History World Urdu

The Universe # 010 | How Neptune was discovered by Newton’s laws?

The Universe

ایک جینئس آسٹرونومر ’اوبون لی ویری اے‘ نے زندگی کا بڑا حصہ اوپر دیکھتے ہوئے گزارا۔ وہ سیاروں اور ستاروں کی کھوج میں لگا رہتا تھا۔ جس وقت کی ہم بات کر رہے ہیں تب انسان یہی سمجھتا تھا کہ سورج کے گرد گھومنے والے سیاروں میں ساتواں سیارہ، پلانٹ یورنیس آخری سیارہ ہے۔ اس کے بعد سورج کی سلطنت ختم۔ لیکن کیا کیجئے تاریخ کے متجسس دماغوں، کیورئیس مائینڈز کا کےان کے ذہنوں میں سوالات جنم لینا ختم ہی نہیں ہوتے۔

The Universe # 010 | How Neptune was discovered by Newton's laws?

تو ایک دن ’اوبون لی ویری اے‘ نے نوٹ کیا کہ یورنیس بھلے آخری سیارہ ہے لیکن اس کی حرکتیں بلکل ٹھیک نہیں۔ یعنی جیسے باقی نظامِ شمسی کے چھے سیاروں کی حرکت نیوٹن لاز آف موشن، قوانین حرکت کے مطابق ہوتی ہے، ویسے ہی ایک خاص جگہ پر یورینس پلانٹ کی نہیں ہوتی۔ اوبون نے نوٹ کیا کہ یورنیس سورج کے گرد چکر کے دوران کہیں کہیں گریویٹیشنل لائز کو تو لفٹ ہی نہیں کرواتا۔ اب ایسا

تو ہماری کائنات میں ممکن ہی نہیں تھا کہ کوئی جسم کوئی باڈی ان قوانین سے انحراف کرے انہیں ڈیفائی کرے۔ لیکن کیا کیجئے کہ ایسا ہو رہا تھا۔ زمین سے ساڑھے چار ارب کلومیٹر دور یورنیس پلانٹ اپنے مدار میں ایک خاص مقام پر پہنچ کر کچھ ٹیڑا میڑھا گھومتا تھا۔ اور کیوں گھومتا تھا؟ یہ راز کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔

صرف اوبون ہی نہیں دوستو، ساٹھ سال سے باقی آسٹرونومرز بھی پریشان تھے کہ یا تو نیوٹن کے قوانین غلط ہیں یا پھر اس سیارے پر کسی بھوت کا سایہ ہے کوئی نامعلوم راز ہے یہ۔ لیکن راز ہے کیا؟ اٹھارہ سو چالیس میں اس بھید سے پردہ اٹھ گیا مگر کیسے؟

اٹھارہ سو چالیس کی بات ہے کہ پروفیسر ’اوبون لی ویری اے‘ نے اپنے ڈیسک پر رکھے کاغذوں اور دیوار پر لگے تختہ سیاہ کو نمبرز اور ایکوئشنز سے بھر دیا۔ وہ سیارے یورنیس، پلانٹ یورینس کی عجیب و غریب حرکتوں سے اسی طرح پریشان تھا جیسے باقی اسٹرانومرز تھے۔ لیکن ’اوبون لی ویری اے‘ کسی میتھولوجی یا بھوت پریت یا ان دیکھی حقیقت کا نام لینے کے بجائے اصل راز جاننا چاہتا تھا۔

اس نے حساب لگایا اور اندازہ کیا کہ جیسی حرکتیں یورینیس کی ہیں یعنی جس طرح وہ حرکت کرتا ہے وہ اسی صورت میں ممکن ہے اگر اس کے قریب کوئی بہت بڑا جسم باڈی اور بھی موجود ہو۔ اس بڑے جسم کی کشش ہی پلانٹ یورنیس کی موومنٹ کو، حرکت کو کچھ خاص تبدیل کر سکتی تھی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یورنیس کے قریب کوئی اتنا بڑا جسم تھا، سیارہ یا کچھ اور تھا تو اسے نظر بھی آنا چاہیے تھا ناں۔

تو کیا یہ پھرکوئی چھوٹی سی چیز تھی، جس کی وجہ سے پلانٹ یورینس کی حرکت تبدیلی آ رہی تھی؟ نہیں ایسا ممکن نہیں تھا۔ کیونکہ کوئی چھوٹا جسم یورنیس کی موومنٹ کو اس حد تک ڈسرپٹ نہیں کر سکتا تھا، جتنا کہ وہ ہو رہا تھا۔ سو ’اوبون لی ویری اے‘ نے میتھس کے ذریعے اپنے قلم کے ذریعے یہ ایک مشکل مہم سر کی۔ اٹھارہ سو چھیالیس میں اس نے برلن آبزرویٹری کو ایک خط لکھا۔

جس میں درخواست کی گئی کہ خلا میں اس خاص اینگل پر طاقتور دوربین سے تحقیق کی جائے۔ کیونکہ وہ جسم وہ بڑا سا سیارہ یا باڈی جس کی وجہ سے پلانٹ یورنیس کی حرکت میں تبدیلی آتی ہے عین اس وقت اسی جگہ پر ہونا چاہیے جو جگہ اور وقت اوبون بتا رہا تھا۔ تئیس ستمبر اٹھارہ سو چھیالیس، ٹونٹی تھرڈ ستمبر ایٹین فورٹی سکس کو یہ خط ڈاکٹر گیل کو برلن آبزرویٹری میں ملا۔

اسی رات کو ڈاکٹر گیل نے اپنے سینئرز کی مخالفت کے باوجود آسمان پر ٹھیک اسی اینگل پر دوربین سے کھوجنا شروع کر دیا، جہاں اوبون نے پریڈکٹ کیا تھا، پیش گوئی کی تھی۔ وہاں بظاہر تو کچھ نہیں تھا۔ لیکن جب بہت غور سے دیکھا تو گہرے سیاہ بے کراں خلا میں ایک گہرا نیلا بھوت تیر رہا تھا۔ یہ بھوت اتنا بڑا تھا کہ اس کے جسم میں ہماری چار زمینیں سما سکتی تھیں۔

یہ دائرہ نما ایک بڑا سا گول جسم تھا اور صرف ایک ڈگری کے فرق سے ٹھیک اسی جگہ پر تھا جہاں اوبون لی ویری اے نے اپنے ریاضی کے فارمولوں سے معلوم کیا تھا۔ لیکن دوستو یہ سیارہ لی ویرے سے پہلے بھی ماہر فلکیات گلیلیو نے بھی دریافت کر لیا تھا لیکن اس سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ اسے ستارہ سمجھتا رہا۔ یعنی وہ اسے پلانٹ نہیں ایک سٹار سمجھا تھا۔ اس نے اپنے نقشوں میں اسے ڈرا تک کر دیا تھا۔

ایک بار نہیں ایک سے زیادہ بار کیا تھا۔ مگر ہر بار ستارے کی شکل ہی میں کیا تھا پلانٹ کی شکل میں نہیں۔ اسی لیے یہ دریافت گلیلیو یا کسی اورکے حصہ میں نہیں بلکہ اس کی دریافت اوبون لی ویرے ہی کے حصے میں آئی۔ اب سیارہ تو دوستو دریافت ہو گیا لیکن ابھی اس کا نام رکھنا باقی تھا۔ آپ کو یقیناً معلوم ہو گا کہ ستاروں، سیاروں، کامنٹس، بیلٹس اور چاندوں کے ناموں پر سائنسدانوں میں بہت دلچسپ مقابلے ہوتے ہیں۔

لڑائیاں بھی ہوجاتی ہیں بعض اوقات۔ تو یہی یہاں بھی ہوا۔ اوبون لی ویری اے اس نئے سیارے کا نام اپنے نام پر رکھنا چاہا۔ فرانس کے دوسرے کئی اسٹرومنر بھی اس کی حمایت کر رہے تھے۔ لیکن فرانس کے باہر کے سائنس دان اسٹرانومرز نہیں مان رہے تھے۔ کیونکہ روایات کے مطابق زمین کے علاوہ تمام سیاروں کے نام رومن یا گریک دیوتاؤں کے نام پر رکھےجاتے تھے۔

ویسے بھی لی ویری اے سے صرف پینسٹھ برس پہلے نظام شمسی کا ساتواں سیارہ ایک جرمن میوزیشن آسٹرانومر ویلیم ہرشل نے دریافت کیا تھا۔ لیکن اس سیارے کا نام ویلیم ہرشل کے نام پر نہیں رکھا گیا تھا، بلکہ اس کا نام اس کے نیلے رنگ کی وجہ سے سمندروں کے یونانی دیوتا، گریک گاڈ کے نام پر یورنیس رکھا گیا تھا۔ اس روایت کو بدلنے کے لیے لی ویری اے نے کوشش کی کہ یورنیس کا نام بھی بدل کر جرمن ماہر فلکیات کے نام پر ہرشل کر دیا جائے .

اور اس کے دریافت کردہ سیارے کا نام بھی اس کے نام پر لی ویری اے رکھ دیا جائے۔ لیکن اس کی یہ خواہش دوستو پوری نہ ہو سکی۔ سو اس نے فوراً سے پہلے سے سوچا ہوا ایک نام ’نیپچون‘ بول دیا۔ اب یہ نام وہاں کی سائنسی روایات کے مطابق تھا۔ کیونکہ اگر یورنیس یونانی دیوتا تھا تو نیپچون رومن دیوتا تھا جو سمندروں میں طوفانوں کو ٹالتا اور موجوں پر حکمرانی کرتا تھا۔

یہ نام تسلیم کر لیا گیا اور پوری دنیا میں آج تک اس آٹھویں سیارے کا نام تقریباً ہرجگہ پر سائنسی کمیونٹیز میں نیپچون ہی بولا جاتا ہے۔ لی ویری اے اس سیارے کو اپنے نام پر تو رکھنے کا اعزاز حاصل نہ کرسکا لیکن ایک اعزاز بہرحال اسے ملا۔ اور اسی کی وجہ سے اس کا نام اس سیارے سے ہمیشہ کے لیے جڑ گیا۔ وہ اعزاز کیا تھا؟

اس نئے دریافت ہونے والے گیس کے جناتی ٹھنڈے سیارے کے گرد بھی سیٹرن اور یورنیس کی طرح رنگز ہیں، دائرے ہیں۔ لیکن سوچئیے کہ جو سیارہ بذات خود دیکھنا ہی تقریباً ناممکن تھا اس کے رنگز کیا خاک دکھائی دیں گے۔ لیکن جانیے کہ ہمارے سپیس کرافٹ وائجر ٹو نے تقریباً چھ سو سیکنڈ کے دو ایکسپوژرز سے نیپچون کے ان رنگز کی تصویر بنائی تھیں۔ یہ دو حصوں میں بنی ہوئی تصویر دو لاکھ اسی ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے بنی تھی۔ اور اس میں نیپچون کے پانچ رنگز دکھائی دے رہے ہیں۔

اس رنگ سسٹم میں یہ دوسرے اور سب سے بڑے پرنسپل رنگ، دائرے کا نام اس سیارے کو پن کی نوک سے دریافت کرنے والے سائنسدان کے نام پر لی ویری اے رنگ کا نام دیا گیا ہے۔ اور یہی وہ اعزاز ہے جو لی ویری اے کو ملا۔ اگر آپ کبھی پیرس جائیں تو وہاں ماؤنٹ پیرناس قبرستان یاں سیمٹری ضرور جائیں۔ یہ قبرستان عجیب و غریب ہے۔ اس میں تاریخ کے نامور ترین فرانسیسی دفن ہیں۔

یہاں آپ کو بہت ہی غیر روایتی مونومنٹس دیکھنے کو ملیں گے۔ کہیں مجسمہ ساز کی قبر پر گھوڑے کا مجسمہ ہے تو کہیں چارلز ہاتھ میں کاپی پینسل پکڑے اپنے بیڈ روم میں بیوی کے پاس سونے کی تیاری کر رہا ہے۔ کہیں ایک ایسا پرندہ ہے جو کبھی آکٹوپس دکھائی دیتا ہے اور کبھی درخت۔ تو کہیں ایک پتھر کی حسینہ نجانے کب سے بیٹھی رو رہی ہے۔ اور ی ہیں پر ایک بلند سی قبر بھی ہے جس کے اوپر نیپچون سیارے کا ماڈل نصب ہے۔

اس قبر میں وہی شخص سو رہا ہے جس نے اپنے قلم کی نوک سے ایک سیارہ ڈھونڈ نکالا تھا۔ یہاں زمین کے نیچے اوبون لی ویری اے دفن ہے وہی جو آسمانوں کی طرف دیکھتے ہوئے چلا کرتا تھا۔ اٹھارہ سو چھیالیس، ایٹین فورٹی سکس میں اس سیارے کی دریافت، اس صدی کی سب سے بڑی دریافت تھی۔ اور اس نے ہمارے نظام شمسی کے نقشے ہی کو بدل کر رکھ دیا تھا۔

کیونکہ اس سے پہلے سیاروں کی کل تعداد سات ہی سمجھی جاتی تھی۔ یہ سیارہ نیپچون اب تک اس لیے نظر نہیں آیا تھا کیونکہ یہ بے انتہا مدھم تھا۔ اتنا مدھم کہ دوربین کے بغیر جو ستارے سب سے مدھم، ڈم، لائٹ، فینٹ دکھائی دیتے تھے یہ ان سے بھی پانچ گنا زیادہ مدھم تھا۔ یہ زمین سے اتنا دور تھا کہ اس کا زمین سے فاصلہ، زمین سے سورج کے فاصلے سے تیس گنا زیادہ تھا۔

زمین سے سورج کے فاصلے کو اگر ایک اسٹرانامیکل یونٹ مانا جائے تو یہ سیارہ نیپچون ہم سے اوسطاً تیس اے یو، ایسٹرانومیکل یونٹ دور ہے۔ پھر بھی ہمارے اور آپ کے سمجھنے کے لیے بتا دیں کہ نیپچون اور زمین جب ایک دوسرے سے بہت قریب بھی ہوتے ہیں تو ان کا درمیانی فاصلہ چار ارب تیس کروڑ کلومیٹر کے قریب ہوتا ہے۔

فور پوائنٹ تھری بلین کلومیٹرز۔ سورج سے اتنا دور ہونے ہی کی وجہ سے نیپچون کا ایک سال زمین کے ایک سو پینسٹھ برسوں کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی اگر آپ نیپچون کے حساب سے دیکھیں تو اس سیارے کی دریافت کو ابھی ایک ہی سال ہوا ہے۔ کیونکہ اٹھارہ سو چھیالیس میں یہ دریافت ہوا تھا اور اس کے بعد دوہزار گیارہ میں یہ سور ج کے گرد چکر لگا کر دوبارہ اسی جگہ پہنچا تھا جہاں اسے پہلی بار دیکھا گیا تھا۔

پلانٹ نیپچون کی دریافت نے یہ راز بھی کھول دیا کہ آخر پلانٹ یورنیس کی حرکت میں ایک خاص جگہ پر کچھ تبدیلی کیوں آتی ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے اور اس وقت آتی تھی جب یہ نیا دریافت ہونے والا بھوت سیارہ نیپچون، پلانٹ یورینس کے قریب سے گزرتا تھا۔ یہ بھوت سیارہ اتنا مشکل اور چیلنجنگ پلانٹ ہے کہ اس کے لیے آپ کو ایک لیجنڈری سپیس کرافٹ کی کہانی سننا ہو گی۔

انیس سو ستتر، نائنٹین سیونٹی سیون میں جب لیجنڈری سپیس مشن وائجر ٹو کو خلا میں بھیجا گیا تو یہ بارہ سال بعد نیپچون کے قریب پہنچ چکا تھا۔ وائجر ٹو نے تمام اوٹر پلانٹس کی شاندار تصاویر لیں، لیکن اس سیارے نپچون کے قریب پہنچ کر وائجر ٹو کی بتی گل ہو گئی۔ زمین سے تین گنا بڑا سیارہ اس کے سامنے تھا اور اسے دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔

لیکن وائجر ٹو ایک چست مشن تھا،ایک ایکٹیو مشن تھا، یہ اپنا کام بہانوں سے نہیں ٹالتا تھا کیونکہ زمین پر بیٹھی اس کی ٹیم بھی ایک زبردست ٹیم تھی۔ اس ٹیم نے نیپچون کی تصویر لینا تھی، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وائجر ٹو جس پر لگے کیمرے سے تصاویر لینا تھیں، وہ تو گولی سے بھی تیز رفتاری سے حرکت کر رہا تھا۔ گولی کی عام رفتار دوستو آدھا یا ایک کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔

جبکہ وائجر ٹو انیس کلومیٹر فی سیکنڈ کی اوسط رفتار سے حرکت کر رہا تھا۔ پھر نیپچون پر سورج کی روشنی اتنی کم پڑتی ہے کہ اگر اس کا زمین سے موازنہ کیا جائے تو یہ روشنی پوائنٹ زیرو زیرو ون پرسنٹ بنتی ہے۔ اعشاریہ صفر صفر ایک فیصد۔ اتنی کم روشنی میں گولی سے انیس گنا تیز بھاگنے والے سپیس کرافٹ نے پھر اتنی شاندار تصویر کیسے بنائی؟

دراصل وائجر ٹو کی ٹیم نے کیا یہ کہ انھوں نے سپیس کرافٹ کو نئے اینگل پر سیٹ کر دیا۔ اس اینگل سے وائجر ٹو پر لگے کیمرے کو مسلسل چار گھنٹے تک پلانٹ نیپچون کا ایکسپوژر ملتا رہا۔ یعنی وہ اس کی تصویر کے لیے روشنی چار گھنٹے تک اس کی طرف سے لیتا رہا۔ پھر زمین پر لگے وہ اینٹینے جن سے وائجر کو سگنلز بھیجے اور ریسیو کیے جاتے تھے انھیں دو سو تیس فٹ تک کئی گھنٹے مسلسل کھولے رکھا گیا۔

یہ اینٹینے اسپین، جرمنی، میکسکیو اور امریکی ریاست کیلی فورنیا میں نصب تھے۔ ان سب کوششوں کے بعد جب وائجر ٹو، نیپچون کے تقریباً ففٹی سیون ملین کلومیٹر، پانچ کروڑ ستر لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرا تو اس نے چار گھنٹے میں نیپچون کی یہ نیلی مدھم اور واحد تصویر بنا لی۔ یہ تصویر اب تک کی سپیس کرافٹ سے بنائی گئی واحد تصویر ہے جو اس سیارے کی ہمارے پاس موجود ہے۔

اس تصویر میں پلانٹ نیپچون کے درمیان میں جو بڑا سا گہرا نشان، گریٹ ڈارک سپاٹ نظر آ رہا ہے یہ نیپچون پر اٹھے ہوئے کسی طوفان کا نشان تھا۔ لیکن یہ طوفان جتنی جگہ پر آیا تھا، اتنی جگہ پر ہماری پوری کی پوری زمین ہمارا نیلا سیارہ سما سکتا تھا۔ لیکن یہ انیس سو نواسی کی بات ہے۔ اب یہ طوفان تھم چکا، بہت سے نئے بھی اس کی سطح پر جنم لے چکے کیونکہ نیپچون پر تو ہر آن طوفان اُمڈ رہتے ہیں۔

یہ ہمارے نظام شمسی، سولر سسٹم کا سب سے طوفانی سیارہ ہے۔ نیپچون پر ہوائیں جمی ہوئی میتھین، ہائیڈروجن اور ہیلیم گیسز کو لیے دو ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر کاٹ رہی ہیں۔ یہ رفتار سب سے بڑے سیارے جیوپٹر، مشتری کی ہواؤں سے بھی تین گنا زیادہ تیز ہے جبکہ زمین پر چلنے والی ہواؤں سے تو ان کی رفتار نو گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اب یہ رفتار کتنی ہوتی ہے؟

اس کا اندازہ یوں کیجئے کہ ہماری زمین پر تیز سے تیز طوفان بھی چار سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آتا ہے۔ جبکہ نیپچون کے گرد لپٹے بادلوں کی رفتار کا اس سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ اب سوچئیے کہ اس طوفانی سیارے کے اوپر بپھرے طوفان کے اوپر بھی ایک اور طوفان۔ کیسا ہو گا یہ طوفان،ایک قہر آسمان۔

اسی کی ایک تصویر وائجر ٹو نے بنائی تھی۔ ہے ناں حیرت کی بات۔ اس طوفان میں طوفان بلکہ طوفان پر طوفان کا سن کر اگر آپ حیران ہیں تو آپ کے لیے کچھ ایسا ہی سامان اور بھی ہے میرے دوست نیپچون وہ سیارہ ہے جس پر ڈائمنڈز کی، ہیروں کی بارش ہوتی ہے۔ جی ہاں اس پر ہائیڈروجن اور کاربن مالیکیولر فارم میں موجود ہے۔

اور پھر یہاں دباؤ اتنا زیاد ہے کہ کاربن کرسٹلائز ہو کر ڈائمنڈز کی شکل دھار لیتا ہے۔ جس کے بعد ڈائمنڈ کے کرسٹلز بارش کی طرح اس کے گہرے گاڑھے سمندر نما ایٹماسفیر سے نیچے کور میں گرتے رہتے ہیں۔ یہ ہیروں کی بارش آپ کو دوستو کتنا بھی لالچ دے لیکن ایک بات بتائیں آپ کو۔ کیا آپ نے بچپن میں اے حمید کی کہانیاں پڑھی ہیں۔ یا الف لیلیٰ کی کہانیاں تو ضرور سنی ہوں گی۔ ان کہانیوں میں خزانوں پر ایک سانپ بیٹھا ہوتا تھا۔ جو خزانے کی حفاظت کرتا تھا۔

تو دوستو ان کہانیوں کے خزانوں پر بیٹھے سانپ کو ہٹانا آسان تھا لیکن نیپچون کا خزانہ کسی ہزار رات کی کہانی کا خزانہ نہیں ہے۔ اسی لیے یہاں سے ہیرے اٹھا لانا فی الحال کسی کے بس کی بات نہیں۔ کیونکہ دوستو پلانٹ نیپچون کسی بین کی آواز پر مدہوش نہیں ہوتا بلکہ اپنے من میں ہزاروں طوفان سمیٹے مکمل ہوش میں رہتا ہے۔ ویسے بھی یہ ہمارا پیارا سرحدی سیارہ ہے۔ ہمارے نظام شمسی کا آخری سیارہ ہے یہ۔

یہ ہمارے سولر سسٹم کا سب سے طوفانی، اندھیروں میں گم اور یخ بست سیارہ ہے۔ اس لیے یہاں زندگی کا کوئی امکان نہیں۔ یہاں نہ تو زندگی پیدا ہو سکتی ہے، نہ ایوالو ہو سکتی ہے اور نہ ہی ہم یہاں ٹھہر سکتے ہیں۔ تو بس اب دوستو یہاں سے آگے بڑھتے ہیں۔ وائجر ٹو نے بھی اس سیارے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پانچ گھنٹے بعد نیپچون کے سب سے بڑے چاند ٹرائٹن کے اوپر سے پرواز کی تھی۔

جب وائجر ٹو، مون ٹرائٹن چاند ٹرائٹن سے صرف چالیس ہزار کلومیٹر اوپر تھا تو یہ تصویر کئی ٹکڑوں میں اسی کے کیمرے نے بنائی تھی۔ جسے پھر ایک موزیک کی صورت زمین پر ریسیو کیا گیا تھا ۔ یہ خوبصورت چاند بھی بے حد سرد ہے۔ اس پر اوسطاً منفی دو سو پنتیس، مائنس ٹو تھرٹی فائیو ڈگری سینٹی گریڈ ٹمپریچر رہتا ہے۔

لیکن اس سرد ترین ٹمپریچر کے باوجود وائجر ٹو نے اس کی سطح سے بالکل سیٹرن اور یورنیس کے چاندوں کی طرح پانی کے فوارے پھوٹتے دیکھے تھے۔ مطلب یہ کہ عین ممکن ہے اس کی سطح کے نیچے بھی ایک سمندر یا بہتا پانی موجود ہو، جو بخارات اور فواروں کی شکل میں باہر آ رہا تھا۔ دوستو اگر آپ اس کی سطح پر کھڑے ہوں تو آپ کو اپنے سامنے بس اتنا سا ہی سورج دکھائی دے گا، ایک چھوٹا سا مدھم سا ٹمٹماتا ستارہ۔

جب آپ کے سامنے ہمارا مدھم سا سورج ہو گا تو آپ کے داہنے ہاتھ نیلا سیارہ نیپچون ہو گا بائیں ہاتھ خلا اور پاؤں کے نیچے یخ بستہ ٹھنڈا چاند ٹرائٹن۔ ٹرائٹن موون وہ آخری بڑا سولڈ جسم تھا جسے اس لیجنڈری سپیس کرافٹ وائجر ٹو نے وزٹ کیا۔ اس کے بعد اس کے راستے میں اب تک اتنا بڑا کوئی جسم نہیں آیا۔

وائجرٹو اب ہمارے سورج کی سرحد اس کی سلطنت یعنی آٹھ سیاروں کے مدار سے دور جا چکا ہے۔ خلا کی بے انتہا تاریکی میں، بے انت لامتناہی، لامحدود، بے کنار، بے کراں اور چہار سو پھیلی تنہائی میں زمین سے اربوں کلومیٹر دور وائجر ٹو راگ بھیرویں میں گاتا جا رہا ہے

Read More:: The Universe # 010 | How Neptune was discovered by Newton’s laws?

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button