیکن آہستہ آہستہ ترکوں کی سرنگیں کھودنے والی تکنیک کامیاب ہونے لگی اور ویانا کی دیواریں ٹوٹنے لگیں۔ لگتا تھا کہ شہر جلد ہی فتح ہو جائے گا۔

لیکن ترکوں کے ساتھ ایک ٹریجڈی ہو گئی۔ وہ یہ کہ پولینڈ کا حکمران جان سوبیسکی اپنی فوج کے ساتھ ویانا کی مدد کیلئے پہنچ گیا۔ بارہ ستمبر کو پولش فوج نے ترکوں پر حملہ کر دیا اور شدید لڑائی کے بعد ترکوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ پندرہ سو انتیس کے بعد یہ ویانا میں ترکوں کی دوسری بڑی شکست تھی۔

ترک فوج پیچھے ہٹ کر سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچی۔ ترک سپاہی اپنی شکست سے اتنا جھنجھلائے ہوئے تھے کہ انہوں نے بلغراد پہنچتے ہی وزیراعظم مصطفیٰ پاشا کو پھانسی دے دی۔ ادھر آسٹریا نے ویانا کے کامیاب دفاع کے بعد ترکوں کے خلاف کھلی جنگ شروع کر دی۔

سولہ سو تراسی سے سولہ سو ننانوے تک تقریباً مسلسل سولہ سال تک یہ جنگ جاری رہی جس میں آسٹریا اور اس کے یورپی اتحادیوں نے عثمانیوں کو زبردست شکست دی۔ سولہ سو ننانوے میں جب آخرکار صلح کا معاہدہ ہوا تو عثمانیوں کو کروشیا، ہنگری اور رومانیہ کے کئی علاقے آسٹریا کو دینا پڑے۔ بحیرہ روم کے کئی جزیرے بھی وینس کو واپس دے دئیے گئے، ترک فوج پولینڈ سے نکل گئی اور روس نے یوکرین کے قریب اوزوو کی بندرگاہ پر قبضہ کر لیا۔

سلطنت عثمانیہ اس عبرتناک شکست کے بعد پھر نہ سنبھل سکی۔ اٹھارہویں صدی میں آسٹریا اور روس کے ساتھ اس کی جنگوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ آسٹریا تو سلطنت عثمانیہ سے زیادہ علاقے نہیں چھین سکا۔ لیکن روس نے کریمیا میں زبردست پیش قدمی کی۔

آج تو یہ علاقہ روس کے قبضے میں ہےلیکن اٹھارہویں صدی میں یہ ترکی کے پاس تھا۔ سترہ سو بانوے میں ایک معاہدے کے تحت سلطنت عثمانیہ کریمیا سے دستبردار ہو گئی اور یہ علاقہ روس میں شامل ہو گیا۔ اس واقعے کے صرف چھے برس بعد فرانسیسی جرنیل نپولین بونا پارٹ نے مصر پر حملہ کر دیا۔ نپولین نے جولائی سترہ سو اٹھانوے میں مصر میں عثمانی فوج کو قاہرہ کے قریب شکست دی۔ اس جنگ کو بیٹل آف پائیرامڈز یا اہرام مصر کی لڑائی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس جنگ میں شکست کے بعد مصر ترکوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ لیکن مصر کی فتح کے بعد نپولین رکا نہیں اس نے صحرائے سینا کو عبور کر کے ترک صوبے شام پر بھی حملہ کر دیا۔ اس کی فوج غزہ تک جا پہنچی جو اس وقت صوبہ شام کا ہی حصہ تھا۔ اس کے بعد نپولین نے ساحلی شہر جافا پر بھی قبضہ کر لیا۔

جافا میں پانچ ہزار ترک سپاہیوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈالے کہ انہیں جنگی قیدی سمجھا جائے گا۔ لیکن جیسے ہی نپولین کی فوج جافا میں داخل ہوئی اس نے تمام قیدیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ اس کے بعد نپولین نے ایک دوسرے ساحلی شہر عکا کا محاصرہ کیا تو یہاں اس کی پیش قدمی رک گئی۔ برطانیہ جو اس وقت نپولین کے خلاف عثمانیوں کا اتحادی تھا اس کی بحریہ بھی عکا میں محصور ترکوں کی مدد کیلئے پہنچ گئی۔

اس مدد کے آنے سے ترکوں کے حوصلے بڑھ گئے اور انہوں نے نپولین کو شکست فاش دی۔ نپولین خود کہتا تھا کہ وہ شام کو فتح کرنے کے بعد عراق کے راستے ہندوستان کی طرف بڑھنا چاہتا تھا۔ مگر عکا کی شکست سے اس کے خواب چکنا چور ہو گئے اس شکست کے بعد نپولین اپنی فوج سمیت شام سے نکل کر مصر واپس چلا گیا۔

کہتے ہی واپسی سے پہلے اس نے عکا کی طرف دیکھ کر کہا اس حقیر قلعے سے مشرق کی قسمت وابستہ تھی۔ نپولین مصر لوٹ آیا لیکن وہ وہاں بھی زیادہ دیر نہیں ٹھہرا اور جلد ہی فرانس واپسی کی راہ لی البتہ وہ کچھ فوج مصر کی حفاظت کیلئے چھوڑ گیا تھا۔ نپولین کے مصر سے ہٹتے ہی ترکی اور انگلش فوجوں نے مصر پر حملہ کر دیا۔

بچی کھچی فرانسیسی فوج کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا سو انہوں نے ہتھیار ہی ڈالے۔ سلطنت عثمانیہ نپولین بونا پارٹ کے ہاتھوں تباہی سے تو بچ گئی لیکن اس کے بعد کے سو برس ترکوں پر بہت بھاری پڑے ۔ انیسویں صدی میں یورپ کے کئی ممالک ایک ایک کر کے ان کے قبضے سے نکلتے چلے گئے۔ ترکی فوجی اور معاشی طور پر اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ اسے یورپ کا مردِ بیمار کہا جانے لگا۔

پھر بیسویں صدی کے شروع میں وہ وقت بھی آیا جب سلطنت عثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور خلافت ختم کر دی گئی۔ لیکن اپنے آخری دنوں تک بھی عثمانی سلطنت جنگی میدان میں کچھ یادگار کامیابیاں حاصل کر گئی تھی۔

Read More:: The Ottoman Empire | Battle of Lepanto & Napoleon Bonaparte

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button