History World Urdu

The Story of Bengal E03 | Siraj ud-Daulah VS East India Company in Urdu

The Story of Bengal

سترہ سو ستاون کے شروع میں انگریزوں کے بہترین کمانڈر لیفٹینٹ کرنل لارڈ کلائیو نواب سراج الدولہ کے خلاف ایک اہم مشن پر بنگال آ چکے تھے۔ انہوں نے کلکتہ میں نواب آف بنگال کے گورنر راجہ مانک چند کو بھی شکست دے کر فورٹ ویلیم واپس چھین لیا تھا۔ ان کے پاس ایک گن تھی جس کا مقابلہ پرانے دور کے ہتھیار نہیں کر سکتے تھے۔

The Story of Bengal E03  Siraj ud-Daulah VS East India Company in Urdu

وہ بنگال کی ایک غیر ملٹری آبادی کو لوٹ مار کا نشانہ بھی بنا چکے تھے۔ ایسے میں نواب آف بنگال سراج الدولہ نے انگریزوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ تاریخ کی فیصلہ کن لڑائی، جنگ پلاسی کا آغاز کیسے ہوا؟ میر جعفر نے سراج الدولہ کے دربار میں سازشیوں کا aik گروہ کیسے تیار کیا؟ ایسا کیا ہوا کہ لارڈ کلائیو سراج الدولہ کو گرفتار کرنے پہنچ گئے؟

تئیس سالہ نواب سراج الدولہ کو بطور نواب آف بنگال ان کے کچھ سازشی درباریوں نے پہلے دن سے قبول نہیں کیا تھا۔ ان درباریوں میں سپہ سالار جنرل میر جعفر کا نام سرفہرست تھا۔ وہ دراصل سراج الدولہ کے نانا علی وردی کے دور سے ہی بنگال کے تخت پر قبضے کا سوچ رہے تھے۔ وہ نواب علی وردی کو قتل کر کے بنگال کی حکومت پر قبضہ کرناچاہتے تھے،

اور اس کے لیے وہ اپنے ساتھیوں سے انہوں نے مشاورت بھی کی تھی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ نواب علی وردی کا دبدہ اور رعب اتنا تھا کہ میر جعفر کو اپنے ساتھ زیادہ سازشی جمع کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔ پھر کسی طرح میر جعفر کی سازشوں کی بھنک نواب علی وردی کو بھی ہو گئی۔ اس پر نواب نے میرجعفر کو اپنے محل میں طلب کیا اور بھرے دربار میں ان کی عزت کے پرخچے اڑا دئیے۔

اس کے بعد انہوں نے میر جعفر کے دربار میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی۔ تاہم کچھ عرصے بعد میرجعفر معافی تلافی کروا کر اپنی خطا معاف کروانے میں کامیاب ہوئے۔ جس کے بعد نواب علی وردی نے انہیں بخشی فوج کا عہدہ بھی دے دیا یعنی وہ فوج کی تنخواہوں وغیرہ کے امور دیکھنے لگے۔ یہیں سے دوستو وہ پھر ترقی کرتے ہوئے بنگالی فوج کے سپہ سالار یعنی جنرل یا سپریم کمانڈر بھی بن گئے۔

لیکن ایسا نہیں کہ وہ فوج کو براہ راست تن تنہا کمان کرتے تھے۔ فوج بہرحال نواب آف بنگال ہی کو فالو کرتی تھی، لیکن میر جعفر سینئر ترین جنرل تھے اور براہ راست فوج کے صرف ایک بڑے حصے کو کمان کرتے تھے۔ نواب علی وردی کے بعد ان کے جانشین نواب سراج الدولہ نے بھی سپہ سالار میر جعفر کو عہدے پر برقرار تو رکھا لیکن ان پر کبھی اندھا اعتماد نہیں کیا۔

بلکہ وہ ارٹلری کے کمانڈر جنرل میرمدن کو زیادہ وفادار سمجھتے تھے اور انھیں ہی زیادہ تر فوجی معاملات میں مشیر بھی بناتے تھے۔ لیکن یوں تھا کہ نواب علی وردی کے بعد جب ان کے جواں سال نواسے سراج الدولہ نے بنگال کا تخت سنبھالا تو میر جعفر کو بطور سینئر جنرل ان سے بہت سی تواقعات وابستہ تھیں کیونکہ انھیں لگتا تھا کہ سراج الدولہ تو ان کے ہاتھوں کے پالے ہوئے بچے ہیں۔

اسی لیے جب نواب سراج الدولہ نے کلکتہ اور فورٹ ویلیم پر قبضہ کیا انگریزوں سے اسے چھین لیا تو میر جعفر اس پورے علاقے کا گورنر بننا چاہتے تھے اور اس کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ لیکن سراج الدولہ نے میرجعفر کے بجائے اس اہم قلعے اور کلکتہ کا کمانڈر راجہ مانک چند کو بنا دیا تھا میر جعفر کو اس سے بہت بڑا دھچکہ لگا۔

اس کے علاوہ بھی انھیں نواب سراج الدولہ سے کئی گلے شکوے پیدا ہو گئے تھے جن کے ازالے کے لیےاب انھوں نے ایک بار پھر سازشوں کا سہارا لینا شروع کردیا۔ اب یوں تھا کہ نواب سراج الدولہ میر جعفر کی سازشی طبعیت سے آگاہ ہونے کے باوجود فوری طور پر انھیں اہم عہدے سے الگ نہیں کر سکتے تھے۔

وجہ یہ تھی کہ اس طرح کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ ایک طاقتور جنرل کو براہ راست اور اعلی العلان اپنے دشمنوں کی صف میں کھڑا کر دیں۔ دوستو ان وقتوں میں اکثر بادشاہ اور نواب اپنے مخالفین کو بھی عہدے اور مختلف لالچ دے کر اپنے قریب رکھتے تھے یا دوسرے الفاظ میں ان کی وفاداریاں خرید کر ان کی سازشوں سے بچنے کی کوشش کرتے تھے۔

سو ایسی ہی مجبوریاں نواب علی وردی اور اب سراج الدولہ کی تھیں کہ انھوں نے میر جعفر اور ان جیسے کئی لوگوں کو دربار سے الگ نہیں کیا تھا۔ جب نواب سراج الدولہ کلکتہ کی طرف بڑھ رہے تھے تو سازشی درباری بھی خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ سازشی درباریوں کا مستقبل دراصل کلکتہ میں نواب کی کامیابی یا ناکامی سے جُڑ چکا تھا۔

اگر نواب کلکتہ میں کامیاب ہو جاتے تو سازشیوں کی سازشیں دم توڑ جاتیں لیکن اگر اس کے برعکس نواب سراج الدولہ انگریزوں سے ہارجاتے تو سازشیوں کو اپنے منصوبوں میں رنگ بھرنے کا پورا موقع مل جاتا۔ لارڈ کلائیو نے کلکتہ پر جنوری سترہ سو ستاون، سیونٹین ففٹی سیون میں قبضہ کیا تھا۔ اگلے ہی ماہ چار فروری کو نواب سراج الدلہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ کلکتہ کے قریب پہنچ چکے تھے۔

یہاں انہوں نے نشاط آباد کے علاقے میں قیام کیا اور کلکتہ کو پھر سے محاصرے میں لے لیا۔ یہ اس معرکے کی شروعات تھی جس نے بنگال اور ہندوستان کی تاریخ کا فیصلہ کرنا تھا۔ نواب سراج الدولہ کی ساٹھ ہزار فوج کے سامنےکرنل کلائیو کے تین ہزار فوجیوں کی کوئی حثیت نہیں تھی۔ دشمن پوری طرح سے سراج الدولہ کے گھیرے میں تھا۔

لیکن اس موقع پر لارڈ کلائیو نے کچھ ایسا کیا جو سراج الدولہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ لارڈ کلائیو نے ایک ہی رات میں بازی الٹ دی ۔۔۔ وہ بھلا کیسے؟ آپ جانتے ہیں کہ شطرنج ایک ایسا کھیل ہے جس میں اگر کھلاڑی اپنے مقابلے کے بادشاہ کو گھیر لے تو شہ مات ہو جاتی ہے۔ یعنی بادشاہ کو گھیرنے والا اپنے مقابل کھلاڑی سے جیت جاتا ہے۔

لارڈ کلائیو بھی نواب کے ساتھ شطرنج جیسا ہی کھیل کھیلنے کی تیاری کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ نواب کی طاقتور فوج کے سامنے ان کے پاس جیتنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ بادشاہ کوتنہا ہی گھیر لیا جائے اسے پکڑ لیا جائے تا کہ ساری بازی اپنے حق میں آسانی سے پلٹی جا سکے۔

یہ سوچ کر انہوں نے ایک منصوبہ بنایا جو بظاہر ایک سوسائیڈ مشن لگتا تھا لیکن لارڈ کلائیو کو امید تھی کہ یہ مشن امپوسیبل پوسیبل ہو جائے گا۔ مشن یہ تھا کہ نواب کے کیمپ پر اچانک شب خون مارا جائے یعنی رات کو اچانک حملہ کیا جائے تاکہ تھوڑی بہت مزاحمت کےبعد ہی انہیں زندہ پکڑا جاسکے۔ ایک بار نواب سراج الدولہ، لارڈ کلائیو کے ہاتھ آ جاتے تو وہ ان سے جو چاہتے منوا سکتے تھے۔

چنانچہ انہوں نے فوری طور پر اپنے اس منصوبے پر عمل شروع کر دیا۔ سب سے پہلے انہوں نے بات چیت کے بہانے اپنے کچھ ایلچی سراج الدولہ کے کیمپ میں بھیجے۔ سراج الدولہ نے ان ایلچیوں سے ملنے سے انکار کر دیا۔ لیکن دوستو یہ ایلچی نہیں دراصل جاسوس تھے۔ اور انہیں سراج الدولہ سے ملاقات میں ویسے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

وہ صرف سراج الدولہ کے فوجی دستوں کی ترتیب اور ان کے خیموں وغیرہ کا جائزہ لینے آئے تھے۔ وہ جائزہ انہوں نے لے لیا اور واپس چلے گئے۔ انہوں نے جو کچھ دیکھا تھا واپسی پر اسے سے لارڈ کلائیو سے شئیر کر دیا۔ ان جاسوسوں سے ملنے والی معلومات سے لارڈ کلائیو کو اپنا پلان فائنل کرنے میں بہت زیادہ مدد ملی۔

پانچ فروری کی رات، سورج نکلنے سے کافی پہلے جب ہر طرف اندھیرے اور دھند کا راج تھا فورٹ ویلیم سے کچھ کشتیاں نکلیں اور دریائے ہوگلی میں تیرتی ہوئی دھند میں غائب ہو گئیں۔ ان کشتیوں میں تقریباً تیرہ سو انگریز اور ہندوستانی سپاہی سوار تھے جن کے ساتھ لارڈ کلائیو بھی تھے۔ یہ کشتیاں شہر سے کچھ دور جا کر دریا کے کنارے رک گئیں۔

انگریز سپاہی باہر نکلے اور خاموشی سے واپس شہر کی طرف چل پڑے۔ کچھ ہی دیر میں وہ شہر کے باہر نواب سراج الدولہ کے کیمپ کے بالکل پیچھے پہنچ چکے تھے۔ نواب کو کلکتہ کے قریب پہنچے صرف ایک روز ہوا تھا۔ طویل سفر سے تھکے ہارے فوجی اس سرد رات میں گرم بستروں میں سوئے آرام کر رہے تھے۔

نید کے مزے لے رہے تھے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دشمن اس وقت ان کے اتنا قریب پہنچ سکتا ہے۔ پورے کیمپ کو پراسرار خاموشی، دھند اور اندھیرے نے جکڑا ہوا تھا۔ پھر اس سرد خاموشی کو فائرنگ کی آوازوں نے توڑ دیا۔ فضاء توپ کے گھن گھرج اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونجنے لگی۔

اس سے پہلے کہ سوئے ہوئے بنگالی سپاہی بیدار ہو کر دشمن کا مقابلہ کرتے انگریز اور ان کے ہندوستانی سپاہی ان پر ٹوٹ پڑے اور آن کی آن میں درجنوں بنگالی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ نواب کے کیمپ میں ہلچل مچ چکی تھی ہر طرف شور قیامت برپا تھا کیمپ میں موجود ہاتھی، گھوڑے بدک چکے تھے، فوجی ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر آوازیں دے رہے تھے۔

غرض ایسا ہنگامہ بپا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اگرچہ بنگالی فوج جلد ہی سنبھل گئی اور اس نے حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی شروع کر دی مگر دھند اور اندھیرے کی وجہ سے دوست اور دشمن میں تمیز کرنا ناممکن ہو چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حملہ آور بڑھتے بڑھتے نواب کے کیمپ کے قریب پہنچ گئے۔

یوں لگتا تھا کہ لارڈ کلائیو کا منصوبہ ابھی کامیاب ہو جائے گا اور وہ نواب کو گرفتار کرنے یا اغوا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ وہی دھند جس نے لارڈ کلائیو کو اچانک حملہ کرنے میں مدد دی تھی اسی دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نواب سراج الدولہ انگریزوں کو چکمہ دے کر نکل گئے۔ نواب آف بنگال دھند میں چھپتے چھپاتے انگریزوں کے ہاتھ سے کوسوں دور جا چکے تھے۔

انگریزوں کا مشن ناکام ہو چکا تھا، اور اب انھیں اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے تھے۔ کیونکہ اب دن نکلنے کا وقت ہو رہا تھا دھند چھٹ رہی تھی اور لارڈ کلائیو کی زندگی سورج کی چند کرنوں کی مرہون منت تھی۔ لارڈ کلائیو کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ وہ زیادہ دیر تک اپنی کارروائی جاری نہیں رکھ سکتے تھے۔ گھڑی کا کانٹا ان کے خلاف تھا۔

اگر صبح ہو جاتی اور دھند چھٹ جاتی تو ہزاروں کی تعداد میں پھیلی بنگالی فوج ان کے مٹھی بھر سپاہیوں کو گھیر کر کیڑے مکوڑوں کی طرح مسل ڈالتی۔ چنانچہ ناکامی کے باوجود انہوں نے دھند چھٹنے سے پہلے اپنے فوجیوں کو واپسی کا حکم دیا۔ اس وقت لارڈ کلائیو کے فوجی کلکتہ شہر سے زیادہ دور نہیں تھے۔

سو وہ آسانی سے وہاں موجود خندق پار کر کے واپس فورٹ ویلیم میں داخل ہو گئے اور لڑائی ختم ہو گئی۔ دوستو اگرچہ لارڈ کلائیو نے نواب سراج الدولہ کی فوج پر بہت زبردست حملہ کیا تھا لیکن ان کے پوائنٹ آف ویو سے یہ ایک ناکام حملہ تھا۔ نواب کو شہ مات نہیں ہوئی تھی۔ وہ ناصرف یہ کہ نواب کو گرفتار یا اغوا نہیں کر سکے تھے بلکہ ان کے اپنے ڈیڑھ سو سپاہی بھی مارے گئے تھے۔

ان کے پاس فوج کی تعداد پہلے ہی بہت کم تھی اس لئے ایک، ایک سپاہی کی جان ان کے لیے قیمتی تھی۔ تین ہزار کے لگ بھگ فوجیوں میں سے ڈیڑھ سو کا نقصان ان کیلئے بڑا نقصان تھا اور وہ بھی بے مقصد کیونکہ اس حملے سے کوئی سٹریٹیجک فائدہ انہیں نہیں ملا تھا۔ گوہرِ مقصود ہاتھ سے مچھلی کی طرح پھسل گیا تھا اور کرنل کلائیو فورٹ ویلیم میں بیٹھے اپنے زخم چاٹ رہے تھے۔

اس لڑائی میں نواب سراج الدولہ کے چھے سو کے لگ بھگ سپاہی مارے گئے تھے۔ لیکن ساٹھ ہزار فوجیوں میں سے چھے سو فوجیوں کا مارا جانا ناقابل تلافی نقصان نہیں تھا۔ ان کی فوج اب بھی بہت طاقتور تھی۔ اگر دن کی روشنی پھیلنے کے بعد نواب سراج الدولہ فورٹ ویلیم پر حملہ کر دیتے پوری طاقت سے وار کر دیتے تو شاید لارڈ کلائیو بھی سرنڈر کرنے یا بھاگنے پر مجبور ہو جاتے۔

لیکن اس موقع پر کچھ ایسا ہوا جو لارڈ کلائیو کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں تھا۔ ہوا یہ کہ نواب سراج الدولہ اس حملے سے بری طرح چونک گئے۔ گھیرے میں آئے ہوئے چھوٹے سے دشمن سے انہیں اس قدر زبردست حملےکی توقع نہیں تھی۔ پھر جس طرح دشمن ان کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا یہ بھی ان کے لیے غیر متوقع تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اب انھیں اپنی سیکیورٹی کی فکر لاحق ہو چکی تھی۔

چنانچہ انہوں نے دشمن پر فوری بڑا حملہ کرنے کے بجائے، پہلے کسی محفوظ مقام پر پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنا کیمپ اکھاڑا اور کلکتہ سے دس میل دور جا کر نیا کیمپ لگا لیا۔ لیکن یہ کیمپ لگانے کا مقصد کلکتہ پر دوبارہ حملے کی تیاری نہیں تھا بلکہ وہ یہاں رہ کر انگریزوں سے مذاکرات کے ذریعے حالات بہتر کرنا چاہتے تھے۔

جی ہاں نواب سراج الدولہ نے انگریزوں کی فائر پاور اور جنگی تیکنیکس کا نظارہ قریب سے دیکھ لیا تھا اور اس کے بعد وہ سمجھ گئے تھے کہ اب زندگی اور سلطنت داؤ پر لگانے سے کافی بہتر ہے کہ کلکتہ انگریزوں ہی کے حوالے کر دیا جائے اور باقی بنگال کو بچا لیا جائے۔

چنانچہ اپنے نئے کیمپ میں بیٹھ کر انہوں نے انگریزوں سے بات چیت کا آغاز کیا اور حیرت انگیز طور پر انگریزوں کی ہر شرط ماننے پر تیار ہو گئے۔ ان کے اس ردعمل نے نا صرف ان کے درباریوں کو بلکہ کرنل کلائیو کو بھی حیران کر کے رکھ دیا۔ پانچ فروری کی صبح ہونے والے حملے کے محض چار روز بعد نو فروری کو نواب سراج الدولہ نے لارڈ کلائیو کے ساتھ معاہدہ علی نگر پر دستخط کر دیئے۔

اس معاہدے کو علی نگر معاہدے کا نام اس وجہ سے دیا گیا کیونکہ نواب سراج الدولہ نے کلکتہ کو راجر ڈریک سے چھیننے کے بعد اس کا یہی نام رکھا تھا۔ تو اب معاہدہ علی نگر ہو گیا تھا اور اس کی شرائط جو سراج الدولہ نے تسلیم کیں وہ شاید آپ کیلئے حیران کن ہوں۔

معاہدے کے مطابق انگریزوں نے سراج الدولہ سے منوا لیا کہ ان پر ہر قسم کا ٹیکس معاف کر دیا جائے گا انھیں اپنی فیکٹریاں قلعوں کی طرز پر بنانے کی اجازت ہو گی وہ اپنا ذاتی ٹکسال لگا کر سکے ڈھال سکیں گے کلکتہ پر ان کا قبضہ تسلیم کیا جائے گا نواب آف بنگال ان کی تجارت میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے کلکتہ پر حملے سے ہونے والے نقصان کی تلافی نواب آف بنگال کریں گے

یعنی کمپنسیشن دی جائے گی بنگال کے کچھ علاقے انگریزوں کو دے دئیے جائیں گے تا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی وہاں کے عوام پر ٹیکس لگا کر اپنے مبینہ نقصانات پورے کر سکے۔ یہ ایک انتہائی ہتک آمیز معاہدہ تھا۔ جو عموماً فاتح فوج مفتوح فوج کے ساتھ کرتی ہے۔ لیکن حیران کن طو پر نواب سراج الدولہ نے یہ تمام مطالبے مِن وعن تسلیم کر لیے۔

یہ سب شرائط ماننے کے بدلے کیا آپ جانتے ہیں کہ نواب سراج الدولہ نے انگریزوں سے اپنا کیا مطالبہ منوایا؟ صرف ایک وہ یہ کہ کلکتہ کا سابق گورنر راجر ڈریک کبھی واپس نہیں آئے گا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے یہ شرط کو ئی شرط ہی نہیں تھی۔ سو انھوں نے بخوشی قبول کر لی۔ دوستو یہ معاہدہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے سامنے نواب آف بنگال کا مکمل سرنڈر تھا۔

یوں لگتا تھا کہ انھوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے ہار مان لی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ معاہدہ علی نگر کرتےہوئے نواب سراج الدولہ کے سامنے اپنے نانا اور پیشرو نواب علی وردی خان کی وہ نصیحت ہو جس میں انہوں نے یورپی اقوام کو شہد کی مکھیوں کے چھتے سے تشبیہ دی تھی اور ان سے محتاط فاصلہ رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

اب نواب سراج الدولہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے کہ انگریز تو واقعی مکھیوں کے چھتے کی طرح ہیں۔ سو ممکن ہے انھوں نے بنگال میں امن قائم کرنے کے لیے اور انگریزوں کو ان کی ڈومین یعنی تجارت تک محدود رکھنے کے لیے یہ سب شرائط تسلیم کر لی ہوں تا کہ وہ جنگ کو کلکتہ سے آگے پھیلنے سے روک سکیں۔ لیکن دوستو ان کی یہی کوشش ان کی سب سے بڑی غلط فہمی اور غلطی ثابت ہوئی۔

اس معاہدے سے ان کا اقتدار مضبوط ہونے کے بجائے الٹا کمزور ہوا۔ نواب سراج الدولہ کو احساس نہیں تھا کہ دشمن کے سامنے کمزوری دکھانا، دشمن کو بڑے حملے کی دعوت دینا ہوتا ہے۔ علی نگر معاہدے میں انہوں نے جو کمزوری دکھائی تھی اور جس طرح سرنڈر کیا تھا اس کا اثر سراج الدولہ کی توقع سے کہیں زیادہ منفی ثابت ہوا۔

اس معاہدے سے نواب کے تمام سازشی درباریوں اور طاقت کے تمام مراکز کو یہی تاثر ملا کہ نواب سراج الدولہ ایک کمزور حکمران ہیں اور ان کا اقتدار دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ چنانچہ ان کے خلاف اندر ہی اندر محلاتی سازشوں کی کھچڑی پکنے لگی۔ اب یہ تو آپ جانتے ہیں کہ سراج الدولہ کے سپہ سالار میر جعفر تو پہلے ہی اقتدار پر قبضے کا خواب دیکھ رہے تھے۔

جب انہوں نے دیکھا کہ سراج الدولہ انگریزوں سے دب گئے ہیں تو وہ بھی نواب کو ہٹانے کی نئی پلاننگ کرنے لگے۔ اپنی اس پلاننگ میں اب وہ تنہا نہیں تھے کیونکہ سراج الدولہ سے ناراض بہت سے درباری درپردہ میر جعفر کے ساتھ ملتے جا رہے تھے۔ ادھر سراج الدولہ کو بھی شدید احساس تھا کہ کلکتہ کی اس ناکام مہم سے درباریوں کو وفاداریاں تبدیل کرنے کا موقع مل گیا ہے۔

چنانچہ انہوں نے بھی سازشیوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی۔ جن لوگوں پر انہیں دھوکا دہی کا شبہ تھا انہیں اہم عہدوں سے ہٹا کر وہاں اپنے وفاداروں کو تعینات کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک موقع پرنواب سراج الدولہ میر جعفر سے بھی اس قدر ناراض ہوئے کہ انہوں نے میر جعفر کو خبردار کرنے کے لیے ان کے گھر کے سامنے توپ نصب کروا دی۔

میر جعفر سراج الدولہ سے اس قدر خوفزدہ ہو گئےکہ انہوں نے کافی عرصے کیلئے دربار میں جانا ہی چھوڑ دیا۔ اس سب کے باوجود سراج الدولہ کو آخر وقت تک یہ اندازہ ہی نہیں ہو سکا کہ میر جعفر انھیں دھوکا دینے کے لیے کس حد تک جانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ اسی لاعلمی کا نتیجہ تھا کہ کچھ عرصے بعد میر جعفر کی دربار میں پرانی حیثیت بحال ہو گئی

او سراج الدولہ کے خلاف سازشی ٹولے کو اپنے داؤ دکھانے کا موقع مل گیا۔ چند ماہ کے اندر اندر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ نواب سراج الدولہ کے زیادہ تر درباری ان کے خلاف ہو چکے تھے اور میر جعفر کے ساتھ مل چکے تھے۔ ان لوگوں کے ساتھ ملنے سے میر جعفر کی طاقت اب اور بھی بڑھ گئی تھی۔

اب وہ جلد از جلد نواب سراج الدولہ کو راستے سے ہٹا کر اقتدار حاصل کرنے کےلئے بے چین تھے۔ میر جعفر یہ بھانپ رہے تھے کہ انگریز بنگال میں نواب سے بڑی طاقت بن چکے ہیں۔ اگر اقتدار حاصل کرنا ہے تو ان سے ہاتھ ملانا بہت ضروری ہے۔ اس صورتحال کو انگریزوں اور میر جعفر کے علاوہ ایک تیسرا کھلاڑی بھی دیکھ رہا تھا۔ یہ کھلاڑی کب سے نواب کا تختہ الٹنے کےلئے بے چین تھا بس موقعے کا منتظر تھا۔

اسے یہاں یہ موقع ملنے جا رہا تھا۔ لیکن دوستو یہ تیسرا کھلاڑی تھا کون؟ ایک پالکی جس میں دلہنیں یا امیر مسلمان گھرانوں کی پردہ دار خواتین سفر کیا کرتی تھیں، ایک دن میر جعفر کے دروازے پر آ کر رک گئی۔ اس پالکی نے ہندوستان کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا اس پالکی میں کون تھا؟

میر جعفر نے قرآن پاک پر کیا حلف دیا اور کسے دیا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی کی اگلی قسط میں

Read More:: The Story of Bengal E03 | Siraj ud-Daulah VS East India Company in Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button