History World Urdu

The Ottoman Empire | Constantinople’s best kept secret in 1453

The Ottoman Empire

یہ سال تھا چودہ سو تریپن، اور یہ تھا دنیا کا وہ عظیم شہر جو کبھی سپرپاور رومن ایمپائر کا مرکز تھا۔ مشرقی یورپ، ترکی، شام اور مصر کے علاقوں پر اس کی حکومت تھی۔ یورپ میں اس سے طاقتور اور دولت مند کوئی دوسرا شہر نہیں تھا۔ ایک ہزار سال پہلے جب دنیا کی کل آبادی پچیس، چھبیس کروڑ تھی تب اس شہر میں پانچ سے آٹھ لاکھ لوگ رہتے تھے۔ آرتھوڈوکس عیسائی تو دعا بھی قسطنطنیہ کی طرف منہ کر کے مانگا کرتے تھے۔ گیارہویں صدی میں اسی شہر کو مسلمانوں سے بچانے کیلئے صلیبی جنگوں شروع کا آغاز ہوا تھا۔

The Ottoman Empire

لیکن آج، چودہ سو تریپن میں اس شہر میں صرف 60 ہزار لوگ رہتے تھے۔ شہر کا زیادہ تر حصہ کھنڈر بن چکا تھا۔ یہ شہرماضی کی ایک عظیم ترین سلطنت کا بھوت تھا جو مضبوط دیواروں میں اپنی شان و شوکت کی لاج رکھے ہوئے تھا۔ لیکن اب یہ رہی سہی لاج بھی چاروں طرف سے سلطنت عثمانیہ کے گھیرے میں تھی۔ اس کے پہلے رومن شہنشاہ کونسٹنٹائن ون اور آخری شہنشاہ کونسٹنٹائن الیون کے درمیان نوے شہنشاہوں اور گیارہ سو برس کا فاصلہ تھا۔ ان گیارہ سو برسوں میں شہر کا تئیس بار محاصرہ ہوا۔

لیکن سوائے ایک صلیبی لشکر کے کوئی بھی اسے فتح نہ کر سکا۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونے جا رہا تھا۔ اب وہ جنگ شروع ہو رہی تھی جس کا انتظار دنیا بھر کے مسلمان سات سو سال سے کر رہے تھے۔ جنگ میں دو چیزیں بہت اہم ہوتی ہیں۔ ایک قوت ارادی یعنی ول پاور اور دوسری وسائل، ایسنشئیل ریسورسز۔ لیکن ان دونوں سے بھی زیادہ ضروری چیز ہوتی ہے دی ریزن۔ جنگ کی وجہ۔ سلطان محمد ثانی کے پاس شہر کو فتح کرنے کیلئے چار اہم وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ قسطنطنیہ نے سلطان کے ایک باغی چچا اورحان قلبی کو اس کے چار، پانچ سو ساتھیوں سمیت پناہ دے رکھی تھی۔

اور یہ بات عثمانی ترکوں کے لیے قابل قبول بات نہیں تھی۔ دوسری یہ کہ سلطان اس عظیم الشان تاریخی شہر کو، جسے دنیا کیوئن آف دا سیٹیز کہتی تھی، عثمانی سلطنت کا دارالحکومت بنانا چاہتا تھا۔ تیسری وجہ خالصتاً تجارتی تھی۔ وہ یوں کہ دو براعظموں یعنی یورپ اور ایشیا کے سنگم پر، جنکشن پر ہونے کی وجہ سے یہ شہر تجارت کا بہترین راستہ تھا۔ صرف ہندوستان سے ہر سال ایک ہزار ٹن اجناس اسی شہر کے راستے یورپ پہنچتی تھیں۔

چوتھی وجہ عیسائیوں کی مذہبی عقیدت تھی۔ یعنی شہر پر قبضے کا مطلب تھا کہ بہت سے عیسائی شہری جو آرتھوڈوکس تھے، جنہیں عثمانیوں نے پوری مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔ وہ عثمانی سلطنت کے اور بھی وفادار ہو جائیں گے۔ عثمانیوں کے لیے تو ا س شہر کو فتح کرنے کی اور بھی وجوہات تھیں۔ لیکن رومی سلطنت کے شہنشاہ کونسٹینٹائن الیون کیلئے اس شہر کو بچانے کی صرف ایک وجہ تھی۔ یہ شہر رومن سلطنت کی وراثت تھی جو ہزار سال میں ہوتے ہوتے اس تک آئی تھی۔

اس کی حفاظت کیلئے انچاس سال کا تجربہ کار کونسٹینٹائن، اکیس سالہ نوجوان سلطان محمد ثانی کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ عثمانی تو اپنے دور کی سپرپاور تھے ان کے پاس وہ تمام وسائل تھے، کہ جن کے بل پر وہ بڑی جنگ چھیڑ سکتے تھے، ا اس کا نقصان جھیل بھی سکتے تھے۔ لیکن کونسٹینٹائن کے پاس تو صرف ایک شہر تھا۔ وہ بھی اجڑا ہوا، کھنڈر نما شہر جس باسی بس صبح سے شام تک زندہ رہنے کی ایک مشق کرتے تھے۔ خزانے میں اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ مغربی دیوار کی مرمت کرائی جا سکے۔

اس دیوار کا اندرونی حصہ پچھلے حملے کی بمباری کے دوران ٹوٹ چکا تھا۔ کل ملا کر اس کے پاس آٹھ ہزار سپاہی تھے۔ ان میں سے بھی صرف چار، پانچ ہزار سپاہی ہی اس کے اپنے شہر سے تھے۔ باقی سپاہی والنٹیئرز تھے جو وینس، جنیوا اور اٹلی کے روم جیسی دوردراز جگہوں سے آئے تھے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں کونسٹینٹائن الیون کس بل بوتے پر سلطان کا سامنا کرنے جا رہا تھا؟ دراصل بات یہ تھی کہ بظاہر یہ آنے والی جنگ ون سائیڈڈ لگتی تھی مگر حقیقت میں تھی نہیں۔ ایسا کیوں؟ دراصل کونسٹینٹائن الیون کو بہت سے ایسے ایڈوانٹیج حاصل تھے جو عثمانی ترکوں کے پاس نہیں تھے۔

سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اس نے دفاعی جنگ کھلے میدان میں نہیں بلکہ شہر کی محفوظ دیواروں کے پیچھے لڑنا تھی۔ یعنی اس کے سپاہی محفوظ جگہوں سے دشمن پر گولے، پتھر، تیر اور گریک فائر جیسا خطرناک کیمیکل پھینک سکتے تھے۔ وہی گریک فائر جس کی آگ پانی سے بھی نہیں بجھتی تھی۔ اس کے مقابلے میں دشمن اس کے سپاہیوں کو تبھی نقصان پہنچا سکتے تھے جب وہ دیواروں پر چڑھ آئیں۔ اور یہی کام تو تقریباً تقریباً ناممکن تھا۔

اس کی ایک منطقی، لاجیکل وجہ تھی۔ ذرا ان دیواروں کا سٹرکچر دیکھیں۔ سب سے باہر ایک پچاس فٹ چوڑی اور بیس فٹ گہری خندق ہے، جس میں زمین کے نیچے بچھے پائپس کے ذریعے پانی بھرا جا سکتا تھا۔ پھر اس کے پیچھے ایک چھوٹی دیوار، اس کے پیچھے ایک اور بلند دیوار سب سے آخر میں تیسری دیوار جس کی بلندی 36 فٹ سے سو فٹ تک تھی۔ یہ آخری دیوار چار میل تک پھیلی ہوئی تھی۔

دوسری اور تیسری دیوار کے درمیان ایک ساٹھ فٹ چوڑا پلیٹ فارم بھی تھا جس پر کھڑے ہو کر شہر کے محافظ آگے بڑھتی عثمانی فوج پر تیروں کی بارش جاری رکھ سکتے تھے۔ یعنی ایک خندق، دو دیواریں اور دیواروں سے تیروں کی بارش کرتے سپاہی۔ ان سب سے گزرنے کے بعد ہی ترک فوج اس پلیٹ فارم پر چڑھ سکتی تھی جہاں وہ محافظوں سے دوبدو مقابلہ کر سکے۔

اور محافظوں کے پاس تیسری دیوار کے پیچھے پناہ لینے کی آپشن بھی موجود تھی۔ یہ تھا وہ زبردست دفاعی سٹرکچر جس کی دیواروں پر چڑھتے چڑھتے ہی لاکھوں کی فوج ختم ہو جایا کرتی تھی۔ صدیوں سے شہر کی یہی تاریخ رہی تھی۔ صرف دیواریں ہی نہیں بلکہ شہر کا سارا نقشہ ہی جنگی نکتہ نظر سے بنایا گیا تھا۔ ایک بار ذرا باہر سے دیکھئے۔ یہ ہے کانسٹنٹائنوپول یعنی قسطنطنیہ ۔ اس کے اوپر یہ تنگ سا سمندری راستہ ہے آبنائے باسفورس یعنی سمندر۔ نیچے سی آف مارمرا یعنی پھر سمندر اور اوپر گولڈن ہارن یعنی تیسری طرف بھی پانی۔ لیکن یہ گولڈن ہارن قسطنطنیہ کا ویک پوائنٹ بھی تھا۔

یہ تنگ سمندری راستہ اگر کوئی پار کر کے قسطنطنیہ کی طرف آجائے تو اس طرف کی دیوار بہت کمزور تھی۔ لیکن شہر کے محافظوں نے اس کا بھی ایک شاندار حل نکال رکھا تھا۔ وہ یوں کہ اپریل چودہ سو تریپن میں اس چند سو میٹر چوڑے سمندری راستے پر ایک تیس ٹن وزنی زنجیر لگا دی گئی تھی۔ جیسے کسی سڑک پر بیرئر لگایا جاتا ہے بالکل اسی طرح یہ زنجیر راستے میں دونوں طرف فٹ کر دی گئی تھی۔ زنجیر کے ایک سرے پر قسطنطنیہ تو دوسرے پر گلاٹا کی آبادی تھی۔

گلاٹا جنیوا کی کالونی تھا اور اگرچہ جنیوا کے کچھ جنگجو ذاتی طور پر قسطنطنیہ کی حفاظت کے لیے شہر کے اندر پہنچے ہوئے تھے۔ لیکن سرکای طور پر جنیوا غیرجانبدار تھا۔ اس لئے عثمانی زنجیر ہٹانے کے لیے گلاٹا میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ زنجیر کو کاٹا بھی نہیں جا سکتا تھا کیونکہ اس کے پیچھے حفاظت کیلئے دس بحری جہاز بھی کھڑے ہوئے تھے۔

اب یہ جگہ یہ سی آف مارمرا دیکھیں۔ گولڈن ہارن کے بعد دوسرا حملہ یہاں سے ہو سکتا تھا لیکن یہ رف واٹرز کا سمندر تھا، یعنی سمندر پرسکون نہیں رہتا تھا اور جہازوں کو سنبھالنا بہت مشکل ہو جاتا تھا۔ جہاز ساحل پر پھنس سکتے تھے، الٹ سکتے تھے یا کسی سمندری چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش بھی ہو سکتے تھے۔

یعنی یہ جگہ بھی حملوں کیلئے موزوں نہیں تھی۔ مطلب یہ کہ تین طرف سمندر اور ایک طرف دنیا کی محفوظ ترین سمجھی جانے والی دیواریں۔ قسطنطنیہ کی حفاظت کر رہی تھیں۔ اب کونسٹینٹائن نے صرف یہ کرنا تھا کہ وہ اپنی فوج کے ساتھ شہر میں بند ہو کر بیٹھ جائے اور جب دشمن ایڈرین سے ایک سو چالیس میل کا تھکا دینے والا سفر کر کے قسطنطنیہ پہنچے تو کونسٹینٹائن اسے جنگ میں مسلسل الجھائے رکھے۔

اور اس وقت تک الجھائے رکھے جب تک وہ اور اس کی فوج سخت گرمی، بھوک، پیاس اور بیماریاں سے ادھ موی نہ ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ کم فوج اور محدود وسائل کے باوجود کونسٹینٹائن بہت پراعتماد تھا اور اپنے عوام کو فتح کی بھرپور امید بھی دلا رہا تھا۔ یہ تو تھے شہر کے اپنے حفاظتی انتظامات۔ لیکن ذرا ٹھہریئے۔

شہر کا ایک اور حفاظتی نظام بھی ہے اور وہ ہے اس کی سٹریٹجک ڈیپٹھ۔ یعنی یورپ کے ساتھ اس کا تعلق۔ نقشے پر دیکھیں تو ترک سلطنت کے درمیان یہ شہر تنہا نظر آتا ہے لیکن سلطنت عثمانیہ کے باہر یہ سارا یورپ ہے۔ اگر پوپ نکولس فائیو صلیبی جنگوں کا اعلان کرے تو یہ سارا یورپ قسطنطنیہ کی مدد کیلئے اندر آسکتا تھا۔

لیکن اس کیلئے پوپ کی قسطنطنیہ سے ایک شرط تھی، اور وہ یہ کہ قسطنطنیہ کے آرتھوڈوکس فرقے کو کیتھولک میں ضم کر کے اس کی الگ حیثیت ختم کر دی جائے۔ قسطنطنیہ نے یہ شرط بھی ان دنوں قبول کر لی۔ پوپ کا ایک نمائندہ کارڈینل ایسوڈور دو سو یا تین سو تیراندازوں کے ساتھ قسطنطنیہ پہنچ بھی گیا۔

اور بارہ دسمبر چودہ سو باون کو ہیگیا صوفیہ کے چرچ میں ایک تاریخی تقریب میں دونوں چرچ ایک ہو گئے۔ اب یورپ سے قسطنطنیہ کی مدد کیلئے کسی بھی وقت صلیبی فوج آ سکتی تھی۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔ کیونکہ پوپ کی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی یورپی طاقت عثمانیوں کے خلاف جنگ پر راضی نہیں ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ پندرہویں صدی کے یورپ میں مذہبی جوش بہت کم ہو چکا تھا۔

سلطان کے والد کے دور میں صلیبی جنگوں میں شکستوں کے بعد اب پوپ کا بھی پہلے جیسا اثر نہیں رہا تھا، یورپینز پر۔ یورپینز طاقتیں اب مذہب سے زیادہ اپنے مفادات کو دیکھتی تھیں۔ ویسے بھی جنگی لحاظ سے اس وقت کسی عیسائی ریاست کے لیے اس وقت کی سپرپاور سلطنت عثمانیہ سے ٹکرانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں تھا۔ اس کا مطلب اپنی ریاست کو ہی داؤ پر لگا دینا بھی تھا۔

ہم آپ کو پچھلی قسط میں دکھا چکے ہیں کہ سلطان نے کیسے ہنگری، دیگر یورپین ممالک سے امن اور تجارت کے معاہدے کئے تھے۔ یہی نہیں بلکہ سربیا جو سلطان کی باج گزار ریاست تھی اس نے تو پندرہ سو کے لگ بھگ عیسائی فوجی بھی سلطان کی مدد کیلئے بھیج دیے تھے۔ لیکن ایک چھوٹی سی مدد بہرحال قسطنطنیہ کو ملی۔

وہ یہ کہ جنوری چودہ سو تریپن میں جنیوا کا ایک مشہور جنگجو کمانڈر گیوونی جیسٹینیانی بھی اپنے سات سو جنگجوؤں کے ساتھ قسطنطنیہ پہنچ گیا۔ کونسٹینٹائن نے جیسٹینیانی کی سپاہیانہ مہارت جانتے ہوئے اسے اپنی فوج کا کمانڈر انچیف بنا دیا۔ پوپ کے تیراندازوں اور جیسنٹینیانی کے دستے کو مل جانے سے اب کونسٹینٹائن کی فوج نو ہزار تک پہنچ چکی تھی۔

شہر کی سٹریٹجک ڈیپتھ کا تو سلطان نے اچھا بندوبست کر لیا تھا۔ یعنی یورپی طاقتوں سے معاہدے کر کے اسے بے اثر کر دیا تھا۔ لیکن قسطنطنیہ کی فوج، دیواروں اور سمندری پوزیشن سے نمٹنے کیلئے سلطان کے پاس کیا تیاری تھی؟ تو سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ سلطان کے پاس دشمن کے ایک، ایک سپاہی کے مقابلے میں بیس، بیس سپاہی تھے۔

قسطنطنیہ کی مشہور زمانہ دیواریں توڑنے کیلئے اس کے پاس توپیں تھیں جو دیواروں کے ساتھ ان پر بیٹھے محافظوں کا بھی تیاپانچہ کر سکتی تھیں۔ ایک سو اسی بحری جہازوں کا بیڑہ شہر کی بحری ناکہ بندی کے لیے کافی تھا۔ یہ آبنائے باسفورس ہے چودہ سو اکاون،باون میں یہ راستہ بیرونی دنیا سے قسطنطنیہ کا واحد رابطہ تھا۔

اس خوبصورت نقشے میں دیکھیں کہ بلیک سی سے جنیوا اور وینس کے بحری جہاز دوسرا سامان لے کر اسی راستے سے قسطنطنیہ جا تے تھے۔ چودہ سو باون میں سلطان نے آبنائے باسفورس کے یورپی کنارے پر اس جگہ شہر سے چھے میل دور ایک قلعے کی تعمیر شروع کر دی اس قلعہ کا نام رومیلی حضار رکھا گیا۔

پرجوش نوجوان سلطان نے خود مزدوروں کے ساتھ محنت کر کے صرف ساڑھے چار ماہ میں یہ قلعہ کھڑا کر دیا تھا یہ قلعہ آج بھی یہاں موجود ہے۔ قلعے میں توپیں لگا کر کوئی چار سو سپاہی تعینات کر دیئے گئے۔ اسی قلعے کے عین سامنے باسفورس کے ایشیائی کنارے پر ایک قلعہ اندولو حضار سلطان کے پردادا بایزید اول نے پہلے ہی بنوا رکھا تھا۔

اور یہ بھی آج تک موجود ہے۔ اس قلعے میں بھی توپیں اور فوج لگا دی گئی۔ اب دونوں قلعوں کے درمیان صرف آدھ میل چوڑے سمندر سے کوئی بحری جہاز تو کجا ایک کشتی بھی بغیر اجازت نہیں گزر سکتی۔ قلعہ رومیلی حضار میں ہی اوربن کی توپ نے وینس کا ایک بحری جہاز بھی ڈبو دیا تھا جس کی کہانی ہم آپ کو پچھلی قسط میں دکھا چکے ہیں۔ اور اسی آدھے میل چوڑے سمندر سے گزرنے کی کوشش میں وینس کے دو اور بحری جہاز بھی پکڑےجا چکے تھے۔

یوں یہ راستہ قسطنطنیہ کی کسی بھی قسم کی مدد کے لیے بند ہو چکا تھا۔ جبکہ سی آف مارمرا میں پہلے ہی سلطان بحری بیڑہ پہرہ دے رہا تھا سو یہ راستہ بھی بند تھا۔ تو کیا اب یہ جنگ پھر سے ون سائیڈڈ ہونے جا رہی تھی۔ آپ کو حیرت ہو گی کہ اس کا جواب بھی ہے، نہیں۔ سلطان کے پاس سب کچھ ہے لیکن ایک چیز جو قسطنطنیہ کے شہنشاہ کے پاس تھی وہ نہیں تھی۔

اور یہی چیز کونسٹنٹائن الیون کا سب سے بڑا بھروسہ بھی دے رہی تھی۔ یہ چیز تھی ۔ وقت ۔ کیسے؟ بات یہ ہے سخت سردی ہو یا گرمی دونوں میں ہی قسطنطنیہ کے باہر کوئی فوج زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتی تھی۔ حملے کیلئے بہترین موسم، موسمِ بہار ہے یعنی مارچ سے اپریل تک کا وقت۔ اور اس کے بعد بھی کوئی فوج زیادہ سے زیادہ ایک ماہ اور یعنی مئی تک محاصرہ قائم رکھ سکتی تھی۔ اس کے بعد سخت گرمی، پیاس اور بیماریاں اس فوج کی ایک ایسی کمر توڑنا شروع کرتی تھیں کہ محاصرہ ختم کرنا پڑتا تھا۔

یعنی اب کونسٹینٹائن صرف تین ماہ اگرعثمانی فوج کو شہر سے باہر روک لے تو وہ جنگ جیت چکا تھا۔ اور قسطنطنیہ کے حفاظتی انتظامات اس لیول کے تھے کہ تین ماہ تک کسی فوج کو باہر روکا جا سکے۔ جبکہ سلطان کے پاس ان تین ماہ سے بھی کم وقت تھا کیونکہ جنتی بڑی فوج وہ لے کر آیا تھا۔ اس کے کھانے پینے اور رفع حاجت ہی سے ایسے مسائل ہونا تھے جنھیں جھیلنا کسی چھوٹی فوج ہی کے لیے ناممکن تھا۔ کجا یہ کہ لاکھوں کی بڑی فوج۔

وہ بھی ایسی فوج جو مختلف قبیلوں سے جمع کی ہوئی اور مختلف سرداروں کے انڈر کام کررہی ہو۔ یاد رکھیں اُس دور کی کوئی بھی فوج آج کی جدید فوج کی طرح منظم نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ اس میں بہت سے قبیلوں، قوموں اور خطوں کے لوگ شامل ہوتے تھے، جو سب سے پہلے اپنے علاقائی سرداروں کے وفادار ہوتے تھے۔ یہ سردار بھی اپنے علاقوں سے لوگوں کو اس لالچ پر لے کر آئے ہوتے تھے۔

کہ جنگ جیتنے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ مال غنیمت اور غلام مرد عورتیں ان کے ہاتھ آئیں گی۔ ایسا نہ ہوتا یا جنگ طویل ہو جاتی تو سردار واپسی کا راستہ لینے میں دیر نہیں لگاتے تھے۔ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھ کر جب سلطان ایڈرین سے چلا تو یہ تئیس مارچ چودہ سو تریپن کی تاریخ اور جمعے کا دن تھا۔

سلطان نے خاص طور پر جمعے کے دن کو مبارک سمجھتے ہوئے روانگی کیلئے منتخب کیا تھا۔ سلطان گھوڑے پر سوار اس طرح آگے بڑھ رہا تھا کہ اس کے دونوں طرف گھڑ سوار سید زادے تھے۔ ان کے ساتھ علماء اور شیوخ کی بڑی تعداد بھی تھی۔ یہ سب لوگ بلند آواز سے کامیابی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔

اس دور کی باقی فوجوں کے برعکس یہ فوج راستے میں آنے والے دیہات اور چھوٹے شہروں کو نقصان بھی نہیں پہنچا رہی تھی۔ سب سے آخر میں توپیں کھینچ کر لائی جا رہی تھیں۔ صرف سپر گن کو ساٹھ بیل اور دو سو آدمی کھینچ رہے تھے۔ یہی نہیں ایک جدید فوج کی طرح عثمانی لشکر کے آگے بڑھنے کے راستوں کو بھی بہتر بناتے جا رہے تھے۔

فوج کے انجینئرز کی کئی ٹیمیں فوج کے مرکزی حصے کی روانگی سے پہلے ہی قسطنطنیہ کی جانب بڑھ چکی تھی۔ یہ ٹیمیں فوج کی گزرگاہ پر راستوں اور پلوں کی مرمت کر رہی تھی۔ توپیں گزارنے کیلئے اونچے، نیچے اور خراب راستوں کو ہموار کیا جا رہا تھا۔ جہاں راستے زیادہ خراب تھے وہاں پتھر بچھا کر پختہ سڑکیں بنا دی گئیں تھیں۔

فوج کے ساتھ صرف سپاہی ہی نہیں بلکہ ہر ضروری کام کرنے کیلئے لوگ موجود تھے۔ ان میں باورچی، کارپینٹر، لوہار، موچی، لکڑ ہارے، درزی، گولے بنانے والے اور قُلی سبھی شامل تھے۔ ادھر قسطنطنیہ میں بھی سلطانی فوج کے پہنچنے کی خبر ہو چکی تھی۔ عیسائیوں کا مذہبی تہوار ایسٹر شروع ہونے والا تھا۔ یورپ سے مدد کی ساری امیدیں دم توڑ چکی تھیں اور اب شہر کی آرتھوڈوکس آبادی پھر سے کیتھولک چرچ کے خلاف ہو چکی تھی۔

یکم اپریل کو ایسٹر سنڈے تھا۔ قسطنطنیہ کا ہر گرجا گھر عبادت گزاروں سے کھچا کھچ بھرا چکا تھا۔ عثمانی فوج کے حملے کو ناکم بنانے کی دعائیں مانگی گئیں اور زوروشور سے گھنٹیاں بجائی جا ریی تھی۔ لیکن ہیگیا صوفیہ میں کوئی دعا مانگنے والا تھا نہ شمع جلانے والا۔ چونکہ کیتھولک پوپ قسطنطنیہ کی مدد کیلئے صلیبی فوج نہیں بھیج سکا تھا، اس لئے شہر کی آرتھوڈوکس آبادی نے بھی ایسٹر کے مقدس تہوار پر ہیگیا صوفیہ کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔

دو اپریل کو بڑی تعداد میں عثمانی فوج شہر کے سامنے پہنچنا شروع ہو گئی۔ اور شہر کے تمام دروازے آخری بار بند کر دیئے گئے۔ بلکہ شہر کے مرکزی پھاٹک کو تو بہت پہلے ہی اکھاڑ کر وہاں پتھر چن دئیے گئے تھے۔ مغربی دیوار والی خندق پر بنے تمام پل بھی گرا دیئے گئے تاکہ عثمانی فوج خندق کو پار نہ کر سکے۔

سلطان تئیس مارچ کو جمعے کے روز چلا تھا اور چھے اپریل کو جمعے ہی کے روز شام کے وقت وہ شہر کے سامنے پہنچ گیا۔ وہ مالٹیپی کی اسی پہاڑی پر کھڑا شہر کو دیکھ رہا تھا۔ جس پر کبھی اس کا باپ کھڑا ہوا تھا۔ یہ پہاڑی دشمن کے تیروں اور گولوں کی پہنچ سے بہت دور تھی۔ ہیگیا صوفیہ کے بلند گنبد یہاں سے بھی دکھائی دیتے تھے۔

سپاہی آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے کہ اس چرچ کے تہہ خانوں میں بہت بڑا خزانہ ہے جو ان کے ہاتھ آئے گا۔ لیکن سلطان ان کی باتوں سے بے پرواہ دشمن کے دفاع کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ اس نے شہر کی مغربی دیوار کے سامنے اپنا سرخ اور سنہری خیمہ نصب کروایا۔

اسی جگہ اس کے والد نے اکتیس برس پہلے اپنا خیمہ نصب کیا تھا۔ اور اسی پہاڑی کے سامنے رومانوس گیٹ کے پاس وہ دیوار تھی جس پر مراد دوئم کی توپوں نے گولے برسائے تھے۔ جس سے وہ کسی حد تک ٹوٹ چکی تھی اور اب قسطنطنیہ اپنی غربت کے باعث اسے مرمت بھی نہیں کروا پایا تھا۔ لیکن یہ صرف ایک اندرونی دیوار تھی، جبکہ باہر والی دیوار ابھی سلامت تھی۔

سلطان کی توپیں اگر یہ باہر والی دیوار بھی توڑ دیتیں تو اس کے بعد عثمانی فوج اور شہر کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ یہی سوچ کر اس نے اس پہاڑی پر اپنا خیمہ لگوایا تھا تاکہ وہ اپنی نگرانی میں یہ اہم ترین مہم سر انجام دے سکے۔ اسی جگہ یعنی فوج کی پوزیشن کے سینٹر میں اس کے بہترین سپاہی جنیسریز، تیرانداز اور حملہ کرنے والے گھڑ سوار دستے تھے جنہوں نے مالٹیپی کی پہاڑی کو گھیر رکھا تھا۔

سلطان کے خیمے کے گرد خندق کھود کر باڑ نصب کر دی گئی تھی اور ڈھالوں سے اضافی آڑ بھی بنا دی گئی۔ دیوار توڑنے کیلئے سلطان کے خیمے کے سامنے ہی سپر گن نصب ہونا تھی لیکن وہ ابھی پہنچی ہی نہیں تھی۔ کیونکہ وہ اتنی بھاری تھی کہ اسے کھینچنے والے باقی فوج سے پیچھے رہ گئے تھے۔ بلکہ باقی توپوں میں سے بھی صرف چند ہلکی توپیں ہی پہنچیں تھیں۔ اناطولیہ سے آنے والی انفنٹری کو سلطان کے دائیں ہاتھ اور یورپ سے آئی باج گزار ریاستوں کی فوج کو بائیں ہاتھ تعینات کر دیا گیا تھا۔

Read More:: The Ottoman Empire | Constantinople’s best kept secret in 1453

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button