History World Urdu

Who was Genghis Khan? | EP # 03 | Mongol Invasion to China’s Jin dynasty in Urdu

Who was Genghis Khan?

چنگیز خان ایک دن ایک مقدس پہاڑ کی چوٹی پر غائب ہو گیا۔ جب وہ پلٹا تو اس نے اعلان کیا کہ اسے آسمان کے دیوتا نے چین فتح کرنے کی خوشخبری سنا دی ہے۔ لیکن چینیوں کے پاس تو بارود تھا؟ پھر چنگیز خان نے گھوڑوں پر بیٹھ کر بندوق اور بارود کا مقابلہ کیسے کیا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے چین جیسی طاقتور سلطنت پر حملہ کرنے کی ضرورت ہی کیوں پڑی تھی؟

Who was Genghis Khan  EP # 03  Mongol Invasion to China's Jin dynasty in Urdu

چنگیز خان کے زمانے میں چین پر جن طاقتور خاندانوں کی حکومت تھی ان میں ’چن خاندان‘ کی سلطنت سب سے طاقتور تھی۔ انھیں چِن دا گریٹ بھی کہا جاتا تھا۔ اس کے حکمران آسمان کو خدا مانتے تھے اور خود کو آسمان کا بیٹا کہتے تھے۔ ادھر چنگیز خان کا بھی یہی دعویٰ تھا کہ وہ آسمان کا بیٹا ہے۔ اور آسمان نے پوری دنیا کی حکومت اس کی جھولی میں ڈال دی ہے۔

سو ایک تو یہی ان میں ٹکراؤ کی وجہ تھی۔ لیکن ایک اور بہت بڑی وجہ تنازعہ یہ تھی کہ دونوں کے بارڈرز پر کھٹ پٹ چلتی رہتی تھی اب چونکہ چینی سلطنت زیادہ طاقتور تھی اس لیے زیادتی بھی اکثر انہی کی طرف سے زیادہ ہوتی تھی۔ سرحدی علاقوں میں چن سلطنت کے سپاہی، یعنی چینی سولجرز منگول علاقوں میں لوٹ مار کرنے آ جاتے۔

وہ منگولوں کی عزت اور مال بھی لوٹتے اور جاتے ہوئے منگول بچوں کو غلام بنا کرساتھ بھی لے جاتے تھے۔ دوسری طرف منگولوں اور تاتاریوں کے لشکر بھی چینی علاقوں میں لوٹ مار کرتے رہتے تھے۔ تو ان دونوں وجوہات کی بنا پر دونوں ریاستوں میں کھٹ پٹ چلتی رہتی تھی۔ معمول کی باتھ تھی۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ چن سلطنت میں نیا شہنشاہ آیا۔

یہ شہنشاہ منگولوں کو معمولی خانہ بدوش سے زیادہ اہمیت دینے کے لیے تیار ہی نہیں تھا اس نے چنگیز خان کو ایک پیغام بھیجا۔ پیغام یہ تھا کہ وہ چینی شہنشاہ ینعی چن سلطنت کے شہنشاہ کی اطاعت قبول کر لے۔ چنگیز خان نے پیغام سنا، اس طرف منہ کیا جدھر چین ہے اور زور سے تھوک دیا۔ پھر وہ اپنے گھوڑے پر کود کر سوار ہوا اور ایک طرف نکل گیا۔ اس کا یہ اقدام چن سلطنت کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔

بارہ سو گیارہ میں اس نے اسی مقصد کے لیے اپنے قبائل کو جمع کیا۔ عورتیں، مرد اور بچے الگ الگ گروپس میں آسمان کے دیوتا سے دعائیں مانگنے لگے۔ لیکن چنگیز خان ان دعا مانگنے والوں میں شامل نہیں تھا۔ وہ کہاں تھا؟ یہ جو خوبصورت نیشنل پارک آپ دیکھ رہے ہیں، یہ منگولیا کا گورکھی تیرالج نیشنل پارک ہے۔

اس دل فریب پارک کی اس خوبصورت اور بلند پہاڑی برقان قالدون پر چنگیز خان آسمان کے دیوتا سے فتح مانگنے چلا آیا تھا۔ منگولوں میں اس پہاڑی کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔ چنگیز خان تین سے چار روز اسی پہاڑی پر رہا۔ جب وہ پہاڑی سے اترا تو اس کا چہرہ پر عزم تھا۔

اس نے اپنی فوج سے کہا ’خوش ہو جاؤ،خوش ہو جاؤ نیلے آسمان نے ہم سے فتح کا وعدہ کر لیا ہے۔‘‘ یہ خوشخبری سن کر منگول جوش میں بھر گئے۔ انھوں نے چِن سلطنت پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ لیکن چینیوں کی آبادی اور اس لحاظ سے ان کی فوج بھی بہت بڑی تھی۔ دوسری طرف منگولوں کے مقابلے میں چینیوں کی فوج ماڈرن بھی بہت زیادہ تھی۔

چنگیز خان ایک گھاگ جرنیل کی طرح یہ باتیں سمجھ رہا تھا کہ صرف جوش و جذبے سے چینیوں کو ہرانا ممکن نہیں اس لیے اس نے ایک گہری چال چلی۔ اس نے چینی فوج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ یہ اس نے یوں کیا کہ چِن سلطنت کے اہم علاقے منچوریا میں حکومت کے خلاف باغیانہ جذبات پائے جاتے تھے۔ چنگیز خان نے انھی جذبات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا اور منچوریا میں بغاوت کرا دی۔

اب ظاہر ہے چینی فوج کا ایک حصہ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے منچوریا چلا گیا جس سے مرکز میں فوج کی تعداد تھوڑی رہ گئی۔ یہی وہ قت تھا جب مئی بارہ سو گیارہ میں چنگیز خان نے چِن سلطنت پر چڑھائی کر دی۔ اس کے پاس شروع میں پینسٹھ ہزار کی فوج تھی۔ یہ فوج تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل صحرائے گوبی کو صرف ایک ماہ میں عبور کرگئی اور شمالی چین میں داخل ہو گئی۔

چنگیز خان کو فتح کی پختہ امید تھی لیکن اپنی امیدوں کے بالکل الٹ چنگیز خان ناکام ہو گیا۔ کم فوج کے باوجود چینیوں نے کامیاب دفاع کیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ چنگیز خان کا ہوم ورک پورا نہیں تھا۔ وہ کھلے میدان میں لڑنے کی مہارت تو رکھتا تھا لیکن چینیوں نے جس طرح اپنے شہروں کو قلعوں میں بدل کر محفوظ بنا رکھا تھا، یہ چنگیز خان کے لیے ایک نئی چیز تھی۔

اس کے پاس قلعوں کی مضبوط دیواریں توڑنے کے لیے منجنیقیں یا دروازے گرانے کے آلات بھی نہیں تھے۔ اس لیے اسے ہر جگہ اندازے سے بہت زیادہ وقت لگ رہا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ اس دوران موسم سرما کا آغاز ہو گیا۔ آسمان سے برستی برف میں جنگ تو ایک طرف رہی غیر ملک میں پڑاؤ بھی ناممکن تھا۔ سو چنگیز خان فتح تو نہیں، لیکن ایک تَجرِبہ حاصل کر کے پلٹ آیا۔

اسی ناکام حملے سے سیکھتے ہوئے اس نے پھر سے تیاری کی۔ سو بارہ سو تیرہ میں چنگیز خان نے ایک دفعہ پھر چِن سلطنت پر حملہ کر دیا۔ لیکن اس بار وہ پہلے سے زیادہ تیار تھا، اس کی فوج میں بھی زیادہ سپاہی تھے اور اس کی فتوحات کی رفتار بھی بہت تیز تھی۔ وہ علاقوں پر علاقے فتح کرتا ہوا چن سلطنت کے درالحکومت ژونگ ڈو کی طرف بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔

یہ شہر اسی جگہ قائم تھا جہاں آج چین کا دارالحکومت بیجنگ واقع ہے۔ چِن سلطنت چنگیز خان کا مقابلہ تو کر رہی تھی لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس بار ان کے پاس اتنے بڑے منگول لشکر کے مقابلے کے لیے بھرپور وسائل اور ول ٹرینڈ آرمی کی مناسب تعداد موجود ہی نہیں تھی۔ لیکن چینی کمانڈرز نے یہ کیا کہ اس کمی کو پوری کرنے کیلئے غریب کسانوں کو بھرتی کرنا شروع کر دیا۔

ان کسانوں کو پیدل فوج یا انفنٹری کا حصہ بنایا گیا اور ان کی مدد کیلئے گھڑسوار دستے مقرر کئے گئے جو کہ ٹرینڈ سولجرز تھے۔ اب میدان میں چینیوں کی فارمیشن یہ ہوتی تھی کہ درمیان میں کسانوں کی پیدل فوج، ہوتی تھی انفنٹری ہوتی اور دائیں بائیں ٹرینڈ سولجرز گھوڑوں پر صفیں باندھے کھڑے ہوتے تھے چنگیز خان یہ فارمیشن دیکھ رہا تھا۔ اس نے اس کا ایک زبردست حل نکال لیا۔

وہ یہ کہ جب لڑائی شروع ہوتی تو منگول تیر انداز سامنے سے تیروں کی بارش کر کے کسانوں کی پیدل فوج کو پیچھےبھاگنے پر مجبور کر دیتے۔ اب رہے جاتے تھے دائیں بائیں کھڑے گھڑسوار دستے۔ تو جب تیروں کی بارش ہو رہی ہوتی تھی تومنگولوں کے گھڑسوار دستے پہاڑوں کے پیچھے سے گھوم کر دشمن کی گھڑسوار فوج پر عقب سے حملہ کر دیتے۔

جس سے چینی گھڑسوار فوج گھیرے میں آ کر ماری جاتی میدان میں مقابلے کی ہی طرح، چنگیز خان نےاب قلعے فتح کرنے کی بھی ایک زبردست ترکیب ڈھونڈ نکالی تھی۔ اس کے سپاہی پہلے کسی چینی قلعے کا محاصرہ کر لیتے۔ کچھ عرصے بعد وہ اپنا کھانا پینا وہی چھوڑ تے اور پسپا ہونے کی اداکاری کرتے۔ چینی سپاہی منگولوں کو بھاگتے دیکھ کر شہر کے دروازے کھول کر منگولوں کا چھوڑا ہوا سامان اٹھانے یا ان کے تعاقب کرنے کے لیے باہر نکل آتے۔

منگول فوج اس کے لیے پہلے سے تیار ہوتی تھی، سو ان کے چھپے ہوئے دستے اور ان کی بھاگنے والی فوج پلٹ کر حملہ کر دیتی۔ اس ترکیب سے چینیوں کو قعلے کا دروازہ تک بند کرنے کی محلت نہیں ملتی تھی اور منگولوں قلعوں پر قلعے فتح کرتے چلے جاتے لیکن ٹھہرئیے۔۔۔ یہاں آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہونا چاہیے کہ چین نے تو ایک عظیم الشان دیوار، دیوار چین بنا رکھی تھی۔

اور اس دیوار کا اہم ترین مقصد ہی یہ تھا کہ وہ حملہ آورروں کو روکے تو پھر چنگیز خان نے یہ رکاوٹ کیسے پار کی؟ دراصل تاریخ میں اس کے بارے میں دو ورژنز ہیں۔ ایک یہ ہے کہ چنگیز خان نے دیوارِ چین کو بائی پاس کیا تھا۔ یعنی دیوار سے ہٹ کر ایک اور راستہ تلاش کیا تھا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ چن سلطنت کی جو فوج چنگیز خان سے لڑنے کے لیےآئی تھی وہ ایک کرائے کی فوج تھی۔

اور اسی لیے چنگیز خان نے انھیں آسانی سے اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ اور بھی کچھ مفروضے اس بارے میں لکھے گئے ہیں۔ مگر تاریخ کا ایک دوسرا مضبوط ورژن بھی ہے جو ذرا زیادہ ریشنل لوجیکل لگتا ہے۔ وہ یہ کہ چنگیز خان کے دور میں دیوارِ چین اتنی بڑی تھی ہی نہیں کہ اسے کراس کرنا ناممکن ہو اور اسے بائی پاس ہی کرنا پڑے۔ اس لئے چنگیز خان تھوڑی سی حکمت عملی کے ساتھ دیوار چین پار کر گیا تھا۔

پھر قلعوں پر قلعے فتح کرتا ہو وہ چن سلطنت کے مرکز یعنی بیجنگ کے پاس پہنچ گیا۔ لیکن یہاں سے جو اس نے دیکھا یہ اس کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی تھا۔ چنگیز خان تو دریاؤں، خیموں، پہاڑوں اور چھوٹے چھوٹے عارضی قصبوں میں رہنے کا عادی تھا۔ اس نے راستے میں چین کے دوسرے شہر بھی دیکھے تھے لیکن وہ بھی کوئی خاص بڑے نہیں تھے۔

جب وہ بیجنگ جیسے دنیا کے عظیم الشان شہر کے قریب پہنچا تو یہ منظر اس کے لیے کہانیوں جیسا تھا۔ اسے اپنے سامنے دور تک پھیلاعظیم شہر نظر آیا میلوں تک پھیلے گھر دکھائی دئیے، اس نے دور سے بڑی بڑی عمارتوں کے ہیولے دیکھے۔ یہ سب دیکھ کر وہ حیرت اور سوچ میں گم ہو گیا۔ کیونکہ یہ شہر جتنا بڑا تھا، اتنا ہی محفوظ بھی تھا۔ اس کی سیکیورٹی بھی اتنی ہی اچھی تھی۔

شہر کے اردگرد تیس میل لمبی اور چالیس فٹ اونچی دیواریں تھیں۔ ان دیواروں پر نو سو ٹاورز تھے جن میں تیر انداز پہرے دار بیٹھتے تھے۔ جبکہ شہر کے بارہ گیٹس تھے۔ شہر کے گرد تین اطراف میں خندق تھی جس میں پانی بھرا رہتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دارالحکومت کی حفاظت کیلئے شہر کے باہر بھی چار چھوٹے چھوٹےشہر بسائے گئے تھے۔ ان چاروں کے گرد بھی مضبوط دیواریں اور خندقیں موجود تھیں۔

پھر ان چھوٹے شہروں کو زیرزمین راستوں، انڈر گراؤنڈ ٹنلز کے ذریعے دارالحکومت سے ملا دیا گیا تھا۔ اردگرد موجود چھوٹے شہروں میں سے ہر شہر کے اندر چار ہزار سپاہی تھے۔ جبکہ دارالحکومت کے اندر بیس سے چوبیس ہزار فوجی ہوشیار رہتے تھے۔ یعنی شہر کی کل محافظ فوج کی تعداد چالیس ہزار تک پہنچ جاتی تھی۔ مگر ضرورت پڑنے پر اس فوج میں یک لخت چار لاکھ کا اضافہ بھی ہو سکتا تھا۔ وہ بھلا کیسے؟

وہ ایسے کہ شہر کی کل آبادی چار لاکھ تھی اوراسے کسی بھی وقت ایک حکم کے نتیجے میں جنگ میں شامل کیا جا سکتا تھا۔ سو ایک خانہ بدوش فوج کے لیے بیجنگ تقریباً ناقابل تسخیر شہر تھا۔ چنگیز خان بھی کچھ جائزے کے بعد بھانپ چکا تھا کہ اس کیلئے یہ شہر فتح کرنا ممکن نہیں اس لئے اس نے شہر کو مسلسل محاصرے میں رکھ کر چن شہنشاہ کو دباؤ میں لانے کا فیصلہ کیا۔

تا کہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کی جا سکے۔ سو اس نے فوری طور پر پانچ ہزار سپاہیوں کو تعینات کر کے شہر کو جانے والے تمام راستے بند کر دیئے۔ پھر اس نے چِن شہنشاہ کے پاس اپنا سفیر بھیج کر چند شرائط کے بدلے صلح کی پیشکش کی۔ لیکن شہنشاہ کو اپنے دفاعی نظام پر، سیکیورٹی سسٹم پر بہت مان تھا۔ اس نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔

کیونکہ شہشاہ کو یقین تھا کہ چنگیز خان اتنا محفوظ شہر فتح نہیں کر سکے گا اور آخر کار موسم کی سختیاں اور وقت کا جبر اسے خالی ہاتھ پلٹ جانے پر مجبور کر دے گا۔ لیکن وہ ایک بات سے لاعلم تھا۔ وہ یہ کہ اس کا ایک اپنا گورنر اس کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ اور اس سازش کا ان ڈائریکٹ فائدہ چنگیز خان کو ہونے والا تھا۔ چِن شہنشاہ کا ایک گورنر چی چنگ، سلطنت پر قبضے کا خواب دیکھ رہا تھا۔

وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ بیجنگ کی طرف بڑھا اور منگول سپاہیوں سے بچتا بچاتا بیجنگ کے دروازے پر پہنچ گیا۔ اس نے دروازے پر پہنچتے ہی بلند آواز میں کہ منگول میرے پیچھے لگے ہیں مجھے بچاؤ مجھے بچاؤ پہرے داروں نے شہر کے دروازے کھول دیئے لیکن چی چنگ نے شہر میں داخل ہو کر شاہی محل پر دھاوا بول دیا۔ شہنشاہ اور اس کے محافظ اچانک حملے کا وار سہہ نہ سکے۔

یہاں تک کہ چن شہنشاہ، جسے منگول گولڈن خان کہتے تھے وہ بھی لڑائی میں مارا گیا۔ چی چنگ نے بجائے خود شہنشاہ بننے کے، کنگ میکر بننے کو ترجیح دی۔ اس نے چن خاندان کے ایک کمزور شخص کو تخت پر بٹھا دیا اور خود چِن سلطنت کا سپریم کمانڈر بن گیا۔ اب چینی تخت پر ایک کٹھ پتلی حکمران بیٹھا تھا لیکن آرڈر، کمانڈر ان چیف سپہ سالار کا چل رہا تھا۔

لیکن اس ساری کارروائی کا فائدہ چنگیز خان کو صرف یہ ہوا کہ چی چنگ نے جب چنگیز خان کے مقابلے کے لیے فوج کی کمان سنبھال لی تو وہ بیمار ہو گیا۔ لیکن وہ بیماری کی حالت میں بھی جنگ کرنے نکلا۔ وہ ایک چھکڑے پر لیٹ کرمنگولوں کے خلاف چینی فوج کی کمان کرتا رہا اس نے لگاتار دو دن تک منگول فوج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ لیکن اب اس کی صحت مسلسل بگڑ رہی تھی۔

بیماری نے اسے مزید لڑنےکی اجازت نہیں دی۔ چنانچہ تیسرے روز اس نے اپنے ایک کمانڈر جس کا نام ’کاؤ‘ تھا اس کو منگولوں کے مقابلے پر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن بھیجنے سے پہلے اس نے کاؤ کو دھمکی دی کہ اگر وہ شکست کھا کر لوٹا تو اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ کاؤ موت کا یہ خوف دل میں لئے میدان جنگ میں گیا اور ہار گیا۔ شکست کے بعد کاؤ شہر کے دروازے پر اپنی سر کٹی لاش الم تصور میں دیکھنے لگا۔

بہرحال کاؤ چپکے سے اس سے پہلے کے کسی کے علم میں آئے شہر میں اپنے وفاداروں کے ساتھ داخل ہوا اپنے باس چی چنگ کے پاس گیا اوراس کی گردن اڑا دی وہ ایک بیمار کنگ میکر کے ہاتھوں نہیں مرنا چاہتا تھا۔ چی چنگ کی موت کی خبر پھیلتے ہی اس کے وفادار سپاہی غصے میں بھر گئے۔ شہر میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

دو روز تک دونوں گروپس کے سپاہی آپس میں ہی لڑتے رہے۔ ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے۔ لیکن پھر کٹھ پتلی شہنشاہ نے مداخلت کی اور کسی نہ کسی طرح دونوں گروہوں میں صلح کروا دی۔ صلح کے بعد کاؤ نیا سپریم کمانڈر بھی بنا دیا گیا لیکن شہر کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے تھے چنگیز خان کے سخت محاصرے کی وجہ سے شہر میں کھانے پینےکی چیزیں کم پڑ گئیں تھیں۔

ایسے میں چنگیز خان نے شہنشاہ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کیلئے ایک اور بڑا فیصلہ کیا اس نے بیجنگ کو جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کیلئے پانچ ہزار فوج چھوڑ کر، باقی فوج کو مختلف ٹولیوں میں تقسیم کیا۔

پھر ان ٹولیوں کو چِن سلطنت کے دوسرے شہروں میں لوٹ مار کے لیے بھیج دیا مقصد یہ تھا کہ شہنشاہ کو جب اپنے شہروں کی تباہی کی خبریں ملیں گی تو وہ ہتھیار ڈال دے گا دوسرا مقصد یہ بھی تھا کہ چنگیز خان کی فوج کے لیے راشن اور محاصرے سے تنگ آئے فوجیوں کے لیے اپنی ضروریات مہیا کرنے کا ایک سامان ہو سکے گا

تاہم ان ٹولیوں کو نئے شہر فتح کرنے کیلئے پرانی حکمت عملی بدلنا پڑی کیونکہ شہروں کو فتح کرنے کیلئے منگولوں کی بھاگنے والی چال اب کام نہیں کر رہی تھی چینی سپاہی اس تکنیک کو سمجھ گئے تھے وہ منگولوں کے بھاگنے کے باوجود قلعوں سے باہر نہیں آتے تھے سو اب چنگیز خان نے بھی اپنی حکمت عملی بدلی منگول فوج نے دیہات سے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر میدان جنگ میں لانا شروع کر دیا

ان چینی دیہاتی قیدیوں کو آگے کھڑا کر کے انھی کے ذریعے قلعوں کے دروازے توڑے جاتے تھے اکثر ایسا ہوتا کہ دیواروں پر کھڑے پہرے دار ان لوگوں کو پہچان لیتے اور انہیں اپنے لوگ سمجھتے ہوئے ان پر حملہ کرنے سے ہچکچانے لگتے بہت سے تو انکار بھی کر دیتے چنانچہ یہ ترکیب زیادہ کامیاب رہی اور شہروں کے دروازے آسانی سے ٹوٹنے لگے

جب دروازہ ٹوٹ جاتا تو منگول فوج شہر میں داخل ہو کر اس پر قبضہ کر لیتی جس کے بعد مفتوح شہر میں بے دردی سے لوٹ مار شروع ہو جاتی غلام اور لونڈیاں بنائی جاتیں سونے چاندی اور ریشم کی لوٹ کے ڈھیر لگائے جاتے اور جاتے ہوئے کھڑی فصلوں کو آگ لگا دی جاتی یہ ساری خبریں چِن شہنشاہ تک پہنچ رہی تھیں وہ زیادہ دیر تک اپنی سلطنت کو برباد ہوتے نہ دیکھ سکا مقابلے کی ہمت تو اس میں نہیں تھی،

سو اس نے چنگیز خان سے صلح کی درخواست کی چنانچہ بارہ سو چودہ کے شروع میں صلح کا ایک معاہدہ ہوا معاہدے کی شرائط کے مطابق چِن شہنشاہ کی بیٹی کو چنگیز خان سے شادی کرنا تھی چِن سلنطت منگولوں کو تین ہزار گھوڑے، ایک لاکھ سونے کی پلیٹس اور تین لاکھ گز ریشم بھی ادا کرنے کی پابند ٹھہری تھی۔

معاہدہ تو ہو گیا لیکن اب اس پر عمل بھی ہونا تھا تو عمل سے پہلے چنگیز خان نے یہ کیا کہ کچھ نرمی کر دی اور بیجنگ جانے والے چند راستے کھول دیئے لیکن یہاں پر چینی شہنشاہ نے ایک فاش غلطی کی چینی شہنشاہ نے محاصرے میں نرمی دیکھی تو موقع غنیمت جان کر وہ بیجنگ سے نکل بھاگا اور جنوبی شہر کیفینگ میں چھپ گیا۔

یہ شہر بیجنگ سے بھی زیادہ محفوظ تھا کیونکہ اس کی حفاظتی دیوار ایک سو بیس میل لمبی تھی جبکہ بیجنگ کی حفاظتی دیوار صرف تیس میل طویل تھی چنگیز خان کو شہنشاہ کے فرار کی خبر ملی تو وہ آگ بگولا ہو گیا اس نے شہنشاہ کے فرار کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا اور معاہدہ توڑ دیا اس نے حکم دیا کہ اب بیجنگ کا سخت محاصرہ کیاجائے سو محاصرے میں جو نرمی تھی وہ ختم ہو گئی

اور بیجنگ کو جانے والے کھلے راستے بند کر دئیے گئے اس بار محاصرہ اس قدر سخت تھا کہ بیجنگ میں کھانے پینے کا سامان مکمل طور پر ختم ہو گیا شہر کے لوگ بھوک سے تنگ آ گئے یہاں تک کہ وہ اپنے مردے کھانے لگے فوج کے بڑے بڑے کمانڈرز، جنرلز رات کی تاریکی میں شہر چھوڑ کر بھاگنے لگے بلکہ کچھ تو ایسے بھی تھے جو تنگ آ کر چنگیز خان کی فوج کا حصہ بن گئے

کہ کچھ اور نہ سہی تو پیٹ بھر کھانا تو ملے گا۔ لیکن سبھی محافظ ایسے نہیں تھے۔ ان بدترین حالات میں بھی پہرے داروں نے منگول فوج کے دو بڑے حملے بری طرح پسپا کیے، ناکام بنائے ان ناکام حملوں میں منگول فوج کو بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا لیکن حقیقت یہ تھی کہ تقریباً ایک سال سے جاری طویل محاصرے کے بعد صرف چینی شہری اور فوج ہی نہیں منگول فوج بھی تنگ آ چکی تھی

منگولوں کے پاس بھی خوراک کا ذخیرہ ختم ہو رہا تھا بیماریاں بھی پھیل رہی تھیں منگول سپاہی مرنے لگے تھے۔ لیکن منگولوں کو یہ فائدہ بہرحال تھا کہ وہ محاصرے میں نہیں تھے اور ان تک کھانے پینے کا سامان پہنچنے کے راستے کھلے تھے اسی دوران منگولوں نے ایک ہزار چھکڑوں کی ایک کھیپ پکڑ لی ان چھکڑوں پرداراصل کھانے پینے کا سامان لدا ہوا تھا جو محاصرے میں آئے شہریوں کی مدد کے لیے اس شہنشاہ نے بیجھا تھاجو شہر سے فرار ہو چکا تھا

منگولوں نے یہ کھیپ لوٹ لی اس خوراک سے انھوں نے اپنا پیٹ تو بھر لیا لیکن ادھر بیجنگ کے خالی پیٹ محافظوں کو جب اس کی خبر ملی تو ان کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ لیکن آفرین کہ انھوں نے پھر بھی ہتھیار نہیں ڈالے اور آخری ہتھیار آزمانے کا فیصلہ کیا اگرچہ یہ ہتھیار ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہی تھا لیکن مجبور، لاچار اور مہینوں کے محاصرے سے تنگ پڑے محافظوں کے پاس اس کے علاوہ اور چارہ بھی کیا تھا؟

لیکن یہ ہتھیار تھا کیا؟ چینیوں کے پاس اس وقت ایک ایسا ہتھیار تھا جو دنیا میں شاید ہی کسی اور کے پاس ان دنوں ہو یہ ہتھیار جنگ کا پانسا پلٹ سکتا تھا لیکن چینیوں کی بدقسمتی کہ انھوں نے اس ہتھیار کو بہتر طور پر استعمال کرنے کی کوئی ترکیب نہیں بنائی تھی یہ ہتھیار تھا بارود جی ہاں چینی بارہ سو پندرہ میں بارود بنا بھی چکے تھے اور جنگوں میں توپوں اور بندوقوں کا استعمال بھی کر رہے تھے

لیکن چنگیز خان کی خوش قسمتی کہ ابھی ان بندوقوں اور توپوں کا ڈیزائن ابتدائی مراحل میں تھا میچور نہیں ہوا تھا اس لیے ان کے نشانے درست تھے اور نہ ہی یہ اتنی تباہی پھیلارہے تھے جتنی کہ دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے لیے ضرورت تھی شہر کے محافظوں نے جیسے تیسے کر کے یہ توپیں اور بندوقیں چالو حالت میں کیں اور منگولوں پر فائر کھول دیا

یہ انسانی تاریخ میں فائر آرمز کا غالباً پہلا بڑاجنگی استعمال تھا محافظ منگولوں پر گولیاں اور گولے برسا رہےتھے۔ لیکن ان کے پاس بارود جلد ہی ختم ہو گیا تو انہوں نے سونا، چاندی پگھلا کر اس سے گولے بنانا شروع کر دیئے لیکن یہ سارے ہتھیار کسی کام نہ آئے اور منگولوں کو وہ نقصان نہ پہنچا سکے

جو آج کل کے ماڈرن فائر آرمز پہنچا سکتے ہیں۔ سو نتیجہ یہ نکلا کہ چینی محافظ جو تھوڑی بہت ہمت جمع کیے بیٹھے تھے وہ بھی گنوا بیٹھے ان کا شہنشاہ اور تمام بڑے جرنیل انہیں چھوڑ کرپہلے ہی جا چکے تھے، کھانے کے ذخیرے میں ایک دانہ نہیں تھا دنیا کا عظیم شہر بیجنگ ایک گھوسٹ ٹاؤن، بھوتوں کا اجڑا شہر بن چکا تھا اس میں رہنے والے زندہ تو تھے

مگر مردوں کی سی حالت میں تقریباً ڈیڑھ برس محاصرے کے بعد یکم جون بارہ سو پندرہ کو محافظوں نے شہر کے دروازے کھول دیئے اور ایک بپھرے ہوئے منہ زور طوفان کو اندر آنے کی دعوت دے دی ایک سال سے زائد عرصے سے باہر کھڑی منگول فوج شہر میں داخل ہوئی تو مت پوچھئیے کیا ہوا کوئی گھر محفوظ رہا نہ کوئی انسان ساٹھ ہزار لڑکیوں نے منگولوں سے بچنے کیلئے خودکشی کر لی

منگولوں نے شہر کی ساری عبادت گاہیں جلا دیں شہر کے گیٹس تباہ کر دیئے، محلوں کے محلے اور حویلیوں کی حویلیاں آگ کی نذر کر دیں بیجنگ شہر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں کتنے لوگ قتل ہوئے یہ تعداد آج بھی کسی کو معلوم نہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد لاکھوں میں ہے

یا تین لاکھ کے ارد گرد منگولوں نے شہر میں لاشوں اور ہڈیوں کے مینار بھی بنائے لاشیں اتنی تھیں کہ ان کی چربی گلیوں میں پھیل گئی اور چلنے والوں کے پاؤں پھسلنے لگے بیجنگ کی فتح کے وقت چنگیز خان وہاں سے تین سو اکسٹھ کلومیٹر دور ڈولن نور کے علاقے میں تھا بارہ سو سولہ میں چنگیز خان منگولیا لوٹ آیا اس کے ساتھ سونے،

چاندی، قیمتی پتھروں، ریشم اور بے شمار قیمتی اشیاء کے خزانے تھے ہزاروں بیل گاڑیوں میں لدا یہ سامان جب منگولیا پہنچنا شروع ہوا تو منگولوں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی جاتی تھیں۔ کہتے ہیں اس سامان میں کچھ چیزوں کے رنگ ایسے تھے جو منگولوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے اس کے علاوہ ہزاروں ڈاکٹرز، فنکار اور ہنرمند بھی غلام بنا کر منگولیا لائے گئے تھے

انھی لوگوں نے منگولوں کو آرٹ، کلچر اور جدید تہذیب سے روشناس کرایا چنگیز خان نے چین میں تقریباً پانچ برس گزارے تھے اور اس کی سب سے طاقتور سلطنت کا دارالحکومت اجاڑ کر رکھ دیا تھا۔ اور یہ وہی چنگیز خان تھا جسے اسی سلطنت نے چند برس پہلے معمولی کمانڈر سے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔ بیجنگ کیا اجڑا چِن سلطنت کے خاتمے پر بھی مہر لگ گئی اگرچہ یہ سلطنت تقریباً بیس برس مزید قائم رہی

لیکن اب اس کی کمر ٹوٹ چکی تھی چِن سلطنت کے علاوہ چنگیز خان نے چین کی مغربی ژیا سلطنت کو بھی جھکا لیا تھا۔ چین کے ساتھ ہی ایک اور سلطنت ایغور بھی تھی اس کے بادشاہ برچوق نے سمجھداری دکھائی اور کسی بھی جنگ سے پہلے چنگیز خان کی اطاعت قبول کر لی اس کے بعد ایغور اور چینی لوگ بڑی تعداد میں منگول فوج میں شامل ہونے لگے

انہی لوگوں نے منگولوں کو منجنیقیں اور دوسرے جنگی آلات تیار کرنا سکھائے انھی سے چنگیز خان نے جنگ کے جدید طریقے بھی سیکھے منگول فوج کی طاقت میں ایک اور اضافہ تب ہوا جب بارہ سو اٹھارہ میں منگولوں نے وسطی ایشیا کی ایک ریاست کارا خطائی سلطنت کو فتح کر لیا اس سلطنت میں رہنے والے ترک مسلمان جو حکومت کے ظلم سے تنگ تھے وہ چنگیز خان کو اپنا مسیحا سمجھ کر منگول فوج میں شامل ہو گئے۔

چنگیز خان کی زندگی میں پورے چین پر منگولوں کی حکومت قائم نہیں ہو سکی تھی خاص طور پر جنوبی چین کی سونگ سلطنت بالکل آزاد رہی۔ البتہ اس کے پوتے قبلائی خان کے دور میں منگولوں نے پورے چین پر قبضہ کر لیا تھا مگر یہ ظاہر ہے چنگیز خان کی زندگی کے بعد کی بات ہے مگر ہاں چنگیز خان نے اپنی زندگی میں ایک بڑی طاقتور اسلامی سلطنت کو تاخت و تاراج کر دیا تھا۔

Read More:: Who was Genghis Khan? | EP # 03 | Mongol Invasion to China’s Jin dynasty in Urdu

Abdul Qadeer

My Name is Abdul Qadeer. And CEO Pakistanwap ( JamilBaba ) 😊

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button