History World Urdu

The Universe # 003 | Let’s touch the Sun in Urdu

The Universe

4500 سوسال پہلے دریائے نیل کے کنارے رہنے والے مصری، سورج دیوتا کو را کہتے تھے۔ ’را‘ سب سے طاقتور دیوتا تھا اور اس کا فرض تھا کہ وہ زمانے کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ تو ایک دن را نے اپنا تخت و تاج چھوڑ دیا اور اپنی کشتی میں روشن چراغ لیے آسمان پر تیرنے لگا۔ را جہاں سے گزرتا روشنی پھیلتی چلی جاتی۔

لیکن پھر شام کے قریب را اور اس کی اڑن کشتی مغرب میں زمین کے کناروں تک پہنچتے تو سمندر میں ڈوب جاتے۔ جہاں گہرائیوں میں را دیوتا کو اندھیروں سے ایک طویل جنگ لڑنا پڑتی۔ مصریوں کے بعد رومن تہذیب آئی۔ یہ چونکہ مصر سے تھوڑی جدید تہذیب تھی اس لیے اس کی کہانی بھی مصریوں سے تھوڑی ماڈرن تھی۔

بس اتنی ماڈرن تھی کہ رومن سورج دیوتا ہیلس کشتی پر نہیں بلکہ ایک 4 گھوڑوں والی بگھی پر مشرق سے مغرب کی طرف سفر کرتا تھا۔ اور جب وہ مغرب میں ایک محل میں آرام کرنے کے لیے رکتا تو دنیا میں رات ہو جاتی۔ آج اس مصری تہذیب کو 4000 سال اور رومن کو2000 سال ہو چکے ہیں اس لیے آج کی سورج داستان مصریوں اور رومیوں، دونوں سے بہت جدید ہے۔ لیکن یہ داستان، من بھاتے قصوں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ تجربات اور مشاہدات سے لکھی جا رہی ہے۔

ہیلیس کی گھوڑوں والی بگھی تو ایک دیومالا تھی، لیکن 1976 میں سچ مچ کا ایک ہیلیس سپیس کرافٹ سورج پر بھیجا جا چکا ہے۔ اور 1 نہیں 2 ہیلیس۔ ہیلیس ون اور ہیلس ٹو۔ یہ جرمنی اور امریکہ نے مل کر بھیجا تھا۔ یہ دونوں اپنے وقت میں انسان کی بنائی ہوئی سب سے تیز رفتار ترین مشینیں تھیں۔ ہیلیس ٹو کی رفتار 70 کلومیٹر فی سیکنڈ تھی۔

یعنی اگر آپ اس پر سوار ہوں تو کراچی سے لاہور صرف 18 سیکنڈ میں پہنچ سکتے ہیں۔ یہ مشن کیوں بھیجا گیا؟ آخر سورج کے قریب ترین سپیس مشنز بھیجنے کی ضرورت کیا تھی اور کیا ہے؟ ابھی زمین پر انسان دوسرے انسانوں کی بھوک ختم نہیں کر سکا، غربت ختم نہیں کر سکا تو آسمان میں گاڑیاں دوڑانے اور سورج پر کمندیں ڈالنے کی کوشش وقت اور پیسے کا ضیاع کیوں نہیں ہے؟

تو اس کا جواب ہے ۔۔۔ سولر ونڈز ۔۔۔ یہ دیکھئے ۔۔۔ اس کی آواز سنئیے یہ سورج کی آواز ہے۔ سورج کی سطح پر اس طرح کا عمل ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ جس میں سورج کی باہری سطح پر طوفان اٹھتے دکھائی دیتے ہیں جو دراصل ہائیلی چارجڈ پارٹیکلز ہوتے ہیں۔ ان کے اتنے بڑے بڑے دائرے بنتے ہیں کہ جن کا سائز کئی زمینوں کے برابر ہوتا ہے۔

یہ پاورفل پارٹیکل،طاقتورذرات سورج کے مرکز میں پیدا ہوتے ہیں اورسطح سے ہوتے ہوئے ایک طوفان کی طرح خلا میں آگے بڑھتے چلےجاتے ہیں۔ ان طوفانی لہروں کو سولر ونڈز کہتےہیں۔ ان کی رفتار 400 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ یہ سولر ونڈز سامنے آنے والی ہر چیز سے پوری قوت سے ٹکراتی ہیں اور اسی طرح ہماری زمین کو بھی ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سولر ونڈز اتنی طاقت رکھتی ہیں کہ زمین پر زندگی اور ماڈرن ٹکنالوجی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتی ہیں۔ لیکن یہ ایسا نہیں کر پاتیں۔ وہ اس لیے کہ زمین کے گرد ایک مقناطیسی ہالہ یعنی میگنیٹک فیلڈ موجود ہے۔ جو زمین کے مرکز سے پیدا ہو رہا ہے۔ جیسے ہی سولر ونڈز زمین کے قریب پہنچتی ہیں نظر نہ آنے والا میگنیٹک فیلڈ انھیں روک دیتا ہے۔ جس کی باعث یہ لہریں زیادہ تر زمین کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔

ہاں کبھی کبھار جب یہ سولر ونڈز بہت منہ زور ہوتی ہیں تو نقصان ہو بھی جاتا ہے۔ جیسے کہ1989 میں سولر ونڈز اتنی شدید تھیں کہ ان سے کینیڈا میں ہائیڈرو کیوبک گرڈ تباہ ہو گیا تھا۔ اسی طرح 1998 میں خلا میں گھومتا امریکی سیٹلائٹ ۔گلیسکی فور۔ بھی سولر ونڈز کا نشانہ بن کر اپنے مدار سے باہر گر گیا تھا اور ساڑھے چار کروڑ پیجرز، جسے آپ اُس وقت کے موبائل فونز کہہ سکتے ہیں، کام کرنا بند کر چکے تھے۔

بلکہ بہت سا قیمتی ڈیٹا بھی ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گیا تھا۔ خلابازوں کو جو خاص سوٹ پہنایا جاتا ہے اورخلائی مشینوں پر جوخاص کوٹنگ ہوتی ہےاس کاایک بڑامقصد انھی سولر ونڈز سے تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ ہمیں ان سولر ونڈز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات ہوں۔

جس طرح موسموں کا حال جاننےکے لیے ویب سائٹس ہیں بالکل اسی طرح خلائی موسم یعنی سولر ونڈز کب آ رہی ہیں کتنی آ رہی ہیں، یہ جاننے کے لیے بھی ویب سائٹس ہیں۔ جن کو دیکھ کر کمیونکیکشن سیٹلائٹس اور بجلی فراہم کرنے والے ادارے اپنے سسٹمز اپ ڈیٹ کرتے رہتےہیں۔ لیکن یہ نظام اس وقت زیادہ بہتر، ماڈرن اور طاقتور ہو سکتا ہے جب ہمیں سولر ونڈز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات ہوں۔ تو یہی جاننے کے لیے ہیلیس ون اور ہیلس ٹو کو سورج کے گرد 1974 اور 1976 میں بھیجا گیا تھا۔

ہیلس ون10 سال اور ہیلس ٹو3 سال تک اپنے مشن پر کام کرتا رہا۔ آخری بار ان سے رابطہ 1986 اور 1980 میں ہوا تھا۔ اس لیے آج ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ دونوں کس حال میں ہیں، لیکن سولر ونڈز، کاسمک ریز اور سورج کے میگنیٹک فیلڈ کے بارے میں ہم جو کچھ بھی جانتے ہیں اس کا ایک بڑا حصہ ہیلس ون اور ٹو ہی کی وجہ سے انسانیت کے اجتماعی علم کا حصہ بنا۔ معلومات کے لیے ہیلس ٹو سورج کے اتنا قریب چلا گیا تھا کہ اس کا اور سورج کا فاصلہ صرف 4 کروڑ 34 لاکھ کلومیٹر رہ گیا تھا۔

لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ جیسے جیسے ہمارا علم بڑھتا ہے، ہماری جہالت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ تو جہاں ہیلس ون اور ٹو نے کئی سوالوں کے جواب تلاش کیے وہیں کئی نئے سوالات بھی پیدا بھی ہو گئے۔ ایک یہ کہ آخر یہ سولر ونڈز پیدا کیسے ہوتی ہیں اور دوسری یہ کہ سورج کی سطح پر کنڈیشنز میں اتنی زیادہ تبدیلی کیوں اور کیسے آتی ہے۔

یہ جاننا اس لیے بھی ضروری تھا کہ ہمیں علم ہو سکے کہ سولر ونڈز زمین پر انسانی زندگی اور ٹکنالوجی پر کس طرح اثر ڈالتی ہیں۔تاکہ اس سے بچا جا سکے۔ ان سوالوں کے جواب کھوجنےکے لیے ہمیں سورج کے اوربھی قریب جانا تھا۔ اُس سے کئی گنا زیادہ نزدیک جتنا ہیلس ٹو اور ون جا چکا ہے۔ تو اب یہ جو لاٹھی ٹیکے کمزور سے بزرگ آپ دیکھ رہے ہیں ناں، ان کی عمر 91 سال ہے۔ یہ سائنٹسٹ یوجین پارکر ہیں۔

اس وڈیو کی اپ لوڈنگ ڈیٹ کے وقت پارکر سورج کے سامنے کھڑا ہے۔ سائنٹسٹ یوجین پارکر نہیں بلکہ ان کے نام پر بنایا گیا سپیس مشن دی پارکر سولر پروب۔ اس کی رفتار اپنے انتہائی وقت میں ہیلس سپیس کرافٹ سے بھی بہت زیادہ تیز ہے۔ اور اتنی تیز کہ اگر آپ اس پر لاہور سے کراچی جانا چاہیں تو صرف 7 سیکنڈ چاہیں۔ یہ پروب 12اگست 2018 کو سورج کی طرف بھیجا گیا تھا۔

یہ پہلا مشن تھا جو کسی زندہ انسان کے نام پر بھیجا گیا ہے۔ کیونکہ یوجین پارکر نے ہی سپرسونک سولر ونڈز کی تھیوری دی تھی۔ اور وہ بھی آج سے کوئی65 برس پہلے۔ تو پارکر سولر پروب نہ صرف سورج کے سامنے پہنچ چکا ہے بلکہ اس نے اپنا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ یہ وہ تصویر ہے جو دسمبر 2018 میں اسی پروب نے زمین پر بھیجی تھی۔ یہ سورج کی اس وقت تک کی قریب ترین تصویر تھی۔

اس میں جو نکتہ سا چمک رہا ہے وہ اس کے گرد گھومتا سیارہ عطارد یعنی مرکری ہے۔ پارکر سلور پروب، سابقہ مشن ہیلس کی نسبت سورج سے 7 گنا زیادہ قریب جائے گا۔ اپنے بیضوی دائرے میں جب یہ سورج کے قریب ترین ہو گا تو اس کا اور سورج کا فاصلہ محض 61 لاکھ کلومیٹر ہو گا۔ لیکن اس وقت بھی یہ براہ راست سورج کے ایٹماسفیر میں داخل ہو چکا ہے۔ اس حصے میں ۔ سورج کے اس حصے کو کرونا کہتے ہیں، اسے آپ سورج کا کراؤن یا تاج بھی کہہ سکتے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ سورج کی سطح تو بے انتہا گرم ہے ہی، لیکن یہ حصہ، یعنی کرونا جو سورج کی سطح کے اوپر ہے یہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ گرم ہوتا ہے۔ سورج کی سطح کا درجہ حرارت ہوتا ہے 5 ہزار 666 ڈگری سنٹی گریڈ کے آس پاس۔ جبکہ کرونا میں پارٹیکلز کا درجہ حررت 17 لاکھ ڈگری سنٹی گریڈ ہوتا ہے۔

یعنی تقریباً 300 گنا زیادہ گرم۔ ایسا کیوں ہے؟ اس حیرت ناک سوال کا جواب بھی یہی پروب معلوم کرے گا۔ لیکن یہاں ٹھہریئے اور سوچئیے کہ آخر اتنے زیادہ درجہ حرارت میں اتنی زیادہ گرمی میں ایک زمین پر بنائی گئی مشین کیسے سلامت رہے گی؟ تو اس کا جواب ہے ٹی پی ایس ۔۔۔ تھرمل پروٹیکشن سسٹم۔ پارکر سولر پروب کا سورج کی طرف کا حصہ ساڑھے چار انچ موٹی وائٹ شیلڈ کا بنا ہے۔

یہ وائٹ شیلڈ کاربن کاربن کمپوزیٹ کے میٹیریل سے خاص طور پر یوں تیار کی گئی ہے کہ یہ زیادہ تر ہیٹ کو منعکس کر دے گی یعنی میکسیمم ہیٹ کو ریفلیکٹ کرے گی۔ اس سے سپیس کرافٹ کے پیچھے والا یہ حصہ ٹھنڈا رہے گا۔ اس پیچھے والے حصے کے آلات کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پائپس ہیں جن میں پانی گردش کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی کہاں 17 لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ اور کہاں کاربن چھوڑ کچھ بھی ہو۔

اسے تو لمحوں میں پگھل جانا چاہیے۔ تو بات یوں ہے کہ سورج کے61 کلومیٹر کے فاصلے پر جہاں پارکر سولر پروب ہو گا، یہاں 17 لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ان پارٹیکلز کا ہے جو اس حصے میں پھیلے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ پارٹیکلز بہت دور دور پھیلے ہوتے ہیں۔

جبکہ اس جگہ عمومی درجہ حرارت 1300 سے 1400 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے، جسے پارکر سولر پروب اپنے زبردست ڈیزائن کی وجہ سے برداشت کر رہا ہے۔ بلکہ اس کا کیمرہ اور سنسرز بھی باخوبی کام کر رہے ہیں، اور اگر کوئی حادثہ نہ ہو گیا تو یہ کم از کم 7 سال تک یونہی تجربات کرتا رہے گا۔ پارکر سولر پروب 7 سال میں سورج کے گرد 24 چکر لگائے گا۔

اور پھر سورج میں ہی غوطہ لگا کر ختم ہو جائے گا۔ اس کی بھیجی تصاویر کے ذریعے سورج کے کچھ حصے کا ایک تفصیلی نقشہ، بھی تیار کیا جائے گا۔ لیکن یہ نقشہ سازی آسان نہیں ہو گی کیونکہ سورج کا سائز بہت ہی بڑا ہے۔ اتنا بڑا ہے کہ اگر100 زمینوں کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھا جائے تو یہ سورج کا ڈایامیٹر یعنی قطر ہو گا۔ سورج اتنا بڑا ہے کہ 10 لاکھ زمینیں اس میں سما سکتی ہیں بلکہ یہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں ہمارے پورے نظام شمسی کے تمام سیارے 600 مرتبہ ڈال دئیے جائیں تو بھی تھوڑی بہت جگہ بچ جائے گی۔

یہ اتنا بھاری ہے کہ سولر سسٹم کا 98 فیصد سے زیادہ وزن صرف سورج کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورج کی کشش بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔ یہ کشش اتنی زیادہ ہے کہ8 بڑے اور درجنوں چھوٹے سیارے، 170 چاند اور ان گنت شہاب ثاقب اربوں سال سے اس کے سحر سے نہیں نکل پائے۔ ہمارا سورج 4 ارب سال سے چمک رہا ہے اور اندازہ ہے کہ مزید 4 ارب سال تک یونہی چمکتا رہے گا۔

لیکن اس کی چمک آتی کہاں سے ہے؟ سورج 4 ارب سال سے روشنی کیسے دے رہا ہے؟ اس کا جواب ہے نیوکلیئر فیوژن۔ ہائیڈروجن بم کے دھماکے۔ سورج دراصل ایک گیس کا بہت ہی بڑا گولہ ہے۔ اس گولے میں سب سے زیادہ ہائیڈروجن، تھوڑی سی ہیلیم اور بہت ہی معمولی سی مقدار میں دوسرے ایلیمنٹس ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ چمکتا کیسے ہے؟ سورج کے مرکز میں بے پناہ گریویٹی، کشش ثقل کے باعث پروٹان، یعنی ہائیڈروجن کے چارجڈ ایٹمز، ایک دوسرے سے اتنا قریب آ جاتے ہیں وہ ایک دوسرے سے چپک کر رہ جاتے ہیں۔ گویا ان میں پیار ہو جاتا ہے اور ہائیڈروجن کے پروٹانز کے مل جانے سے نیا ایٹم ہیلیم وجود میں آ جاتا ہے۔ لیکن یہ ہیلیم کا ذرہ ہائیڈروجن کے اُن ایٹمز سے بہت ہلکا ہوتا ہے جن کے ٹکرانے سے وہ بنا ہوتا ہے۔

تو اب سوچیئے کہ اگر یہ ان سے ہلکا ہے جن سے یہ بنا ہے تو وہ باقی ماس کہاں چلا گیا؟ تو جواب ہے آئین سٹائن کے پاس۔ جی ہاں آئین سٹائن کی مشہور زمانہ ایکویئشن ای از ایکوئل ایم سی سکوئر کے مطابق یہ ماس انرجی میں بدل جاتا ہے۔ اور یہ انرجی کا ذرہ فوٹون کہلاتا ہے۔

یہ فوٹون کسی دیوانے کی طرح سورج کے اندر مرکز میں مختلف ایٹمز سے ادھر اُدھر ٹکراتا پھرتا ہے- اسے سطح پر آنے میں ہزاروں یا لاکھوں سال لگ جاتے ہیں۔ مگر ایک بار جب یہ سورج کی سطح پر آ جائے تو اسے ہماری زمین تک پہنچنے میں صرف 8 منٹ اور 20 سیکنڈ لگتے ہیں۔ بس اتنی سی دیر جتنی دیر میں آپ گرما گرم ہیڈلائنز سنتے ہیں، فوٹان سورج کی سطح سے آپ تک پہنچ جاتا ہے۔

تو اگلی بار جب آپ سورج کی روشنی میں کچھ دیکھیں یا اس وقت دیکھ رہے ہوں تو جان لیں کہ یہ روشنی کا مہمان ہائیڈروجن بم کے دھماکوں سے پیدا ہواتھا جس کا کا نام فوٹون ہے۔ جو کروڑوں کلومیٹر دور سے آیا ہے، بڑے جتنوں سے آیا ہے اور اس سے بھی دلچسپ بات یہ کہ روشنی کا ذرہ جو آپ کی دنیا کو روشن کر رہا ہے ہزاروں سال پہلے پیدا ہوا تھا۔ یہ بہت قیمتی ہے کیونکہ اس کے پاس ایک راز بھی ہے۔

اور وہ راز ہے ہماری زمین کو سب سے سستی اور کبھی نہ ختم ہونے والی توانائی دینے کا راز۔ ویسے تو سولر انرجی سے سب واقف ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک پاگل نے آج سے 78 برس پہلے 1941 میں سورج کے سامنے زمین کے اوپر چادر تان کر سورج کی روشنی سے مستقل بجلی پیدا کرنے کا آئیڈیا دیا تھا؟ تو یہ تھے امریکی بائیو کیمسٹ، آئزک ایسماؤف۔

اُس خیال کے مطابق اگر ہم سورج کی روشنی سے زمین پربجلی پیدا کرنا چاہیں تو یہ کام ہم صرف دن میں کر سکتے ہیں سورج کے سامنے کر سکتے ہیں رات میں، بادل، بارش، طوفان یا کسی بھی ایسی حالت میں یہ سسٹم کام نہیں کرے گا۔ یعنی بجلی پیدا نہیں کرے گا اور ویسے بھی سولر پینلز جتنے زیادہ زمین پر لگائے جا ئیں وہ بجلی تو اتنی زیادہ دیتےہیں لیکن جگہ بھی اتنی ہی گھیرتے ہیں۔

تو کیوں نہ ان سب مسائل سے بچنے کے لیے زمین پر آنے والی سورج کی روشنی کو خلا ہی میں، زمین کےاوپر مدار میں پکڑ لیا جائے۔ کیونکہ خلا میں بادل ہیں اور نہ بارش، اور نہ مٹی کے طوفان ہی آتے ہیں۔ خلا میں پینلز لگا دئیے جائیں تو جگہ کم ہونے کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔ اور ویسے بھی خلا میں تو سورج ہر وقت چمکتا ہے اور کبھی غروب ہوتا ہی نہیں۔

سورج کا طلوع اور غروب ہونا تو زمین کی حرکت کی وجہ سے ہمارا اپنا احساس ہی ہے۔ ورنہ سورج تو جب تک ہے سو ہے۔ اور جب سے ہے سو ہے۔ یہ طلوع اور غروب تو ہوتا ہی نہیں۔ سن سیٹ اور سن رائز کی کہانی زمین سے چند کلومیٹر اوپر ختم ہو جاتی ہے۔ تو آئیڈیا یہ تھا زمین کے اوپر خلا میں بہت بڑے بڑے سولر پینلز کی ایک چادر سی بنا دی جائے جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدلی کرے اور پھر ایک لیزر بیم یا مائیکرو ویوز کے ذریعے یہ بجلی زمین پر ایک مرکزی پاور اسٹیشن میں بھیجی جائے۔

یہاں سے پھر کیبلز کے ذریعے اس کو پھران جگہوں پر بھیجا جائے جہاں اس کی ضرورت ہے۔ اب خلا میں نہ تو بادل ہیں، نہ بارش اور نہ کبھی سورج غروب ہوتا ہے۔ تو دلچسپ بات بتائیں، چین اب یہی کرنے جا رہا ہے۔ چین نے سولر پاور سپیس پراجیکٹ لانچ کر دیا ہے۔ چین زمین سے 36 ہزار کلومیٹر اوپر یہ پینل بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو 2040میں دنیا کا پہلا سپیس سولر پاور اسٹیشن بجلی فراہم کرنا شروع کر دے گا۔

شمسی توانائی سے بجلی بنانا اس لیے بھی ضروری ہے تا کہ ہم زمین پر کوئلے اور تیل کو جلانے سے بچ جائیں جس کی وجہ سے ہماری نیلی زمین ہر گزرتے دن کے ساتھ تباہی بڑھ رہی ہے۔ کیونکہ زمین گرم ہو رہی ہے۔ دنیا میں صاف پانی کے محفوظ ذخیرے یعنی پہاڑوں کی برف تیزی سے پگھل کر سمندروں میں جا رہی ہے۔

لیکن ایک بات بتائیے کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین اور سورج شروع میں صرف آگ جیسے تھے۔آگ کے گولے تھے اگر یہ زمین ہماری آگ کا گولہ تھی تو پھر ٹھنڈے ہونےپر ہماری زمین پر پانی اور پہاڑوں پر برف کہاں سے آئی؟ اس کا جواب وہ سورج کے قریب سے گزرتا شہاب ثاقب ہے۔ میئٹر۔ اسے دم دار ستارہ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ اور ایسے اربوں چھوٹے بڑے پتھر سورج کے گرد گھومتے اور اس کی کشش کے باعث اس کی طرف بڑھتے اور اس میں گرتے رہتے ہیں۔ یہ شہابیے دوسرے سیاروں پر بھی گرتے ہیں۔ ان شہابیوں میں جما ہوا پانی ہوتا ہے۔ سخت ٹھوس برف۔ اسی لیے جب یہ خلا میں سورج کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں تو گرمی اور تیز رفتار کے باعث برف پگھلتی ہوئی میلوں تک خلا میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔

جو دور سے دیکھنے میں سیارے کی دم لگتی ہے۔ اور بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ستارہ ٹوٹا ہے اور اب جو مانگے گئے وہ تمنا پوری ہوں گی۔ تمنا کو تو نہیں پتا لیکن یہی شہابیے، جب زمین یا کسی دوسرے سیارے سے ٹکراتے ہیں تو اس میں موجود برف ہی اس سیارے کا پانی بنتی ہے۔ ایک مضبوط خیال ہے کہ جب ہماری زمین آگ کے گولے سے ٹھنڈی ہورہی تھی تو ایسے ہی شہابیوں کی بارش سے ہماری زمین پر پانی در آیا تھا۔

بادلوں سے لے کر، سمندر اور جھیلوں کا سارا پانی انھی شہابیوں کے ذریعے ہی زمین پر آیا تھا۔ لیکن اسی دم دار ستارے کے پیچھے جو سرخ سیارہ نظر آ رہا ہے، یہ مریخ ہے۔ مریخ جہاں انسان کالونی بنانا چاہتا ہے۔ ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ زمین پر زندگی کا بیج مریخ ہی سے آیا تھا۔ مریخ پر انسان کو بسانے کی پوری کہانی اور وہاں زندگی کی تلاش کے بارے میں کیا کچھ ہو رہا ہے یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن کل کائنات کی اگلی قسط میں۔

سورج زمین سے اوسطاً 15 کروڑ کلومیٹر سے کچھ کم فاصلے پر ہے۔ آخر وہاں سے ایک مشین ہم تک معلومات کیسے بھیجتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے کل کائنات سیریز کی دوسری قسط ضرور دیکھیں۔ جبکہ چاند پر ایسا کیا ہے جسے چاند پر جانے والے مشنز چھوڑ کر آئے تھے اور اسے زمین سے آج بھی چیک کیا جا سکتا ہے۔

Read More:: The Universe # 003 | Let’s touch the Sun in Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button